Category Archives: ذمہ دارياں

سُنیئے محترمہ ۔ سُنیئے محترم

46 بار دیکھا گیا

آج میرے مخاطب وہ خواتین و حضرات ہیں جو پڑھے لکھے ہیں اور اپنے آپ کو مُسلم یا مُسلمان سمجھتے ہیں
(خیال رہے کہ میں نے تعلیم یافتہ نہیں لکھا)
از راہ کرم اِسے واپس مجھ پر تھوپنے کی کوشش نہ کیجئے گا کیونکہ جب آپ اِسے پڑھیں گے تو آپ ”خطیب“ بن جائیں گے اور میں ”مُخاطب“۔

پہلا سوال یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سکول ۔ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھا تھا کیا اپنی عملی زندگی میں اس سے مکمل استفادہ کیا ؟
یا
حاصل کردہ اسناد کو صرف حصولِ روزگار یعنی پیٹ پالنے یا دولت اکٹھی کرنے کیلئے استعمال کیا ؟

مُسلم یا مُسلمان ہونے کے ناطے آپ نے قرآن شریف بھی پڑھا ہو گا چنانچہ میرا دوسرا سوال ہے کہ کیا آپ نے قرآن شریف کو سمجھا اور اسے اپنی عملی زندگی پر مُنطبق کیا ؟

اگر آپ کا پہلے سوال کا جواب ” نہیں “ہے ۔ ۔ ۔ تو آپ تعلیم یافتہ نہیں ہیں کیونکہ آپ نے سکول ۔ کالج اور یونیورسٹی میں کچھ نہیں سیکھا ۔ صرف اسے وقتی ضرورت کے تحت یاد کیا تھا

اگر دوسرے سوال کا جواب ” نہیں“ ہے
تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ صرف نام کے مُسلم یا مُسلمان ہیں حقیقت میں نہیں

میرے محترمین و محترمان ۔ آپ کی فلاح اِسی میں ہے کہ آپ تعلیم یافتہ مُسلم یا مُسلمان بنیں جس کیلئے کل کی اِنتظار نہ کیجئے ۔ آج اور ابھی سے کوشش و محنت کیجئے
صبح کا بھُولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اُسے بھُولا نہیں کہتے

کیا ؟ ؟ ؟

60 بار دیکھا گیا

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ نہیں پوچھیں گے کہ
” کتنا بچا کر جمع کیا تھا ؟ “
” کیا خواب دیکھے تھے ؟ “
” تمہارے منصوبے کیا تھے ؟ “
” تم کیا کہتے رہے تھے ؟“

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ پوچھیں گے کہ
” تمہارا دوسروں سے سلوک کیسا تھا ؟ “
” کیا تم نے حقدار کو اُس کا حق پہنچایا ؟ “
” کیا لوگ تمہاری زبان سے محفوظ تھے ؟ “
” کیا پڑوسی تم سے خوش تھے ؟“

یومِ استقلال مبارک

109 بار دیکھا گیا

تمام ہموطنوں کو (دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں) یومِ استقلال مبارک my-id-pak
اللہ ہمیں آزادی کے صحیح معنی سمجھنے اور اپنے مُلک کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
یہ وطن ہمارے بزرگوں نے استقلال کے ساتھ محنت کرتے ہوئےحاصل کیا تھا کہ مسلمان اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے مِل جُل کر اپنی حالت بہتر بنائیں ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں البتہ پاکستانی نہیں بنے ۔ کوئی سندھی ہے کوئی پنجابی کوئی بلوچ کوئی پختون کوئی سرائیکی کوئی پاکستان میں پیدا ہو کر مہاجر ۔ کوئی سردار کوئی مَلک کوئی خان کوئی وڈیرہ کوئی پِیر ۔ اس کے علاوہ مزید بے شمار ذاتوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے ہیں
قائداعظم 1942ء میں الہ آباد میں تھے تو وکلاء کے ایک وفد کی ملاقات کے دوران ایک وکیل نے پوچھا ”پاکستان کا دستور کیسا ہوگا اور کیا آپ پاکستان کا دستور بنائیں گے ؟“
قائداعظم نے جواب میں فرمایا ”پاکستان کا دستور بنانے والا میں کون ہوتا ہوں ۔ پاکستان کا دستور تو تیرہ سو برس پہلے بن گیا تھا“۔

پانسے سب اُلٹ گئے دُشمن کی چال کے
مُدتوں کے بعد پھر اُڑے پرچم ہلال کے
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
برسوں کے بعد پھر اُڑے پرچم ہلال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دیکھو کہیں اُجڑے نہ ہمارا یہ باغیچہ
اِس کو لہو سے اپنے شہیدوں نے ہے سینچا
اِس کو بچانا جان مصیبت میں ڈال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
دنیا کی سیاست کے عجب رنگ ہیں نیارے
چلنا ہے مگر تم کو تو قرآں کے سہارے
ہر اِک قدم اُٹھانا ۔ ذرا دیکھ بھال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
تُم راحت و آرام کے جھُولے میں نہ جھُولو
کانٹوں پہ ہے چلنا میرے ہنستے ہوئے پھُولو
لینا ابھی کشمیر ہے ۔ یہ بات نہ بھُولو
کشمیر پہ لہرانا ہے جھنڈا اُچھال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

فیصلہ کا اختیار

170 بار دیکھا گیا

کسی کو آپ کے متعلق فیصلہ دینے کا اختیار نہیں my-id-pak
کیونکہ حقیقت میں کوئی نہیں جانتا
کہ آپ کن حالات سے گذرے ہیں
اُنہوں نے آپ کے متعلق چہ می گوئیاں سُنی ہوں گی
لیکن اُنہوں نے وہ محسوس نہیں کیا ہو گا جو آپ کے دِل پر گذری
یہی اصول دوسروں پر فیصلہ دینے سے پہلے مدِ نظر رکھنا چاہیئے

قابلِ رحم ہے وہ قوم

157 بار دیکھا گیا

خلیل جِبران سے متاءثر ہو کر my-id-pak
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو رسومات کی پابند ہو اور دین سے بیگانہ
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو کپڑا غیر مُلکی پہنے اور کھانے غیر مُلکی کھائے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو دوسروں پر الزامات لگانے والے کو ہیرو جانے
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کا سیاستدان چالاک اور آرٹ لوگوں کے تضحیکی کارٹون بنانا ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے راہنما تاریخ سے بے بہرہ ہوں
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو گروہوں میں بٹی ہو
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنی تاریخ بھول جاتی ہو اور قصے کہانیاں یاد رکھتی ہو

پیغمبر اور رشتہ دار

223 بار دیکھا گیا

سورت 33 الاحزاب ۔ آیت 6 ۔
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں اور رشتہ دار کتاب اللہ کی رو سے بنسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیادہ حقدار ۔ (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو یہ حکم (الٰہی) میں لکھا ہے

۔ ہماری ثقافت کیا ہے ؟What is our Culture?

914 بار دیکھا گیا

آخر ہماری ثقافت ہے کیا ؟ اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟ یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟
چھ دہائیاں قبل جب میں انٹرمیڈیٹ میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا
اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اُس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ ”رشیّن کلچرل ٹروپے)Russian Cultural Troupe)نے پرفارمینس(Performance) دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا“۔ میں نے پوچھا کہ ”پھر کیا دیکھا ؟“ کہنے لگا “اہُوں کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا “۔

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں
ميرے دفتر کے 3 پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر 5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھنٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر 3 گھنٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر پہنچ گیا

کچھ سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھَٹنے لگا ۔ اِنتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے ”ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے“۔
محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ عمر رسیدہ یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں(Screeches) ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کے درمیان کسی کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام اللہ تعالٰی نے شاید مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ (؟) سے لينا تھا

اسلام آباد میں جناح سُپر مارکیٹ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک خوش پوش جوان نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیا ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا ”جناب آپ نے میری گاڑی بلاک (block) کر دی ہے ۔ پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے“۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا “گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے”۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی (جو شاید بیوی تھی) کو وہیں ٹھہرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی

پھَل لینے گیا ۔ دُکاندار سے کہا ”بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی“ ۔ دُکاندار بولا ”جناب ہماری ایسی عادت نہیں“ ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیا ۔ گھر آ کر دیکھا تو 10 فيصد داغدار تھے ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا ”ہماری ایسی عادت نہیں“ یعنی اچھا دینے کی

3 دہائیاں قبل جب میں جنرل منیجر (گریڈ 20) تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب (گریڈ 19) آئے اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے ”اوئے ۔ یہ دوائیاں دو“۔ ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آئے ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟ بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے“ ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پرائے میں ۔ حقیقت یہ تھی کہ وہاں بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے تھے

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے

اسلام آباد ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين (lane) ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں جانب تھی جو بائيں طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے میری کار کا اگلا بَمپَر بھی چیرتے ہوئے ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف نقلی چیز اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ہے

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکّا اور نیو اِیئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں

کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟
کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟
کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں ۔
اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
ثقافت کی حقیقت جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے