Category Archives: سبق

آپ حاکم بننا چاہتے ہیں ؟ ؟ ؟

28 بار دیکھا گیا

ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا ۔ جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی اُمید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ ”وہ اپنی بادشاہت اس کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا“۔

سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا ۔ ایک کُمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا ۔ اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا ۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کرلے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا ۔ اس کے پاس تھا ہی کیا ایک گدھا اور بس ۔ سو اس نے بادشاہ کے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارنے کے لئے تیار ہے

بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی ۔ وعدے کے مطابق کُمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا اور لوگوں نے قبر کو بند کر دیا ۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور کُمہار کو کہا کہ ” اُٹھو اور اپنا حساب دو“ ۔
اس نے کہا ”بھائی حساب کس چیز کا ؟ میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے“۔

فرشتوں میں سے ایک نے کہا ” تُمہارے نامہءِ اعمال میں لکھا ہے کہ فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا“۔
کُمہار نے جواب دیا ”ہاں“۔
فرشتے نے کہا ”اسے 100 دُرّے مارے جائیں“۔ 100 دُرّے مارے گے
اس کے بعد پھر فرشتے نے سوال کیا ”یہ بتاو فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لادا اور پھر گدھے کو مارا بھی تھا ؟“
کُہار نے کہا ”ہاں“۔
پھر حُکم ہوا ”اس کو 200 دُرّے مارے جائیں“۔ اُسے دو سو دُرّے مارے گئے
غرض صبح تک اس کی پٹائی ہوتی رہی

صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں ۔ جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو کُمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی ۔ لوگوں نے بھاگ کر اُسے روکا اور مؤدبانہ کہا ”بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں ؟“
تو کُمہار نے جواب دیا ”بھائیوں ۔ مجھے نہیں چاہیئے بادشاہت ۔ پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو ساری رعایا اور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے“۔

کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کِس کِس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے

راست بازی ؟

99 بار دیکھا گیا

کبھی کبھی آدمی جتنا مذہبی ہوتا جاتا ہے اپنے آپ کو اتنا ہی نیک سمجھنے لگ جاتا ہے
ایسا کردار اندرونی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے
مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہم میں ہمدردی کا جذبہ بڑھنا چاہیئے نہ کہ ہم فیصلے دینے لگیں
جس دِل میں اللہ سما جائے وہ نرم پڑ جاتا ۔ سخت نہیں بنتا
اگر دِل سخت ہو رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ دِل میں اللہ نے گھر نہیں کیا بلکہ خود ستائشی بھر گئی ہے جس پر مذہب اور پرہیزگاری کا لبادہ چڑھا ہوا ہے

سُنیئے محترمہ ۔ سُنیئے محترم

46 بار دیکھا گیا

آج میرے مخاطب وہ خواتین و حضرات ہیں جو پڑھے لکھے ہیں اور اپنے آپ کو مُسلم یا مُسلمان سمجھتے ہیں
(خیال رہے کہ میں نے تعلیم یافتہ نہیں لکھا)
از راہ کرم اِسے واپس مجھ پر تھوپنے کی کوشش نہ کیجئے گا کیونکہ جب آپ اِسے پڑھیں گے تو آپ ”خطیب“ بن جائیں گے اور میں ”مُخاطب“۔

پہلا سوال یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سکول ۔ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھا تھا کیا اپنی عملی زندگی میں اس سے مکمل استفادہ کیا ؟
یا
حاصل کردہ اسناد کو صرف حصولِ روزگار یعنی پیٹ پالنے یا دولت اکٹھی کرنے کیلئے استعمال کیا ؟

مُسلم یا مُسلمان ہونے کے ناطے آپ نے قرآن شریف بھی پڑھا ہو گا چنانچہ میرا دوسرا سوال ہے کہ کیا آپ نے قرآن شریف کو سمجھا اور اسے اپنی عملی زندگی پر مُنطبق کیا ؟

اگر آپ کا پہلے سوال کا جواب ” نہیں “ہے ۔ ۔ ۔ تو آپ تعلیم یافتہ نہیں ہیں کیونکہ آپ نے سکول ۔ کالج اور یونیورسٹی میں کچھ نہیں سیکھا ۔ صرف اسے وقتی ضرورت کے تحت یاد کیا تھا

اگر دوسرے سوال کا جواب ” نہیں“ ہے
تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ صرف نام کے مُسلم یا مُسلمان ہیں حقیقت میں نہیں

میرے محترمین و محترمان ۔ آپ کی فلاح اِسی میں ہے کہ آپ تعلیم یافتہ مُسلم یا مُسلمان بنیں جس کیلئے کل کی اِنتظار نہ کیجئے ۔ آج اور ابھی سے کوشش و محنت کیجئے
صبح کا بھُولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اُسے بھُولا نہیں کہتے

امریکہ میں مُفت کھانا کھلانے والا پاکستانی ریستوراں

390 بار دیکھا گیا

ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA) کے دارالحکومت واشنگٹن میں منّان (ایک پاکستانی امریکن) بڑی سادگی سے اپنے مُلک پاکستان کا نام روشن کر رہا ہے ۔ وائٹ ہاؤس سے بمُشکل ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ایک چھوٹا سا ریستوراں چلانے والے منّان کو واشنگٹن کے باسی ”مسیحا“ ۔ ”فرشتہ“ اور ”ہیرو“ کہتے ہیں ۔ سی این این ۔ اے بی سی ۔ وائس آف امریکہ اور واشنگٹن پوسٹ سمیت چوٹی کے ذرائع ابلاغ منّان کو ”مثالی تارکِ وطن(model immigrant)“ اور کامیاب مثال (success story) کہتے ہیں ۔ منّان کا دِل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔

صرف 3 ڈالر لئے منّان جب امریکہ پہنچا تھا تو کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا کہ ایک دن ذرائع ابلاغ میں اُس کے چرچے ہوں گے اور وہ امریکہ کے سینیٹروں (Senators)۔ کانگرسمین (Congressmen)۔ ججوں اور نامور لوگوں حتٰی کہ سابقہ صدر ہیلری کلِنٹن کے ساتھ کھانا کھائے گا (سُبحان اللہ و بحمدہِ) ۔ منّان کا کہتا ہے ”میں دنیا کی نظروں میں اپنے وطن اور اپنے دین کا تخیّل بہتر بنانا چاہتا ہوں اور اُنہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان پاکستانی ہمدرد اور پیار کرنے والی قوم ہیں“۔

واشنگٹن میں غیر مُلکی کھانوں کے سینکڑوں ریستوراں ہیں لیکن ”سکِینہ حلال گرِل (Skina)“ کی عزت امریکنوں کے دِل میں سب سے Hlal Restaurantزیادہ ہے ۔ اس ریستوراں کی چِکن کڑاہی ۔ بَٹَر چِکن (Butter Chicken) اور بریانی پسندیدہ ہیں لیکن منّان کی فراخ دِلی بہت ہر دِل عزیز ہے

سکِینہ حلال ریستوراں میں کھانے کیلئے ہر قسم کے لوگ آتے ہیں لیکن اِس کا طُرّہ امتیاز یہ ہے کہ یہاں غُرباء ۔ نادار اور بے گھر لوگوں کو بلامعاوضہ کھانا کھلایا جاتا ہے اور ریستوراں کے خدمتگار (waiters) اُنہیں ڈائیننگ ہال (Dining Hall) میں اُسی طرح کھانا کھلاتے ہیں جیسے پیسے دے کر کھانے والوں کو کھلاتے ہیں ۔

منّان پاکستان میں جہلم کے ایک چھوٹے سے گاؤں ”کری شریف“میں پیدا ہوا ۔ اُس کا باپ راج مزدور کے کام کی تلاش میں لبیا چلا گیا ہوا تھا ۔ ماں مویشی پالتی اور اُن کا دودھ بیچتی ۔ منّان نے 12 سال کی عمر میں گلیوں میں سبزیاں بیچ کر ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کیا ۔ 1996ء میں 25 سال کی عمر میں منّان امریکہ پہنچا اُس نے پٹرول پمپوں ()۔ کاروں کی ورکشاپوں اور لیبارٹریوں میں کام کیا غرضیکہ دن رات محنت کی اور اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجتا رہا ۔

منّان بتاتا ہے کہ اُس نے ریستوراں اپنی پیاری ماں ”سکِینہ“ کی یاد میں کھولا ۔ بچپن میں اُس کی ماں نے اُسے ھدائت کی تھی ”خواہ تم کتنے ہی غریب ہو جو کچھ تمہارے پاس ہو اس میں دوسروں کا بھی حصہ رکھنا ۔ اللہ تمہاری مشکلیں آسان کرے گا“۔

منّان اپنے ریستوراں پر سالانہ 6000 غیریبوں کو مُفت کھانا کھلاتا ہے ۔ کوئی بھی غریب ۔ نادار یا غریب الوطن اُس کے ریستوراں میں مُفت کھانا کھا سکتا ۔ منّان کسی سے چُوں و چرا نہیں کرتا ۔

منّان کی محنت کے عِوض اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اُسے خُوب نوازہ ہے ۔اُس کی ماں کی نصیحت سچ ثابت ہوئی ہے ۔ ریستوراں کا کاروبار چل پڑا تو جلد ہی منّان ایک لِیموزین (Limousine) کا مالک بن گیا جس میں وہ اپنے گاہکوں سیر کراتا ۔ اب اُس کے پاس لِموزین کاروں کا ایک بیڑا (fleet) ہے ۔ منّنان کے کام پر اب 30 ملازمین ہیں ۔

منّان کا یقین پُختہ ہو چکا ہے کہ جب وہ غریبوں کو کھانا کھلاتا ہے تو اللہ دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی کا مُسکراہٹ سے استقبال بھی برکت کا ذریعہ بنتا ہے ۔ جب منّان نے ریستوراں کھولا تو ایک باغیچہ (Park) میں جا کر نادار لوگوں کو اکٹھا کیا اور اپنے ریستوراں پر لا کر کہا”یہاں پر کوئی غریب ۔ نادار یا غریب الوطن بغیر معاوضہ کھانا کھا سکتا ہے“۔ منّان بتاتا ہے ”سب کے چہروں پر حیرانی چھا گئی لیکن اُن کی مطمئن آنکھوں نے مجھے سکُون بخشا“۔

اُس کی دریا دِلی کے باعث اللہ نے منّان کو ہر دلعزیز بنا دیا ہے ۔ منّان کا کہنا ہے کہ اُس نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی اُس کی پیشکش کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہا ہے ۔ عام طور پر لوگ ایسا نہیں کرتے ۔ منّان کا یقین ہے کہ اگر کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ اُس کا نگہبان ہوتا ہے
منّان اپنے مہمانوں کو پاکستان کے خوبصورت علاقوں کی وِڈیوز بھی دکھاتا ہے ۔ منّان کی بیوی اور دو بچے ہیں جو پاکستان میں ہیں ۔ منّان نے پاکستان میں 200 یتیم بچوں کیلئے ایک سکول بھی شروع کیا ہے ۔ (اللہ جسے توفیق دے)

زندگی کے موڑ

73 بار دیکھا گیا

زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان دِل کا سب کچھ تَج دینے کو چاہتا ہے
اور اِنسان مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا
نشیب و فراز ہی کا نام زندگی ہے
ایسے وقت لمبی سانس اندر کھینچیئے
پھر لمبی سانس باہر نکالئے
یہ عمل چند بار دہرایئے
اللہ کا نام لے کر آگے بڑھنے کیلئے پھر کمر باندھ لیجئے

سوچ ۔ بُری اور اچھی

175 بار دیکھا گیا

ایک بزرگ کہتے ہیں ”بازار میں چلتے ہوئے کسی نے میرے ٹخنے پر ڈنڈے سے چوٹ لگائی ۔ میں نے دَرد اور غُصے کی کیفیت میں پَلَٹ کر مارنے والے کو دیکھا تو وہ ایک نابینا شخص تھا جو اپنے ڈنڈے سے راستہ ٹٹول رہا تھا ۔ غُصے کی کیفیت جھَٹ سے شَفَقت اور تَرس میں تبدیل ہو گئی ۔ میں نے نابینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور اُس کو اُس کی منزل تک پہنچا کر آیا ۔ ۔ ۔ اُس دِن مجھے احساس ہوا کہ جب انسان کا نُقطہءِ نظر تبدیل ہوتا ہے تو جذبات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں“۔

ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں نقطہءِ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ پھر جذبات خود ہی تبدیل ہو جائیں گے اور جو لوگ ہمں بُرے لگتے ہیں وہ اچھے لگنے لگیں گے

سوچنے کی بات

195 بار دیکھا گیا

ایک فقیر ایک پھل والے کے پاس گیا اور کہا ” اللہ کے نام پر کچھ دے دو“۔
پھل والے نے فقیر کو گھورا اور پھر ایک گلا سڑا آم اُٹھا فقیر کی جھولی میں ڈال دیا
فقیر کچھ دیر وہیں کھڑا کچھ سوچتا رہا اور پھر 20 روپے نکال کر پھل والے کو دیئے اور کہا ”20 روپے کے آم دے دو“۔
دکاندار نے 2 بہترین آم اُٹھائے اور لفافے میں ڈال کر فقیر کو دے دیئے
فقیر نے ایک ہاتھ میں گلا سڑا آم لیا اور دوسرے ہاتھ میں بہتریں آموں والا لفافہ اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا ”دیکھ اللہ تُجھے کیا دیا اور مجھے کیا دیا “۔

رسول اکرم سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہِ و سلّم کا ارساد ہے ” تُم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں قربان نہ کرے“۔

سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہم لوگ اللہ کے نام پر اپنی پہترین چیز دیتے ہیں ؟