Category Archives: سائنس

قرآن شریف کا قدیم ترین نُسخہ برمنگھم یونیورسٹی میں دریافت

سُبحان اللہ ۔ نہ مُلک مسلمانوں کا ۔ نہ یونیورسٹی مسلمانوں کی ۔ نہ محقق مُسلم ۔ اور ثبوت کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے زمانہ سے آج تک قرآن کی عبارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ تفصیل کچھ یوں ہے

اتحادیوں کی سلطنت عثمانیہ پر 1908ء سے 1918ء تک یلغار کے نتیجہ میں شرق الاوسط (مشرقِ وسطہ) اتحادیوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔ آج کا عراق اُن دنوں تعلیم کا گڑھ تھا ۔ 1920ء میں کلدائی قوم کا ایک پادری (بابل کا باشندہ) الفانسو مِنگانا (Alphonse Mingana) مُوصل سے عربی کے 3000 قلمی نُسخے برطانیہ لے کر گیا تھا ۔ یہ نُسخے 95 سال سے مِنگانا کا ذخیرہ (Mingana Collection) کے نام سے برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری میں گُمنام حیثیت میں پڑے تھے اور کسی کے عِلم میں نہ تھا کہ ان میں قرآن شریف کا دنیا کا قدیم ترین نُسخہ بھی ہے

قرآن شریف کے اس نُسخے کی عمر کا تعین ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon dating) یعنی جدید سائنسی طریقہ کے ذریعہ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ نسخہ کم از کم 1370 سال پرانا ہے ۔ چنانچہ یہ قرآن شریف کے دنیا میں اب تک حاصل کئے گئے قدیم ترین نسخوں میں سے ایک ہے ۔ برطانیہ کے لائبریری ماہر ڈاکٹر محمد عیسٰے والے کا کہنا ہے کہ یہ ایک حیران کُن دریافت ہے جس سے مسلمانوں کو مُسرت ہو گی
1یہ اوراق بھیڑ یا بکرے کی کھال کے ہیں

پرانے ترین نُسخے
جب پی ایچ ڈی کرنے والے محقق البا فیڈیلی (Alba Fedeli) ان اوراق کی باریک بینی کی تو ان کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور نتیجہ حیران کن نکلا ۔ ٹیسٹ کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریڈیو کاربن ایکسلریٹر یونٹ (Oxford University Radiocarbon Accelerator Unit) نے بتایا کہ بھیڑ اور بکرے کی کھال پر لکھے گئے قرآن شریف کے نسخے بہت پرانے ہیں ۔ یونیورسٹی کے مخصوص مخازن کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ یہ نسخہ اتنا پرانا ہو گا
2

برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس (Prof David Thomas) جو اسلام اور عیسائیت کے پروفیسر ہیں نے کہا ”جس کسی نے بھی اسے لکھا ہو گا وہ ضرور رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو قریب سے جانتا ہو گا اور اُس نے اُنہیں بولتے ہوئے بھی سُنا ہو گا ۔ ان ٹیسٹوں سے جو 95 فیصد درست ہوتے ہیں قرآن شریف کے نسخے کے مختلف اوراق کی تاریخیں 568ء اور 645ء کے درمیان نکلتی ہیں ۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ اس کی لکھائی طلوعِ اسلام کے چند سال کے اندر شروع ہوئی“۔

پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے مزید کہا ”مسلمانوں کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم پر قرآن شریف کا نزول 610ء اور 632ء کے درمیان ہوا جبکہ 632 اُن کے وصال کا سال ہے“۔
3

پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے بتایا کہ قرآن شریف کے کچھ حصے کھال کے بنے کاغذ ۔ پتھر ۔ کھجور کے پتوں اور اونٹ کے کشانے کی چوڑی ہڈی پر بھی لکھے گئے تھے ۔ ان سب کو کتابی شکل لگ بھگ 650ء میں دی گئی تھی ۔ متذکرہ نسخے کی عبارت تقریباً وہی ہے جو آج کے قرآن شریف کی ہے ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے قرآن شریف میں کوئی تحریف نہیں ہوئی یا بہت ہی کم تبدیلی ہوئی ہے“۔

حجازی رسم الخط میں لکھا ہوا قرآن شریف کا نسخہ سب سے پرانے نسخوں میں سے ایک ہے ۔ برمنگھم یونیورسٹی میں موجود نسخہ زیادہ سے زیادہ 645ء کا ہو سکتا ہے

یہ معلومات سین کوفلان (Sean Coughlan) کے 22 جولائی 2015ء کو شائع ہونے والے مضمون سے لی گئیں

مذہب اور عصر

اسلام کی عظمت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اللہ کا آخری پیغام ہے بلکہ اس کی عظمت یہ بھی ہے کہ اسلام بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی۔ اس کے قدیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے عقائد ازلی و ابدی ہیں ۔ اس کی عبادات کا نظام مستقل ہے اور اس کا اخلاقی بندوبست دائمی ہے

اس کے جدید ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے زمانے یعنی اپنے عصر سے متعلق رہتا ہے۔ اس کے مسائل و معاملات پر نگاہ رکھتا ہے ۔ اس کے چیلنجوں کا جواب دیتا ہے اور اس طرح اپنے پیروکاروں کو ایمان و یقین کی دولت سے کبھی محروم نہیں ہونے دیتا۔ اسلام دائمی طور پر زمانوں کے درمیان پُل کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔ چنانچہ اسلام کے دائرے میں ایک زمانہ دوسرے زمانے سے متصل منسلک اور مربوط رہتا ہے اور زمانی تسلسل برقرار رہتا ہے۔ یوں اسلام کی فکری کائنات میں قدیم اور جدید کے درمیان خلیج حائل نہیں ہوتی

کہنے کو عیسائیت بھی ایک الہامی مذہب ہے لیکن عیسائیت نہ اپنے عقائد کو اصل حالت میں محفوظ رکھ سکی ۔ نہ اس کے دائرے میں عبادات کا نظام اپنی حقیقی صورت میں باقی رہا اور نہ ہی عیسائیت ایک وقت کے بعد خود کو عصر سے مربوط کر سکی ۔ نتیجہ یہ کہ عصر سے عیسائیت کا تعلق ٹوٹ کر رہ گیا۔ عیسائیت کی تاریخ میں جدید و قدیم کے درمیان خلیج حائل ہو گئی اور عیسائیت ماضی کی چیز بن کر رہ گئی۔ عیسائیت نے اپنی تاریخ کے ایک مرحلے پر اسلامی علوم سے زبردست فائدہ اٹھایا۔ امام عزالیؒ نے عیسائیت کے علم کلام پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ ابن رُشد مغرب میں مستقل حوالہ بن کر رہ گئی

مسلم سائنسدانوں کے نظریات ڈیڑھ دو صدی تک مغرب کی جامعات میں پڑھائے جاتے رہے۔ اس صورت حال کا مفہوم یہ ہے کہ عیسائیت نے اسلامی فکر سے استفادہ کر کے خود کو عصر سے مربوط کیا۔ خود کو اس کے چیلنجوں کا جواب دینے کے قابل بنایا لیکن مغرب میں جدید علوم بالخصوص سائنس کا آغاز ہوا تو عیسائیت ان کے ساتھ صحت مند تعلق استوار کرنے میں ناکام ہو گئی۔ ابتدا میں چرچ نے جدید سائنسی نظریات کو کفر قرار دے کر مسترد کر دیا۔ کئی سائنس دانوں کو کافرانہ فکر رکھنے کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن جدید علوم کا سفر جاری رہا اور انہیں عوام میں پذیرائی حاصل ہونے لگی تو عیسائیت نے اپنا رویہ یکسر تبدیل کر لیا۔ عیسائیت نے اپنے عقائد کو سائنسی نظریات کے مطابق بنانا شروع کر دیا اور اس طرح ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف نکل گئی۔ اگر چہ یہ عیسائیت کی جانب سے خود کو عصر سے مربوط کرنے کی کوشش تھی مگر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی بلکہ اس سے عیسائیت کے وقار اور عظمت کو ناقابل تلافی
نقصان پہنچا ۔ یہاں تک کہ جدید فکر نے عیسائیت کو یکسر رد کر دیا اور عصر سے عیسائیت کا تعلق ٹوٹ کر رہ گیا

ہندو ازم دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ 6000 سال پرانی ہے۔ ہندوﺅں کی مقدس کتابوں ویدوں، مہابھارت اور گیتا میں الہامی شان ہے۔ ہندو ازم کے پاس ایک خدا کا تصور ہی، رسالت کا تصور ہے۔جنت، دوزخ کا تصور ہے۔ لیکن ہندو ازم کی گزشتہ ایک ہزار
سال کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ہندو ازم اس طویل مدت میں خود کو عصر سے مربوط نہیں کر سکا۔ مسلمانوں نے بھارت پر ایک ہزار سال حکومت کی اور اس عرصے میں ہندو ازم اسلامی تہذیب کے اثرات قبول کرتا رہا۔ مسلمانوں کے بعد انگریز آگئے اور 200 سال تک بھارت پر راج کرتے رہے۔ اس عرصے میں ہندوﺅں کے موثر طبقات کی کوشش یہ رہی کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے خود کو مغربی تہذیب اور قانون و سیاست سے ہم آہنگ کرتے رہیں

راجہ رام موہن رائے ہندوﺅں کے سرسید تھے مگر راجہ رام موہن رائے کی تحریک سرسید کے مقابلے میں بہت زیادہ کامیاب ہوئی۔ ہندو راجہ رام موہن رائے اور ان جیسے لوگوں کی تحریکوں کے زیر اثر زیادہ سے زیادہ جدید ہوتے گئے مگر اس جدیدیت کا ہندو ازم کے بنیادی تصورات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہندو ازم کوئی اور چیز تھا اور جدیدیت کوئی اور شے

مسلمانوں کی تاریخ میں عصر کا سوال سب سے پہلے امام غزالیؒ کے زمانے میں اٹھا۔ اس زمانے میں یونانی علوم مسلمانوں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے تھے اور سوال پیدا ہو رہا تھا کہ ان علوم کا مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے کیا تعلق ہے ؟ امام غزالیؒ نے تن تنہا اس سوال کا جواب دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ یونانی علوم پر انہی کے اصولوں کی روشنی میں تنقید لکھی اور ان علوم کے داخلی تضادات کو نمایاں کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی غزالیؒ نے یہ بھی دکھا دیا کہ ان علوم کا مسلمانوں کے بنیادی اصولوں سے کیا تعلق ہے ؟ غزالی کی تنقید نے مسلمانوں کو یونانی علوم کے اثرات سے محفوظ کر دیا

مسلمانوں کی تاریخ میں زمانہ یا عصر کا سوال دوسری مرتبہ اُنیسویں اور بیسویں صدی میں اہم بن کر سامنے آیا۔ برصغیر میں اقبال پہلی شخصیت تھے جو اس سوال سے نبرد آزما ہوئے۔ انہوں نے اپنی بے مثال شاعری میں اس سوال کی جزیات تک کو کھول کر بیان کر دیا اور بتا دیا کہ اسلام کا جواب اس سلسلے میں کیا ہے ؟ اقبال عصر کے چیلنج سے گھبرائے نہیں بلکہ انہوں نے چیلنج سے قوت کشِید کی اور اسے اپنے لئے قوتِ محرکہ بنا لیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

اقبال نے جو کام شاعری میں کیا مولانا مودودیؒ نے وہی کام نثر میں کیا۔ اس طرح کے کاموں میں شاعری پر نثر کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس میں بات کو زیادہ کھول کر بیان کیا جا سکتا ہے۔ اور اسے زیادہ سے زیادہ دلائل سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کے کام کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے کام کی روشنی میں اسلام بیسویں صدی میں اسی طرح متعلق (relevant) نظر آیا جس طرح غزالیؒ یا ان سے پہلے کے زمانے میں تھا

اس کام کی اہمیت دوسرے مذاہب کی تاریخ کی روشنی میں نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جنہوں نے یا تو عصر کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے یا اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہوگئے۔ ظاہر ہے یہ دونوں مثالیں عصر کے ہاتھوں مذہب کی شکست کی مثالیں ہیں

تحریر ۔ شاہ نواز فاروقی
یہ تحریر میں نے اخبار جسارت میں پڑھی تھی لیکن وہاں سے ہٹا دی گئی ہے اور اب یہاں موجود ہے

آئی کیو ؟

حاصل تقسیم ذہانت (Intelligence Quotient) المعروف آئی کیو کا گفتگو میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اسے کہیں جدید تعلیم کہیں سائنس اور کہیں آزاد خیالی سے جوڑا جاتا ہے

میں لڑکپن اور جوانی میں قرآن شریف پڑھتا تو سوچ میں پڑھ جاتا کیونکہ مجھے کچھ یوں سمجھ آتی کہ عقل اور ذہانت کا معیار یہ ہے کہ کوئی کتنا اللہ کے فرمان کو سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہے

میں اسی ادھیڑ بُن میں لگا رہتا کہ ذہانت کا معیار اللہ کے فرمان کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے یا کہ کوئی ریاضی ۔ طبیعات یا کیمیاء کے امتحان میں کتنے زیادہ نمبر لیتا ہے ؟ گو ان مضامین میں میرا شمار اپنی جماعت کے چاروں حصوں کے 200 لڑکوں میں سے صرف چند بہترین میں ہوتا تھا

وقت گذرتا گیا اور اللہ کی مہربانی سے عُقدے کھُلتے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص سکول ۔ کالج اور پھر یونیورسٹی کے سب امتحانوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے کامیاب ہوا اور ڈاکٹر یا انجیئر بن گیا مگر بعض اوقات سادہ سی بات بھی اس کی سمجھ میں نہ آتی ۔ یہی نہیں اگر سوائے اس کے کہ جو اس نے پڑھا تھا اُسے کوئی سوال ان مضامین کی حدود میں بھی پوچھو تو بیگانہ لگے ۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک نو دس سالہ بچہ بیٹھا تھا وہ مسکرانے لگا ۔ اُسے پوچھا تو اس نے بتا دیا کہ ”آپ یہ کہہ رہے ہیں اور اس سے یہ ایسے ہو جائے گا“۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ہمارے ایک استاذ صاحب نے ایک بار کہا تھا ”پڑھائی میں محنت کچھ اور چیز ہے اور ذہانت کچھ اور“۔

کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں نظامِ تعلیم ناقص ہے ۔ لیکن اس کا اثر تو ہر ایک پر ہوتا ہے خواہ وہ ذہین ہو یا نہ ہو ۔ میں نے اوپر جو تجربہ بیان کیا ہے اس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں جرمن انجیئر بھی جن کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے

بات اسی پر پہنچتی ہے کہ ذہین آدمی حقائق کو پہچانتا ہے اور ان کی تہہ کو پہنچتا ہے ۔ وہ ایک طرف اگر سائنس میں نئی دریافتیں کر سکتا ہے تو دوسری طرف اللہ کو بھی درست طریقے سے پہچانتا ہے ۔ اور قرآن شریف اللہ کا کلام ہے ۔ اللہ خالق و مالک ہے ۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ انسان کو کیا بنایا ہے ۔ اسلئے ذہانت کیلئے لازم ہے اللہ کو درست پہچانے ۔ آج کی یونیورسٹیوں کا راگ الاپنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس سائنس کی بنیادیں استوار کیں وہ اپنے مذہب کے بھی عالِم تھے ۔ میں اس سلسلے میں سر الیگزنڈر فلیمنگ کا واقعہ بیان کر چکا ہوں

6 اگست ۔ ایک یاد گار دن

6 اگست کو بڑے اہم واقعات ہوئے ہیں ۔ سب سے اہم یہ کہ میں پیدا ہوا تھا ۔ دوسرا کہ اس دن ہیروشیما پر امریکہ نے ایٹم بم گرایا تھا ۔ خیر میں تو ایک گمنام آدمی ہوں گو میرے ڈیزائین کردہ بیرل بور والی مشین گن پاکستان جرمنی اور نجانے اور کتنے ممالک کی افواج استعمال کر رہی ہیں لیکن چِٹی چمڑی والا نہ ہونے کے باعث اسے میرے نام سے منسوب نہ کیا جا سکا تھا

لیکن میں بات کرنے لگا ہوں 6 اگست کو پیدا ہونے والے ایک ایسے شخص کی جس نے سائنس میں عروج حاصل کر کے اللہ کو پہچانا ۔ نام تھا ان کا الیگزنڈر فلیمنگ (Sir Alexander Fleming) جس نے 1928ء میں پنسلین دریافت کی ۔ اس دوا نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں ۔ ٹائم میگزین نے بیسویں صدی کے 100اہم ترین لوگوں کی فہرست میں اس عظیم شخص کو شامل کرتے ہوئے لکھا ”اس دریافت نے تاریخ کا دھارا تبدیل کر کے رکھ دیا“۔ الیگزنڈر فلیمنگ کو 1945ء میں طب کے شعبے میں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا

الیگزنڈر فلیمنگ نے پنسلین کی ایجاد کی تو دوا ساز کمپنیوں نے اُسے 10 فیصد رائلٹی کی پیشکش کی جو اُس نے کم سمجھ کر قبول نہ کی اُس کا خیال تھا کہ سارا کام تو اُس نے کیا جبکہ کمپنی اُسے فقط 10 فیصد پر ٹرخا نے کی کوشش کر رہی تھی تاہم جب الیگزنڈر فلیمنگ نے 10 فیصد رائلٹی کا تخمینہ لگوایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ لاکھوں پاؤنڈ ماہانہ بنتے تھے ۔ اُس نے سوچا کہ اتنی رقم کو وہ کہاں سنبھال کر رکھے گا ۔ اس سلسہ میں اپنی نااہلی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس نے پنسلین کا نسخہ ایک فیصد رائلٹی کے عوض دوا ساز کمپنی کو اس شرط پر دینے کا فیصلہ کیا کہ معاہدے کی تمام شِقیں الیگزنڈر فلیمنگ کی منشا کے مطابق ہوں گی ۔کمپنی نے یہ بات مان لی

تاہم جب الیگزینڈر فلیمنگ شرطیں ٹائپ کرنے کے لئے بیٹھا تو اُسے لگا کہ ایک فیصد رائلٹی بھی اتنی زیادہ بن رہی تھی کہ وہ ساری عمر ختم نہ ہوتی جبکہ اس کی خواہش سوائے سیر و سیاحت اور تحقیق کے اور کچھ نہیں تھی ۔ یہ سوچ کر الیگزنڈر فلیمنگ نے آدھی رات کے وقت ایک معاہدہ ٹائپ کیا اور لکھا

”میری یہ دریافت میری ذاتی ملکیت نہیں ۔ یہ ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت کے طور پر ملا ہے ۔ اس دریافت کا عطا کنندہ خدا ہے اور اس کی ملکیت پوری خدائی ہے ۔ میں اس دریافت اور اس انکشاف کو نیچے دیئے گئے فارمولے کے مطابق عام کرتا ہوں اور اس بات کی قانونی ،شخصی،جذباتی اور ملکیتی اجازت دیتا ہوں کہ دنیا کا کوئی ملک ،کوئی شہر،کوئی انسان ، معاشرہ جہاں بھی اسے بنائے ، وہ اس کا انسانی اور قانونی حق ہوگا اور میرا اس پر کوئی اجارہ نہ ہوگا“۔

الیگزنڈر فلیمنگ سے پوچھا گیا کہ ”وہ کس بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ پنسلین کی ایجاد خدا کی طرف سے انہیں ودیعت کی گئی تھی؟“
الیگزنڈر فلیمنگ نے اس بات کا تاریخی جواب دیا
”میں اسے دنیا تک پہنچانے کا ایک ذریعہ یا ایک آلہ ضرور تھا لیکن میں اس کا مُوجد یا مُخترع نہیں تھا۔ صرف اس کا انکشاف کرنے والا تھا اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خداوند کا کرم اور اس کی عنایت تھی ۔ اصل میں جتنے بھی انکشافات اور دریافتیں ہوتی ہیں وہ خدا کے حُکم سے اور خدا کے فضل سے ہوتے ہیں ۔ خدا جب مناسب خیال کرتا ہے اس علم کو دنیائے انسان کو عطا کر دیتا ہے ۔ نہ پہلے نہ بعد میں ، ٹھیک وقت مقررہ پر ، اپنے حکم کی ساعت کے مطابق ۔ میں نے اس اصول کو لندن کے ایک مقامی اسکول میں بچوں کی آسانی کے لئے یوں سمجھایا تھا کہ خدا کے آستانے پر ایک لمبی سلاخ کے ساتھ علم کی بے شمار پوٹلیاں لٹک رہی ہیں ۔ وہ جب چاہتا ہے اور جب مناسب خیال فرماتا ہے ۔ قینچی سے ایک پوٹلی کا دھاگا کاٹ کر حُکم دیتا ہے کہ سنبھالو عِلم آ رہا ہے ۔ ہم سائنسدان جو دنیا کی ساری لیبارٹریوں میں عرصے سے جھولیاں پھیلا کر اس علم کی آرزو میں سرگرداں ہوتے ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کی جھولی میں یہ پوٹلی گر جاتی ہے اور وہ خوش نصیب ترین انسان گردانا جاتا ہے“ ۔

مدد چاہیئے ایک باریک بین کی

ایک تیز نظر ۔ تیز دماغ اور فوٹو شاپ قسم کی سافٹ ویئر کے ماہر کی ضرورت ہے جو مندرجہ ذیل تصاویر کا مطالعہ / معائنہ کر کے بتائے کہ کونسی تصویر اصلی ہے اور اس کے ساتھ کوئی چھڑ خانی نہیں کی گئی

مندرجہ ذیل تصاویر کی تصحیح مقصود ہے جو کسی صاحب نے مجھے شاید فیس بُک سے نقل کر کے بھیجی ہیں
پہلی تصویر اسلحہ بردار سکندر کی ہے
دوسری تصویر میں صدر آصف علی زرداری اور سکندر دکھائے گئے ہیں
تیسری تصویر میں بلاول زرداری اور سکندر دکھائے گئے ہیں
چوتھی تصویر میں فردوس عاشق عوان کے ایک طرف سکندر کی بیوی کنول اور دوسری طرف زمرد خان دکھائے گئے ہیں
Sikandar1

Sikandar2

Sikandar3

Sikandar4

بہتر کون ؟

آج کل سائنس کی ترقی کا چرچہ ہے ۔ سائنس کی ترقی نے آدمی کو بہت سہولیات مہیاء کر دی ہیں
پڑھنے لکھنے پر بھی زور ہے جس کے نتیجہ میں بہت لوگوں نے بڑی بڑی اسناد حاصل کر لی ہیں
توقع تو تھی کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آدمی تعلیم حاصل کر کے انسان بن جائیں گے

لیکن

سائنس کی ترقی میں انسانیت کم پنپ پائی ہے اور وبال یا جہالت زیادہ
سائنس کے استعمال نے انسان کا خون انفرادی ہی نہیں بلکہ انبوہ کے حساب سے آسان بنا دیا ہے اور انسانیت بلک رہی ہے
ایسے میں ویب گردی کرتے میں افریقہ جا پہنچا ۔ دیکھیئے نیچے تصویر میں کون بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں

Ubuntu

ان بچوں کے پاس اپنے جسم ڈھانپنے کیلئے پورے کپڑے نہیں لیکن اس تصویر سے اُن کی باہمی محبت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ تو میرا اندازہ ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے

ایک ماہرِ بشریات (anthropologist) نے شاید ایسے لوگوں کو پڑھا لکھا نہ ہونے کی بناء پر جاہل اور خود غرض سمجھتے ہوئے اپنے مطالعہ کے مطابق ایک مشق دی ۔ماہرِ بشریات نے پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تھوڑا دور ایک درخت کے نیچے رکھ کر افریقہ میں بسنے والے ایک قبیلے کے بچوں سے کہا
”جو سب سے پہلے اس ٹوکرے کے پاس پہنچے گا ۔ یہ سارے میٹھے پھل اُس کے ہوں گے“۔
اُس نے بچوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے بعد کہا ”ایک ۔ دو ۔ تین ۔ بھاگو“۔

سب بچوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اکٹھے بھاگ کر اکٹھے ہی پھلوں کے ٹوکرے کے پاس پہنچ گئے اور ٹوکرے کے گرد بیٹھ کر سب پھل کھانے لگے

ماہرِ بشریات جو ششدر کھڑا تھا بچوں کے پاس جا کر بولا ”تم لوگ ہاتھ پکڑ کر اکٹھے کیوں بھاگے ؟ تم میں سے جو تیز بھاگ کر پہلے ٹوکرے کے پاس پہنچتا سارے پھل اس کے ہو جاتے”۔

بچے یک زبان ہو کر بولے ”اُبنٹُو (ubuntu) یعنی میرا وجود سب کی وجہ سے ہے ۔ ہم میں سے ایک کیسے خوش ہو سکتا ہے جب باقی افسردہ ہوں”۔

کیا یہ سکولوں اور یونیورسٹیوں سے محروم لوگ اُن لوگوں سے بہتر نہیں جو سکولوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر انفرادی بہتری کیلئے دوسروں کا نقصان کرتے ہیں
اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے دوسروں کا قتل کرتے ہیں
اور بہت خوش ہیں کہ جسے چاہیں اُسے اُس کے ملک یا گھر کے اندر ہی ایک بٹن دبا کر فنا کر دیں

سائنس نے ہمیں آسائشیں تو دے دیں ہیں مگر انسانیت ہم سے چھین لی

ایک نیا مرض

ایک نیا مرض جو بڑھتا جا رہا ہے اور کچھ خاندانوں کیلئے پریشانی کا باعث بن بھی چکا ہے
مُشکل یہ ہے کہ اس مرض کا علاج بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے
اچنبے کی بات ہے کہ اس مرض سے پریشان اکثر وہی ہیں جو اس کے جراثیم بصد شوق خود ہی لے کر آئے تھے

کہیں آپ بھی اس مرض میں مبتلاء تو نہیں ؟
کیا ہے وہ نیا مرض ؟ خود ہی دیکھ لیجئے

ابتداء یعنی جب مرض کے جراثیم گھر میں آئے خوشی بخوشی

پھر دلچسپی بڑھی

جب شوق عشق میں ڈھل گیا

نوبت یہاں تک پہنچی

انجامِ کار

پھر کمپیوٹر کا استعمال ؟