Category Archives: روز و شب

۔ ہماری ثقافت کیا ہے ؟What is our Culture?

44 بار دیکھا گیا

آخر ہماری ثقافت ہے کیا ؟ اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟ یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟
چھ دہائیاں قبل جب میں انٹرمیڈیٹ میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا
اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اُس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ ”رشیّن کلچرل ٹروپے)Russian Cultural Troupe)نے پرفارمینس(Performance) دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا“۔ میں نے پوچھا کہ ”پھر کیا دیکھا ؟“ کہنے لگا “اہُوں کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا “۔

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں
ميرے دفتر کے 3 پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر 5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھنٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر 3 گھنٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر پہنچ گیا

کچھ سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھَٹنے لگا ۔ اِنتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے ”ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے“۔
محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ عمر رسیدہ یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں(Screeches) ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کے درمیان کسی کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام اللہ تعالٰی نے شاید مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ (؟) سے لينا تھا

اسلام آباد میں جناح سُپر مارکیٹ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک خوش پوش جوان نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیا ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا ”جناب آپ نے میری گاڑی بلاک (block) کر دی ہے ۔ پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے“۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا “گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے”۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی (جو شاید بیوی تھی) کو وہیں ٹھہرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی

پھَل لینے گیا ۔ دُکاندار سے کہا ”بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی“ ۔ دُکاندار بولا ”جناب ہماری ایسی عادت نہیں“ ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیا ۔ گھر آ کر دیکھا تو 10 فيصد داغدار تھے ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا ”ہماری ایسی عادت نہیں“ یعنی اچھا دینے کی

3 دہائیاں قبل جب میں جنرل منیجر (گریڈ 20) تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب (گریڈ 19) آئے اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے ”اوئے ۔ یہ دوائیاں دو“۔ ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آئے ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟ بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے“ ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پرائے میں ۔ حقیقت یہ تھی کہ وہاں بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے تھے

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے

اسلام آباد ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين (lane) ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں جانب تھی جو بائيں طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے میری کار کا اگلا بَمپَر بھی چیرتے ہوئے ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف نقلی چیز اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ہے

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکّا اور نیو اِیئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں

کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟
کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟
کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں ۔
اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
ثقافت کی حقیقت جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

اِنسانی عمل

39 بار دیکھا گیا

ہم انسان ہیں
ہم ٹُوٹ پھُوٹ کا شکار ہوتے ہیں
لیکن اپنی زندگی دُکھ درد کے حوالے کرنا انسانیت کا تقاضہ نہیں
صبح سویرے اُٹھیئے
اللہ کے آگے جھُکنے کے بعد اپنی مرضی سے اپنی زندگی سوارنے میں لگ جایئے

محبت ؟

44 بار دیکھا گیا

محبت صرف وہ نہیں ہوتی جو لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہو
محبت دوستوں میں بھی ہوتی ہے جو لڑکے لڑکی کی محبت سے بہتر ہوتی ہے
سچّی محبت نہ صرف حاصل کرنا مُشکل ہے
بلکہ اسے چھوڑنا بھی بہت مُشکل ہے
اور
بھُلانا ناممکن ہوتا ہے

شاہراہ پر سونے کے سِکے

143 بار دیکھا گیا

ایک بادشاہ نے نئی شاہراہ بنوائی اور اِفتتاح کیلئے تمام شہریوں کی دوڑ کا اعلان کیا کہ سب سے اچھا سفر کرنے والے کو اِنعام ملے گا ۔ شہریوں جوش و خروش سے حصہ لیا۔ شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ دوڑنے والوں کے تاءثرات پُوچھتا رہا ۔ سب نے شاہراہ کی تھوڑی یا زیادہ تعریف کی مگر سب نے بتایا کہ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے ۔ اُسے اُٹھوا دیا جائے

شام تک بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا تو ایک سپاہی نے بتایا کہ دوڑ میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو صبح سویرے داخل ہوا تھا لیکن دوسرے سِرے پر آنا باقی ہے ۔ کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لَت پَت تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور بادشاہ سے مخاطب ہوا ”جناب عالی ۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا ۔ راستہ میں کچھ بجری پڑی تھی ۔ میں نے سوچا کہ آئیندہ اِس شاہراہ سے گذرنے والوں کو دِقّت ہو گی ۔ اُسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیا کیونکہ میں ہاتھوں سے ہی ہٹاتا رہا ۔ بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ۔ اس میں سونے کے 100 سِکّے ہیں ۔ آپ کے سڑک بنانے والوں میں سے کسی کے ہوں گے ۔ اُسے دے دیجئے گا“۔

بادشاہ نے کہا ” یہ تھیلی اب تمہاری ہے ۔ میں نے رکھوائی تھی ۔ یہ تمہارا انعام ہے ۔ بہترین مسافر وہ ہوتا ہے جو مستقبل کے مسافروں کی سہولت کا خیال رکھے”۔

دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بادشاہ سے نہیں تو اللہ سے انعام ضرور پائیں گے

احترام ۔ کب؟ ؟ ؟

70 بار دیکھا گیا

بڑوں کا احترام اُس وقت کیجئے جب آپ جوان ہوں
کمزوروں کی مدد اُس وقت کیجئے جب آپ توانا ہوں
جب آپ غلطی پر ہوں تو اپنی غلطی مان لیجئے
کیونکہ ایک وقت آئے گا
جب آپ بوڑھے اور کمزور ہوں گے اور یہ احساس بھی پیدا ہو گا کہ آپ غلطی پر تھے
لیکن اُس وقت آپ صرف پچھتا ہی سکیں گے

جوانی ہی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شَب کو اُٹھتے ہیں جو جانا دُور ہوتا ہے

بیٹی کیلئے دُعا

103 بار دیکھا گیا

میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ۔ 1960ء میں گرمیوں کی چھُٹیوں میں گھر راولپنڈی آیا ہوا تھا ۔ ایک دِن ریڈیو سے ایک گیت سُنا ۔ پسند آیا اور لکھ لیا
1973ء میں میری چھوٹی بہن کی شادی ہوئی ۔ میں نے بغیر کسی کو بتائے Public Address Systemکا بندوبست کر رکھا تھا جس کے سپیکر گھر کے ماتھے پر لگائے تھے اور مائیکروفون بیٹھک (Drawing Room) میں چھُپا رکھا تھا ۔ رُخصتی کے وقت بہن کو اپنے دروازے پر وِداع کر کے بھاگا اور بیٹھک میں بند ہو کر یہ گیت گانا شروع کر دیا
پچھلے دِنوں اپنی بھتیجی کی شادی پر یہ گیت یاد آیا . سوچا قارئین کی نظر کیا جائے

بابل کی دعائی لیتی جا ۔ جا تُجھ کو سُکھی سَنسار مِلے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے ۔ سسرال میں اِتنا پیار مَلے
بِیتیں تیرے جِیون کی گھڑیاں پیار کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کانٹا بھی نہ چُبھنے پائے کبھی میری لاڈلی تیرے پاؤں میں
اُس دوار پہ بھی نہ کوئی آنچ آئے جس دوار سے تیرا دوار مِلے
بابل کی دعائیں لیتی جا ۔ جا تُجھ کو سُکھی سَنسار مِلے
بَچپَن میں تُجھے پالا میں نے پھُولوں کی طرح کلیوں کی طرح
میرے باغ کی اے نازک ڈالی ۔ جا تُجھ پر سَدا بہار رہے
بابل کی دُعائیں لیتی جا ۔ جا تُجھ کو سُکھی سَنسار مِلے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے ۔ سسرال میں اِتنا پیار مِلے

خوبصورت پیغام

170 بار دیکھا گیا

اگر آپ حق پر ہیں تو غصہ میں آنے کی ضرورت نہیں
اور اگر آپ غلط ہیں تو آپ کو غصہ میں آنے کا کوئی حق نہیں
خاندان میں صبر کرنا محبت ہے
غیروں کے ساتھ صبر کرنا احترام ہے
اپنے آپ سے صبر کرنا اعتماد ہے
اور
اللہ کے سامنے صبر کرنا ایمان ہے
ماضی کی مُشکلات کا کبھی نہ سوچیں ۔ یہ آنسو لاتا ہے
مستقبل کے متعلق زیادہ نہ سوچیں ۔ یہ خوف کو جنم دیتا ہے
ہر لمحہ مسکرایئے ۔ یہ خوشی لاتا ہے
زندگی کا ہر امتحان ہمیں تلخ یا بہتر بناتا ہے
جو مُشکل آتی ہے وہ ہمیں بنا جاتی ہے یا بکھیر جاتی ہے
فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم فاتح بنیں یا مظلوم
خوبصورت اشیاء ہمیشہ اچھی نہیں ہوتیں لیکن اچھی اشیاء ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انگلیوں کے درمیان جھَریاں کیوں رکھیں ؟ تاکہ آپ سے پیار کرنے والا آپ کا ہاتھ تھام کر یہ جھَریاں پُر کر دے
خوشی آپ کو مِیٹھا رکھتی ہے لیکن مِیٹھا رہنا خوشیاں لاتا ہے
اسے اپنی زندگی کے سب اچھے لوگوں تک پہنچایئے