Category Archives: ذمہ دارياں

ہمیں اِس کی اشد ضرورت ہے

28 بار دیکھا گیا


آج کل سائنس کی ترقی کا چرچہ ہے ۔ سائنس کی ترقی نے آدمی کو بہت سہولیات مہیاء کر دی ہیں
پڑھنے لکھنے پر بھی زور ہے جس کے نتیجہ میں بہت لوگوں نے بڑی بڑی اسناد حاصل کر لی ہیں
توقع تو تھی کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آدمی تعلیم حاصل کر کے انسان بن جائیں گے
لیکن
سائنس کی ترقی میں انسانیت کم پنپ پائی ہے اور وبال یا جہالت زیادہ
سائنس کے استعمال نے انسان کا خون انفرادی ہی نہیں بلکہ انبوہ کے حساب سے آسان بنا دیا ہے اور انسانیت بلک رہی ہے
ایسے میں ویب گردی کرتے میں افریقہ جا پہنچا ۔ دیکھیئے نیچے تصویر میں کون بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں

Ubuntu

ان بچوں کے پاس اپنے جسم ڈھانپنے کیلئے پورے کپڑے نہیں لیکن اس تصویر سے اُن کی باہمی محبت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ تو میرا اندازہ ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے

ایک ماہرِ بشریات (anthropologist) نے ایسے لوگوں کو شاید پڑھا لکھا نہ ہونے کی بناء پر جاہل اور خود غرض سمجھتے ہوئے اپنے مطالعہ کے مطابق ایک مشق دی ۔ماہرِ بشریات نے پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تھوڑا دور ایک درخت کے نیچے رکھ کر افریقہ میں بسنے والے ایک قبیلے کے بچوں سے کہا
”جو سب سے پہلے اس ٹوکرے کے پاس پہنچے گا ۔ یہ سارے میٹھے پھل اُس کے ہوں گے“۔
اُس نے بچوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے بعد کہا ”ایک ۔ دو ۔ تین ۔ بھاگو“۔

سب بچوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اکٹھے بھاگ کر اکٹھے ہی پھلوں کے ٹوکرے کے پاس پہنچ گئے اور ٹوکرے کے گرد بیٹھ کر سب پھل کھانے لگے

ماہرِ بشریات جو ششدر کھڑا تھا بچوں کے پاس جا کر بولا ”تم لوگ ہاتھ پکڑ کر اکٹھے کیوں بھاگے ؟ تم میں سے جو تیز بھاگ کر پہلے ٹوکرے کے پاس پہنچتا سارے پھل اس کے ہو جاتے”۔

بچے یک زبان ہو کر بولے ”اُبنٹُو (ubuntu) یعنی میرا وجود سب کی وجہ سے ہے ۔ ہم میں سے ایک کیسے خوش ہو سکتا ہے جب باقی افسردہ ہوں”۔

کیا یہ سکولوں اور یونیورسٹیوں سے محروم لوگ اُن لوگوں سے بہتر نہیں جو سکولوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر انفرادی بہتری کیلئے دوسروں کا نقصان کرتے ہیں
اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے دوسروں کا قتل کرتے ہیں
اور بہت خوش ہیں کہ جسے چاہیں اُسے اُس کے ملک یا گھر کے اندر ہی ایک بٹن دبا کر فنا کر دیں

سائنس نے ہمیں آسائشیں تو دے دیں ہیں مگر انسانیت ہم سے چھین لی

یہ تحریر میں 16 مئی 2013ء کو شائع کر چکا ہوں

آپ کے پاس 3 روپے ہوں گے ؟

88 بار دیکھا گیا

کوٹھی کے خوبصورت لان میں سردی کی ایک دوپہر میں اور علی بھائی (مشہور اداکار محمد علی) بیٹھے گفتگو کر رہے تھے ۔ چپڑاسی نے علی بھائی سے آ کر کہا ”باہر کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے ۔ یہ اس کا چوتھا چکر ہے“۔
علی بھائی نے اسے بلوا لیا ۔ کاروباری سا آدمی تھا ۔ لباس صاف سُتھرا مگر چہرے پر پریشانی جھلَک رہی تھی ۔ شیو بڑھی ہوئی ۔ سُرخ آنکھیں اور بال قدرے سفید لیکن پریشان ۔ وہ سلام کرکے کرسی پر بیٹھ گیا تو علی بھائی نے کہا ” جی فرمایئے“۔
”فرمانے کے قابل کہاں ہوں صاحب جی ۔ کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں“۔ اس آدمی نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا اور میری طرف دیکھا جیسے وہ علی بھائی سے کچھ تنہائی میں کہنا چاہتا تھا
علی بھائی نے اس سے کہا ” آپ ان کی فکر نہ کیجئے جو کہنا ہے کہیئے“۔
اس آدمی نے کہا ”چَوبُرجی میں میری برف فیکٹری ہے علی صاحب“۔
” جی“۔
” لیکن کاروباری حماقتوں کے سبب وہ اب میرے ہاتھ سے جا رہی ہے“۔
” کیوں ؟ کیسے جا رہی ہے“۔ علی بھائی نے تفصیل جاننے کے لئے پوچھا
وہ آدمی بولا ” ایک آدمی سے میں نے 70ہزار روپے قرض لئے تھے لیکن میں لوٹا نہیں سکا ۔ میں نے کچھ پیسے سنبھال کر رکھے تھے لیکن چور لے گئے ۔ اب وہ آدمی اس فیکٹری کی قرقی لے کر آ رہا ہے“۔
یہ کہہ کر وہ آدمی رونے لگا اور علی بھائی اسے غور سے دیکھتے رہے اور اس سے کہنے لگے ” آپ کا برف خانہ میانی صاحب والی سڑک سے ملحقہ تو نہیں؟“
وہ آدمی بولا ” جی جی وہی ۔ ۔ ۔ علی بھائی میں صاحب اولاد ہوں اگر یہ فیکٹری چلی گئی تو میرا گھر برباد ہو جائے گا ۔ میں مجبور ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں“۔
”فرمایئے میں کیا کر سکتا ہوں ؟“
” میرے پاس 20 ہزار ہیں ۔ 50 ہزار آپ مجھے اُدھار دے دیں میں آپ کو قسطوں میں لوٹا دوں گا“۔
علی بھائی نے مُسکرا کر اس آدمی کو دیکھا۔ سگریٹ سُلگائی اور مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگے ”روبی بھائی ۔ یہ آسمان بھی بڑا ڈرامہ باز ہے ۔
کیسے کیسے ڈرامے دکھاتا ہے ۔ شطرنج کی چالیں چلتا ہے ۔ کبھی مات کبھی جیت“۔
یہ بات کہی اور اُٹھ کر اندر چلے گئے ۔ واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں نوٹوں کا ایک بنڈل تھا ۔ کرسی پر بیٹھ گئے
اور اس آدمی سے کہنے لگے ”پہلے تو آپ کی داڑھی ہوتی تھی“۔
وہ آدمی حیران رہ گیا اور چونک کر کہنے لگا ” جی ۔ یہ بہت پرانی بات ہے“۔
”جی میں پرانی بات ہی کر رہا ہوں“۔ علی بھائی نے کہا اور اچانک کہیں کھو گئے ۔ سگریٹ کا دھُواں چھوڑ کر فضا میں کچھ تلاش کرتے رہے ۔ پھر اس آدمی سے کہنے لگے ” آپ کے پاس 3 روپے ٹوٹے ہوئے ہیں ؟ “
” جی جی ہیں“۔
اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نوٹ نکالے اور ان میں سے 3 روپے نکال کر علی بھائی کی طرف بڑھا دیئے
علی بھائی نے وہ پکڑ لئے اور نوٹوں کا بنڈل اُٹھا کر اس آدمی کی طرف بڑھایا ”یہ 50 ہزار روپے ہیں ۔ لے جایئے“۔
اس آدمی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوٹ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے
اس آدمی نے جذبات کی گرفت سے نکل کر پوچھا ” علی بھائی مگر یہ 3 روپے آپ نے کس لئے ۔ ۔ ۔ ؟“
علی بھائی نے اس کی بات کاٹ کر کہا ”یہ میں نے آپ سے اپنے 3 دن کی مزدوری لی ہے“۔
”مزدوری ۔ ۔ ۔ مجھ سے ؟ میں آپ کی بات نہیں سمجھا “ اس آدمی نے یہ بات پوچھی تو ایک حیرت اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی
علی بھائی نے مُسکرا کر جواب دیا ” 1952ء میں جب میں لاہور آیا تھا تو میں نے آپ کے برف خانے میں برف کی سلیں اُٹھا کر قبرستان لے جانے کی مزدوری کی تھی“۔
یہ جواب میرے اور اس آدمی کے لئے دنیا کا سب سے بڑا انکشاف تھا
علی بھائی نے مزید بات آگے بڑھائی ” مگر آپ نے جب مجھے کام سے نکالا تو میرے 3 دن کی مزدوری رکھ لی تھی ۔ وہ آج میں نے وصول کر لی ہے“۔
علی بھائی نے مُسکرا کر وہ 3 روپے جیب میں ڈال لئے
” آپ یہ 50 ہزار لے جائیں ۔ جب آپ سہولت محسوس کریں دے دیجئے گا “۔
علی بھائی نے یہ بات کہہ کر مزے سے سگریٹ پینے لگے ۔ میں اور وہ آدمی کرسیوں پر یوں بیٹھے تھے جیسے ہم زندہ آدمی نہ ہوں بلکہ فرعون کے عہد کی 2 حنوط شدہ مَمِیاں کرسی پر رکھی ہوں
احمد عقیل روبی صاحب کا تحریر کردہ واقعہ تو ختم ہوا

کیا آپ کو سمجھ آئی کہ کروڑ پتی محمد علی کیلئے 3 روپے کی کیا اہمیت تھی کہ لے لئے ؟
یہ محمد علی کی معاملہ فہمی ہے ۔ محمد علی نے سوچا ہو گا ” اچھا بھلا چلتا کار و بار تباہ ہونے کی وجہ شاید ایک غریب مزدور کی 3 دِن کی مزدوری نہ دینا ہو “۔
محمد علی نے اپنی مزدوری وصول کر لی تا کہ اُس شخص کی سختی ختم ہو

بشکریہ ۔ مصطفٰے ملک صاحب ” گھریلو باغبانی والے“۔

جولائی کا الٹرا ساؤنڈ اور اگست کا بلیک باکس

67 بار دیکھا گیا

اَن گِنت حُرّیَت پسندوں نے محکُوم قوموں کے لئے آزادی کی سیاسی جدوجہد کے اصول وضع کئے ۔ یہ آزادی محض غیرملکی حکمرانوں کو بے دَخَل کرنے کا نَصبُ العَین نہیں تھی۔ آزادی کی اس لڑائی کا حتمی نَصبُ العَین یہ تھا کہ اس زمین کے رہنے والے اپنی معاشی ۔ سماجی اور سیاسی صلاحیتوں کو برُوئے کار لاتے ہوئے انسانی ترقی کی دوڑ میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے ۔ دنیا کے ابھرتے ہوئے امکانات میں اپنا پورا پورا حق حاصل کر سکیں گے

اِسی اصول کے تحت آزادی محمد علی جناح اور اُن کے ساتھیوں نے آزادی کی جد و جہد کی ۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم شمالی یورپ کے جزیرے برطانیہ سے آنے والوں کو رُخصت کر کے مقامی طاقتور گروہوں کے غلام ہو جائیں جو نسل ۔ عقیدے اور بندوق کے بَل پر ہمارا اِستحصال کریں

جاننا چاہیئے کہ 25 جولائی 2018ء کی تصویر بدستور دھُندلی ہے ۔ اہلِ حُکم کا تھُوک ہمارے مقَدّس پرچم پر جم گیا ہے ۔ ہماری زمیں پَر زَور آور کے قدموں کے نشان صاف دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ہمیں عِلم سے محروم کر کے تعصب اور نفرت میں اُلجھا دیا گیا ہے ۔ ہمارے قابل صد احترام آباؤاجداد کی سَتّر بَرس پر محیط قربانیوں سے ایک مرحلہ طے ہو گیا ہے ۔ اب ہماری کشمکش کسی ایک فرد یا منصب دار سے منسوب نہیں ہے ۔ ماضی میں ہم نے اپنے خوابوں کو فرد واحد کی ذات سے وابستہ کر رکھا تھا ۔ اب یہ کشمکش زیادہ اصولی اور ادارہ جاتی شکل اختیار گئی ہے ۔ ہمارے کچھ سیاسی رہنما آجکل اداروں کے احترام پر زور دے رہے ہیں ۔ ان کی رائے یقیناً وزن سے خالی نہیں ہو گی لیکن ان کی سوچ میں داخلی تضاد کی طرف اشارہ کئے بغیر بھی چارہ نہیں

ہمارے یہ مہربان عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن ووٹ کی بالادستی کا اعلان کرنے سے گریزاں ہیں ۔ اگر انہیں ووٹ مانگتے ہوئے ایسے خدشات اور وسوسے لاحق ہیں تو کل جب یہ رہنما ووٹ سے تشکیل پانے والے اداروں میں رونق افروز ہوں گے تو ان کے دست و بازو پہلے سے قطع ہو چکے ہوں گے ۔ زمانے کا انقلاب دیکھیئے ۔ جو مہربان سیاسی قوتوں کے مابین مفاہمت کو مک مکا قرار دیتے تھے اب سقوط جمہوریت کے دستاویزی شواہد پر شاداں و مسرور ہیں ۔ تاریخ کے یہ چیمبرلین اگر جولائی کے الٹرا ساؤنڈ سے خوف زدہ ہیں تو اگست کے بلیک باکس کا سامنا کیسے کریں گے ؟
وجاہت مسعود کی تحریر سے اقتباس

ووٹ کسے دیا جائے ؟ شرعی فتوٰی

268 بار دیکھا گیا

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع بن محمد ياسین عثمانی دیوبندی (25 جنوری 1897ء تا 06اکتوبر 1976ء) صاحب کا ووٹ کے بارے میں تاریخی فتوی
جس اُمیدوار کو آپ ووٹ دیتے ہیں شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریئے عِلم و عمل اور دیانتداری کی رُو سے اس کام کا اہل اور دوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے ۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں
1 ۔ آپ کا ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمائندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا بُرے اقدمات کرے گا ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی ۔ آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے
2 ۔ اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہوجائے اسکا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے ۔ ثواب و عذاب بھی محدود ۔ قومی و مُلکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی اس کا ادنٰی نقصان بھی بعض اوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے ۔ اس لئے اس کا ثواب یا عذاب بھی بڑا ہے
3 ۔ سچی شہادت کا چھپانا اَز رُوئے قرآن حرام ہے اس لئے اگر آپ کے حلقے میں صحیح نظریہ کا حامل کوئی دیانتدار اُمیدوار کھڑا ہے تو اس کو ووٹ نہ دینا گناہ کبیرہ ہے
4 ۔ جو اُمیدوار نظامِ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ ہے
5 ۔ ووٹ کو پَیسوں کے عِوَض بیچ دینا بدترین قسم کی رِشوت ہے اور چند ٹَکوں کی خاطر اِسلام اور مُلک سے بغاوت ہے ۔ دوسروں کی دُنیا سنوارنے کے لئے اپنا دِین قُربان کر دینا چاہے کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو کوئی دانشمندی نہیں ہو سکتی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسروں کی دنیا کے لئے اپنا دین کھو بیٹھے
(جواھر الفقہ ۔ جلد نمبر 2 ۔ صفحہ 300 و 301 ۔ مکتبہ دارالعلوم ۔ کراچی)

خرچ

190 بار دیکھا گیا

سورة 2 البَقَرَة آیت 215
بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَ ؕ قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا

غیب کا عِلم صرف اللہ رکھتا ہے

273 بار دیکھا گیا

سورة 11 ھُود آیۃ 49
تِلۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ‌ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰذَا‌ ‌ۛؕ فَاصۡبِرۡ‌ ‌ۛؕ اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ

اے محمدﷺ ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم ۔ پس صبر کرو ۔ ا نجام کار مُتّقِیوں ہی کے حق میں ہے

تباہی کی طرف تیزی سے سفر

163 بار دیکھا گیا

ایک سکیورٹی گارڈ فیصل آباد کے ایک بس ٹرمینل میں ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بس سروس میں بطور میزبان ملازمت کرنے والی ایک لڑکی کو روکتا ہے ۔ دونوں میں چند لمحوں کے لئے تکرار ہوتی ہے ۔ سکیورٹی گارڈ لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لڑکی اپنا ہاتھ چھڑواتی ہے ۔ جواب میں گارڈ اپنی بندوق سے اس پر فائر کرتا ہے ۔ لڑکی گر جاتی ہے ۔ چند ثانیوں کے لئے بے بسی سے تڑپتی ہے اور پھر وہیں سیڑھیوں پر مر جاتی ہے
یہ اٹھارہ سالہ لڑکی جو اپنے گھر کی واحد کفیل تھی ۔ ایک بھرے پُرے بس ٹرمینل پر ہلاک کر دی گئی ۔ قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نوکری کرنے نکلی تھی ۔ مجبور ی یہ تھی وہ باعزت نوکری کرنا چاہتی ۔ نہ جانے کتنی مشکل سے اُس نے یہ معمولی نوکری حاصل کی ہو گی ۔ اُسے کیا معلوم تھا کہ سکیورٹی گارڈ جسے وہ محافظ سمجھتی تھی وہ کس قماش کا آدمی ہے

آج کے دَور میں ہماری ذہنی حالت یہ ہو چُکی ہے کہ اوّل ہم لڑکی کو کسی لحاظ سے قصور وار ٹھہرا دیں گے ۔ اگر یہ نہ کیا تو بھارت (جن کے دھرم میں بھی عورت صرف ایک لونڈی کی حیثیت رکھتی ہے) وہاں کے اعداد و شُمار گِنوا کر اِسے معمولی واقعہ قرار دے دیں گے ۔ یہ بھی نہ کریں تو ہم شور کریں گے ۔ کمپنی والوں کو گالیاں دیں گے ۔ توڑ پھوڑ کریں گے
ٹی وی اور اخبار کا روّیہ تو ہر معاملہ میں یکساں ہے ۔ چند دِن شور بپا ہو گا پھر خبر غائب

بڑے بڑے دانشور ۔ عورت کی ناموس کے نام پر چلنے والی بڑی بڑی تنظیموں کو تو نہ کسی غریب کی بے حُرمتی نظر آتی ہے نہ موت ۔ جب اُنہیں چندے یا مشہوری کی ضرورت ہوتی ہے تو معاملہ خواہ بے نام ہو پکڑ کر واویلہ شروع کر دیتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی عیسائی قانون کی زد میں آ جائے یا کسی حادثہ میں مر جائے تو اُسے مظلوم کہہ کر اپنے سرپرست مُلک کو خوش کرنے یا مالی امداد حاصل کرنے کیلئے طوفان مچا دیں گے

غرضیکہ ہم اب اپنے اسلاف کے قصے کہانیاں سنانے والے مُسلمان بن چکے ہیں ۔ ہم یہ حوالہ بھی دیتے ہیں کہ جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا تو وہاں کے دانشور مباحث میں مشغول تھے ۔ ہم تاریخ میں بڑے فخر سے پڑھتے ہیں کہ محمد بن قاسم صرف ایک عورت کی فریاد سُن کر دیبل پر حملہ آور ہو گیا ۔ لیکن خود جب کسی غریب پر ظُلم ہوتا دیکھتے ہیں تو تمسخر اُڑانا یا وِڈیو بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں

ایک اور طریقہ بھی ہے کہ ایسی خبر کو نظر انداز کر دیں یعنی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں
ہم اس معاشرے میں زندہ ہیں جہاں مُلک کی بہترین جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والا نوجوان اپنی ماں کی عمر کے برابر خاتون کے بارے میں (جسے چند گھنٹوں کے لئے اغوا کیا گیا تھا) ٹوِیٹ کرتا ہے ”اس عورت کے لئے جنسی تشدّد ہی بہترین علاج ہے“۔
ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر ایک مخصوص طبقے کے پڑھے لکھے جوان ایک بوڑھی بیمار ماں کی بیماری کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ سفاکانہ طعنے دیتے ہیں اور پھَبتیاں کستے ہیں

یہ درندگی دو دہائیاں پہلے تک تو نہ تھی ۔ جانے کس نے ہمارے معاشرے میں یہ زہرِ قاتل پھیلا دیا اور ہم امرت سمجھ کر پیتے چلے گئے
پھر بھی ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر بہت خوبصورت ہے ۔ ہم نجانے کس غلط فہمی میں مُبتلاء ہیں ۔ ہمیں بالکل احساس نہیں ہے کہ نفرت اور زہر کے جو بِیج ہم نے اپنے معاشرے میں بو دیئے ہیں اس کے ثمرات ہم نے اور ہماری آئیندہ نسلوں نے سمیٹنے ہیں ۔ ہم تو اُن لوگوں کی اولاد ہیں جن کے پاس کوئی دُشمن بھی پناہ لے لے تو وہ اُس کے محافظ بن جاتے تھے

ہماری اِس بے حِسی کا سبب صرف ایک ہے کہ ہم غور و فکر سے عاری ہو چُکے ہیں ۔ قرآن شریف کی بجائے الیکٹرانک میڈیا (بشمول سوشل میڈیا) ہمارا رہبر بن چُکا ہے ۔ حالانکہ قرآن شریف میں کم از کم 8 بار اللہ نے فرمایا ہے ” تم غور کیوں نہیں کرتے“۔
سورت 6 الانعام آیت 50
سورت 10 یونس آیت 3
سورت 11 ھود آیت 30
سورت 11 ھود آیت 24
سورت 16 النّحل آیت 17
سورت 23 المؤمنون آیت 85
سورت 37 الصّٰفّٰت آیت 155
سورت 45 الجاثیہ آیت 23