Category Archives: سیاست

احسان اللہ احسان کا اعتراف

229 بار دیکھا گیا

پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بھارتی نیوی کے افسر اور بھارتی ایجنسی ” را “ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی بلوچِستان سے گرفتاری کے بعد دوسری کامیابی عطا فرمائی ہے

آپ خبروں میں پڑھ یا سُن چکے ہوں گے کہ احسان اللہ احسان جو کچھ عرصہ تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان بھی رہا اُس نے کچھ دن قبل اپنے آپ کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا تھا

احسان اللہ احسان کے بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بھی بھارتی حکومت کی چلائی ہوئی ہے اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ” را “ اور افغانستان کی ایجنسی ” این ڈی ایس“ کے ماتحت چل رہی ہے جو دہشتگردی کے ہر واقعہ کے بدلے ڈالرز دیتی ہیں

سیاستدانوں کے نام

216 بار دیکھا گیا

رُلاتا ہے تمہارہ نظارہ پاکستانیوں مجھ کو
عبرت خیز ہے یہ ا فسانہ سب فسانوں میں
چھپا کر آستین میں بجلیاں رکھی ہیں غیروں نے
رہنما قوم کے غافل ۔ لڑتے ہیں دونوں ایوانوں میں
وطن کی فکر کرو نادانوں ۔ مصیبت آنے والی ہے
تمہاری بربادیوں کے مشورے ہیں دُشمنوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاوگے اے پاکستان والو
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی پھر داستانوں میں

محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کِیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے
محبت کے شَرَر سے دل سراپا نُور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طور ہوتا ہے

پاکستان کے دُشمنوں سے
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ۔ وہ اب زر کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ۔ وہ نا پائیدار ہو گا

سیاست اور ہم

397 بار دیکھا گیا

سیاست کا ذکر اور مباحث تو عام ہیں جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ میرے ہموطنوں میں سیاست کا بہت شعور ہے ۔ بغور مطالعہ کیا جائے تو آشکار ہوتا ہے کہ جسے ہم سیاست سمجھے بیٹھے ہیں وہ بیان بازی سے آگے کچھ نہیں ۔ جو سیاسی لیڈر اپنی تقریر میں زیادہ طنز و مزاح اور مخالفین کی ہِجُو شامل کرے اُس کے جلسے میں بہت لوگ شامل ہوتے ہیں اور جو اپنے سیاسی مخالفین کے لیڈر کو چور کہے تو وہ دیانتدار سمجھا جاتا ہے

سیاست کے لفظ سے میرا پہلا تعارف اُن دِنوں ہوا جب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا (1952ء)۔
واقعہ یوں ہے کہ بزرگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ زیرِ بحث ایک غیر حاضر بزرگ کا کردار تھا جس نے سب بزرگوں کو حیران کیا ہوا تھا
ایک بزرگ نے کہا کہ ”وہ سب کچھ کرتا ہے لیکن اُسے کوئی کچھ نہیں کہتا“۔
دوسرے بزرگ جو بہت سیانے سمجھے جاتے تھے بولے ”بھائی ۔ تم نہیں جانتے وہ بڑا سیاسہ والا ہے“۔
بزرگوں کی محفل میں کوئی جوان موجود نہ تھا صرف ایک بچہ یعنی میں موجود تھا اور بزرگوں کی باتیں غور سے سُن رہا تھا ۔ یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی لیکن بزرگوں کے ادب کا تقاضہ خاموشی تھا اسلئے چُپ رہا

جب میں دسویں پاس کر کے کالج میں داخل ہوا تو ایک دن اُن بزرگ کے ہاں کوئی پیغام پہنچانے گیا ۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے میں نے اُنہیں اُس دن کی یاد دلائی ۔ بزرگ سیانے تھے فوراً سمجھ گئے مُسکراتے ہوئے بولے ” تم اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دو ۔ یہ ابھی تمہاری ضرورت نہیں ہے“۔

میری عادت بُری ہے کہ جب تک تہہ تک نہ پہنچ جاؤں چین نہیں آتا ۔ ماہ و سال گذرتے گئے اور میں الحمدللہ انجیئر بن گیا ۔ اُن بزرگ کی شاباش اور دعائیں اکٹھی کرنے اُن کی خدمت میں پیش ہوا ۔ میرے انجنیئر بنے کی خبر سے بہت خوش ہوئے اور ہنستے ہوئے کہا ” بیٹھ جاؤ آج چائے پیئے بغیر نہیں جانا ۔ پہلے ایسے ہی بھاگ جایا کرتے ہو”۔ ساتھ ہی ایک بچے کو بُلا کر حُکم دیا ”بیکری سے یہ یہ لے کر آؤ اور امی سے کہو چائے بنائے“۔
میں نے دیکھا کہ بزرگ بہت خوش ہیں تو چائے کے ساتھ کیک وغیرہ کھاتے ہوئے میں نے موقع غنیمت جانا اور اُنہیں اُن کے کئی سال پہلے کہے الفاظ یاد دلاتے ہوئے عرض کیا ” اب میں عملی زندگی میں داخل ہو رہا ہوں ۔ اب تو بتا دیجئے“۔
بولے ”سیاسہ والا یعنی سیاستدان مطلب تھا ۔ جس شخص کے متعلق کہا تھا وہ اتنا ہوشیار ہے کہ سب کچھ کر گذرتا ہے لیکن پکڑائی نہیں دیتا“۔

تو جناب ۔ سیاستدان بنتا وہی ہے جو بطخ کی طرح پانی میں ڈُبکی لگائے اور پَر بھی گیلے نہ ہوں

پکی بات

428 بار دیکھا گیا

کوئی ہے جو روزانہ بیان بازی کرنے والے اِن نام نہاد سیاسی لیڈروں کو سمجھائے کہ تقریر کرنے بیان داغنے اور الز امات لگانے سے صرف ماحول پراگندہ ہوتا ہے ۔ کچھ حاصل کرنے کے لئے خود کام کرنا پڑتا ہے

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو دوست تا دیر ہلانا ہو گا
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا سب کو خود ہی جلانا ہو کا

بھارتی ظُلم و سِتم کے 69 سال

480 بار دیکھا گیا

انگریز حکمرانوں نے جواہر لال نہرو کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے پاکستان کی سرحدوں کا اعلان 14 اگست 1947ء کی بجائے 17 اگست کو کیا اور نہائت عیّاری سے گورداسپور جو کہ مسلم اکثریت والا ضلع تھا کو بھارت میں شامل کر دیا ۔ جس کے نتیجہ میں ایک تو گورداسپور میں تسلّی سے اپنے گھروں میں بیٹھے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور دوسرے بھارت کو جموں کشمیر جانے کے لئے راستہ مہیا کر ہو گیا جہاں سے راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہا سبھا اور اکالی دَل کے عسکری تربیت یافتہ مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہو گئے

موہن داس کرم چند گاندھی ۔ جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل پٹھانکوٹ کٹھوعہ کے راستے جموں پہنچے اور مہاراجہ ہری
سنگھ پر مختلف طریقوں سے بھارت کے ساتھ الحاق کے لئے دباؤ ڈالا ۔ مسلمانوں کی طرف سے قرارداد الحاق پاکستان پہلے ہی مہاراجہ کے پاس پہنچ چکی تھی ۔ راجہ ہری سنگھ نے مُہلت مانگی ۔ 3 دن کی متواتر کوشش کے بعد بھی ہاں نہ ہو سکی اور کانگرسی لیڈر بھارت واپس چلے گئے

بعد میں تمام فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج سے لدھے ہوائی جہازوں نے بغیر اطلاع عید الاضحے کے دوسرے دن یعنی 27 اکتوبر 1947ء کو جموں ایئر پورٹ (ستواری) میں دھڑا دھڑ اُترنا شروع ہو گئے ۔ جلد ہی بھارتی فوج جموں میں پھیلنے کے علاوہ جموں کشمیر کی سرحدوں پر بھی پہنچ گئی ۔ اِن میں زیادہ تعداد گورکھا اور نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کی تھی جو انتہائی ظالم اور بے رحم مشہور تھے ۔ قائداعظم نے پاکستانی فوج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی کو جموں کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حکم دیا ۔ اس نے یہ کہہ کر حکم عدولی کی کہ میرے پاس بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے سازوسامان نہیں ہے

خُفیہ منصوبے کے تحت بارتی فوج کی پُشت پناہی میں راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہاسبھا اور اکالی دَل کے عسکری دستوں نے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کیا ۔ 4 ہفتوں میں جو 6 نومبر 1947ء کی شام کو ختم ہوئے اِن مسلحہ ہندوؤں اور سِکھوں نے صوبہ جموں میں پونے دو لاکھ کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا جن میں مرد عورتیں جوان بوڑھے اور بچے سب شامل تھے اور سینکڑوں جوان لڑکیاں اغواء کر لی گئیں ۔ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا

کچھ سال امن رہنے کے بعد بھارت کا جبر و استبداد پھر شروع ہوا جس کے نتیجہ میں جموں کشمیر کے مسلمانوں نے احتجاج شروع کیا اور آزادی کے نعرے لگانے شروع کئے ۔ بھارتی ریاستی ظُلم بڑھتا گیا اور مسلمانوں کا احتجاج بھی زور پکڑتا گیا ۔ 1987ء میں نیشل کانفرنس (آل انڈیا کانگرس کی شاخ) کے قومی اسمبلی میں مُنتخب نمائندے آزادی کیلئے لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ مل گئے ۔ اس کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے جموں کشمیر کے مسلمانوں کا کھُلم کھُلا قتلِ عام شروع کر دیا ۔ اُنہیں دفن کر دیا جاتا اور کسی کسی کی قبر بنائی جاتی اور اُس پر فرضی نام کی تختی لگا کر نیچے پاکستانی دہشتگرد لکھ دیا جاتا ۔ ایسی قبر جب بھی عدالتی حُکم پر کھولی گئی تو میت لاپتہ کشمیری جوان کی نکلی

امسال 8 جولائی کو بُرہان وانی کے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کے بعد پورے جموں کشمیر میں پُر زور احتجاج شروع ہو چکا ہے اور بھارتی سکیورٹی فورسز بھی ظُلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔ اس کی تفصیل سب قارئین روزانہ سُنتے ہیں ۔ متعدد وِڈیوز بھی اُپ لَوڈ ہو چکی ہیں جنہیں دیکھ کر رَونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں

انسانی حقوق کے دعویدار امریکہ اور یورپ والوں کی آنکھوں پر بھارتی چشمے چڑھے ہوئے ہیں ۔ اسلئے وہ اس ظُلم و استبداد کے خلاف آواز اُٹھانا تو کیا اس کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے اور نہ اُن کا میڈیا ان حقائق کو دِکھاتا ہے

کچھ سُنا آپ نے ؟

920 بار دیکھا گیا

کہا جاتا ہے کہ مہنگے علاقہ کے گھروں میں رہنے والوں کو سب کچھ اُن کی دہلیز پر ملتا ہے
اسلام آباد میں سیکٹر ایف 8 اسی درجے میں آتا ہے اور سیکٹر ای 7 بننے سے قبل اسلام آباد کا سب سے بہتر معیار کا سیکٹر صرف یہی تھا
ایف 8 میں اکثر پلاٹ 2000 مربع گز کے ہیں ۔ کچھ 1000 سے 1500 مربع گز کے ہیں اور جغرافیائی وجہ سے بن جانے والے تھوڑے سے 500 مربع گز کے ہیں
اسلام آباد ہر سیکٹر کے 4 حصے ہوتے ہیں ۔ 1 ۔ 2 ۔ 3 اور 4

ہم سیکٹر ایف 8 کے حصہ 1 میں رہتے ہیں یعنی F–8/1 میں ۔ ہم پانی کی سپلائی کیلئے ہر 3 ماہ بعد 2300 روپے دیتے جو کہ باقاعدگی سے وصول کئے جا رہے ہیں لیکن ہمارے علاقے میں پچھلے 3 ماہ سے پانی نہیں آ رہا

جون 2016ء تک پانی کی سپلائی کیپِٹل ڈویلوپمنٹ اتھارٹی کی ذمہ داری تھی ۔ جون 2016ء سے قبل کبھی سالوں بعد چند دِنوں کیلئے پانی کی سپلائی بند ہوتی تھی وہ بھی صرف دو تین گلیوں کی تو سی ڈی اے میں بھاگ دوڑ اُس وقت تک لگی رہتی تھی جب تک پانی کی سپلائی بحال نہ ہو جائے

سیاستدانوں کا شور تھا کہ اسلام آباد میں بھی مُنتخب لوکل گورنمنٹ ہونا چاہیئے ۔ چنانچہ 10 ماہ قبل انتخابات ہوئے اور اسلام آباد میونسپل کارپوریشن اور مضافاتی علاقوں کی یونین کونسلز بن گئیں ۔ اسلام آباد کے مکینوں کو پانی کی سپلائی یکم جولائی 2016ء سے نو مُنتخب میونسپل کارپوریشن نے اپنی عملداری میں لے لی ۔ اب ایف 8/1 میں پانی کی سپلائی پچھلے 3 ماہ سے بند ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کو پانی مہیاء کرنے والے تینوں ٹیوب ویل بند پڑے ہیں

سیاستدان 20 فٹ اُونچی سٹیج پر کھڑے ہو کر دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ عوام کے خادم ہیں اور عوام کیلئے آسمان سے چاند ستارے بھی توڑکر لے آئیں گے ۔ جب کرُسی مل جاتی ہے تو شکائت کے آٹھ دس دن بعد پیش رفت معلوم کرنے جائیں تو جواب ملتا ہے ”میں پتہ کر رہا ہوں“۔

ہمارے علاقے کا ممبر میونسِپل کارپوریشن اور ایم این اے اتفاق سے دونوں تحریکِ انصاف کے ہیں ۔ ایم این اے اسد عمر کا نام تو سُنا ہی ہو گا

شاید اسی قسم کا نیا پاکستان بنانے کا بار بار وعدہ کیا جا رہا ہے