Category Archives: سبق

وہم

وہم ایک ایسی بیماری بلکہ وائرس یا الرجی ہے جو آدمی کے ذہن پر قبضہ کر کے اُس کی سوچ کو منفی بنا دیتی ہے جس کے نتیجہ میں آدمی بہت نقصان اُٹھا سکتا ہے ۔ چین میں ابھی بھی قدیم کہانیاں موجود ہیں جو ہمارے ہاں مفقود ہو چکی ہیں ۔ یہ کہانیاں دانشوروں نے انسانوں کی اصلاح کیلئے بنائیں ۔ وہم کے سلسلہ کی ایک چینی کہانی کا ترجمہ ملاحظہ فرمایئے

ایک شخص کی کلہاڑی کھو گئی ۔ اُس کے دِل میں شک بیٹھ گیا کہ کلہاڑی اُس کے ہمسائے کے بیٹے نے چُرائی ہے
اس نے ہمسائے کے بیٹے کا بغور جائزہ لیا تو اُس کی چال بالکل چوروں جیسی لگی
اُس نے لڑکے کے چہرے کے تاءثرات دیکھے ۔ تو ہُو بہُو چوروں جیسے تھے
اُس نے لڑکے کے اندازِ گفتگو پر غور کیا تو وہ بھی چوروں جیسا دِکھائی دیا
غرضیکہ لڑکے کی ساری حرکات و سکنات اُس کے چور ہونے کی چغلی کھاتی تھیں

کچھ دن بعد آدمی جس کی کلہاڑی گم ہو گئی تھی جنگل کی طرف گیا تو ایک درخت پر لٹکی ایک کلہاڑی دیکھی ۔ اُس نے اس کا جائزہ لیا تو وہ اُسی کی تھی ۔ پھر اُسے یاد آیا کہ پچھلی بار لکڑیاں کاٹنے کے بعد اُسی نے یہاں لٹکائی تھی

وہ کلہاڑی لے کر واپس لوٹا تو راستہ میں ہمسائے کا وہی لڑکا ملا جس پر اسے چوری کا شک ہوا تھا ۔ اُس نے اُس کی طرف دیکھا تو اس لڑکے کا چہرہ نہائت معصوم نظر آیا ۔ اُس لڑکے کی مُسکراہٹ میں اُسے محبت نظر آئی

عوام ۔ قانون اور انصاف

کچھ روز قبل محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک قتل کے ملزم کی رہائی کا حکم دیا جو 10 سال سے ایک غلط شناخت پریڈ کے باعث جیل میں تھا
جس کے بیٹے کے قتل میں وہ گرفتار تھا اس نے کہا ” آخر میں اپنے بیٹے کے قاتل کو کہاں تلاش کروں ؟ میں اب تک 3 کروڑ روپیہ خرچ کر چکا ہوں“۔

یہ خبر سُن کر میرا دماغ ماضی کو کُریدنے لگا اور کچھ ایسی ہی واقعات یاد داشت پر اُبھرنے لگے جو اخبارات کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے

یہ واقعہ 1985ء کی دہائی کا ہے کہ ایک قیدی کو جب 27 سال بعد سینٹرل جیل کراچی سے رہا کیا گیا تو اس نے Jailer سے کہا
”صاحب ۔ مجھے یہاں رکھا کیوں گیا تھا ؟ میں کہاں جاؤں گا ؟ مجھے یہیں رہنے دیں“۔
ہوا یوں کہ کسی طرح سیشن عدالت کے پیش کار کا کہا کہ ” ایک غریب آدمی کئی سالوں سے جیل میں ہے مگر مقدمہ ہے کہ چلتا ہی نہیں“ اخبار میں چھپ گیا ۔ معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوا اور اُسے رہائی مل گئی ۔ رہائی کے وقت اس شخص کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر چیف جسٹس صاحب نے پوچھا ”کہاں جاؤ گے ؟ پیسے ہیں ؟“
اس نے جواب دیا ” پتا نہیں کہاں جاؤں گا ۔ پیسے کہاں ہیں میرے پاس“۔
چیف جسٹس صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”یہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ جس شخص نے اسے بند کرایا وہ مل جائے تو میں اُسے نشان عبرت بنادوں“۔
انصار برنی اُسے اُس کے گاؤں لے گیا مگر نہ گھر ملا نہ گھر والے ۔ واپس کراچی آ گیا اور باقی زندگی Shelter Home میں گزاری

ایک شخص اختر پاگل نہیں تھا لیکن اس نے 35 سال پاگل خانے میں گزار دیئے ۔ کیوں ؟
ایک ذہنی مریضہ تھی Mental Hospital میں داخل تھی جہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ اختر کو جنم دے کر دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ اختربڑا ہوا تو اسے پاگل خانے سے جانے کی اجازت نہ ملی ۔ جب رہائی ملی تو اسے باہر کی دنیا کا علم ہی نہیں تھا ۔ سڑک کیسے پار کرتے ہیں ۔ سگنل کیا ہوتا ہے ۔ وہ لوگوں سے بات کرتا تو لوگ اسے پاگل سمجھتے ۔ کچھ عرصے بعد وہ واپس اُسی پاگل خانے میں چلا گیا اور درزی کا کام شروع کر دیا

مختار بابا گانا بہت اچھا گاتا تھا اور ایسے ہی ایک گانے سے اس کی رہائی ممکن ہوئی
ایوب خان کا دورِ تھا اور وہ پشاور میں نوکری کرتا تھا۔ جہاں وہ کام کرتا تھا وہاں کے ایک بارسوخ افسر کا اس کی بیوی پر دل آگیا۔ اس نے کسی بات پر یا اس کا بہانہ بناکر اسے دفعہ 109(آوارہ گردی) میں بند کروا دیا ۔ ایوب خان کے بعد یحیٰ خان کا دور بھی گزر گیا ۔ ایک دن ایک وزیر جیل کے دورے پر گیا ۔ اس کا گانا سنا تو آواز سے بہت متاثر ہوا اور اس طرح رہائی ممکن ہوئی۔ جب وہ گھر لوٹا تو اس کی بیوی افسر کی اہلیہ بن چکی تھی

ہمارے مُلک میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اعلٰی عدلیہ سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر کے رہائی کا حکم دیتی ہے مگر خبر جب جیل پہنچتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ قیدی کو تو 2 دن قبل پھانسی دی جا چکی ہے

اب ذرا سیاستدانوں کی بھی سُن لیجئے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق الفاروق کے خلاف NAB کی تحقیقات کی خبر آئی تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کا واقعہ یاد آیا جب صدیق الفاروق ڈھائی سال قید میں رکھ کر نیب والے بھول گئے اور یاد آیا اُس وقت آیا جب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنا اور پوچھا گیا کہ صدیق الفاروق کہاں ہیں ۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ صدیق الفاروق کو گرفتار کر کے وہ بھول گئے تھے

اصغر خان کیس سے کون واقف نہ ہو گا لیکن بہت ہی کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ اس مقدمے کے مرکزی کردار یونس حبیب 1995ء (نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت) میں مہران بنک سکینڈل (المعروف مہران گیٹ) میں 10 سال قید کی سزا ہوئی تھی کیسے بہت جلد یعنی بینظیر کے دورِ حکومت (1996ء تا 1997ء) میں خلافِ قانون رہائی دی گئی ۔ اس رہائی کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ رپورٹوں میں کبھی یونس حبیب کا بلڈ گروپ کچھ لکھا گیا اور کبھی کچھ اور

الله کا شکر کیسے ؟

ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی

ایک شب اس نے لکھا کہ
میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہےکیونکہ وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے
یہ اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر،کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر مہینہ بجلی، گیس، پانی،پٹرول وغیرہ کا اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ سب چیزیں میرے پاس میرے استعمال میں ہیں اگر یہ نہ ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میرا تھکن سے برا حال ہوجاتا ہے یعنی میرے اندر دن بھر سخت کام کرنے کی طاقت ہے اور یہ طاقت اور ہمت صرف اللّٰه ہی کے فضل سے ہے
میں خوش ہوں کہ روزانہ اپنے گھر کا جھاڑو پونچا کرنا پڑتا ہے اور دروازے کھڑکیاں صاف کرنا پڑتی ہیں شکر ہے میرے پاس گھر تو ہے جن کے پاس نہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا
اس پر اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ کبھی کبھار تھوڑی بیمار ہو جاتی ہوں یعنی میں زیادہ تر صحت مند ہی رہتی ہوں
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے
میں خوش ہوں کہ ہر سال عید پر تحفے اور عیدی دینے میں پرس خالی ہو جاتا ہے یعنی میرے پاس چاہنے والے میرے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہیں جنہیں تحفہ دے سکوں اگر یہ نہ ہوں تو زندگی کتنی بے رونق ہو
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ الارم کی آواز پر اٹھ جاتی ہوں یعنی مجھے ہر روز ایک نئی صبح دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔۔۔
ظاہر ہے یہ اللّٰه کا ہی کرم ہے

جینے کے اس انمول فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بھی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی پرسکون بنایئے

حُکمرانوں کے لئے

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوّت سرگرم تقاضہ ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرّہ نہیں ۔ شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ۔ بینا ہے ۔ توانا ہے

گلستاں میں نہیں حد سے گذرنا اچھا
ناز بھی کر تو باندازہء رعنائی کر
پہلے خود دار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں میں ہوس شوکت دلدائی کر

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میّسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہء حر کے لئے جہاں میں فراغ
فروغ مغربیان خیرہ کر رہا ہے تجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب مازاغ
وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو نفس
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے ایاغ
کیا تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ
کلام ۔ علامہ محمد اقبال

یہودی لڑکا ”جاد“ سے کیسے ”جاد اللہ قرآنی“ بنا؟

یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے کہ فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو ”انکل ابراہیم“ کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ ۔ آئسکریم ۔ گولیاں اور ٹافیاں دستیاب تھیں

اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک 7 سالہ بچہ جاد تقریباً روزانہ انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولتا ۔ ایک دب دکان سے جاتے ہوئے جاد چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا
انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا ” جاد ۔ آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا ؟ “
انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا
جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا ” آپ اگر مجھے معاف کر دیں تو آئیندہ میں کبھی چوری نہیں کروں گا “۔

انکل ابراہیم نے جاد سے کہا ” اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا ۔ ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا “۔
اس بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا

وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا ۔ انکل ابراہیم میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے ”کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو“۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے 2 صفحے پڑھتے اور جاد کو مسئلے کا حل بتاتے ۔ جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر چلا جاتا

اس طرح 17 سال گزر گئے۔ 17 سال کے بعد جب جاد 24 سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابراہیم 67 سال کے ہوچکے تھے ۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گئے ۔ اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی ۔ اُن کی وصیت تھی کہ اُن کے مرنے کے بعد صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے ۔ جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا کیونکہ انکل ابراہیم ہی اسکے غمگسار اور مُونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا ۔ انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر جاد دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آ گھیرا ” آج انکل ہوتے تو وہ کتاب کھول کر 2 صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا”۔ جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسو نکل آئے ۔ ”کیوں نا آج میں خود کوشش کروں“۔ کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا ۔ لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ وہ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا ”مجھے یہ 2 صفحے پڑھ کر سناؤ“۔ پھر مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا ”یہ کیسی کتاب ہے ؟”
تیونسی نے کہا ” یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے“۔
جاد نے پوچھا ”مسلمان کیسے بنتے ہیں ؟“
تیونسی نے کہا ”کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں“۔
جاد نے کہا ” تو پھر سُن لو میں کہہ رہا ہوں

أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ اَنَّ محمد رسول الله“۔

جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے ”جاد اللہ القرآنی“ کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھُلا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی ۔ دین کو سمجھا اور دین کی تبلیغ شروع کی ۔ یورپ میں اس کے ہاتھ پر 6 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی

ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة

اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ

جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اسی کیلئے وصیت ہو۔ جاد اللہ نے اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی اور یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا ۔ سوڈان ۔ یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا ۔ دعوتِ حق کیلئے ہر مشکل اور پُرخطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور الله تعالٰی نے اس کے ہاتھوں 60 لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا ۔ جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے 30 سال گزار دیئے۔ 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھِر کر 54 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملا

جاد اللہ کی محنت کے ثمرات اس کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک 2 سال بعد اس کی ماں نے 70 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔ جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتا تھا کہ انکل ابراہیم نے اس کے 17 سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کئے بغیر چارہ نہ تھا

آپ کے سامنے اس واقعے کے بیان کرنے کا فقط اتنا مقصد ہے کہ کیا مجھ سمیت ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار ”انکل ابراہیم“ جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم ”جاد“ ہم سے متاثر ہو کر ”جاداللہ القرآنی“ بن کر ہمارے مذہب اسلام کی اس عمدہ طریقے سے خدمت کر سکے

الله تعالٰی مجھ گناہ گار سمیت سب مسلمانان عالم پر رحم فرمائے اور عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے

فرق صرف سوچ کا ہے

فرق صرف سوچ کا ہے
ہر شخص کی 10 فیصد زندگی حقیقی ہوتی ہے ۔ 90 فیصد اُس کی سوچ ہوتی ہے یعنی بجائے اِس کے کہ کہنے والے کی بات کو صاف ذہن کے ساتھ سُنا جائے اگر ذہن میں ہے کہ دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے اور وہ بات جو بھی کر رہا ہے اُس کا مطلب یہ ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات سُننے والا اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لیتا ہے وہ کہنے والے نے کہی ہی نہیں ہوتی اور نہ کہنے والے کے وہم و گمان میں ہوتی ہے
چنانچہ اگر سوچ 100 فیصد مَثبَت ہو تو زندگی 100 فیصد حقیقی ہوتی ہے اور دُنیا حسین لگتی ہے بصورتِ دیگر دوسروں میں عیب نظر آتے ہیں اور یہ عیب اپنی سوچ کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں

اب سُنیئے ایک شخص کا واقعہ جس نے اُس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا
میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پَتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا

بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا

میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا ” اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا “۔

ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں یا کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے“۔

میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلُوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے

میری 10 ستمبر 2008ء کی تحریر کچھ ترمیم کے ساتھ