Category Archives: طور طريقہ

شِفاء اور شَفاء میں فرق

شِفاء کا مطلب ہے صحت ، تندرُستی
شَفاء کا مطلب ہے مَوت ، گڑھا ، کنارہ

لوگوں کو اکثر کہتے سُنا گیا ہے ” اللہ آپ کو شَفاء دے“۔
نیّت بد دعا دینے کی نہ بھی ہو لیکن یہ بد دعا ہے
ہمیں کہنا چاہیئے ” اللہ آپ کو شِفاء دے“۔

سُوۡرَةُ 17 ۔ بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء ۔ آیت 82 ۔
وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا

ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

سُوۡرَةُ 3 ۔ آل عِمرَان ۔ آیت 103 ۔
وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ 

تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے

کشمیری کیا سوچ رہے ہیں ؟

ہندوستان کی مودی سرکار کی نئی جارحیت اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں گزشتہ دنوں جموں و کشمیر کے حالات سے آگاہی کے لئے متعلقہ لوگوں سے براہ راست مکالمے کا قصد کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر تو جا نہیں سکتے اس لئے آزاد کشمیر جانے کا پروگرام بنایا۔ یہاں بچوں سے بھی بات چیت ہوئی، جوانوں سے بھی، بوڑھوں سے بھی اور دنیا کے اس حسین ترین علاقے کے حسین نظاروں کا لطف بھی اٹھایا۔ اس پورے سفر میں جو کچھ دیکھا اور سنا، اس کا خلاصہ یہاں بیان کرنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ مظفرآباد اور وادی نیلم دونوں جگہ وکلا اور صحافی بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کے احساسات اپنی استطاعت کے مطابق دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
پہلی چیز جو میں نے محسوس کی وہ آزاد جموں و کشمیر کے باسیوں اور بالخصوص نوجوانوں میں ایک عجیب قسم کی بے چینی اور اضطراب تھا۔ ہم پاکستانی بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پریشان ہیں لیکن آزاد جموں و کشمیر لوگوں کا دکھ اور کرب بہت گہرا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کی خاطر لڑنا اور مرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیسے کریں؟ دوسری چیز میں نے یہ محسوس کی کہ وہاں کی سیاسی قیادت، پاکستانی قیادت کے رویئے سے خوش نہیں ہے جبکہ کشمیری نوجوان پاکستانی قیادت سے بھی خوش نہیں ہیں اور اپنی سیاسی قیادت سے بھی۔ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ وسوسے گھوم رہے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر درپردہ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا ہو رہی ہے لیکن انہیں بے خبر رکھا جارہا ہے۔ یہ وسوسہ یا احساس بہت خطرناک ہے اور پاکستانی قیادت کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور رائے عامہ کے نمائندوں کو اعتماد میں لے۔ انہیں یہ خدشہ ہے کہ کشمیر کے قضیے کو تقسیمِ کشمیر کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو سردست انہیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں اور بجا اٹھاتے ہیں کہ اگر کشمیر کی تقسیم پر راضی ہونا تھا تو پھر اتنی قربانیاں کیوں دی گئیں کیونکہ ماضی میں تو ہندوستان اس سے بہت بہتر پیکیج دینے کو تیار تھا۔ مقبوضہ کشمیر کو تو مودی سرکار نے جہنم بنا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہیں جس کی طرف عالمی برادری توجہ دے رہی ہے اور نہ پاکستانی حکومت۔ یہ لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے چوبیس گھنٹے اس خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کسی بھی وقت بندوق یا توپ کا گولہ آسکتا اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ دونوں طرف پہاڑوں پر دشمن کی فوجیں بیٹھی ہیں اور درمیان میں یہ لوگ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ درجنوں مرتبہ وہ مکمل جنگ اور ہزاروں مرتبہ فائرنگ اور شیلنگ کی زد میں آچکے ہیں۔ ان لوگوں کو موسم کی سختیوں سے بھی لڑنا پڑتا ہے اور جب فائرنگ کے واقعات ہوتے ہیں تو پھر معمول کا روزگار بھی ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ وادی نیلم کے باسیوں نے ہمیں بتایا کہ گزشتہ دنوں کے فائرنگ کے واقعات کے بعدان کا روزگار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ایک شکایت کشمیریوں کو یہ ہے کہ چونکہ کشمیر ان کا ہے اس لئے اس سے متعلق بات بھی ان کو کرنا چاہئے۔ ایک کشمیری نوجوان نے بجا طور پریہ شکوہ کیا کہ کشمیر ان کا ہے، قربانیاں ان کے بہن بھائی دے رہے ہیں، ہندوستانی افواج کی شیلنگ کی زد میں وہ ہیں اور ان کے نام پر اس وقت فواد چوہدری فرانس میں، شہریار آفریدی جرمنی میں اور شیخ رشید لندن میں مزے لوٹ رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا کیس کشمیریوں کو پیش کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اپنے کیس کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اور جب کشمیری قیادت خود اپنا کیس بیان کرے گی تو دنیا بھی زیادہ توجہ دے گی۔ ان کو یہ بھی شکایت ہے کہ کشمیری قیادت کو ایک چھتری تلے اور ایک بیانیے پر جمع کرنے کے لئے بھی پاکستان کماحقہ کردار ادا نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم عمران خان ہمارے وکیل ہیں تو وہ ہم مدعیوں سے ہمارا کیس بھی تو سمجھیں۔ دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ وکیل اپنی طرف سے مدعی کے مستقبل کے فیصلے کرتا پھرے اور مدعی کو آگاہ بھی نہ کرے کہ ان کا کیس کس طرف جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے صحافیوں کو بھی ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح میڈیا سے شکایت ہے وہ جانوں پر کھیل کر علاقے کی خبریں اکٹھی کرتے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا میں ان کو جگہ نہیں ملتی اور سارا وقت پاکستان کے سیاسی ڈراموں کی نذر ہوتا ہے۔ یہاں کے اہل صحافت، دانشور اور نوجوان پاکستان کے سیاسی حالات پر بھی دکھی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب پاکستان میں یہ سیاسی انتشار ہو گا اور نفرتیں اس قدر زوروں پر ہوں گی تو پھر کیوں کر پاکستان کشمیریوں کی وکالت بہتر انداز میں کر سکے گا۔

تحریر سلیم صافی

وہ پرنالے سے لٹکتی چھت پر جا پہنچی

فاطمہ صغرٰی مر گئی
ہائیں وہ کون تھی؟
جناب وہ “کون“ نہیں تھی ہم کون ہیں؟
بروز پیر 25 ستمبر 2017ء محترمہ فاطمہ صغرٰی 84 سال کی عمر میں اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں
یہ وہی فاطمہ صغرٰی تھی جس نے 14 سال کی عمر میں دنیا کے سب سے بڑے سامراج کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوں للکارا کہ اس کی کڑک آج بھی سُنائی دیتی ہے

قیام پاکستان کی تحریک اپنے آخری مرحلے میں تھی کہ مسلم لیگ نے سول سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا
کمشنر لوئیس نے فرعون کے انداز میں پریس کو بیان دیا کہ سیکریٹریٹ کے سامنے کی سڑک پر مسلم لیگ کو اس دن تک احتجاج نہیں کرنے دوں گا جب تک سیکریٹریٹ پر یونین جیک لہرا رہا ہے

فاطمہ مسلم لیگی جلوس میں شامل تھی اور فرعون کا بیان اس نے بھی سن رکھا تھا جلوس والوں نے تو دفعہ 144 توڑنا تھی لیکن 14 سالہ فاطمہ نے فرعون کا غرور توڑنا تھا۔ کمزور سی فاطمہ نے 10 فٹ اُونچا پھاٹک پھلانگا ۔ ایک سنتری اس کی جانب بڑھا تو فاطمہ نے اپنی انگلیاں اس کی آنکھوں میں کھبو دیں ۔ ابھی وہ اور اس کے ساتھی سنبھلے بھی نہ تھے کہ فاطمہ پرنالے سے لٹکتی چھت پر جا پہنچی یونین جیک کو اُتار پھینکا اور سبز ہلالی پرچم لہرا دیا

چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ سیکریٹریٹ کے دالان میں کمشنر کھڑا منظر دیکھ رہا تھا ۔ سیکریٹریٹ کے پول پر مسلم لیگ کا پرچم لہرا رہا تھا اور پھاٹک کے باہر پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ گونج رہا تھا
اور دنیا کے سب سے بڑے سامراج کا پرچم 14 سالہ فاطمہ صغرٰی کے جوتے کے نیچے پڑا تھا
فاطمہ گرفتار ہوئی جیل گئی لیکن فاطمہ ہمیں بتا گئی کہ وہ “کون“ نہیں تھی ہم کون ہیں؟

پاکستان کیوں بنا ؟ کیسے بنا ؟

my-id-pak
آئیندہ کل یعنی 14 اگست کو پاکستان میں بہترواں یومِ آزادی منایا جائے گا ۔ پاکستان میں آنے والے علاقے کی آزادی کا اعلان 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات 11 بج کر 57 منٹ پر کیا گیا تھا ۔ اُس رات ہند و پاکستان میں رمضان المبارک 1366ھ کی ستائیسویں تاریخ تھی

آج کے دور میں کچھ لوگ بے بنیاد باتیں کرنے لگ گئے ہیں جو پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کی نادانستہ یا دانستہ کوشش ہے ۔ دراصل اس قبیح عمل کی منصوبہ بندی تو پاکستان بننے سے قبل ہی ہو گئی تھی اور عمل قائد اعظم کی 11 ستمبر 1948ء کو وفات کے بعد شروع ہوا جس میں لیاقت علی خان کے 16 اکتوبر 1951ء کو قتل کے بعد تیزی آ گئی تھی

اب مستند تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے بنا ؟

برطانوی حکومت کا نمائندہ وائسرائے دراصل ہندوستان کا حکمران ہی ہوتا تھا ۔ آخری وائسرائے ماؤنٹ بيٹن نے انتہائی جذباتی مرحلے پر 21 مارچ 1947ء کو ذمہ داری سنبھالنے کیلئے 3 شرائط پيش کيں تھیں جو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کليمنٹ ايٹلی نے منظور کر لی تھیں
1 ۔ اپنی پسند کا عملہ
2 ۔ وہ ہوائی جہاز جو جنگ میں برما کی کمان کے دوران ماؤنٹ بيٹن کے زير استعمال تھا
3 ۔ فيصلہ کرنے کے مکمل اختيارات

ماؤنٹ بيٹن نے دہلی پہنچنے پر سب سے پہلے مہاراجہ بيکانير سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے کی
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو سے قائد اعظم کے متعلق دريافت کيا
جواہر لال نہرو نے کہا “مسٹر جناح سياست ميں بہت دير سے داخل ہوئے ۔ اس سے پہلے وہ کوئی خاص اہميت نہيں رکھتے تھے” ۔
مزید کہا کہ “لارڈ ويول نے بڑی سخت غلطی کی کہ مسلم ليگ کو کابينہ ميں شريک کرليا جو قومی مفاد کے کاموں ميں رکاوٹ پيدا کرتی ہے” ۔
ماؤنٹ بيٹن نے تيسری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کی ۔ ماؤنٹ بيٹن نے قائد اعظم سے پنڈت جواہر لال نہرو کے متعلق دريافت کيا ۔ قائد اعظم نے برجستہ فرمايا ” آپ تو ان سے مل چکے ہيں ۔ آپ جيسے اعلی افسر نے ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرلی ہوگی”۔
ماؤنٹ بيٹن اس جواب پر سمجھ گيا کہ اس ليڈر سے مسائل طے کرنا ٹيڑھی کھير ہے

ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مشورے سے آئی سی ايس افسر کرشنا مينن کو اپنا مشير مقرر کيا ۔ اگرچہ تقسيم فارمولے ميں بھی کرشنا مينن کے مشورے سے ڈنڈی ماری گئی تھی ليکن کرشنا مينن کا سب سے بڑا کارنامہ جموں کشمير کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاويز پر دستخط کرانا تھےجبکہ مہاراجہ جموں کشمير (ہری سنگھ) پاکستان سے الحاق کا بيان دے چکا تھا ۔ پھر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے عوام کے دباؤ کے تحت بھارت سے الحاق نہ کیا توکرشنا مينن کے مشورے پر ہی جموں کشمير ميں فوج کشی بھی کی گئی

انگريز کو ہندوؤں سے نہ تو کوئی سياسی پرخاش تھی نہ معاشی ۔ مسلمانوں سے انگریز اور ہندو دونوں کو تھی ۔ انگريز نے اقتدار مسلمانوں سے چھينا تھا اور ہندو اقدار حاصل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا تھا

حقيقت يہ ہے کہ کانگريس نے کيبنٹ مشن پلان کو اس نيت سے منظور کيا تھا کہ مسٹر جناح تو پاکستان سے کم کی بات ہی نہيں کرتے لہٰذا اقتدار ہمارا (ہندوؤں کا) مقدر بن جائے گا ۔ قائد اعظم کا کيبنٹ مشن پلان کا منظور کرنا کانگريس پر ايٹم بم بن کر گرا

صدرکانگريس پنڈت جواہر لال نہرو نے 10جولائی کو کيبنٹ مشن پلان کو يہ کہہ کر سبوتاژ کرديا کہ کانگريس کسی شرط کی پابند نہيں اور آئين ساز اسمبلی ميں داخل ہونے کے لئے پلان ميں تبديلی کرسکتی ہے ۔ چنانچہ ہندو اور انگريز کے گٹھ جوڑ نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کرديا ۔ قائد اعظم نے بر وقت اس کا احساس کر کے مترادف مگر مضبوط لائحہ عمل پیش کر دیا تھا ۔ آسام کے چيف منسٹر گوپی چند باردولی نے کانگريس ہائی کمانڈ کو لکھا” رام اے رام ۔ يہ تو ايک ناقابل تسخير اسلامی قلعہ بن گيا ۔ پورا بنگال ۔ آسام ۔ پنجاب ۔ سندھ ۔ بلوچستان ۔ صوبہ سرحد”۔

کيبنٹ مشن کے سيکرٹری (Wood Rowiyt) نے قائد اعظم سے انٹرويو ليا اور کہا ” مسٹر جناح ۔ کیا یہ ایک مضبوط پاکستان کی طرف پیشقدمی نہیں ہے ؟ (Mr. Jinnah! Is it not a step forward for a greater Pakistan?)”۔
قائد اعظم نے کہا ” بالکل ۔ آپ درست سمجھے (Exactly, you have taken the point)”
مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کرشنا مینن کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے باہمی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریز نے بڑی عیّاری سے پنجاب اور بنگال دونوں کو تقسیم کر دیا اور آسام بھی بھارت میں شامل کر دیا

مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تصنيف (INDIA WINS FREEDOM) کے صفحہ 162 پر تحرير کرتے ہيں کہ اپنی جگہ نہرو کو کانگريس کا صدر بنانا ان کی زندگی کی ايسی غلطی تھی جسے وہ کبھی معاف نہيں کرسکتے کيونکہ انہوں نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کيا ۔ مولانا آزاد نے تقسيم کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی پر ڈالی ہے ۔ يہاں تک لکھا ہے کہ 10 سال بعد وہ اس حقيقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں کہ جناح کا موقف مضبوط تھا

کچھ لوگ آج کل کے حالات ديکھ کر يہ سوال کرتے ہيں کہ ” پاکستان کيوں بنايا تھا ؟ اگر يہاں يہی سب کچھ ہونا تھا تو اچھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول کے مطابق ہم متحدہ ہندوستان ميں رہتے”۔

کانگريس ہندوستان ميں رام راج قائم کرنا چاہتی تھی ۔ چانکيہ تہذيب کے پرچار کو فروغ دے رہی تھی ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگيز قيادت اور رہنمائی ميں ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں نے بے مثال قربانياں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔ اس پاکستان اور اس کے مقصد کے خلاف بات کرنے والے کسی اور نہیں اپنے ہی آباؤ اجداد کے خون پسینے کو پلید کرنے میں کوشاں ہیں

یہ پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہی کہی جا سکتی ہے کہ عوام ہی کے ووٹ سے پاکستان کی حکومت آج اُن لوگوں یا جماعتوں کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی خواہ وہ سرحدی گاندھی کہلانے والے عبدالغفار خان کی اولاد کی جماعت ہو یا قائد اعظم کی مخالفت کرنے والے شاہنواز بھٹو کی اولاد کی یا کانگرسی مولوی مفتی محمود کی اولاد کی یا بھارت جا کر برملا کہنے والے الطاف حسین کی کہ “پاکستان بنانا فاش غلطی تھی”۔

عیدالاضحٰے مبارک

کُلُ عَام اَنتُم بَخَیر

سب مسلمان بہنوں اور بھائیوں جہاں کہیں بھی ہوں عیدالاضحٰے مبارک
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک ۔ اگر زيادہ نہيں تو ہر نماز کے بعد ايک بار يہ کہنا چاہیئے
البتہ عيد کی نماز کو جاتے ہوئے اور واپسی پر يہ ورد رکھنا چاہیئے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَهَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ
لَهُ الّمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلهَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلهَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیراً والحمدُللہِ کثیِراً و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا
اللّھم صلی علٰی سیّدنا محمد و علٰی آل سیّدنا محمد و علٰی اصحاب سیّدنا محمد و علٰی ازواج سیّدنا محمد و سلمو تسلیماً کثیراً کثیرا

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب مسلمانوں کو اپنی شريعت پر قائم کرے اور شيطان کے وسوسوں سے بچائے
جنہوں نے حج ادا کیا ہے اللہ کریم اُن کا حج قبول فرمائے
جنہوں نے سیّدنا ابراھیم علیہ السلام کی سُنّت کی پيروی کرتے ہوئے قربانی کرنا ہے ۔ اللہ عِزّ و جَل اُن کی قربانی قبول فرمائے
اللہ کریم ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ہمارے مُلک کو ہر انسانی اور قدرتی آفت سے محفوظ فرمائے اور امن کا گہوارہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین

پاکستان کیوں بنا ؟

فی زمانہ لوگ بے بنیاد باتیں کرنے لگ گئے ہیں جو پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کی نادانستہ یا دانستہ کوشش ہے ۔ دراصل اِس قبیح عمل کی منصوبہ بندی تو پاکستان بننے سے قبل ہی ہو گئی تھی اور عمل قائد اعظم کی 11 ستمبر 1948ء کو وفات کے بعد شروع ہوا جس میں لیاقت علی خان کے 16 اکتوبر 1951ء کو قتل کے بعد تیزی آ گئی تھی ۔ اب مُستنَد تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے بنا ؟
برطانوی حکومت کا نمائندہ وائسرائے دراصل ہندوستان کا حکمران ہی ہوتا تھا ۔ آخری وائسرائے ماؤنٹ بيٹن نے انتہائی جذباتی مرحلے پر 21 مارچ 1947ء کو ذمہ داری سنبھالنے کیلئے 3 شرائط پيش کيں تھیں جو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کليمنٹ ايٹلی نے منظور کر لی تھیں
1 ۔ اپنی پسند کا عملہ
2 ۔ وہ ہوائی جہاز جو جنگ میں برما کی کمان کے دوران ماؤنٹ بيٹن کے زيرِ استعمال تھا
3 ۔ فيصلہ کرنے کے مکمل اختيارات
ماؤنٹ بيٹن نے دہلی پہنچنے پر سب سے پہلے مہاراجہ بيکانير سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے کی
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو سے قائد اعظم کے متعلق دريافت کيا
جواہر لال نہرو نے کہا “مسٹر جناح سياست ميں بہت دير سے داخل ہوئے ۔ اس سے پہلے وہ کوئی خاص اہميت نہيں رکھتے تھے” ۔
مزید کہا کہ “لارڈ ويول نے بڑی سخت غلطی کی کہ مسلم ليگ کو کابينہ ميں شريک کرليا جو قومی مفاد کے کاموں ميں رکاوٹ پيدا کرتی ہے” ۔
ماؤنٹ بيٹن نے تيسری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کی ۔ ماؤنٹ بيٹن نے قائد اعظم سے پنڈت جواہر لال نہرو کے متعلق دريافت کيا ۔ قائد اعظم نے برجستہ فرمايا ” آپ تو ان سے مل چکے ہيں ۔ آپ جيسے اعلی افسر نے ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرلی ہوگی”۔
ماؤنٹ بيٹن اس جواب پر سمجھ گيا کہ اس ليڈر سے مسائل طے کرنا ٹيڑھی کھير ہے
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مشورے سے آئی سی ايس افسر کرشنا مينن کو اپنا مشير مقرر کيا ۔ اگرچہ تقسيم فارمولے ميں بھی کرشنا مينن کے مشورے سے ڈنڈی ماری گئی تھی ليکن کرشنا مينن کا سب سے بڑا کارنامہ جموں کشمير کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاويز پر دستخط کرانا تھےجبکہ مہاراجہ جموں کشمير (ہری سنگھ) پاکستان سے الحاق کا بيان دے چکا تھا ۔ پھر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق نہ کیا توکرشنا مينن کے مشورے پر ہی جموں کشمير پر فوج کشی کی گئی تھی
انگريز کو ہندوؤں سے نہ تو کوئی سياسی پَرخاش تھی نہ معاشی ۔ مسلمانوں سے انگریز اور ہندو دونوں کو تھی ۔ انگريز نے اقتدار مسلمانوں سے چھينا تھا اور ہندو اقدار حاصل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا تھا
حقيقت يہ ہے کہ کانگريس نے کيبنٹ مشن پلان کو اس نيت سے منظور کيا تھا کہ مسٹر جناح تو پاکستان سے کم کی بات ہی نہيں کرتے لہٰذا اقتدار ہمارا (ہندوؤں کا) مقدر بن جائے گا ۔ قائد اعظم کا کيبنٹ مشن پلان کا منظور کرنا کانگريس پر ايٹم بم بن کر گرا
صدرکانگريس پنڈت جواہر لال نہرو نے 10جولائی کو کيبنٹ مشن پلان کو يہ کہہ کر سبوتاژ کرديا کہ کانگريس کسی شرط کی پابند نہيں اور آئين ساز اسمبلی ميں داخل ہونے کے لئے پلان ميں تبديلی کرسکتی ہے ۔ چنانچہ ہندو اور انگريز کے گٹھ جوڑ نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کرديا ۔ قائد اعظم نے بر وقت اس کا احساس کر کے مترادف مگر مضبوط لائحہ عمل پیش کر دیا تھا ۔ آسام کے چيف منسٹر گوپی چند باردولی نے کانگريس ہائی کمانڈ کو لکھا” رام اے رام ۔ يہ تو ايک ناقابل تسخير اسلامی قلعہ بن گيا ۔ پورا بنگال ۔ آسام ۔ پنجاب ۔ سندھ ۔ بلوچستان ۔ صوبہ سرحد”۔

کيبنٹ مشن کے سيکرٹری (Wood Rowiyt) نے قائد اعظم سے انٹرويو ليا اور کہا ” مسٹر جناح ۔ کیا یہ ایک مضبوط پاکستان کی طرف پیشقدمی نہیں ہے ؟”
قائد اعظم نے کہا ”بالکل ۔ آپ درست سمجھے“۔
مگر جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چکا ہے کرشنا مینن کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے باہمی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریز نے بڑی عیّاری سے پنجاب اور بنگال دونوں کو تقسیم کر دیا اور آسام بھی بھارت میں شامل کر دیا
مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تصنیف (INDIA WINS FREEDOM) کے صفحہ 162 پر تحرير کرتے ہيں کہ اپنی جگہ نہرو کو کانگريس کا صدر بنانا ان کی زندگی کی ايسی غلطی تھی جسے وہ کبھی معاف نہيں کرسکتے کيونکہ انہوں نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کيا ۔ مولانا آزاد نے تقسيم کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی پر ڈالی ہے ۔ يہاں تک لکھا ہے کہ 10 سال بعد وہ اس حقيقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں کہ جناح کا مؤقف مضبوط تھا
کچھ لوگ آج کل کے حالات ديکھ کر يہ سوال کرتے ہيں کہ ” پاکستان کيوں بنايا تھا ؟ اگر يہاں يہی سب کچھ ہونا تھا تو اچھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول کے مطابق ہم متحدہ ہندوستان ميں رہتے”۔
کانگريس ہندوستان ميں رام راج قائم کرنا چاہتی تھی ۔ چانکيہ تہذيب کے پرچار کو فروغ دے رہی تھی ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگيز قيادت اور رہنمائی ميں ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں نے بے مثال قربانياں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔ اس پاکستان اور اس کے مقصد کے خلاف بات کرنے والے کسی اور نہیں اپنے ہی آباؤ اجداد کے خون پسینے کو پلید کرنے میں کوشاں ہیں

اے وطن ۔ ۔ ۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رَسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چُرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہلِ دل کے لئے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہل ہوَس مُدعی بھی مُنصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے مُنصفی چاہیں
بِچھا جو روزن زِنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رُخ پر بِکھر گئی ہوگی
یوں ہی ہمیشہ اُلجھتی رہی ہے ظُلم سے خَلَق
نہ ان کی رسم نئی ہے ۔ نہ اپنی رِیت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھِلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے ۔ نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تُجھ سے عہدِ وفا اِستوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں