Category Archives: طور طريقہ

اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

میں نے اپنا یہ خیال 21 جون 2007ء کو شائع کیا تھا ۔ سوچا کہ اس کی اب اس کی ضرورت اُس وقت سے بھی زیادہ ہے چنانچہ دوبارہ پیشِ خدمت ہے
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان
تیرا سجّن یورپ نہ امریکہ
تیرا ساتھی چین نہ جاپان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

نہ کر بھروسہ غیروں کی مدد پر
اپنی زمیں ا ور اپنوں پر نظر کر
اور رکھ اپنی طاقت پر ایمان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دساور کا مال جو کھائے
ہڈ حرام وہ ہوتا جائے
بھر اپنے کھیتوں سے کھلیان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دشمن کہہ کر نہ گِراتا جا
اپنوں کی لاشیں جا بجا
اپنے خون کی کر پہچان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

کرے جو تو محنت مزدوری
دال روٹی بن جائے حلوہ پوری
حق حلال کی اب تو ٹھان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

فرق صرف سوچ کا ہے

ہر شخص کی 10 فیصد زندگی حقیقی ہوتی ہے ۔ 90 فیصد اُس کی سوچ ہوتی ہے یعنی بجائے اِس کے کہ کہنے والے کی بات کو صاف ذہن کے ساتھ سُنا جائے اگر ذہن میں ہے کہ دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے اور وہ بات جو بھی کر رہا ہے اُس کا مطلب یہ ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات سُننے والا اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لیتا ہے وہ کہنے والے نے کہی ہی نہیں ہوتی اور نہ کہنے والے کے وہم و گمان میں ہوتی ہے

چنانچہ اگر سوچ 100 فیصد مَثبَت ہو تو زندگی 100 فیصد حقیقی ہوتی ہے اور دُنیا حسین لگتی ہے بصورتِ دیگر دوسروں میں عیب نظر آتے ہیں اور یہ عیب اپنی سوچ کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں
اب سُنیئے ایک شخص کا واقعہ جس نے اُس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا
میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پَتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا
بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا

میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ” اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا “۔
ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے“۔

میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلُوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے

گلگت بلتستان کی آزادی

گلگت کا علاقہ انگریزوں نے پٹے پر لیا ہوا تھا اور اسکی حفاظت گلگت سکاؤٹس کے ذمہ ہوا کرتی تھی جو سب مسلمان تھے ۔ گلگت سکاؤٹس کے صوبیدار میجر بابر خان آزادی کے متوالے تھے ۔ جموں کشمیر کے راجہ نے گلگت سے 50 کلومیٹر دور بونجی کے مقام پر چھاؤنی اور ریزیڈنسی بنائی ہوئی تھی جہاں چھٹی جموں کشمیر اِنفنٹری کے فوجی تعینات ہوتے تھے ۔ چھٹی جموں کشمیر اِنفنٹری کے مسلمان آفیسروں میں کرنل عبدالمجید جموں میں ہمارے ہمسایہ تھے ۔ کرنل احسان الٰہی ۔ میجر حسن خان جو کیپٹن ہی جانے جاتے رہے ۔ کیپٹن سعید درّانی ۔ کیپٹن محمد خان ۔ کیپٹن محمد افضل اور لیفٹیننٹ غلام حیدر شامل تھے ۔ پٹے کی معیاد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کی آزادی معرضِ وجود میں آ گئی اور انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنا شروع کر دیا چنانچہ جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے گھنسار سنگھ کو گلگت کا گورنر مقرر کر کے بونجی بھیجا ۔ یہ تعیناتی چونکہ نہائت عُجلت میں کی گئی تھی اسلئے گورنر گھنسار سنگھ کے پاس علاقہ کا انتظام چلانے کے کوئی اختیارات نہ تھے سو وہ صرف کاغذی گورنر تھا

ہوا یوں کہ چھٹی جموں کشمیر اِنفینٹری کی رائفل کمپنی کے کمانڈر میجر حسن خان کو اپنی کمپنی کے ساتھ گلگت کی طرف روانگی کا حُکم ملا ۔ یکم ستمبر 1947ء کو وہ کشمیرسے روانہ ہوا تو اُس نے بآواز بلند پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور پوری کمپنی نے اُس کا ساتھ دیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب سارے جموں کشمیر میں دفعہ 144 نافذ تھی اور اس کے باوجود جموں شہر میں آزادی کے متوالے مسلمان جلوس نکال رہے تھے جس میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے تھے

میجر حسن خان کی کمپنی جب استور پہنچی تو شہری مسلمانوں کی حمائت سے نیا جوش پیدا ہوا اور آزادی کے متوالوں نے دل کھول کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ اس کمپنی نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اور باقی آزادی کے متوالوں کو ساتھ ملاتے اپنا سفر جاری رکھا ۔ گلگت پہنچنے تک گلگت سکاؤٹس بھی ان کے ساتھ مل چکے تھے

بھارتی فوجوں کے 27 اکتوبر 1947ء کو جموں میں زبردستی داخل ہونے کی اطلاع گلگت بلتستان میں 30 اکتوبر 1947ء کو پہنچی ۔ 31 اکتوبر کو صوبیدار میجر بابر خان نے بونجی پہنچ کر گلگت سکاؤٹس کی مدد سے گورنر گھنسار سنگھ کے بنگلہ کا محاصرہ کر لیا ۔ گورنر کے ڈوگرہ فوجی محافظوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک سکاؤٹ شہید ہو گیا ۔ گھنسار سنگھ کو حسن خان اور اس کے ساتھیوں کی استور میں نعرے لگانے کا علم ہو چکا تھا ۔ اُس نے 31 اکتوبر کوصبح ہی ٹیلیفون پر چھٹی اِنفینٹری کے کمانڈر کرنل عبدالمجید کو ایک سِکھ کمپنی فوراً بونجی بھجنے اور خود بھی میجر حسن خان کو ساتھ لے کر بونجی پہنچنے کا کہا ۔ کرنل عبدالمجید خود بونجی پہنچا اور میجر حسن خان کو اپنی کمپنی سمیت بونجی پہنچنے کا حکم دیا مگر سکھ کمپنی کو کچھ نہ کہا ۔ کرنل عبدالمجید کے بونجی پہنچنے سے پہلے گلگت سکاؤٹس کی طرف سے گھنسار سنگھ تک پیغام پہنچایا جا چکا تھا کہ ہتھیار ڈال دو ورنہ مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔ کرنل عبدالمجید نے میجر حسن خان اور صوبیدار میجر بابر خان سے گھنسار سنگھ کی جان کی ضمانت لے لی اور گھنسار سنگھ نے گرفتاری دے دی

گلگت بلتستان میں آزاد حکومت
میجر حسن خان نے یکم نومبر 1947ء کو گلگت اور بلتستان میں اپنی آزاد حکومت قائم کی اور قائد اعظم اور صوبہ سرحد کے خان عبدالقیّوم خان کو گلگت بلتستان کا عنانِ حکومت سنبھالنے کے لئے خطوط بھجوائے ۔ یہ گلگت اور بلتستان کا پاکستان سے الحاق کا اعلان تھا

3 نومبر 1947ء کو بونجی میں گورنر کے بنگلے پر ایک پُروقار مگر سادہ تقریب میں آزاد ریاست کا جھنڈا لہرایا گیا ۔ اس طرح سوا صدی کی غلامی کے بعد گلگت بلتستان میں پھر مسلمانوں کی آزاد حکومت باقاعدہ طور پر قائم ہو گئی ۔ 15 نومبر 1947ء کو پاکستان کے نمائندہ سردار عالم نے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر عنان حکومت سنبھال لیا

پہلے مُنتخِب وزیر اعظم کی شہادت

آج سے 69 سال قبل 16اکتوبر کی صبح قائدِ مِلّت راولپنڈی پہنچے ۔ سہ پہر کے وقت کمپنی باغ (اب لیاقت باغ) میں جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا جس میں نئے عام انتخابات کا اعلان کرنا تھا ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان نے تقریر شروع کرتے ہوئے ابھی اتنا ہی کہا تھا ” برادرانِ مِلت ۔ ۔ ۔ “۔ کہ پہلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سَید اکبر نے 2 گولیاں چلائیں ۔ ایک نواب زادہ لیاقت علی خان کے سر اور دوسری پیٹ میں لگی ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان گر پڑے ۔ اُن کے آخری الفاظ جو سُنائی دیئے یہ تھے ” الله پاکستان کی حفاظت کرے“۔
اگر اس روز اعلان ہوجاتا اور انتخابات ہوجاتے تو تاریخ بدل جاتی اور نوکر شاہی کے سیاسی عزائم خاک میں مل جاتے ۔ بہر کیف قائدِ مِلّت جیسا وزیرِ عظم جو پاکستان کو صحیح جمہوری ملک بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور قائد اعظم کے بعد تنہا ملک کی اُمیدوں کا سہارا تھا بغیر کچھ وصیت کئے ایک بیوہ ۔ 2 کم سن بچوں پر مشتمل جائیداد چھوڑکر ہم سے رخصت ہوگیا
سَید اکبر کو لوگوں نے قابو کر کے اُس کا پستول چھین لیا تھا ۔ پھر ایک پشتو آواز گونجی ”گولی کس نے چلائی ۔ مارو اِسے“۔ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی ۔ اس حُکم کی تعمیل میں انسپکٹر محمد شاہ نے سَید اکبر پر گولیاں چلا کر اُسے ہلاک کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کا تبادلہ کچھ دن قبل ہی کیمبلپور (اٹک) سے راولپنڈی کیا گیا تھا ۔ پولیس قوانین کے مطابق قاتل کو زندہ پکڑنا ضروری ہوتا ہے ۔ مقابلہ کرتے ہوئے مارا جائے تو الگ بات ہے ۔ چنانچہ انسپیکٹر محمد شاہ نے جُرم کا ارتکاب کیا تھا لیکن حیرت ہے کہ عدالت میں اُس نے کہا ”میں جذبات میں آ گیا تھا“۔ اور اُسے کچھ نہ کہا گیا
قوم نے صرف اتنا کیا کہ کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ اور اُس کے ساتھ والی سڑک کا نام لیاقت روڈ رکھ دیا

امریکی خفیہ دستاویزات پر مشتمل کتاب دی امریکن رول اِن پاکستان کے صفحہ 61 اور 62 کے مطابق امریکہ میں پہلے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسناد تقرری پیش کرنے کے بعد اپنی درخواست میں اصفہانی صاحب نے لکھا ہنگامی حالت میں پاکستان ایسے اڈے کے طور پر کام آسکتا ہے جہاں سے فوجی و ہوائی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کارروائی اس سوویت یونین کےخلاف ہوتی جو ایٹمی دھماکے کے بعد عالمی سامراج کی آنکھ میں زیادہ کھٹکنے لگا تھا
1949ء میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی رپورٹ میں ہے پاکستان کے لاہور اور کراچی کے علاقے ۔ وسطی روس کےخلاف کارروائی کیلئے کام آسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے دفاع یا حملے میں بھی کام آسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ روس کے ایٹمی دھماکے اور چین میں کمیونزم آجانے سے امریکہ پاکستان کی جانب متوجہ ہوا چنانچہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری جارج کریوز مَیگھی دسمبر 1949ء میں پاکستان آئے اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکی صدر ٹرومین کا خط اور امریکی دورے کی دعوت دی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اہم ملاقات وزیر خزانہ غلام محمد سے کی جنہوں نے میگھی کو تجویز دی ”ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ امریکی انٹیلی جنس کا پاکستانی انٹیلی جنس سے رابطہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ اِن (غلام محمد) کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو“ (صفحہ 106)۔
دسمبر 1949ء میں پاک فوج کے قابل افسران جنرل افتخار اور جنرل شیر خان ہوائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ باقی کسر پنڈی سازش کیس نے
پوری کر دی ۔ ایوب خان ابتداء ہی سے امریکہ کا نظرِ انتخاب تھے ۔ وہ قیام پاکستان کے وقت لیفٹیننٹ کرنل تھے اور صرف 3 سال بعد میجر جنرل بن گئے۔ وہ کمانڈر انچیف سرڈیگلس گریسی کے ساتھ نائب کمانڈر انچیف تھے
زمامِ اقتدار اس وقت کُلی طور پر امریکی تنخواہ داروں کے ہاتھ آئی جب 16 اکتوبر 1951ء کو لیاقت علی خان قتل کردیئے گئے ۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم ۔ ان کی جگہ وزیر خزانہ غلام محمد با اختیار گورنر جنرل ۔ اسکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری (جو آئی سی ایس آفیسر تھا اور ڈیفنس سیکریٹری بننے کے بعد اپنے آپ کو میجر جنرل کا رینک دے دیا تھا) اور ایوب خان کمانڈر انچیف اور یوں امریکی کورم پورا ہوگیا (وزیر اعظم با اختیار نہیں تھا)
دوسری طرف امریکہ نے خطے میں روسی خطرے سے نمٹنے کے لئے دیگر اہم ممالک پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی تھی یہاں تک کہ جب اگست 1953ء میں ایران میں ڈاکٹر مصدق نے برطانیہ کے ساتھ تیل کے مسئلے پر تعلقات خراب کرلئے تو امریکہ نے ایران سے بھاگے ہوئے رضا شاہ پہلوی کو رَوم سے لاکر تخت پر بٹھادیا اور پھر روس کے خلاف ترکی ۔ ایران اور پاکستان کو ایک معاہدے میں نتھی کردیا جسے بغداد پیکٹ کہا گیا
ہمارا دوست امریکہ کتنا ہی دغاباز کیوں نہ ہو لیکن ہم سے معاملات طے کرتے وقت اس نے منافقت کا کبھی سہارا نہیں لیا ۔ وہ صاف کہتا ہے ”امریکہ کو چاہیئے کہ امریکی دوستی کے عوض پاکستان کی موجودہ حکومت کی مدد کرے اور یہ کوشش بھی کرے کہ اس حکومت کے بعد ایسی حکومت برسراقتدار نہ آجائے جس پر امریکہ مخالف کا قبضہ ہو ۔ ہمارا ہدف امریکی دوست نواز حکومت ہونا چاہیئے“۔
(فروری 1954ء میں نیشنل کونسل کا فیصلہ ۔ بحوالہ پاکستان میں امریکہ کا کردار صفحہ 326)

جب نوازادہ لیاقت علی خان امریکہ کے صدر ٹرومَین کی دعوت پر امریکہ گئے تو اُن پر امریکہ کی حمائت وغیرہ کیلئے دباؤ ڈالا گیا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا
“We want to have friendship with USA but will not take dictation from anyone۔”

Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine
WHO SHOT LAK (Liaquat Ali Khan)?..CIA CONNECTION
[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

امریکہ کی مندرجہ ذیل خُفیہ دستاویزات جن سے معلومات حاصل کی گئی تھیں 2010ء تک انٹرنیٹ پر موجود تھیں ۔ جب میں نے 2015ء کے شروع میں دیکھا تو انٹرنیٹ سے ہٹائی جا چُکی تھیں

1. America’s Role in Pakistan
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951 [only first page located]
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

فرق صرف سوچ کا ہے

ہر شخص کی 10 فیصد زندگی حقیقی ہوتی ہے ۔ 90 فیصد اُس کی سوچ ہوتی ہے یعنی بجائے اِس کے کہ کہنے والے کی بات کو صاف ذہن کے ساتھ سُنا جائے اگر ذہن میں ہے کہ دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے اور وہ بات جو بھی کر رہا ہے اُس کا مطلب یہ ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات سُننے والا اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لیتا ہے وہ کہنے والے نے کہی ہی نہیں ہوتی اور نہ کہنے والے کے وہم و گمان میں ہوتی ہے
چنانچہ اگر سوچ 100 فیصد مَثبَت ہو تو زندگی 100 فیصد حقیقی ہوتی ہے اور دُنیا حسین لگتی ہے بصورتِ دیگر دوسروں میں عیب نظر آتے ہیں اور یہ عیب اپنی سوچ کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں
اب سُنیئے ایک شخص کا واقعہ جس نے اُس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا
میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پَتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا
بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا
میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ” اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا “۔
ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے“۔
میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلُوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے

رِشتہءِ ازدواج

اُن دنوں ميں پرنسِپل ٹيکنيکل ٹريننگ انسٹيٹيوٹ تھا ۔ چند رحمدل حضرات ميرے پاس تشريف لائے اور فرمائش کی کہ معاشرہ کی صورتِ حال کے پيشِ نظر ميں تعليم يافتہ خواتين و حضرات کی مجلس ميں میاں اور بیوی کے رشتہ بارے تقرير کروں ۔ مجلس ميں نہ صرف نوجوان يا ميرے ہم عمر بلکہ مجھ سے کافی بڑی عمر کے خواتين و حضرات شامل تھے ۔ ميری 5 مارچ 1984ء کی تقرير کا متن

گراں قدر خواتين و حضرات ۔ السلام عليکم
خالقِ حقيقی نے اس کائنات کی تخليق کے بعد حضرتِ انسان کو پيدا کيا اور چرِند پرِند کو بھی ۔ اور سب کے جوڑے بنائے ۔ تا کہ انسان کو اس مُختصر زندگی ميں جس امتحان سے گذرنا ہے اس کی زندگی آسائش کے ساتھ بسر ہو ۔ رشتۂِ اِزدواج کو اگر موضوع بنايا جائے تو انسان ايک نہ ختم ہونے والی بحث ميں مُبتلا ہو سکتا ہے ۔ ليکن اس کو اگر صرف مياں بيوی کے تعلقات ميں محدود کر کے غور کيا جائے اور بيرونی اثرات يعنی عزيز و اقارب کے ساتھ تعلقات اور دوسری حاجات کو شامل نہ بھی کيا جائے تو ايک ايسا پہلو نکلتا ہے جس پر عام طور پر توجہ نہيں دی جاتی جس کے نتیجہ میں میاں بیوی کے مابین ناچاقی جنم لیتی ہے ۔ وہ ہے نفسياتی پہلو جو کہ مياں بيوی کے باہمی تعلقات کی جڑوں سے براہِ راست مُنسلِک ہے

عقدالنِّکاح ۔ جِسے عام طور پر شادی يا بياہ کہا جاتا ہے ۔ ايک پاکيزہ اور نہائت اہم رشتہ ہے جو غالباً نام کی تبديلی اور ہِندوانا رسم و رواج ميں گُم ہو کر رہ گيا ہے ۔ خاوند بيوی کا رشتہ دراصل باہمی اعتماد کا رشتہ ہے ۔ يہ ايک ايسا راستہ ہے جس پر دو جی مِل کر ايک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہيں اور درحقيقت ساتھ ساتھ چلنے کا اقرار کرتے ہيں ۔ ايک گاڑی کے دو پہيّوں کی طرح ۔ ايک پہيّہ کمزور یا ناقص ہو جائے تو دوسرا گاڑی کو آگے نہيں بڑھا سکتا ۔ عقدالنّکاح خلوص اور پيار کا ايک وعدہ ہے جو مياں بيوی کو ساتھ ساتھ چلنے کيلئے ايک دِل ايک جان بنا ديتا ہے

نئی نويلی دُلہن جب اپنے خاوند کے گھر آتی ہے تازہ دودھ کی مانند ہے ۔ جس طرح خالص دودھ پر جراثيم حملہ کرتے ہيں نئی نويلی دُلہن پر وسوسے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہيں ۔ دودھ کو آگ پر رکھا جائے تو دودھ کھولنے لگتا ہے اور حرارت زيادہ ملنے پر اُبل کر برتن سے باہر آگ پر گِر کر جلنے لگتا ہے ۔ خاوند کی عدم توجہی سے عورت بالخصوص نئی دُلہن عام طور پر شک و وہم ميں پڑ کر وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے ۔ وسوسے ايک ايسی خطرناک آگ ہے جو نظر نہيں آتی ليکن اس کی آنچ دل ميں اُبال پيدا کرتی ہے اور وہ اندر ہی اندر سے انسان کو جلا کر بھسم کر ديتی ہے ۔ خاوند کی عدم توجہی بعض اوقات غیر ارادی بھی ہوتی ہے ۔ کچھ عورتیں اردگرد کے ماحول کے سبب شک اور وہم سے گريز نہيں کر سکتی اور وہ وسوسوں کی آگ ميں جلتی رہتی ہیں ۔ ابتداء چاہے خاوند سے ہو یا بیوی سے يہ آگ پورے گھرانے کو اپنی لپيٹ ميں لے ليتی ہے

وسوسے صرف عورت ہی پيدا نہيں کرتی بلکہ بہت سے مرد بھی اس کا شکار ہوتے ہيں ۔ محبت بھرے افسانے تو بہت سُننے اور پڑھنے ميں آتے ہيں مگر گرہستی چلانے کيلئے عقل ۔ تحمل اور بُردباری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حقيقی دنيا ميں افسانوی کرداروں کيلئے کوئی جگہ نہيں ۔ الله نے عورت کو جذبات کا پُتلا بنایا ہے لیکن مرد کو اس پر حَکم اسلئے دیا ہے کہ مرد کا کام جذبات میں بہنے کی بجائے تحمل اور بُردباری سے چلنا ہے

عورت بيوی بننے سے پہلے کسی کی بيٹی ہوتی ہے ۔ اُس کا خاوند کا گھر بسانا ايک فطری عمل ہے ۔ يہ سلسلہ ازل سے چلتا آ رہا ہے ۔ شوہر کا گھر ہی عورت کا گھر کہلاتا ہے ۔ ليکن پھر بھی عورت جب ماں باپ کا گھر چھوڑ کر شوہر کے گھر پہنچتی ہے تو اُس کے دل ميں نفسياتی اور جذباتی خلاء پيدا ہوتا ہے ۔ يہ خلاء صرف اُس سے خاوند کی محبت اور مناسب توجہ سے پُر ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ خاوند کيلئے يہ موزوں نہيں کہ بيوی کو غلام سمجھے بلکہ خاوند کو چاہيئے کہ بيوی کی عزت کو اپنی عزت سمجھے اور اسکی ضروريات اور خواہشات کا حتی المقدُور خيال رکھے ۔ بالکل اسی طرح بيوی کو بھی چاہيئے کہ اپنی خواہشات کو خاوند کے وسائل تک محدود رکھے اور خاوند کی عزت کو اپنی عزت سمجھے ۔ خاوند کے والدین اور بہن بھائیوں کا اسی طرح احترام کرے جیسے خاوند کرتا ہو اور دونوں میں سے کوئی حد سے تجاوز نہ کرے
ديکھا گيا ہے کہ کچھ مرد سارا سارا دن دوستوں کے ساتھ گھومتے اور قہقہے لگاتے رہتے ہيں ۔ کسی نے چوکڑی جما کر تاش کھيلتے آدھی رات گذار دی تو کوئی کلب ميں بيٹھ کر نان کباب تکّے اُڑاتا رہا ۔ اُن کو ذرّہ برابر خيال نہيں آتا کہ اپنے لاڈ اور پيار کرنے والے والدين کو چھوڑ کر آئی ہوئی کوئی خاتون اپنی محبتيں نچھاور کرنے کيلئے اُس کی انتظار ميں دروازے پہ نظريں لگائے بيٹھی ہے اور اُس نے کچھ کھايا پيا بھی ہے يا نہيں ۔ گھر پہنچے بيوی جلدی سے کھانا گرم کر کے لائی تو مياں صاحب ۔ ميں تھک گيا ہوں ۔ کہہ کر بستر پر دراز ہو گئے ۔ بيوی نے کہا کھانا تو کھا ليجئے ۔ جواب ملا ميں نے کھاليا تھا اور وہ بيچاری اپنے سينے پر بوجھ لئے بھوکی سو گئی ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو گھر میں ہوتے ہوئے بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کی بیوی بھی ہے ۔ بے شک والدین اور بہن بھائیوں کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی فرض ہے لیکن ایک بات جو عام طور پر بھُلا دی جاتی ہے یہ ہے کہ والدین اور بہن بھائیوں کا رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا لیکن بیوی کا رشتہ کانچ سے زیادہ نازک ہوتا ہے
کئی گھرانوں ميں ديکھا گيا ہے کہ مرد دن بھر کا تھکا ہارا گھر لوٹا اور ابھی سانس بھی نہ لينے پايا کہ سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ۔ اتنی دير کيوں لگا دی ؟ کہاں چلے گئے تھے ؟ کس کے پاس چلے گئے تھے ؟ يہ تو ہوئے بڑے گھرانوں کے سوال ليکن يہ مُصيبت چھوٹے گھرانوں ميں بھی موجود ہے صرف سوال بدل جاتے ہيں ۔ گھر ميں آٹا نہيں ہے ۔ دال نہيں ہے ۔ بچے کو بُخار ہے ۔ وغيرہ وغيرہ

ذرا سوچئے تو اگر بيوی روزانہ خاوند پر بندوق کی گوليوں کی طرح برستی رہے تو اس کا نتيجہ کيا ہو گا ؟ گھر گھر نہيں رہے گا ۔ جہنم بن جائے گا ۔ اس روزانہ کی يلغار سے مرد تنگ آ کر سکون کی تلاش ميں گھر سے باہر رہنے لگے گا جہاں وہ کئی قباحتوں کا شکار ہو سکتا ہے ۔ ليکن اس حقيقت کو جھٹلايا نہيں جا سکتا کہ مرد اپنا گھر اپنی بيوی کو چھوڑ کر کبھی سُکھی نہيں رہ سکتا ۔ دس جگہ دھکے کھا کر پھر وفادار جانور کی طرح گھر آ جائے گا ۔ اگر پھر بھی بيوی بلاجواز وسوسوں ميں پڑی رہے اور معاملہ فہمی نہ کرے تو ايک دن خاوند ايسا جائے گا کہ لوٹ کے واپس نہيں آئے گا ۔ اُس وقت اپنا سر پيٹنا اور بال نوچنا بيکار ہو گا

مياں بيوی ميں اگر کھچاؤ ہو تو اس کا اثر نہ صرف ان کے باہمی تعلقات پر پڑتا ہے بلکہ ان کی جسمانی اور دماغی صحت بھی متاءثر ہوتی ہے ۔ والدين ميں تناؤ بچوں کے ذہنوں پر بھی بُرا اثر ڈالتا ہے ۔ بسا اوقات والدين کی چپقلش اولاد کے اذہان کو اتنا مجروح کر ديتی ہے کہ وہ اطمينان کھو بيٹھتے ہيں اور اپنی قدرتی صلاحيّتوں سے پورا فائدہ اُٹھانے سے قاصر رہتے ہيں ۔ والدين کی پند و نصائح اُنہيں کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہيں ۔ چنانچہ مياں بيوی کو نہ صرف اپنی خاطر بلکہ اولاد کی خاطر بھی رواداری اور سوجھ بوجھ کی زندگی اختيار کرنا چاہيئے
کيوں نہ اپنے آپ کا استحصاب شروع ہی سے کيا جائے اور مياں بيوی ايک دوسرے کو مُوردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنی اپنی اصلاح کريں ۔ اپنے اندر برداشت اور رواداری پيدا کريں ۔ صبر اور بُردباری سے کام ليں ۔ ايک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کريں ۔ ايک دوسرے کے احساسات و جذبات کی قدر کريں ۔ مياں بيوی اگر ايک دوسرے کی بات کو خلوصِ نيّت سے سُنيں تو اُن کی زندگی بہت خوشگوار بن سکتی ہے

ہم الحمدلله مُسلمان ہيں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہميشہ قرآن الحکيم سے رہنمائی حاصل کريں
سورت البقرہ کی آيت 263 ۔ ايک ميٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خيرات سے بہتر ہے جس کے پيچھے دُکھ ہو ۔ الله بے نياز ہے اور برد باری اُس کی صفت ہے ۔
سُورت فُصِّلَت يا حٰم السَّجْدَہ ۔ آيات 34 تا 36 ۔ اور نيکی اور بدی يکساں نہيں ہيں ۔ تم بدی کو اُس نيکی سے دور کرو جو بہترين ہو ۔ تم ديکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گيا ہے ۔ يہ صفت نصيب نہيں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہيں ۔ اور يہ مقام حاصل نہيں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصيب والے ہوتے ہيں
سورت البقرہ ۔ آيت 228 آخری حصہ ۔ عورتوں کيلئے بھی معروف طريقے پر ويسے ہی حقوق ہيں جيسے مردوں کے حقوق اُن پر ہيں البتہ مردوں کو اُن پر ايک درجہ حاصل ہے
سُورت النِّسَآء ۔ آيت 34 ۔ مرد عورتوں پر قوّام ہيں ۔ اس بناء پر کہ الله نے ايک کو دوسرے پر فضيلت دی ہے اور اس بناء پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہيں ۔ پس جو عورتيں صالح ہيں وہ اطاعت شعار ہوتی ہيں اور مردوں کے پيچھے الله کی حفاظت اور نگرانی ميں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہيں

سُبحان الله ۔ کتنا بلند درجہ ہے درگذر کرنے والوں کا ۔ کتنے خوش نصيب ہيں وہ لوگ جو الله تعالٰی کے اس فرمان پر عمل کرنے کا شرف حاصل کرتے ہيں ۔ یہ بھی واضح ہوا کہ بیوی کے تمام اخراجات خاوند کے ذمہ ہیں ۔ انسان سے غَلَطی سر زد ہو سکتی ہے ۔ اس کا ازالہ يہی ہے کہ اگر ايک سے غَلَطی ہو جائے تو دوسرا درگذر کرے اور جس سے غَلَطی ہو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے ۔ اگر صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑا جائے اور رواداری اور درگذر سے کام ليا جائے تو اوّل جھگڑے پيدا ہی نہيں ہوتے اور اگر کسی وقتی غَلَطی يا غَلَط فہمی کے باعث جھگڑا ہو بھی جائے تو احسن طريقہ سے مسئلہ حل کيا جا سکتا ہے ۔ اس طرح باہمی تعلقات خوشگوار ماحول ميں پرورش پاتے ہيں
وَما علَینا اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ‏

ہوسکے تو میرے لئے دعائے خیر کیجئے

دوسرے کا مذاق اُڑانا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو ۔ ایمان لانے کے بعد فِسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے ۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں
(سُوۡرَةُ 49 الحُجرَات آية 11)