Category Archives: روز و شب

کیا بُوفے (Buffet)کھڑے ہو کر کھانا ہوتا ہے ؟

52 بار دیکھا گیا

ہم لوگوں نے اغیار کی اچھی عادات تو کم ہی اپنائی ہیں البتہ اُن کی قباحتیں بہت اپنا لی ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے جو بھی اپنایا ہے وہ سمجھے بغیر اپنایا ہے ۔ ایک مثال بُوفے (buffet) کی ہے جسے عام طور پر کھڑے ہو کر کھانا سمجھا جاتا ہے
دیکھتے ہیں کہ بُوفے کیا ہوتا ہے

Merriam-Webster Dictionary :- (1) A blow especially with the hand (2) Something that strikes with telling force
مریم ویبسٹر ڈکشنری ۔ (1) مُکا ۔ گھونسا (2) زور دار چوٹ

Oxford Dictionaries :- (1) A meal consisting of several dishes from which guests serve themselves (2) A room or counter in a station, hotel, or other public building selling light meals or snacks (3) A cabinet with shelves and drawers for keeping dinnerware and table linens.
آکسفورڈ ڈکشنریز ۔ (1) مختلف کھانوں پر مُشتمل ضیافت جس میں مہمان خود کھانا لیتے ہیں (2) ایک کمرہ یا ریلوے سٹیشن یا ہوٹل یا عوامی عمارت میں کاؤنٹر جہاں کھانا فروخت ہوتا ہو (3) خانوں والی الماری جس میں کھانے کے برتن وغیرہ رکھے جاتے ہیں

American Heritage Dictionary :- (1) A large sideboard with drawers and cupboards (2) A counter or table from which meals or refreshments are served or a restaurant having such a counter (3) A meal at which guests serve themselves from various dishes displayed on a table or sideboard.
امریکی ورثہ ڈکشنری ۔ (1) ایک طرف رکھی بڑی الماری (2) ایک کاؤنٹر یا میز جہاں کھانا یا مشروبات تقسیم کی جاتی ہیں یا ایک ریستوراں جہاں یہ کاؤنٹر ہو (3) ایک ضیافت جس میں مہمان رکھے گئے کھانوں میں سے خود لیں

Wikipedia :- A buffet is a system of serving meals in which food is placed in a public area where the diners generally serve themselves
وِکی پیڈیا ۔ بُوفے اُس ضیافت کو کہتے ہیں جس میں ایک کھُلی جگہ پر سب کھانے رکھے ہوتے ہیں اور عام طور پر مہمان خود وہاں سے کھانا لیتے ہیں

ہم محبِ وطن یا مُلک دُشمن ؟ ؟ ؟

79 بار دیکھا گیا

میں کبھی کبھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ہم لوگ محبِ وطن ہونے کی بجائے کیا وطن دُشمن ہیں ؟

گو میں وطن (پاکستان) سے باہر درجن بھر ممالک میں رہاہوں لیکن بھارتی باشندوں سے میرا واسطہ صرف 4 ممالک (جرمنی ۔ سعودی عرب ۔ متحدہ عرب امارات اور لبیا) میں پڑا ۔ جرمنی میں سکھوں سے واسطہ پڑا جو ہر حال میں خوش رہتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں جن سے واسطہ پڑا وہ زیادہ تر ہندو تھے ۔ سعودی عرب میں صرف بھارتی مسلمانوں سے واسطہ پڑا اور لبیا میں بھارتی ہندو اور مسلمان دونوں سے

میں نے دیکھا کہ

بھارتی باشندے کبھی اپنی زبان پر اپنے مُلک (بھارت) کے خلاف کوئی بات نہیں آنے دیتے اور اگر کسی دوسرے مُلک کا باشندہ بھارت یا بھارت کے لوگوں کے خلاف کوئی بات کرے تو اُس کی بھرپور مخالفت اور اپنے وطن اور اپنے ہموطن کی زور دار حمائت کرتے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف اُن کے پاس مصدقہ یا خیالی الزامات ہوتے تھے جس سے وہ پاکستانیوں پر بھرپور وار کرتے تھے

میں نے اپنے ہموطنوں کو دیکھا کہ سب کے سامنے اپنے مُلک اور ہموطنوں سے برملا شکایات کا اظہار کرتے تھے ۔ لبیا میں میرا قیام کافی لمبا ہونے کی وجہ سے میں نے دیکھا کہ میرے بعض مسلمان ہموطن اپنے مُلک اور ہموطنوں کی مخالفت میں لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے تھے اور بھارتی ہندوؤں سے دوستی رکھتے تھے

یہ تو خاکہ تھا مُلک سے باہر کردار کا ۔ اب دونوں ممالک کے اندر کے حالات کا منظر نامہ

بھارت میں لوگ آپس میں جھگڑا اور تکرار ہم پاکستانیوں کی نسبت زیادہ کرتے ہیں ۔ بھارت میں مار دھاڑ بھی پاکستان ک نسبت زیادہ ہے لیکن جب معاملہ بھارت بمقابلہ غیر مُلک (بالخصوص پاکستان) کا ہو تو ایک دوسرے کے جانی دُشمنوں سمیت بلا امتیاز سب بھارتی یک زبان ہو کر محبِ وطن بن جاتے ہیں

میرے پاکستانی بھائی جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو سب سے زیادہ ایمان دار اور دیانتدار سمجھتا ہے وہ کوئی موقع اپنے مُلک اور اپنے ہموطنوں پر تنقید کا ضائع نہیں ہونے دیتا یہاں تک کہ وہ قومی اور مُلکی معاملات جن کی یک زبان ہو کر ببانگ دُہل ہمیں حمائت کرنا چاہیئے اُسے غلط طور یا کج فہم کی بنا پر گندھی سیاست کا نُقطہ بنا کر میڈیا ۔ سوشل میڈیا اور ذاتی محفلوں میں اپنے مخالف سیاستدانوں کی ہِجو شروع کر دیتے ہیں ۔ اس عمل میں صرف عام یعنی کم عِلم آدمی ہی نہیں بلکہ سیاسی سربراہ بھی بڑے کرّ و فر سے شامل ہوتے ہیں ۔ یہ ایسے وقت میں ہوتا ہے جب ہماری قوم اور ہمارے مُلک کا دُشمن اسی بات پر ہمارے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ میں مشغول ہوتا ہے ۔ اور ہماری قوم کا تمسخر اُڑا رہا ہوتا ہے

اب یہ بھارتی ایجنسی ” را “ کے ایجنٹ کلبوشن یادیو کا قصہ ہی لیجئے ۔ اُس بلوچستان آمد اور کارستانیوں کی معلومات فوج کی کسی ایجنسی نے حاصل کر کے اپنی ہائی کمان کو اطلاع کی ۔ فوج ہی نے اُسے گرفتار کیا اور آئین و قانون کے مطابق اُس پر مقدمہ بھی فوجی عدالت میں چلایا گیا اور پھانسی کی سزا مقرر ہوئی ۔ اگر بھارت اُس کا مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں لے گیا اور بین الاقوامی عدالت نے حسبِ معمول تعصب کا ارتکاب کرتے ہوئے بھارت کی درخواست برائے امتناع مان لی تو بجائے اس کے کہ سب سیاسی سربراہ قومی مفاد میں تمام اختلاف کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہی آواز اُٹھاتے جو مؤقف پاکستان کے وکیل نے وہاں پر اختیار کیا تھا حکومت کے خلاف محاظِ جنگ بنا کر قوم اور مُلک کو دُسمنوں ک نظر مں مذاق بنا دیا

برائی کا بدلہ

65 بار دیکھا گیا

آنسو بہانا بُری بات نہیں
غمگین ہونا بُرا نہیں

بُرا یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک اسلئے کریں کہ اُنہوں نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا
تو پھر آپ میں اور بُرے آدمی میں کیا فرق رہ جائے گا ؟

میں کوئی چُوٹھ بولیا

153 بار دیکھا گیا


اَیویں دُنیا دیوے دُہائی ۔ چُوٹھا پاؤندی شور
اپنے دِل تے پُچھ کے ویکھو ۔ کون نئیں اے چور
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
حق دُوجے دا مار مار کے بَن گئے لوک امِیر
میں اَیہنُوں کہندا چوری ۔ لوکی کہن تقدیر
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
ویکھے پنڈت گھیانی دھیانی دیآ دھرم دے بندے
رام نام چَپ کے کھاؤندے گاؤ شالہ دے چَندے
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
سَچے پھانسی چَڑھدے ویکھے ۔ چُوٹھا مَوج اُڑاوے
لوکی کہن اے رَب دی مایا ۔ میں کہندا انیآ اے
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ

مسلمان بدنام کيوں ہيں ۔ لمحہءِ فکريہ

268 بار دیکھا گیا

کِسی مُلک کا قانون وہ ہوتا ہے جو کہ اُس مُلک کا مجاز حاکم بناتا ہے اور یہ بھی تمام ممالک کے قوانین کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ قانون سے لاعلمی بریّت یا معافی کا جواز نہیں ۔ کوئی ذی شعور آدمی يہ نہيں کہتا کہ قانون وہ ہے جس طرح لوگ کر رہے ہيں ۔ ايک روزمرّہ کی مثال ديتا ہوں ۔ ہمارے ملک ميں قوانين کی کھُلم کھُلا خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ ٹريفِک کے قوانين ہی کو لے ليجئے ۔ مقررہ رفتار سے تيز گاڑی چلانا ۔ غلط طرف سے اوورٹيک کرنا اور چوراہے ميں بتی سُرخ ہوتے ہوئے گذر جانا عام سی بات ہے ۔ 90 فيصد لوگ ٹريفک قوانين کی خلاف ورزی کرتے ہيں مگر کبھی کِسی نے نہيں کہا کہ قانون وہی ہے جيسا لوگ کرتے ہيں ۔ ليکن دین اسلام کا معاملہ ہو تو بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ مسلمان کہلوانے والوں کے کردار کو اسلام کا نام دے کر اسلام کی ملامت کرتے ہيں يا اسے رَد کرتے ہيں

اِسلام کے قوانین قرآن الحکیم میں درج ہیں ۔ قرآن شریف میں اللہ کا حُکم ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اِسلئے حدیث اور سنتِ رسول بھی اِسلام کے قوانین کا حصّہ ہيں ۔ قرآن الحکيم اور حديث کا مطالعہ کيا جائے تو اس میں نہ صرف يہ کہ کوئی بُرائی نظر نہيں آتی بلکہ اچھائياں ہی اچھائياں نظر آتی ہيں اور کئی غيرمُسلم مفکّروں نے بھی اسے بہترين قانون قرار ديا ۔ سياسی ليڈروں ميں چين کے ايک وزيراعظم اور بھارت کے ايک صدر نے دو اميرالمؤمنين اور خليفہ ابوبکر صِدّيق رضی اللہ عنہ اور عُمر رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کو انسانوں کے لئے بہترين قرار ديا حالانکہ ان دونوں شخصيات کا مسلک اسلام سے عاری تھا ۔ جسٹس کارنيليئس جو عيسائی تھے مگر اعلٰی پائے کے قانون دان تھے نے آسٹريليا ميں ورلڈ چيف جسٹسز کانفرنس ميں کہا تھا کہ دنيا کا بہترين اور قابلِ عمل قانون اسلامی قانون ہے اور يہ انتہائی قابلِ عمل بھی ہے اور اس کے حق ميں دلائل بھی ديئے ۔ دنيا کے کسی چيف جسٹس نے اُن کے اس استدلال کو رد کرنے کی کوشش نہ کی

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کا کردار ايسا تھا کہ اُن کے دين کے دُشمن بھی اُنہيں صادق ۔ امين اور مُنصِف سمجھتے تھے ۔ اُن کے پاس اپنی امانتيں رکھتے ۔ اُن سے اپنے معاملات ميں فيصلے کرواتے ۔ يہاں تک کہ يہودی اور مُسلمان ميں تنازع ہو جاتا تو يہودی فيصلہ کے لئے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے پاس جاتے اور جو وہ فيصلہ کرتے اُسے بخوشی قبول کرتے

خلفائے راشدين کو بھی ديکھیئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اميرالمؤمنين اور خليفہ ہيں ۔ ساتويں صدی عيسوی ميں بيت المقدّس پر بازنطینی [عيسائی] حکومت تھی جس نے 636ء میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا تھا

اب سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر آج مُسلمان بدنام کيوں ہيں ؟ اگر ديکھا جائے تو ہم اپنے دين اسلام کی بدنامی کا باعث ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ جس طرح کسی مُلک کا قانون وہ نہیں ہوتا جس طرح وہاں کے لوگ عمل کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جو مجاز حاکم بناتا ہے ۔ اسی طرح اِسلام بھی وہ نہیں ہے جس طرح کوئی عمل کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اللہ نے قرآن شریف میں اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ اٰلِہِ و سلّم نے اپنی حدیث اور عمل کے ذریعہ سمجھایا ہے

مُسلمانوں کی بدقسمتی يہ ہے کہ اُنہوں نے دنيا کی ظاہری چکاچوند سے مرغوب ہو کر اپنے دين پر عمل کرنا چھوڑ ديا ہے ۔ ناجائز ذاتی مفاد کيلئے جھوٹی گواہی ديتے ہيں ۔ اپنی خوبی جتانے کيلئے دوسروں کی عيب جوئی کرتے ہيں ۔ نہ تجارت ميں نہ لين دين ميں نہ باہمی سلوک ميں کہيں بھی اسلامی اصولوں کو ياد نہيں رکھا جاتا اور حالت يہ ہو چکی ہے کہ آج کا ايک اچھا مُسلمان تاجر ايک غير مُسلم تاجر پر تو اعتبار کر ليتا ہے مگر مُسلمان پر نہیں کرتا ۔ مُسلمان اس خام خيالی ميں مبتلا ہو گئے ہيں کہ سب کچھ کرنے کے بعد حج کر ليں گے تو بخش ديئے جائيں گے يا کسی پير صاحب کے پاس جا کر يا کسی قبر پر چڑھاوا چڑھا کر بخشوا ليں گے ۔ ہماری قوم کی اصل بيماری محنت کرنے کا فُقدان ہے ۔ صرف دين ہی نہيں دنيا ميں بھی شارٹ کَٹ ڈھونڈ لئے ہوئے ہيں ۔ امتحان پاس کرنے کيلئے کتابوں کی بجائے نوٹس پڑھ لئے وہ بھی اپنے لکھے ہوئے نہيں فوٹو کاپياں کالجوں ميں بِکتی ہيں ۔ والدين مالدار ہوں تو ممتحن اساتذہ کی جيبيں بھر نے سے بالکل آسانی رہتی ہے ۔ زيادہ مال بنانے کيلئے ہيراپھيری کرتے ہيں ۔ تولتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہيں ۔ اشياء خوردنی ميں ملاوٹ کرتے ہيں ۔ افسوس صد افسوس ۔ بننا تو امريکن چاہتے ليکن اتنی تکليف نہيں کرتے کے اُن سے محنت کرنا ہی سِيکھ ليں البتہ اُن کی لغويات سيکھ لی ہيں ۔

يہ ہنسنے کی باتيں نہيں پشيمان ہونے اور اپنے آپ کو ٹھيک کرنے کی سوچ کی باتيں ہيں ۔ ہم خود تو اپنے کرتوُتوں سے بدنام ہوئے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے ہمارے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے ذريعہ آئے ہوئے دين کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہيں

اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے ۔ اس پر عمل کرنے اور اپنے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ومَا عَلَيْنَا اِلْالّبلَاغ المبین

پارلیمنٹیرین کی انسانیت کیلئے قربانی

846 بار دیکھا گیا

ہَیلن جو آن کاکس (Helen Joanne Cox) المعروف جو کاکس (Jo Cox) مئی 2015ء میں لیبر پارٹی کی طرف سے برطانوی پارلمنٹ کی رُکن منتخب ہوئی ۔ اُس کی انسانیت دوستی اور اصول پرستی کی وجہ سے اُسے 16 جون 2016ء کو قتل کر دیا گیا

جو کاکس 22 جون 1974ء کو باٹلی (ویسٹ شائر) میں پیدا ہوئی ۔ تعلم مکمل کرنے کے بعد 2001ء میں آکس فام میں شمیولیت اختیار کی

احسان اللہ احسان کا اعتراف

122 بار دیکھا گیا

پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بھارتی نیوی کے افسر اور بھارتی ایجنسی ” را “ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی بلوچِستان سے گرفتاری کے بعد دوسری کامیابی عطا فرمائی ہے

آپ خبروں میں پڑھ یا سُن چکے ہوں گے کہ احسان اللہ احسان جو کچھ عرصہ تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان بھی رہا اُس نے کچھ دن قبل اپنے آپ کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا تھا

احسان اللہ احسان کے بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بھی بھارتی حکومت کی چلائی ہوئی ہے اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ” را “ اور افغانستان کی ایجنسی ” این ڈی ایس“ کے ماتحت چل رہی ہے جو دہشتگردی کے ہر واقعہ کے بدلے ڈالرز دیتی ہیں