Category Archives: طنز

سیاست اور ہم

778 بار دیکھا گیا

سیاست کا ذکر اور مباحث تو عام ہیں جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ میرے ہموطنوں میں سیاست کا بہت شعور ہے ۔ بغور مطالعہ کیا جائے تو آشکار ہوتا ہے کہ جسے ہم سیاست سمجھے بیٹھے ہیں وہ بیان بازی سے آگے کچھ نہیں ۔ جو سیاسی لیڈر اپنی تقریر میں زیادہ طنز و مزاح اور مخالفین کی ہِجُو شامل کرے اُس کے جلسے میں بہت لوگ شامل ہوتے ہیں اور جو اپنے سیاسی مخالفین کے لیڈر کو چور کہے تو وہ دیانتدار سمجھا جاتا ہے

سیاست کے لفظ سے میرا پہلا تعارف اُن دِنوں ہوا جب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا (1952ء)۔
واقعہ یوں ہے کہ بزرگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ زیرِ بحث ایک غیر حاضر بزرگ کا کردار تھا جس نے سب بزرگوں کو حیران کیا ہوا تھا
ایک بزرگ نے کہا کہ ”وہ سب کچھ کرتا ہے لیکن اُسے کوئی کچھ نہیں کہتا“۔
دوسرے بزرگ جو بہت سیانے سمجھے جاتے تھے بولے ”بھائی ۔ تم نہیں جانتے وہ بڑا سیاسہ والا ہے“۔
بزرگوں کی محفل میں کوئی جوان موجود نہ تھا صرف ایک بچہ یعنی میں موجود تھا اور بزرگوں کی باتیں غور سے سُن رہا تھا ۔ یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی لیکن بزرگوں کے ادب کا تقاضہ خاموشی تھا اسلئے چُپ رہا

جب میں دسویں پاس کر کے کالج میں داخل ہوا تو ایک دن اُن بزرگ کے ہاں کوئی پیغام پہنچانے گیا ۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے میں نے اُنہیں اُس دن کی یاد دلائی ۔ بزرگ سیانے تھے فوراً سمجھ گئے مُسکراتے ہوئے بولے ” تم اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دو ۔ یہ ابھی تمہاری ضرورت نہیں ہے“۔

میری عادت بُری ہے کہ جب تک تہہ تک نہ پہنچ جاؤں چین نہیں آتا ۔ ماہ و سال گذرتے گئے اور میں الحمدللہ انجیئر بن گیا ۔ اُن بزرگ کی شاباش اور دعائیں اکٹھی کرنے اُن کی خدمت میں پیش ہوا ۔ میرے انجنیئر بنے کی خبر سے بہت خوش ہوئے اور ہنستے ہوئے کہا ” بیٹھ جاؤ آج چائے پیئے بغیر نہیں جانا ۔ پہلے ایسے ہی بھاگ جایا کرتے ہو”۔ ساتھ ہی ایک بچے کو بُلا کر حُکم دیا ”بیکری سے یہ یہ لے کر آؤ اور امی سے کہو چائے بنائے“۔
میں نے دیکھا کہ بزرگ بہت خوش ہیں تو چائے کے ساتھ کیک وغیرہ کھاتے ہوئے میں نے موقع غنیمت جانا اور اُنہیں اُن کے کئی سال پہلے کہے الفاظ یاد دلاتے ہوئے عرض کیا ” اب میں عملی زندگی میں داخل ہو رہا ہوں ۔ اب تو بتا دیجئے“۔
بولے ”سیاسہ والا یعنی سیاستدان مطلب تھا ۔ جس شخص کے متعلق کہا تھا وہ اتنا ہوشیار ہے کہ سب کچھ کر گذرتا ہے لیکن پکڑائی نہیں دیتا“۔

تو جناب ۔ سیاستدان بنتا وہی ہے جو بطخ کی طرح پانی میں ڈُبکی لگائے اور پَر بھی گیلے نہ ہوں

پوشاکيں اور نيمِ دروں

2,707 بار دیکھا گیا

سائنس بہت ترقی کر گئی ۔ انسان بہت پڑھ لکھ گيا اور جديد ہو گيا ۔ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طور طريقے ميں پرانے جاہليت کے زمانہ ميں چلے گئے ہيں

لگ بھگ 6 دہائياں پرانی بات ہے کہ بچوں کے رسالے ميں ايک کارٹون چھپا تھا کہ ايک آدمی ننگ دھڑگ صرف جانگيہ يا کاچھا يا چڈی پہنے ہوئے بيری [بير کا درخت] پر چڑھا تھا اور بير توڑ کے کھا رہا تھا
ايک راہگذر ا نے پوچھا “صاحب ۔ کيا ہو رہا ہے ؟”
درخت پر چڑھے آدمی نے جواب ديا “اپنے تو 2 ہی شوق ہيں ۔ پوشاکيں پہننا اور پھل فروٹ کھانا”

ہماری موجودہ حکومت کے بھی 2 ہی شوق ہيں ۔ “جمہوريت پہننا اور مفاہمت کھانا”
:lol:

ميری بات کا يقين نہ ہو تو يہ خبريں پڑھ ليجئے

جمعہ [22 جولائی 2011ء] کے روز قومی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ
کراچی ميں بدامنی برداشت نہیں کریں گے

President Zardari expressed concerned over the violent situation of the city

نيمِ دروں

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ فرماں روائے مغليہ شہنشاہِ محبت شاہجہان کی بيٹی محل کی کھڑکی سے باہر ديکھ رہی تھی ۔ اُس کی نظر ايک گدھے اور گدھی پر پڑی تو منہ سے نکل گيا “نيمِ دروں نيمِ بروں”
باپ نے پوچھا “بيٹی کيا ہوا ؟

بيٹی شاعرہ تھی شعر کہہ ديا
“در ہيبتِ شاہِ جہاں ۔ لَرزَد زمين و آسماں
اُنگُشت در دَنداں نہاں نيمِ درُوں نيمِ برُوں”

درست کہا تھا اُس نے ۔ عشرت العباد “درُوں”۔ اور ايم کيو ايم “برُوں”

[“دروں” معنی “اندر” اور “بروں” معنی “باہر”]

دورِ حاضر کی شاعری

2,609 بار دیکھا گیا

وہ شعر اور قصائد کا ناپاک دفتر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عفونت میں سنڈاس سے جو ہے بدتر
زمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر
ہوا علم و دیں جس سے تاراج سارا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ علموں میں علمِ ادب ہے ہمارا

برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے ۔ ۔ ۔ مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہگار واں چھوٹ جائینگے سارے ۔ ۔ ۔ جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے

زمانہ میں جتنے قلی اور نفر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کمائی سے اپنی وہ سب بہرہ ور ہیں
گویئے امیروں کے نورِ نظر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ڈفالی بھی لے آتے کچھ مانگ کر ہیں
مگر اس تپِ دق میں جو مبتلا ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ خدا جانے وہ کس مرض کی دواہیں

اقتباس از مسدسِ حالی
مصنف ۔ خواجہ الطاف حسين حالی

موبائل فون سے دو دو ہاتھ

2,397 بار دیکھا گیا

موبائل فون کی تين بيمارياں ہيں
1 ۔ مختصر پيغامات ۔ ايک ۔ کمپنی کے اشتہارات ۔ دوسرے ۔ جو فارغ لوگ بھيجتے ہيں
2 ۔ دھوکہ والی کالز
3 ۔ مِسڈ کالز

ميں اُلٹی ترتيب سے چلتا ہوں ۔ ہم رات کو نو دس بجے تک سونے کے عادی ہيں ۔ دو تين رات گيارہ بارہ بجے کے درميان مِسڈ کالز آئيں تو ميں نے صبح کے وقت اُس نمبر پر ٹيليفون کيا ۔ خاتون نے ہيلو کہا ميں نے وجہ بتائی تو کھِلکھلا کر ہنس پريں اور کہنے لگيں “يہاں سے تو کسی نے نہيں کيا ۔ ميں نے کہا “اگر اب اس نمبر سے کال آئی تو اس کی سزا کا بندوبست کرنا پڑے گا”۔ اگلی رات ايک اور دو بجے کے قريب اُسي نمبر سے مسڈ کال آئی ۔ اگلے دن صبح ميں نے پی ٹی اے کے چيئرمين کو ای ميل بھيجی اور اس کا نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ اس طرح ميں پچھلے چار سال ميں چار نمبر بلاک کروا چکا ہوں جن ميں سے تين خواتين کے تھے اور ايک لڑکے کا

ايک سال قبل ايک کال آئی “ميں فلاں کمپنی سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کے نمبر پر انعام نکلا ہے ۔ آپ فلاں نمبر پر کال کيجئے تاکہ انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے اُس کی بجائے جس موبائل کمپنی کا نمبر تھا اُن کو شکائت بھيجی اور نمبر بلاک کر ديا گيا ۔ 22 مارچ 2010ء کو ايک کال آئی “ميں وارد کے ہيڈ آفس سے بول رہا ہوں ۔ سيل پروموشن کے سلسلہ ميں آپ کا پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے ۔ آپ اسی نمبر پر کال کيجئے تاکہ آپ کا انعام کنفرم کيا جائے”۔ ميں نے وارد کے منيجر ريگوليشنز کو ای ميل بھيجی اور دوسرے دن اُس کا جواب آ گيا کہ نمبر بلاک کر ديا گيا ہے

موبائل فون کمپنی کے اپنے اشتہارات کا تو ميں کچھ کر نہيں سکتا ۔ البتہ فارغ لوگوں کو ميں کم ہی جراءت کرنے ديتا ہوں ۔ ايک ميرا ہم زُلف ہے ۔ اُسے اسی ماہ يو فون والوں نے 3000 مختصر پيغامات بھيجنا مُفت کر ديا ۔ اُس نے پچھلے چار دن سے پريشان کيا ہوا ہے ليکن چند پيغامات اس قابل ہيں کہ يہاں لکھے جائيں

سب سے اچھا ہے
ہم تو مِٹ جائيں گے اے ارضِ وطن ليکن تم کو
زندہ رہنا ہے قيامت کی سحر ہونے تک

ايک آدمی نے دريا سے مچھلی پکڑی اور خوش خوش گھر آيا ۔ ديکھا تو بجلی بند ۔ گيس کم ۔ اور تيل بھی ختم ۔ واپس گيا اور مچھلی کو دريا ميں پھينک ديا ۔ مچھلی اُچھل کر پانی سے باہر آئی اور نعرہ لگايا “جيو زرداری”

کون کہتا ہے کہ پاکستان ميں غم ہيں خوشياں نہيں ۔ بجلی آنے کی خوشی ۔ بازار سے ہو کر زندہ واپس گھر آنے کی خوشی ۔ مسجد ميں نماز کے بعد خودکُش حملے سے بچ جانے کی خوشی ۔ بس سے اُترنے کے بعد اپنے موبائل کو اپنی جيب ميں پانے کی خوشی ۔ اتنی خوشياں ہونے کے باوجود پاکستانی عوام خوش نہيں

نيند اور سُستی ہماری بہت بڑی دُشمن ہيں ۔ علامہ اقبال
ہميں اپنے دُشمن سے بھی پيار کرنا چاہيئے ۔ قائد اعظم
دسو ہَن بندہ کِدی منّے

A mistake which makes you sober is much better than an achievement which makes you proud

الطاف بھائی حج کرنے گئے ۔ جب وہ شيطان کو پتھر مارنے لگے تو آواز آئی “بھائی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔ آپ نے يہاں آنے کی زحمت کيوں کی ۔ مجھے لندن بُلوا ليا ہوتا”

فقير “بھوکا ہوں ۔ اللہ کے نام پر تھوڑا سا کھانا دے ديں”
باجی “کھانا ابھی نہيں پکا”
فقير “باجی ۔ نمبر لکھ ليں جب پک جائے تو مِسڈ کال دے دينا”

سال 1990ء
“يار ۔ آج بجلی کيوں بند ہوئی ہے ؟”
“ٹرانسفارمر بدل رہے ہوں گے”

سال 2010ء
“يار ۔ يہ بجلی کب آئے گی ؟”
“جب ہمارے محلے کی بند ہو گی تو تمہارے محلے کی آئے گی”

سال 2020ء
” يار ۔ صبح سے بجلی بند ہے ۔ کب آئے گی”
“آج ملتان کی باری ہے اور کل لاہور کی ۔ سو کل تمہاری بجلی آئے گی اور ملتان کی بند ہو گی”

سال 2030ء
“يار سُنا ہے کہ بجلی نام کی کوئی چيز ہوا کرتی تھی ۔ جس سے گھر جگ مگ کرتے تھے”
“چُپ کر کے سو جا ۔ تمہيں ايسے ہی کسی نے بہکا ديا ہے”

ڈيجيٹل ٹيکنالوجی ؟؟؟

2,537 بار دیکھا گیا

ہم مياں بيوی بالخصوص نئے پاسپورٹ بنوانے کيلئے 5 فروری 2010ء کو اسلام آباد گئے اور 6 فروری 2010ء کو اسلام آباد آفس ميں اپنے نئے پاسپورٹ بننے کيلئے ديئے ۔ ہميں بتايا گيا تھا کہ پاسپورٹ تيار ہو کر 18 فروری کو مل جائيں گے ۔ ہم 13 فروری کو لاہور آ گئے ۔ پيچھے ميرا بھائی پاسپورٹ لينے گيا تو بتايا گيا کہ يکم مارچ 2010ء کو مليں گے ۔ آج يعنی 3 مارچ کو پھر ميرا بھائی پاسپورٹ لينے گيا تو بتايا گيا ہے کہ 25 مارچ کو مليں گے ۔ 25 مارچ کو بھی مليں گے يا نہيں يہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اسے کہتے ہيں ہمارے مُلک ميں ڈيجيٹل ٹيکنالوجی

جب مشين ريڈايبل پاسپورٹ شروع کئے گئے تھے تو ببانگِ دُہل بتايا گيا تھا کہ پرانے والے پاسپورٹ جعلی بن جاتے تھے يہ نہيں بن سکتے ۔ اب زيادہ اچھی خبر پڑھيئے

سپریم کورٹ نے جعلی مُہروں، ویزوں اور پاسپورٹس کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اس کے خلاف مربوط کارروائی عمل میں لائی جائے۔ جس پر کارپوریٹ کرائم سرکل نے سرجانی ٹاؤن کراچی میں کارروائی کرکے ایک ملزم فرید اللہ خان کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے جعلی مشین ریڈ ایبل [Machine Readable] پاسپورٹس ، مختلف ممالک کے ویزے، ڈرائیونگ لائسنس، جعلی کرنسی اور ان کو بنانے والی ڈائیاں برآمد کرلیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے دیگر ساتھی بھی شہر میں موجود ہیں جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کام میں کسی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جاسکتا