Category Archives: سبق

بھارتی ردِ عمل اور حقیقت

پیش لفظ
میں نے آج سے سوا 9 سال قبل جو لکھا تھا وہ اپنی عملی صورت میں سامنے آ چکا ہے

میری 31 جولائی 2010ء کو شائع شدہ تحریر کی تیسری قسط
(دوسری قسط 11 اکتوبر کو شائع کی تھی)

کمال یہ ہے کہ پاکستان کی دوستی کی دعوت کے جواب میں بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گلگت اور بلتستان پر بھی اپنی ملکیت کا دعوی کر دیا تھا (اور یہ بھارتی دعوٰی ابھی تک قائم ہے) جبکہ گلگت اور بلتستان کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھے اور نہ یہاں سے کوئی راستہ بھارت کو جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج کے زبردستی جموں میں داخل ہونے سے بہت پہلے گلگت اور بلتستان میں اپنی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا تھا ۔ اس کی تفصیل بعد میں آئے گی

پاکستان کو بنجر کرنے کا منصوبہ
مقبوضہ جموں کشمیر میں متذکّرہ بالا ڈیمز مکمل ہو جانے کے بعد کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر سکتا ہےاور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک سکتا ہے جس کا کچھ نمونہ ميری تحرير کے 5 سال بعد سامنے آ چکا ہے ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھُٹنے ٹیکنا پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ اللہ نہ کرے کہ ايسا ہو ۔

قحط اور سیلاب (یہ ہو چکا ہے)
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا مقبوضہ جموں کشمیر میں 7 ڈیم بنانے کا منصوبہ ہے جن میں سے بھارت دریائے جہلم اور چناب پر 3 ڈیم 2005ء تک مکمل کر چکا تھا ۔ 2 دریاؤں پر 7 ڈیم بنانے کے 2 مقاصد ہیں
اول یہ کہ دریاؤں کا سارا پانی نہروں کے ذریعہ بھارتی پنجاب اور دوسرے علاقوں تک لیجایا جائے اور پاکستان کو بوقت ضرورت پانی نہ دے کر قحط کا شکار بنا دیا جائے
دوم جب برف پگلے اور بارشیں زیادہ ہوں تو اس وقت سارا پانی جہلم اور چناب میں چھوڑ دیا جائے تاکہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب آئے ۔ ماضی ميں بھارت یہ حرکت دو بار کر چکا ہے ۔ بھارت کا اعلان کہ ڈیم بجلی کی پیداوار کے لئے بنائے جا رہے ہیں سفید جھوٹ اور دھوکا ہے ۔ کیونکہ جموں کشمیر پہاڑی علاقہ ہے ہر جگہ دریاؤں کے راستہ میں بجلی گھر بنائے جا سکتے ہیں اور بڑے ڈیم بنانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں

قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرويز مشرف کی حکومت نے منگلا ڈیم کو 10 میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا جس پر موجودہ حکومت بھی عمل پيرا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی توقع نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اُونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ ضائع کرنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی اور نہ اس کا جواز کسی کے پاس ہے

ایک ضمنی بات يہ ہے کہ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اونچائی سے 10 میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962ء میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی محافظت اور پانی کی مماثل مقدار کی کم توقع کے مدنظر اونچائی 10 میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں 2004ء سے 2006ء تک اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو عقل کی بات سمجھ ميں نہيں آتی

پرنالہ اور امیرالمؤمنین

سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد نبوی کے ساتھ تھا، اور اس مکان کا پرنالہ مسجد کی طرف تھا جب بارش ہوتی تو پرنالہ سے پانی گرتا جس کے چھینٹے نمازیوں پر پڑتے،
عمر رضی اللہ عنہ نے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے دیکھے تو پرنالے کو اکھاڑ پھینکا،
عباس آئے دیکھا ان کے مکان کا پرنالہ اتار دیا گیا ہے، پوچھا یہ کس نے اتارا،
جواب ملا امیر المومنین نے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے دیکھے تو اسے اتار دیا،
عباس رضی اللہ عنہ نے قاضی کے سامنے مقدمہ دائر کر دیا،
چیف جسٹس ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں،
امیر المومنین ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوئے تو جج صاحب لوگوں کے مقدمات سن رہے ہیں اور سیدنا عمر عدالت کے باہر انتظار کر رہے ہیں، کافی انتظار کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو بات کرنے لگے، مگر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روک دیا کہ پہلے مدعی کا حق ہے کہ وہ اپنا دعوی پیش کرے، یہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا چیف جسٹس ہے،
عباس رضی اللہ عنہ دعوی پیش کرتے ہیں کہ میرے مکان کا پرنالہ شروع سے مسجد نبوی کی طرف تھا، زمانہ نبوی کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی یہی رہا لیکن عمر نے میرے مکان کا پرنالہ میری عدم موجودگی میں میری اجازت کے بغیر اتار دیا ہے، لہذا مجھے انصاف چاہیئے

چیف جسٹس ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ بے فکر رہیں آپ کو انصاف ملے گا، قاضی نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ”آپ نے عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کا پرنالہ کیوں اتارا ؟“

بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم کٹہرے میں کھڑا ہو کر کہتا ہے ”عباس رضی اللہ عنہ کے مکان کا پرنالہ مسجد نبوی کی طرف تھا جب بارش ہوتی ہے پرنالے سے پانی بہتا ہے اور چھینٹے نمازیوں پر پڑتے ہیں جس سے نمازیوں کو پریشانی ہوتی ہے اس لئے میں نے اسے اتار دیا،
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عباس رضی اللہ عنہ کچھ کہنا چاہ رہے ہیں، پوچھا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟؟
عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”یہ جس جگہ میرا مکان ہے یہاں رسول پاک ﷺ نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دیا اور میں نے اسی جگہ مکان بنایا پھر جب پرنالہ نصب کرنے کا وقت آیا تو رسول پاک ﷺ نے کہا چچا میرے کندھے پر کھڑے ہو کر اس جگہ پرنالہ نصب کر دیں میں نے نبی پاک ﷺ کے کندھے پر کھڑا ہونے سے انکار کیا مگر بھتیجے کے اصرار پر میں نے ان کے کندھے پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ نصب کیا یہاں پرنالہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لگوایا تھا

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کا کوئی گواہ ہے آپ کے پاس، عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے باہر گئے اور کچھ انصار کو لے کر آئے انہوں نے گواہی دی کہ عباس رضی اللہ عنہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ سنتے ہی عمر رضی اللہ عنہ کے ہوش اُڑ گئے اور رونے لگے، آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی، اپنا پیارا نبی یاد آ گیا، اور زمانہ نبوی کا منظر نظروں میں گھوم گیا، عدالت میں سب کے سامنے یہ بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم سر جھکائے کھڑا ہے، جس کا نام سن کر قیصر و کسرٰی کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا تھا، عباس رضی اللہ عنہ سے کہا ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ رسول پاک نے خود لگوایا ہے، آپ چلیئے میرے ساتھ جیسے رسول پاک نے یہ پرنالہ لگوایا تھا ویسے ہی آپ لگائی“۔

چشم کائنات نے دیکھا کہ وقت کا حاکم دونوں ہاتھ مکان کی دیوار سے ٹکا کر کھڑا ہو گیا بالکل اسی طرح جیسے رسول پاک کھڑے ہوئے تھے، سیدنا عباس امیر المومنین کے کندھوں پر کھڑے ہوئے اور دوبارہ اسی جگہ پرنالہ لگا دیا،
وقت کے حاکم کا یہ سلوک دیکھ کر عباس رضی اللہ عنہ نے مکان مسجد نبوی کو وقف کر دیا

مسند ‘ الامام أحمد بن حنبل ، 1 / 210، الحديث رقم : 1790

پاکستان کیوں بنا ؟

فی زمانہ لوگ بے بنیاد باتیں کرنے لگ گئے ہیں جو پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کی نادانستہ یا دانستہ کوشش ہے ۔ دراصل اِس قبیح عمل کی منصوبہ بندی تو پاکستان بننے سے قبل ہی ہو گئی تھی اور عمل قائد اعظم کی 11 ستمبر 1948ء کو وفات کے بعد شروع ہوا جس میں لیاقت علی خان کے 16 اکتوبر 1951ء کو قتل کے بعد تیزی آ گئی تھی ۔ اب مُستنَد تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے بنا ؟
برطانوی حکومت کا نمائندہ وائسرائے دراصل ہندوستان کا حکمران ہی ہوتا تھا ۔ آخری وائسرائے ماؤنٹ بيٹن نے انتہائی جذباتی مرحلے پر 21 مارچ 1947ء کو ذمہ داری سنبھالنے کیلئے 3 شرائط پيش کيں تھیں جو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کليمنٹ ايٹلی نے منظور کر لی تھیں
1 ۔ اپنی پسند کا عملہ
2 ۔ وہ ہوائی جہاز جو جنگ میں برما کی کمان کے دوران ماؤنٹ بيٹن کے زيرِ استعمال تھا
3 ۔ فيصلہ کرنے کے مکمل اختيارات
ماؤنٹ بيٹن نے دہلی پہنچنے پر سب سے پہلے مہاراجہ بيکانير سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے کی
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو سے قائد اعظم کے متعلق دريافت کيا
جواہر لال نہرو نے کہا “مسٹر جناح سياست ميں بہت دير سے داخل ہوئے ۔ اس سے پہلے وہ کوئی خاص اہميت نہيں رکھتے تھے” ۔
مزید کہا کہ “لارڈ ويول نے بڑی سخت غلطی کی کہ مسلم ليگ کو کابينہ ميں شريک کرليا جو قومی مفاد کے کاموں ميں رکاوٹ پيدا کرتی ہے” ۔
ماؤنٹ بيٹن نے تيسری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کی ۔ ماؤنٹ بيٹن نے قائد اعظم سے پنڈت جواہر لال نہرو کے متعلق دريافت کيا ۔ قائد اعظم نے برجستہ فرمايا ” آپ تو ان سے مل چکے ہيں ۔ آپ جيسے اعلی افسر نے ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرلی ہوگی”۔
ماؤنٹ بيٹن اس جواب پر سمجھ گيا کہ اس ليڈر سے مسائل طے کرنا ٹيڑھی کھير ہے
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مشورے سے آئی سی ايس افسر کرشنا مينن کو اپنا مشير مقرر کيا ۔ اگرچہ تقسيم فارمولے ميں بھی کرشنا مينن کے مشورے سے ڈنڈی ماری گئی تھی ليکن کرشنا مينن کا سب سے بڑا کارنامہ جموں کشمير کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاويز پر دستخط کرانا تھےجبکہ مہاراجہ جموں کشمير (ہری سنگھ) پاکستان سے الحاق کا بيان دے چکا تھا ۔ پھر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق نہ کیا توکرشنا مينن کے مشورے پر ہی جموں کشمير پر فوج کشی کی گئی تھی
انگريز کو ہندوؤں سے نہ تو کوئی سياسی پَرخاش تھی نہ معاشی ۔ مسلمانوں سے انگریز اور ہندو دونوں کو تھی ۔ انگريز نے اقتدار مسلمانوں سے چھينا تھا اور ہندو اقدار حاصل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا تھا
حقيقت يہ ہے کہ کانگريس نے کيبنٹ مشن پلان کو اس نيت سے منظور کيا تھا کہ مسٹر جناح تو پاکستان سے کم کی بات ہی نہيں کرتے لہٰذا اقتدار ہمارا (ہندوؤں کا) مقدر بن جائے گا ۔ قائد اعظم کا کيبنٹ مشن پلان کا منظور کرنا کانگريس پر ايٹم بم بن کر گرا
صدرکانگريس پنڈت جواہر لال نہرو نے 10جولائی کو کيبنٹ مشن پلان کو يہ کہہ کر سبوتاژ کرديا کہ کانگريس کسی شرط کی پابند نہيں اور آئين ساز اسمبلی ميں داخل ہونے کے لئے پلان ميں تبديلی کرسکتی ہے ۔ چنانچہ ہندو اور انگريز کے گٹھ جوڑ نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کرديا ۔ قائد اعظم نے بر وقت اس کا احساس کر کے مترادف مگر مضبوط لائحہ عمل پیش کر دیا تھا ۔ آسام کے چيف منسٹر گوپی چند باردولی نے کانگريس ہائی کمانڈ کو لکھا” رام اے رام ۔ يہ تو ايک ناقابل تسخير اسلامی قلعہ بن گيا ۔ پورا بنگال ۔ آسام ۔ پنجاب ۔ سندھ ۔ بلوچستان ۔ صوبہ سرحد”۔

کيبنٹ مشن کے سيکرٹری (Wood Rowiyt) نے قائد اعظم سے انٹرويو ليا اور کہا ” مسٹر جناح ۔ کیا یہ ایک مضبوط پاکستان کی طرف پیشقدمی نہیں ہے ؟”
قائد اعظم نے کہا ”بالکل ۔ آپ درست سمجھے“۔
مگر جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چکا ہے کرشنا مینن کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے باہمی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریز نے بڑی عیّاری سے پنجاب اور بنگال دونوں کو تقسیم کر دیا اور آسام بھی بھارت میں شامل کر دیا
مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تصنیف (INDIA WINS FREEDOM) کے صفحہ 162 پر تحرير کرتے ہيں کہ اپنی جگہ نہرو کو کانگريس کا صدر بنانا ان کی زندگی کی ايسی غلطی تھی جسے وہ کبھی معاف نہيں کرسکتے کيونکہ انہوں نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کيا ۔ مولانا آزاد نے تقسيم کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی پر ڈالی ہے ۔ يہاں تک لکھا ہے کہ 10 سال بعد وہ اس حقيقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں کہ جناح کا مؤقف مضبوط تھا
کچھ لوگ آج کل کے حالات ديکھ کر يہ سوال کرتے ہيں کہ ” پاکستان کيوں بنايا تھا ؟ اگر يہاں يہی سب کچھ ہونا تھا تو اچھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول کے مطابق ہم متحدہ ہندوستان ميں رہتے”۔
کانگريس ہندوستان ميں رام راج قائم کرنا چاہتی تھی ۔ چانکيہ تہذيب کے پرچار کو فروغ دے رہی تھی ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگيز قيادت اور رہنمائی ميں ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں نے بے مثال قربانياں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔ اس پاکستان اور اس کے مقصد کے خلاف بات کرنے والے کسی اور نہیں اپنے ہی آباؤ اجداد کے خون پسینے کو پلید کرنے میں کوشاں ہیں

فخر و تکبّر

اپنے اِسی بلاگ پر میری 23 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 31 لقمان آیت 18 اور 19
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر
نہ زمین میں اکڑ کر چل
اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا
اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ
سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ گفتار یا عمل ؟

کل کو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ

تم نے کیا خواب دیکھے تھے ؟
تم کیا سوچتے تھے ؟
تمہارے منصوبے کیا تھے ؟
تم نے کتنا بچا کر جمع کیا ؟
تم کیا پرچار کرتے رہے ؟

بلکہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ پوچھے گا کہ
تم نے قرآن پر کتنا عمل کیا ؟
تم نے حقدار کو اُس کا حق پہنچایا ؟
تمہارا دوسروں سے سلوک کیسا تھا ؟

Having sat for many years across many tables from many of the ‘folks’ the US tortured in the global ‘war on terror,’ men like Murat Kurnaz and Mohammed al-Qatani, and having heard first-hand their stories of being beaten, hung from ceilings, sexually assaulted, exposed to extreme temperatures, deprived of sleep, and subjected to numerous other brutal acts, my colleagues and I at the Center for Constitutional Rights can assure you: the important thing about the torture report is not just what we learn from it — it is what we do about it.

مکمل یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Preventing Torture

وہم

وہم ایک ایسی بیماری بلکہ وائرس یا الرجی ہے جو آدمی کے ذہن پر قبضہ کر کے اُس کی سوچ کو منفی بنا دیتی ہے جس کے نتیجہ میں آدمی بہت نقصان اُٹھا سکتا ہے ۔ چین میں ابھی بھی قدیم کہانیاں موجود ہیں جو ہمارے ہاں مفقود ہو چکی ہیں ۔ یہ کہانیاں دانشوروں نے انسانوں کی اصلاح کیلئے بنائیں ۔ وہم کے سلسلہ کی ایک چینی کہانی کا ترجمہ ملاحظہ فرمایئے

ایک شخص کی کلہاڑی کھو گئی ۔ اُس کے دِل میں شک بیٹھ گیا کہ کلہاڑی اُس کے ہمسائے کے بیٹے نے چُرائی ہے
اس نے ہمسائے کے بیٹے کا بغور جائزہ لیا تو اُس کی چال بالکل چوروں جیسی لگی
اُس نے لڑکے کے چہرے کے تاءثرات دیکھے ۔ تو ہُو بہُو چوروں جیسے تھے
اُس نے لڑکے کے اندازِ گفتگو پر غور کیا تو وہ بھی چوروں جیسا دِکھائی دیا
غرضیکہ لڑکے کی ساری حرکات و سکنات اُس کے چور ہونے کی چغلی کھاتی تھیں

کچھ دن بعد آدمی جس کی کلہاڑی گم ہو گئی تھی جنگل کی طرف گیا تو ایک درخت پر لٹکی ایک کلہاڑی دیکھی ۔ اُس نے اس کا جائزہ لیا تو وہ اُسی کی تھی ۔ پھر اُسے یاد آیا کہ پچھلی بار لکڑیاں کاٹنے کے بعد اُسی نے یہاں لٹکائی تھی

وہ کلہاڑی لے کر واپس لوٹا تو راستہ میں ہمسائے کا وہی لڑکا ملا جس پر اسے چوری کا شک ہوا تھا ۔ اُس نے اُس کی طرف دیکھا تو اس لڑکے کا چہرہ نہائت معصوم نظر آیا ۔ اُس لڑکے کی مُسکراہٹ میں اُسے محبت نظر آئی

عوام ۔ قانون اور انصاف

کچھ روز قبل محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک قتل کے ملزم کی رہائی کا حکم دیا جو 10 سال سے ایک غلط شناخت پریڈ کے باعث جیل میں تھا
جس کے بیٹے کے قتل میں وہ گرفتار تھا اس نے کہا ” آخر میں اپنے بیٹے کے قاتل کو کہاں تلاش کروں ؟ میں اب تک 3 کروڑ روپیہ خرچ کر چکا ہوں“۔

یہ خبر سُن کر میرا دماغ ماضی کو کُریدنے لگا اور کچھ ایسی ہی واقعات یاد داشت پر اُبھرنے لگے جو اخبارات کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے

یہ واقعہ 1985ء کی دہائی کا ہے کہ ایک قیدی کو جب 27 سال بعد سینٹرل جیل کراچی سے رہا کیا گیا تو اس نے Jailer سے کہا
”صاحب ۔ مجھے یہاں رکھا کیوں گیا تھا ؟ میں کہاں جاؤں گا ؟ مجھے یہیں رہنے دیں“۔
ہوا یوں کہ کسی طرح سیشن عدالت کے پیش کار کا کہا کہ ” ایک غریب آدمی کئی سالوں سے جیل میں ہے مگر مقدمہ ہے کہ چلتا ہی نہیں“ اخبار میں چھپ گیا ۔ معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوا اور اُسے رہائی مل گئی ۔ رہائی کے وقت اس شخص کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر چیف جسٹس صاحب نے پوچھا ”کہاں جاؤ گے ؟ پیسے ہیں ؟“
اس نے جواب دیا ” پتا نہیں کہاں جاؤں گا ۔ پیسے کہاں ہیں میرے پاس“۔
چیف جسٹس صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”یہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ جس شخص نے اسے بند کرایا وہ مل جائے تو میں اُسے نشان عبرت بنادوں“۔
انصار برنی اُسے اُس کے گاؤں لے گیا مگر نہ گھر ملا نہ گھر والے ۔ واپس کراچی آ گیا اور باقی زندگی Shelter Home میں گزاری

ایک شخص اختر پاگل نہیں تھا لیکن اس نے 35 سال پاگل خانے میں گزار دیئے ۔ کیوں ؟
ایک ذہنی مریضہ تھی Mental Hospital میں داخل تھی جہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ اختر کو جنم دے کر دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ اختربڑا ہوا تو اسے پاگل خانے سے جانے کی اجازت نہ ملی ۔ جب رہائی ملی تو اسے باہر کی دنیا کا علم ہی نہیں تھا ۔ سڑک کیسے پار کرتے ہیں ۔ سگنل کیا ہوتا ہے ۔ وہ لوگوں سے بات کرتا تو لوگ اسے پاگل سمجھتے ۔ کچھ عرصے بعد وہ واپس اُسی پاگل خانے میں چلا گیا اور درزی کا کام شروع کر دیا

مختار بابا گانا بہت اچھا گاتا تھا اور ایسے ہی ایک گانے سے اس کی رہائی ممکن ہوئی
ایوب خان کا دورِ تھا اور وہ پشاور میں نوکری کرتا تھا۔ جہاں وہ کام کرتا تھا وہاں کے ایک بارسوخ افسر کا اس کی بیوی پر دل آگیا۔ اس نے کسی بات پر یا اس کا بہانہ بناکر اسے دفعہ 109(آوارہ گردی) میں بند کروا دیا ۔ ایوب خان کے بعد یحیٰ خان کا دور بھی گزر گیا ۔ ایک دن ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا ۔ اس کا گانا سنا تو آواز سے بہت متاثر ہوا اور اس طرح رہائی ممکن ہوئی۔ جب وہ گھر لوٹا تو اس کی بیوی افسر کی اہلیہ بن چکی تھی

ہمارے مُلک میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اعلٰی عدلیہ سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر کے رہائی کا حکم دیتی ہے مگر خبر جب جیل پہنچتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ قیدی کو تو 2 دن قبل پھانسی دی جا چکی ہے

اب ذرا سیاستدانوں کی بھی سُن لیجئے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق الفاروق کے خلاف NAB کی تحقیقات کی خبر آئی تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کا واقعہ یاد آیا جب صدیق الفاروق ڈھائی سال قید میں رکھ کر نیب والے بھول گئے اور یاد آیا اُس وقت آیا جب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنا اور پوچھا گیا کہ صدیق الفاروق کہاں ہیں ۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ صدیق الفاروق کو گرفتار کر کے وہ بھول گئے تھے

اصغر خان کیس سے کون واقف نہ ہو گا لیکن بہت ہی کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ اس مقدمے کے مرکزی کردار یونس حبیب 1995ء (نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت) میں مہران بنک سکینڈل (المعروف مہران گیٹ) میں 10 سال قید کی سزا ہوئی تھی کیسے بہت جلد یعنی بینظیر کے دورِ حکومت (1996ء تا 1997ء) میں خلافِ قانون رہائی دی گئی ۔ اس رہائی کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ رپورٹوں میں کبھی یونس حبیب کا بلڈ گروپ کچھ لکھا گیا اور کبھی کچھ اور