Category Archives: روز و شب

چائے کی پیالی ۔ ایک منفرد واقعہ

36 بار دیکھا گیا

پندرہ فوجی ایک میجر کی کمان میں ہمالیہ ک برف پوش چوٹی پر بنی پوسٹ پر ڈیوٹی کیلئے برف سے لدے دشوار گزار پہاڑ پر چڑھ رہے تھے ۔ چوکی پر اُنہوں نے 3 ماہ ڈیوٹی دینا تھی ۔ مزید برف باری وقفے وقفے سے جاری تھی ۔ نامساعد حالات کے ساتھ مکّار دُشمن کی چھیڑ خانی ۔ خاصی مُشکل ڈیوٹی تھی

متواتر 2 گھنٹوں سے وہ چڑھتے جا رہے تھے ۔ میجر نے دِل ہی دِل میں سوچا ” ایسے میں اگر گرم چائے کی ایک پیالی مل جائے تو کیا بات ہے“۔ پھر میجر خود ہی اپنے آپ پر ہنس دیا کہ کیسی بیوقوفانہ خواہش ہے ۔ وہ چڑھتے گئے ۔ مزید ایک گھنٹہ گزر گیا ۔ رات کا اندھیرا چھا چکا تھا کہ ایک شکستہ حال کمرہ نظر پڑا جو چائے کی دکان لگتا تھا ۔ قریب گئے تو دروازے پر تالا پڑا تھا ۔ میجر نے کہا ”جوانو ۔ قسمت نے یاوری نہیں کی ۔ چائے نہیں ملے گی ۔ لیکن آپ سب تھک گئے ہوں گے ۔ یہاں کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں“۔

ایک سپاہی بولا ” سر ۔ چائے کی دکان ہے ۔ ہم خود چائے بنا لیں گے ۔ بس تالا توڑنا پڑے گا“۔
میجر مخمصے میں پڑ گیا ۔ تجویز غیر اخلاقی تھی ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت تھی کہ چائے کی ایک پیالی تھکاوٹ سے چُور سپاہیوں میں نئی رُوح پھُونک دے گی ۔ بادلِ نخواستہ اُس نے اجازت دے دی ۔ سپاہیوں نے تالا توڑا تو اندر چائے بنانے کا پورا سامان موجود تھا اور بسکٹ بھی تھے ۔ اُنہوں نے چائے بنائی ۔ سب نے دو دو بسکٹ کے ساتھ گرم گرم چائے پی اور پھر چلنے کیلئے تیار ہو گئے

میجر نے سوچا کہ اُنہوں نے بغیر مالک کی اجازت کے چائے پی ۔ بسکٹ کھائے اور تالا بھی توڑا ۔ وہ مُلک و قوم کے محافظ ہیں ۔ کوئی چور ڈاکو تو نہیں ۔ چائے ۔ بسکٹ اور تالے کے علاوہ بھی کچھ معاوضہ دینا چاہیئے ۔ میجر نے اپنے بٹوے سے 1000 روپے کا نوٹ نکالا ۔ کاؤنٹر پر رکھا اور اُس پر چینی دانی رکھ دی تاکہ دکان والے کو فوراً نظر آ جائے ۔ اس طرح میجر کے ذہن پر بوجھ ہلکا ہو گیا ۔ سپاہیوں نے دکان کا دروازہ بند کیا اور چل پڑے

چوکی پر پہنچ کر وہاں موجود دستے کو فار غ کر کے اُن کا کام سنبھال لیا ۔ گاہے بگاہے دُشمن کے فوجی اور تربیت یافتہ دہشتگرد حملے کرتے رہے ۔ 3 ماہ گزر گئے لیکن خوش قسمتی سے اُن کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا ۔ ڈیوٹی نئے دستے کے حوالے کر کے واپسی کا سفر اختیار کیا ۔ راستے میں اُسی چائے کی دکان پر رُکے ۔ دن کا وقت تھا ۔ دکان کھُلی تھی اور اُس کا مالک موجود تھا جو بوڑھا تھا ۔ وہ اکٹھے 16 مہمانوں کو دیکھ کر خوش ہوا اور بخوشی چائے پیش کی ۔ میجر نے اُسے اپنے تجربات کا پوچھا ۔ وہ اپنے قصے سنانے لگا ۔ ہر قصے میں وہ الله کی موجودگی کا بار بار ذکر کرتا ۔ ایک سپاہی نے کہا ”بابا ۔ اگر الله ہر جگہ موجود ہے تو آپ کا یہ حال کیوں ہے ؟

بوڑھا دکاندار نے بڑے جوش سے کہا ” ایسے مت کہیئے صاحب ۔ الله ہر جگہ موجود ہے ۔ میرے پاس اس کا تازہ ثبوت ہے ۔ 3 ماہ قبل مجھے بہت مُشکلات کا سامنا تھا ۔ دہشتگرد میرے اکلوتے بیٹے سے کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے میرے بیٹے کو بہت زد و کوب کیا ۔ میں نے دکان بند کی اور بیٹے کو شہر میں ہسپتال لے گیا ۔ کچھ دوائیاں خریدنا تھیں اور میرے پاس رقم نہ تھی ۔ دہشتگردوں کے ڈر سے کوئی قرض دینے کو بھی تیار نہ تھا ۔ میں نے اپنے الله سے مدد کی استدعا کی ۔ میں دکان پر آیا تو تالا ٹوٹا دیکھ کر دِل دھک سے رہ گیا کہ جو میری پونجی تھی وہ بھی کوئی تالا توڑ کر لے گیا ۔ اچانک میری نظر کاؤنٹر پڑی ۔ الله نے میری دکان میں چینی دانی کے نیچے 1000 روپے رکھ دیئے تھے ۔ وہ رقم میرے لئے سب کچھ تھی ۔ صاحب ۔ الله ہر جگہ ہے اور سب کچھ دیکھتا اور سُنتا ہے“۔

پندرہ کے پندرہ سپاہیوں کی کی نظریں اپنے کمانڈر (میجر) کی طرف اُٹھیں ۔ میجر کی آنکھیں اُنہیں کہہ رہی تھیں ”خبر دار ۔ خاموش ۔ ایک لفظ نہیں بولنا“۔

میجر اُٹھا ۔ بِل ادا کیا ۔ بوڑھے دکاندار سے بغل گیر ہوا اور بولا ”ہاں ۔ بابا جی ۔ میں جانتا ہوں ۔ الله ہر جگہ موجود ہے ۔ اور ہاں ۔ چائے بہت عمدہ تھی”۔

چلتے ہوئے سپاہیوں نے دیکھا کہ اُن کا کمانڈر کہ کبھی بُرے سے بُرے وقت میں جس کی آنکھیں نَم نہیں ہوئی تھیں ۔ اُن آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے

مسجد نہیں جاؤں گا

59 بار دیکھا گیا

بیٹے نے باپ سے کہا ” میں آج سے مسجد نہیں جاؤں گا “
باپ ” کیوں ؟ کیا ہوا ؟“
بیٹا ” ابا جی ۔ وہاں میں دیکھتا ہوں کہ کوئی موبائل فون پر لگا ہے ۔ کوئی گپ لگا رہا ہے اور کوئی کچھ اور ۔ سب منافق ہیں“۔
باپ نے کہا ” ٹھیک ہے لیکن حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے تم میری خاطر ایک کام کرو گے ؟“
بیٹا بولا ”وہ کیا ؟“
باپ نے کہا ” ایک گلاس میں پانی بھر کر ہاتھ میں پکڑ لو اور مسجد کے گرد 2 چکر لگاؤ لیکن خیال رہے کہ گلاس میں سے پانی بالکل نہ گرے“۔
بیٹا مان گیا اور گلاس لے کر چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد لڑکے نے واپس آ کر بتایا کہ ہو گیا
باپ نے کہا ” اب میرے 3 سوالوں کا جواب دو“۔
”1 ۔ کیا تم نے کسی کو اپنے موبائل فون پر کچھ کرتے دیکھا ؟“
”2 ۔ تم نے کسی کو گپ لگاتے سُنا ؟“
”3 ۔ تُم نے کسی کو کچھ غلط کرتے دیکھا ؟“
بیٹا بولا ” ابا جی ۔ نہیں میں نے کسی کو نہ دیکھا نہ سُنا ۔ میری پوری توجہ تو گلاس کی طرف تھی کہ کہیں پانی نہ گرے“۔

باپ نے پھر کہا ” بیٹا ۔ اِسی طرح جب تُم مسجد میں جاتے ہو تو تمہاری پوری توجہ پیدا کرنے والے کی طرف ہونا چاہیئے جس کیلئے تُم مسجد جاتے ہو نہ کہ اُس کی مخلوق کی طرف پھر ہی تمہیں الله کے گھر جانے کا فائدہ ہو گا“۔

موبائل فون

53 بار دیکھا گیا

کتاب چھوڑ کر ہم نے ۔ موبائل فون پکڑ لئے
عمر گھٹتی رہی اور ہم پوسٹ کرتے رہے
غافل رہے قرآن سے اور حدیث پوسٹ کرتے رہے
بھیج کر میسَج ہم خود کو دِیندار سمجھتے رہے
آتی رہی پانچوں وقت مسجد سے اذان کی آواز
ہم فیس بُک پر برما کے ظُلم شیئر کرتے رہے

چھٹا لیکن بہت اہم Litmus Test

80 بار دیکھا گیا

الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے تخلیقِ کائنات کا ذکر قرآن شریف کی جِن آیات میں فرمایا ہے اُن میں سے چند جو مکمل تخلیق بیان کر دیتی ہیں
سُورت 15 الحِجر کی آیات 19اور 26 تا 35 ۔ ہم نے زمین کو پھیلایا ، اُس میں پہاڑ جمائے ، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نَپی تُلی مِقدار کے ساتھ اُگائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا۔ اور اس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے ۔ پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا ”میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں ۔ جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی رُوح سے کچھ پھونک دُوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا“۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ۔ سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔ ربّ نے پوچھا ”اے ابلیس ۔ تُجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟“ اس نے کہا ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے“۔ ربّ نے فرمایا ”اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردُود ہے اور اب روزِ جزا تک تجھ پر لعنت ہے“۔
سورت 4 النّساء آیت 1 ۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے
سورت 39 الزُمَر آیت 6 ۔ اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اُس کا جوڑا بنایا

مندرجہ بالا آیاتِ مبارکہ میں آدمی کے مُسلمان یا مُسلم ہونے کا چھٹا لیکن اہم Litmus Test ہے یعنی اِس بات کا یقین کہ
(1) پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا پُتلا الله تعالٰی نے مٹی سے بنایا اور اُس میں روح پھُونک دی ۔ سارے انسان اُن کی اولاد میں سے ہیں
(2) حضرت آدم علیہ السلام پہلے اِنسان اور پہلے نبی تھے
جو الله کے فرمان کے علاوہ کچھ سمجھے وہ مُسلم یا مسلمان نہیں ہو سکتا

پانچواں Litmus Test ۔ اعتدال

86 بار دیکھا گیا

سورت 25 الفرقان آیۃ 67 ۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل ۔ بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔
سورت 31 لقمان آیۃ 18 اور 19 ۔ اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر۔ نہ زمین میں اکڑ کر چل ۔ الله کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا ۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ ۔ سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

پانچواں Litmus Test ہے ہر عمل میں اعتدال ۔ میانہ روی اور انکساری

چوتھا Litmus Test

144 بار دیکھا گیا

سورت 49 الحجرات آیۃ 11 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔
اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔
آپس میں ایک دوسرے پہ طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔
ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے ۔
جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں

چنانچہ چوتھا Litmus Test ہے کسی کی کسی بھی قسم کی دِل آزاری نہ کرنا اور دوسرے کو اپنے سے کم تر نہ سمجھنا

تیسرا Litmus Test

102 بار دیکھا گیا

سورت 3 آلِ عمران آیت 186 ۔ اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے

سورت 35 فاطِر کی آیت 8 ۔ حقیقت یہ ہے کہ الله جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے ۔ پس (اے نبیﷺ ) خواہ مخواہ تمہاری جان اِن لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گُھلے ۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں الله اس کو خوب جانتا ہے

سورت 7 الاعراف آیت 199 ۔ اے نبی ﷺ ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کئے جاؤ ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو
سورت 16 النحل آیت 127 ۔ اے نبی ﷺ ، صبر سے کام کیے جائو اور تمہارا یہ صبر الله ہی کی توفیق سے ہے ۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو

سورت 28 القصص آیت 54 ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں

سورت 41 حم السّجدہ آیات 34 و 35 ۔ اور اے نبی ﷺ ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں ۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہاے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے ۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں

تیسرا Litmus Testہے ۔ صبر ۔ برداشت اور در گذر