Category Archives: ذمہ دارياں

آٹھ اہم عمل

احترام [Respect] ۔ دوسروں سے وہی سلوک کرنا جس کی خود توقع رکھتے ہوں

قدر دانی [Appreciation] ۔ زندگی میں جو بھی اچھی چیز ملے اس کیلئے احسان مند ہونا

مسرت [Happiness] ۔ زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا یعنی بشاش چہرہ

درگذر [Forgiveness] ۔ ہر موقع پر غصہ پر قابو رکھنا

حصہ دار ہونا [Sharing] ۔ دینے کی خوشی بغیر وصولی کی توقع کے

دیانت [Honesty] ۔ ہر وقت سچ بولنا

سالمیت [Integrity] ۔ خواہ کچھ بھی ہو خالص طور پر صحیح عمل کرنا

ہمدردی [Compassion] ۔ دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے اس کی تکلیف کو کم کرنا

تعلیم بے کار اگر یقین نہ ہو

ہمارے بچپن کے زمانہ میں تعلیم سے زیادہ تربیت پر زور دیا جاتا تھا ۔ والدین اپنی اولاد کو تعلیم نہ دِلوا سکیں لیکن اُن کی تربیت پر توجہ دیتے تھے ۔ جب بھی تعلیم کا ذکر کیا جاتا تو ساتھ تربیت بھی کہا جاتا تھا یعنی تعلیم و تربیت ۔ تعلیم الله کی صفات بتاتی ہے اور تربیت الله میں یقین ہیدا کرتی ہے ۔ فی زمانہ تعلیم پر بہت زور ہے اور تربیت کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں

میں نے کالج کے زمانہ میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک دیہاتی روزانہ فجر کے وقت گاؤں سے روانہ ہو کر شہر جاتا اور واپس مغرب کے وقت پہنچتا ۔ راستہ میں ایک ندی تھی جس کے پانی میں سے وہ گزر کر جاتا تھا ۔ کبھی ندی میں پانی زیادہ ہوتا تو وہ شہر نہ جا سکتا ۔ ندی سے پہلے راستہ میں گاؤں کی مسجد تھی ۔ فجر کے وقت جاتے ہوئے یا مغرب کے وقت واپسی پر امام مسجد سے آمنا سامنا ہو جاتا تو امام مسجد اُسے کہتے ” کبھی الله کے گھر بھی آ جایا کر ۔ یہاں سب کچھ ملتا ہے“۔

ایک صبح جب وہ جاتے ہوئے ندی کے کنارے پہنچا تو ندی چڑھی ہوئی تھی ۔ اُسے واپس آنا پڑا ۔ وہ سیدھا امام مسجد کے پاس گیا اور کہا ” مولوی صاحب آپ نے کہا تھا کہ سب کچھ ملتا ہے ۔ جب ندی میں پانی زیادہ ہوتا ہے تو میں شہر مزدوری کرنے نہیں جا سکتا ۔ میری پریشانی دُور ہو جائے تو میں روزانہ مسجد آیا کروں گا“۔
امام مسجد نے کہا ” بسمِ الله کہہ کر ندی میں کود جاؤ ۔ الله پار لگانے والا ہے“۔
اتفاق کی بات کہ اگلے روز پھر ندی میں طغیانی تھی ۔ اُس نے بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھا ۔ آنکھیں بند کر کے ندی میں کود گیا اور تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر جا پہنچا ۔ دِل میں کہنے لگا کہ میں بیوقوف ہوں پہلے مولوی صاحب کے پاس نہ گیا ۔ وہ باقاعدگی سے فجر ۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں گاؤں کی مسجد میں اور ظہر اور عصر کی شہر میں پڑھنے لگا

ایک دن وہ شہر سے واپس آ رہا تھا کہ گاؤں کے قریب امام مسجد سے ملاقات ہو گئی ۔ دونوں اکٹھے چلتے ندی کے کنارے پہنچے تو ندی چڑھی ہوئی دیکھ کر امام مسجد رُک گئے اور بولے اب کیا ہو گا ۔ گھر کیسے جائیں گے
وہ بولا ” مولوی صاحب ۔ آپ نے خود ہی تو مجھے طریقہ بتایا تھا ۔ اُس نے بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ پڑھا اور ندی میں کود گیا ۔ امام مسجد بھی مجبوراً بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کہہ کر ندی میں کود گئے اور غوطے کھانے لگے ۔ مزدور نے امام مسجد کو غوطے کھاتے دیکھا تو اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا اور ندی کے پار لے گیا ۔ کندھوں سے اُتار کر پوچھا ” مولوی صاحب کیا ہوا ؟“
امام مسجد جو شرمندہ تھے بولے ” بات یہ ہے کہ میرے پاس عِلم ہے ۔ میں معنی پر غور کرتا رہا ۔ تمہارے پاس عِلم نہیں مگر الله نے تُجھے یقین کی دولت سے مالا مال کیا ہے“۔

جب اللہ چاہے

یہ واقعہ ایک رسالے میں 2 دہائیاں قبل پڑھا تھا ۔ بطور سچا واقعہ لکھا تھا
رات کے ساڑھے 11 بجے تھے ۔ تیز طوفانی بارش تھی ایسے میں ایک شاہراہ کے کسی ویران حصّے میں ایک کار خراب ہوگئی ۔ اسے ایک ادھڑ عمر خاتون چلا رہی تھی جو اکیلی تھی ۔ وہ خاتون کار سے باہر نکل کر شاہراہ کے کنارے کھڑی ہوگئی تا کہ کسی گذرنے والی گاڑی سے مدد لے سکے ۔

اتفاق سے ایک البیلا جوان اپنی عمدہ نئی کار چلاتے جا رہا تھا کہ اس کی نظر اس بھیگی ہوئی خاتون پر پڑی ۔ نجانے وہ کیوں اپنی عادت کے خلاف رُک گیا اور تیز بارش اور گاڑی گندی ہونے کی پروا کئے بغیر باہر نکل کر خاتون کا بیگ اٹھایا اور خاتون کو اپنی کار میں بٹھا کر چل پڑا ۔ آبادی میں پہنچ کر اسے ٹیکسی پر بٹھا کر رخصت کیا ۔ خاتون بہت پریشان اور جلدی میں تھی ۔ اس جوان کا پتہ نوٹ کیا اور شکریہ کہہ کر رخصت ہوئی ۔

ہفتہ عشرہ بعد اس جوان کے گھر کی گھنٹی بجی ۔ باہر نکلا تو ایک کوریئر کا ٹرک کھڑا تھا اس میں سے ایک شخص نکلا اور کہا “جناب آپ کا ٹی وی “۔ جوان حیران ہو ہی رہا تھا کہ کوریئر والے نے اسے ایک خط دیا ۔ جلدی سے کھولا ۔ لکھا تھا ” میں آپ کی بہت مشکور ہوں ۔ آپ نے آدھی رات کے وقت شاہراہ پر میری مدد کی جس کے باعث میں اپنے قریب المرگ خاوند کے پاس اس کی زندگی میں پہنچ گئی اور اس کی آخری باتیں سن لیں ۔ میں آپ کی ہمیشہ مشکور رہوں گی ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور آپ دوسروں کی بے لوث خدمت کرتے رہیں ۔ آمین ۔ آپ کی ممنون ۔ بیگم ۔ ۔ ۔ “

پاکستان کیا ہے ؟

پاکستان کے قومی ترانہ کی دھُن دنیا کی 3 بہترین دھُنوں میں سےہے my-id-pak
دنیا کی دوسری سب سے اُونچی چوٹی K 2 اور نویں بلند ترین پہاڑ (نانگا پربت) پاکستان میں ہیں
دنیا میں سب سے چھوٹی عمر میں Certified Microsoft Expert ایک پاکستان لڑکی عارفہ کریم ہے
پاکستان ایک ایسا مُلک ہے جہاں 60 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں
دنیا کا سب سے بڑا earth-filled dam (تربیلہ) پاکستان میں ہے
ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان دنیا کا سب سے وسیع ایمبولنس نیٹ ورک چلا رہی ہے
پچھلے 6 سالوں میں پاکستان میں خواندگی کی شرح میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے
انجنیئروں اور سائنسدانوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے
پاکستان میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا broad band internet ہے
BRICS نے پاکستان کو ایسے 11 ممالک میں شمار کیا ہے جو اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں
قراقرم ہائی وے انسان کی بنائی ہوئی دنیا کی بلند ترین سڑک ہے جو پاکستان اور چین کو ملاتی ہے
پاکستان کی کھیوڑہ میں نمک کی کان دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے
پاکستان دنیا میں چاول کی بہترین قسم (باسمتی) دریافت کرنے اور اُگانے والا واحد مُلک ہے
پاکستان میں اُگنے والی کپاس دنیا کی دوسری سب سے اچھی کپاس ہے ۔ سب سے اچھی کپاس مصر میں ہوتی ہے
پاکستان میں دنیا کے دو بہترین آم (چونسہ اور انور رٹول) اُگائے جاتے ہیں
دنیا میں بننے والے کُل فٹ بالوں کا 50 فیصد پاکستان میں بنتے ہیں
پاکستان کی بندرگاہ گوادر دنیا کی سب سے بڑی گہرے سمندر کی بندرگاہ ہے
پاکستان دنیا کی سب سے پرانی تہذیب (موہنجو ڈرو) والا ملک ہے
دنیا ک بلند ترین پولو گراؤنڈ شاندر پاکستان میں ہے جس کی بلندی 3700 میٹر (12139 فٹ) ہے
دنیا کا سب سے بڑا آب پاشی کا نظام پاکستان میں ہے
پاکستان 1994ء میں 4 بین الاقوامی کھیلوں (کرکٹ ۔ ہاکی ۔ سکواش ۔ سنُوکر) کے ورلڈ کپ میچ ایک ہی وقت میں کروا کر دنیا کا پہلا ایسا مُلک بنا
پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کا شمار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجیز میں ہوتا ہے
دنیا کے بہترین جیٹ فائٹرز میں سے ایک پاکستان میں بنتا ہے
دنیا میں سب سے زیادہ جراحی کے آلات بنانے اور برآمد کرنے والے ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے
ایئر کموڈور محمد محمود عالم نے 1965ء ک جنگ میں ایک منٹ سے کم وقت میں بھارت کی ہوائی فوج کے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جن میں 4 پہلے 30 سیکنڈ میں گرائے ۔ اس ریکارڈ کو آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا
پاکستان کی ہوائی فوج کا شمار دنیا کی بہترین تربیت یافتہ ہوائی افواج میں ہوتا ہے
پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت ہے
پاکستان پہلا اور صرف ایک اسلامی ملک ہے جس نے نیوکلیئر بم بنایا

پاکستان کیوں بنا ؟

فی زمانہ لوگ بے بنیاد باتیں کرنے لگ گئے ہیں جو پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کی نادانستہ یا دانستہ کوشش ہے ۔ دراصل اِس قبیح عمل کی منصوبہ بندی تو پاکستان بننے سے قبل ہی ہو گئی تھی اور عمل قائد اعظم کی 11 ستمبر 1948ء کو وفات کے بعد شروع ہوا جس میں لیاقت علی خان کے 16 اکتوبر 1951ء کو قتل کے بعد تیزی آ گئی تھی ۔ اب مُستنَد تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے بنا ؟
برطانوی حکومت کا نمائندہ وائسرائے دراصل ہندوستان کا حکمران ہی ہوتا تھا ۔ آخری وائسرائے ماؤنٹ بيٹن نے انتہائی جذباتی مرحلے پر 21 مارچ 1947ء کو ذمہ داری سنبھالنے کیلئے 3 شرائط پيش کيں تھیں جو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کليمنٹ ايٹلی نے منظور کر لی تھیں
1 ۔ اپنی پسند کا عملہ
2 ۔ وہ ہوائی جہاز جو جنگ میں برما کی کمان کے دوران ماؤنٹ بيٹن کے زيرِ استعمال تھا
3 ۔ فيصلہ کرنے کے مکمل اختيارات
ماؤنٹ بيٹن نے دہلی پہنچنے پر سب سے پہلے مہاراجہ بيکانير سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے کی
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو سے قائد اعظم کے متعلق دريافت کيا
جواہر لال نہرو نے کہا “مسٹر جناح سياست ميں بہت دير سے داخل ہوئے ۔ اس سے پہلے وہ کوئی خاص اہميت نہيں رکھتے تھے” ۔
مزید کہا کہ “لارڈ ويول نے بڑی سخت غلطی کی کہ مسلم ليگ کو کابينہ ميں شريک کرليا جو قومی مفاد کے کاموں ميں رکاوٹ پيدا کرتی ہے” ۔
ماؤنٹ بيٹن نے تيسری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کی ۔ ماؤنٹ بيٹن نے قائد اعظم سے پنڈت جواہر لال نہرو کے متعلق دريافت کيا ۔ قائد اعظم نے برجستہ فرمايا ” آپ تو ان سے مل چکے ہيں ۔ آپ جيسے اعلی افسر نے ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرلی ہوگی”۔
ماؤنٹ بيٹن اس جواب پر سمجھ گيا کہ اس ليڈر سے مسائل طے کرنا ٹيڑھی کھير ہے
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مشورے سے آئی سی ايس افسر کرشنا مينن کو اپنا مشير مقرر کيا ۔ اگرچہ تقسيم فارمولے ميں بھی کرشنا مينن کے مشورے سے ڈنڈی ماری گئی تھی ليکن کرشنا مينن کا سب سے بڑا کارنامہ جموں کشمير کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاويز پر دستخط کرانا تھےجبکہ مہاراجہ جموں کشمير (ہری سنگھ) پاکستان سے الحاق کا بيان دے چکا تھا ۔ پھر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق نہ کیا توکرشنا مينن کے مشورے پر ہی جموں کشمير پر فوج کشی کی گئی تھی
انگريز کو ہندوؤں سے نہ تو کوئی سياسی پَرخاش تھی نہ معاشی ۔ مسلمانوں سے انگریز اور ہندو دونوں کو تھی ۔ انگريز نے اقتدار مسلمانوں سے چھينا تھا اور ہندو اقدار حاصل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا تھا
حقيقت يہ ہے کہ کانگريس نے کيبنٹ مشن پلان کو اس نيت سے منظور کيا تھا کہ مسٹر جناح تو پاکستان سے کم کی بات ہی نہيں کرتے لہٰذا اقتدار ہمارا (ہندوؤں کا) مقدر بن جائے گا ۔ قائد اعظم کا کيبنٹ مشن پلان کا منظور کرنا کانگريس پر ايٹم بم بن کر گرا
صدرکانگريس پنڈت جواہر لال نہرو نے 10جولائی کو کيبنٹ مشن پلان کو يہ کہہ کر سبوتاژ کرديا کہ کانگريس کسی شرط کی پابند نہيں اور آئين ساز اسمبلی ميں داخل ہونے کے لئے پلان ميں تبديلی کرسکتی ہے ۔ چنانچہ ہندو اور انگريز کے گٹھ جوڑ نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کرديا ۔ قائد اعظم نے بر وقت اس کا احساس کر کے مترادف مگر مضبوط لائحہ عمل پیش کر دیا تھا ۔ آسام کے چيف منسٹر گوپی چند باردولی نے کانگريس ہائی کمانڈ کو لکھا” رام اے رام ۔ يہ تو ايک ناقابل تسخير اسلامی قلعہ بن گيا ۔ پورا بنگال ۔ آسام ۔ پنجاب ۔ سندھ ۔ بلوچستان ۔ صوبہ سرحد”۔

کيبنٹ مشن کے سيکرٹری (Wood Rowiyt) نے قائد اعظم سے انٹرويو ليا اور کہا ” مسٹر جناح ۔ کیا یہ ایک مضبوط پاکستان کی طرف پیشقدمی نہیں ہے ؟”
قائد اعظم نے کہا ”بالکل ۔ آپ درست سمجھے“۔
مگر جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چکا ہے کرشنا مینن کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے باہمی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریز نے بڑی عیّاری سے پنجاب اور بنگال دونوں کو تقسیم کر دیا اور آسام بھی بھارت میں شامل کر دیا
رہی سہی کسر رَیڈ کلِف ایوارڈ نے ضلع گورداسپور کو تقسیم کر کے پوری کر دی اور بھارت کو جموں کشمیر میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا ۔ رَیڈ کلِف نے مزید عیّاری یہ کی کہ ایوارڈ کا اعلان پاکستان بننے کے 3 دن بعد 17 اگست 1947ء کو کیا
مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تصنیف (INDIA WINS FREEDOM) کے صفحہ 162 پر تحرير کرتے ہيں کہ اپنی جگہ نہرو کو کانگريس کا صدر بنانا ان کی زندگی کی ايسی غلطی تھی جسے وہ کبھی معاف نہيں کرسکتے کيونکہ انہوں نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کيا ۔ مولانا آزاد نے تقسيم کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی پر ڈالی ہے ۔ يہاں تک لکھا ہے کہ 10 سال بعد وہ اس حقيقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں کہ جناح کا مؤقف مضبوط تھا
کچھ لوگ آج کل کے حالات ديکھ کر يہ سوال کرتے ہيں کہ ” پاکستان کيوں بنايا تھا ؟ اگر يہاں يہی سب کچھ ہونا تھا تو اچھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول کے مطابق ہم متحدہ ہندوستان ميں رہتے”۔
کانگريس ہندوستان ميں رام راج قائم کرنا چاہتی تھی ۔ چانکيہ تہذيب کے پرچار کو فروغ دے رہی تھی ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگيز قيادت اور رہنمائی ميں ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں نے بے مثال قربانياں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔ اس پاکستان اور اس کے مقصد کے خلاف بات کرنے والے کسی اور نہیں اپنے ہی آباؤ اجداد کے خون پسینے کو پلید کرنے میں کوشاں ہیں

یومِ آزادی مبارک

Flag-1 عصرِ حاضر میں یہ روائت بن گئی ہے کہ شاید اپنے آپ کو اُونچا دکھانے کیلئے اپنے وطن پاکستان کو نِیچا دکھایا جائے
یہ فقرے عام سُننے میں آتے ہیں

” اس مُلک نے ہمیں کیا دیا ہے “۔
”کیا رکھا ہے اس مُلک میں“۔

بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مُلک کے اندر ہی نہیں مُلک کے باہر بھی میرے کچھ ہموطن اپنے مُلک اور اپنے ہموطنوں کو بُرا کہتے ہیں ۔ وہ بھی صرف آپس میں نہیں بلکہ غیر مُلکیوں کے سامنے بھی ۔ حقیقت میں ایسے لوگ عقلمند نہیں بلکہ بیوقوف ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ خود اپنے آپ کو بدنام کر رہے ہیں

اس مُلک پاکستان نے ہمیں ایک شناخت بخشی ہے
اس سے مطالبات کرنے کی بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہیئے
کہ
ہم نے اس مُلک کو کیا دیا ہے اور کیا دینا ہے
ہم نے ہی اس مُلک کو بنانا ہے اور ترقی دینا ہے جس کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے ۔ اسی میں ہماری بقاء ہے

یہ وطن پاکستان اللہ سُبحانُہُ و تعالیٰ کا عطا کردہ ایک بے مثال تحفہ بلکہ نعمت ہے
میرے وطن پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں
دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ۔ ہر وقت برف پوش رہنے والے پہاڑ ۔ سرسبز پہاڑ اور چٹیّل پہاڑ ۔ سطح مرتفع ۔ سرسبز میدان اور صحرا
چشموں سے نکلنے والی چھوٹی ندیوں سے لے کر بڑے دریا اور سمندر بھی
ہر قسم کے لذیز پھل جن میں آم عمدگی اور لذت میں لاثانی ہے
بہترین سبزیاں اور اناج جس میں باسمتی چاول عمدگی اور معیار میں لاثانی ہے
میرے وطن پاکستان کی کپاس مصر کے بعد دنیا کی بہترین کپاس ہے
میرے وطن پاکستان میں بننے والا کپڑا دنیا کے بہترین معیار کا مقابلہ کرتا ہے
میرے وطن پاکستان کے بچے اور نوجوان دنیا میں اپنی تعلیمی قابلیت اور ذہانت کا سکّہ جما چکے ہیں
پاکستان کے انجنیئر اور ڈاکٹر اپنی قابلیت کا سکہ منوا چکے ہیں
سِوِل انجنیئرنگ میں جرمنی اور کینیڈا سب سے آگے تھے ۔ 1961ء میں پاکستان کے انجنیئروں نے پری سٹرَیسڈ پوسٹ ٹَینشنِنگ ری اِنفَورسڈ کنکرِیٹ بِیمز (Pre-stressed Post-tensioning Re-inforced Concrete Beams) کے استعمال سے مری روڈ کا نالہ لئی پر پُل بنا کر دنیا میں اپنی قابلیت ۔ ذہانت اور محنت کا سکہ منوا لیا تھا ۔ اس پُل کو بنتا دیکھنے کیلئے جرمنی ۔ کینیڈا اور کچھ دوسرے ممالک کے ماہرین آئے اور تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے ۔ یہ دنیا میں اس قسم کا پہلا تجربہ تھا ۔ یہ پُل خود اپنے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پچھلے 54 سال میں اس پر ٹریفک زیادہ وزنی اور بہت زیادہ ہو چکی ہے لیکن اس پُل پر بنی سڑک میں بھی کبھی ہلکی سی دراڑ نہیں آئی

آیئے آج یہ عہد کریں کہ
ہم اپنے اس وطن کو اپنی محنت سے ترقی دیں گے اور اس کی حفاظت کیلئے تن من دھن کی بازی لگا دیں گے
اللہ کا فرمان اٹل ہے ۔ سورت ۔ 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی

(اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی)

سورت ۔ 13 ۔ الرعد ۔ آیت ۔ 11

إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ

( اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے