Category Archives: ذمہ دارياں

کُلُ عام انتم بخیر

اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو آنے والی عيد مبارک
الله کریم آپ سب کو کامِل ایمان کے ساتھ دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين
اُنہیں نہ بھولیئے جنہیں الله نے آپ کے مقابلہ میں کم نوازہ ہے ۔ ایسے لوگ دراصل آپ کی زیادہ توجہ کے حقدار ہیں
رمضان کا مبارک مہینہ بخیر و عافیت گزر گیا ۔ الله سُبحانُهُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے
عیدالفطر کی نماز سے قبل اور بہتر ہے کے رمضان المبارک کے اختتام سے پہلے فطرانہ ادا کر دیا جائے ۔ کمانے والے کو اپنا اور اپنے زیرِ کفالت جتنے افراد ہیں مع گھریلو ملازمین کے سب کا فطرانہ دینا چاہیئے

عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْا الله وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
ا اللهُ اکبر کبِیرا والحمدُللهِ کثیِرا و سُبحَان اللهُ بکرۃً و أصِیلا

آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
جدِ امجد سیّدنا ابراھیم علیه السّلام کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ یا الله ہمارے مُلک کو امن کا گہوارہ بنا دے اور سب کے رزقِ حلال میں کُشائش عطا فرما
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین یا رب العالمین

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۔ (سُوۡرَةُ البَقَرَة ۔ آیة 126)
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: “اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو الله اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے”۔
اس کے جواب میں اس کے الله نے فرمایا ”اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے“۔

تبدیلی تبدیلی تبدیلی

خود بدلتے نہیں ۔ سب کچھ بدل دیتے ہیں
میرے اہل وطن یہ کیا چارہ گری کرتے ہیں

تبدیلی تبدیلی تبدیلی
پچھلی آدھی صدی سے یہ گردان سنتا چلا آ رہا ہوں
نتیجہ
جتنی تبدیلی لائی گئی ہے اتنا ہی ملک اور قوم کا نقصان ہوا
وجہ
تبدیلی اس لئے لائی گئی کہ تبدیلی لانا تھی
تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں لا لا کر تعلیم کو بے مقصد بنا دیا گیا ہے
حکومتیں تبدیل کر کر کے ملک کو وحشیوں بھرا جنگل بنا دیا گیا ہے
آئین میں تبدیلیاں کرتے کرتے ملک بے آئین ہو کے رہ گیا ہے
آجکل تو تبدیلی نہیں تبدیلیوں پر زور ہے اور آئین کو ایک بے کار کتاب کی طرح بالائے طاق رکھ چھوڑا ہے
اللہ رحم کرے اس ملک پر اور ہم عوام پر

ترقّی چاہیئے تو ترقّی تبدیلی سے نہیں ہوتی بلکہ ترقّی از خود تبدیلی لاتی ہے
اگر کچھ کرنا ہی ہے ترقّی کی کوشش کیجئے ۔ تبدیلیاں خود بخود آئیں گی اور ترقّی کے نتیجہ میں آنے والی تبدیلیاں صحتمند اور خوشگوار ہوں گی
مگر ترقّی کے لئے بے غرض محنت کی ضرورت ہے

پاکستان ۔ پاکستان

TOLERANT PAKISTAN

Pehchaan – OST for PMC’s Tolerant Pakistan campaignWritten, composed & sung by Waqqas Qadir SheikhMusic produced by Atif AliRecorded, Mixed & Mastered at Playback Lounge.Directed by Waqqas Qadir SheikhD. O. P. Fahad BhattiEdited by Asad ZaidiVFX by Xpanse CGISpecial Thanks to Icon Art Studios#TolerantPakistan #IAmTolerant #IAmPakistan

Posted by Tolerant.Pakistan on Saturday, February 1, 2020

انسان اور کتا

شیخ سعدی نے گلستان سعدی لکھی یہ ذومعنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتاب میں نے جب پہلی بار پڑھی تو میں آٹھویں جماعت میں تھا۔
اس وقت مجھے وہ بچوں کی کہانیاں لگیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کہانیاں بھی آگے چلتی گئیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ کہانیاں ہر عمر کے لئے ہیں اور ان کو پڑھ کر آدمی انسان بن سکتا ہے

آپ فالحال مندرجہ دو کہانیاں پڑھیئے

ایک درویش کے پاس سے ایک بادشاہ کا گذر ہوا۔ درویش کے پاس اس کا کتا بیٹھا تھا
بادشاہ نے مذاق کے طور پر پوچھا ” آپ اچھے ہیں یا آپ کا کتا ؟ “۔
درویش نے جواب دیا ” یہ کتا میرا کہنا مانتا ہے اور میرا وفادار ہے۔ اگر میں اپنے مالک کا وفادار رہوں اور اس کا کہنا مانوں تو میں اچھا ورنہ یہ کتا مجھ سے اچھا ہے “۔

ایک آدمی کو کتے نے کاٹ لیا۔ درد سے اس کے آنسو نکل آئے
اس کی کمسن بچی اسے کہنے لگی ” بابا روتے کیوں ہو۔ کتا آپ سے بڑا تو نہیں ہے۔ آپ بھی اس کو کاٹ لیں”۔
آدمی نے کہا ” بیٹی ٹھیک ہے کہ کتا مجھ سے بہت چھوٹا ہے مگر میں انسان ہوں اور انسان کتے کو نہیں کاٹتا “۔

یومِ یکجہتی کشمیر


ستم شعار سے تجھ کو ہم چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایماء پر شروع کی گئی تھی بلکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور نام نہاد انسانیت کی حمائتی دُنیا سے مایوس ہونے کے بعد جموں کشمیر کے جوانوں نے جد و جہد آزادی کا بیڑا اُٹھایا ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہرو کی بات مان کر مُسلم اکثریت والے علاقے گورداس پورکو بھارت میں شامل کر کے یہ مسئلہ پیدا کیا۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے ۔ بھارتی فوج اس راستہ سے جموں مین داخل ہوئی اور بھارتی فوج کی پُشت پناہی سے راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) ۔ ہندو مہا سبھا (اب ہِندتوا اور بی جے پی) اور اکالی دل (سکھ) کے مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہوئے اور پورے صوبہ جموں میں مسلمانوں کے کھیتوں کو رات کے وقت آگ لگانا شروع کیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کا قتلِ عام بھی ۔ 1947ء سے بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے

وہی راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جَنَتا پارٹی (بی جے پی) آجکل بھارت پر حکومت کر رہی ہے اور نہ صرف جموں کشمیر بلکہ پورے بھارت میں مسلمانوں پر ظُلم ڈھا رہی ہیں

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہلِ کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہلِ کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ۔ وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں

حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا ہے جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے
جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایماء پر شروع کی گئی تھی بلکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور نام نہاد انسانیت کی حمائتی دُنیا سے مایوس ہونے کے بعد جموں کشمیر کے جوانوں نے جد و جہد آزادی کا بیڑا اُٹھایا ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہرو کی بات مان کر مُسلم اکثریت والے علاقے گورداس پورکو بھارت میں شامل کر کے یہ مسئلہ پیدا کیا۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے ۔ بھارتی فوج اس راستہ سے جموں مین داخل ہوئی اور بھارتی فوج کی پُشت پناہی سے راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) ۔ ہندو مہا سبھا (اب ہِندتوا اور بی جے پی) اور اکالی دل (سکھ) کے مسلحہ دستے جموں میں داخل ہونا شروع ہوئے اور پورے صوبہ جموں میں مسلمانوں کے کھیتوں کو رات کے وقت آگ لگانا شروع کیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کا قتلِ عام بھی ۔ 1947ء سے بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہلِ کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہلِ کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ۔ وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں

حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا ہے جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

ازدواج کی پہلی ضرورت ۔ دوستی

دوستی کی بناء پر استوار ہونے والا تعلق دیر پا ہوتا ہے جو زمانے کے حوادث کی برداشت رکھتا ہے ۔ ہم اختلاف کے باوجود اپنے دوستوں پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اُن کا احترام کرتے ہیں اور اُن کا خیال رکھتے ہیں ۔ حقیقتاً یہ اطوار ازدواج کی بنیادی ضرورت ہیں لیکن ازدواج کو ساتھی کی حیثیت میں رکھا جاتا ہے جس میں متذکرہ بالا خواص ہونا ضروری نہیں ۔ ساتھی سکول کا یا سفر کا یا کاروبار کا بھی ہوتا ہے ۔ ساتھی کے ساتھ تلخی بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔ بیوی کو ساتھی سمجھنا ایک عمومی غلطی ہے جو ازدواج میں تلخی پیدا کرتی ہے

اسلام نے خاوند کو رہنما کا کردار عطا کیا ہے ۔ رہنما کا کردار غور و فکر کا متقاضی ہے لیکن غلط فہمی کی بناء پر حاکم سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ یہ کردار ایک گڈریئے سے متشابہ ہے جو بھیڑوں کو چراتا ہے اور ان کی ہر لحاظ سے حفاظت بھی کرتا ہے اور اُنہیں ہر قسم کی تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ خاوند کی حیثیت ایک انہائی ذمہ دار شخص کی ہے ۔ والدین کی ہم آہنگی اُن کی اولاد کی ایک اہم ضرورت ہے جو اُن کے کردار کو صحتمند طور سے پروان چڑھاتی ہے

بقیہ قائد اعظم اور قرآن

یہ 25 دسمبر 2019ء کو شروع کئے گئے مضمون کا بقیہ حصہ ہے
غور کیجئے جنرل اکبر سے گفتگو کے دوران ”بکس منگوانا اوراس سے قرآن مجید نکالنا“ کا مطلب ہے قائداعظمؒ قرآن مجید اپنے ساتھ رکھتے تھے اور پھر ”فوراً نشان زدہ صفحہ نکالنے“ کا مطلب ہے وہ قرآن حکیم پڑھتے، غور کرتے اور نشانیاں بھی رکھتے تھے ۔ یہی باتیں عبدالرشید بٹلر نے بھی بتائیں

جہاں تک شراب پر پابندی کا تعلق ہے قائداعظمؒ نے 7 جولائی1944ء کو ہی راولپنڈی کی ایک تقریب میں ایک سوال کے جواب میں اعلان کردیا تھا کہ پاکستان میں شراب پر یقیناً پابندی ہوگی (بحوالہ قائداعظمؒ کے شب و روز ۔ از ۔ خورشید احمد خان مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان ۔ اسلام آباد ۔ صفحہ 10 )۔

یہی وہ بات ہے جس سے روشن خیال بِدکتے اور پریشان ہو کر سیکولرزم کا پرچار کرنے لگتے ہیں ۔ قائداعظمؒ ایک سچے اور کھرے انسان تھے ۔ وہ وہی کہتے جوخلوص نیت سے محسوس کرتے اور جس پر یقین رکھتے تھے

19 اگست 1941ء کو ایک interviewمیں قائداعظم ؒ نے کہا ”میں جب انگریزی زبان میں مذہب کا لفظ سنتا ہوں تو اس زبان اور قوم کے محاورہ کے مطابق میرا ذہن خدا اور بندے کے باہمی رابطہ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کا یہ تصور محدود نہیں ہے ۔ میں نہ کوئی مولوی ہوں نہ ماہر دینیات البتہ میں نے قرآن مجید اوراسلامی قوانین کامطالعہ کیاہے ۔ اس عظیم الشان کتاب میں اسلامی زندگی سے متعلق زندگی کے ہر پہلو کااحاطہ کیا گیا ہے ۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآن حکیم کی تعلیمات سے باہرہو“ (گفتار ِ قائداعظمؒ ۔ از ۔ احمد سعید صفحہ 261)۔

قائداعظمؒ نے اسلام کو مکمل ضابطہ حیات اور قرآن حکیم پر غور کا ذکر سینکڑوں مرتبہ کیا اور اگر وہ قرآن مجید کا مطالعہ اور اس پر غور کرنے کے عادی نہ ہوتے تو کبھی ایسی بات نہ کرتے ۔ 12جون 1938ءکو انہوں نےجو کہا اسے وہ مرتے دم تک مختلف انداز سے دہراتے رہے ۔ ان کے الفاظ پر غور کیجئے ”مسلمانوں کے لئے پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے پاس تیرہ سو برس سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے اور وہ قرآن پاک ہے ۔ قرآن پاک میں ہماری اقتصادی ۔ تمدنی و معاشرتی اصلاح و ترقی کا سیاسی پروگرام بھی موجود ہے ۔ میرا اسی قانون الٰہیہ پر ایمان ہے اور جو میں آزادی کا طالب ہوں وہ اسی کلام الٰہی کی تعمیل ہے ۔ (ہفت روزہ انقلاب 12 جون 1938ء بحوالہ احمد سعید صفحہ 216)۔

قرآن فہمی کا فیض ہوتا ہے روشن باطن ۔ جوابدہی کاخوف اور زندہ ضمیر ۔ قائداعظمؒ نے ایک بار اپنے باطن کو تھوڑا سا آشکارہ کیا ۔ ان الفاظ میں اس کی جھلک دیکھئے اور قائداعظم محمد علی جناح کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”مسلمانو ۔ میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا ۔ دولت ۔ شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لُطف اٹھائے ۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد سربلند دیکھوں ۔ میں چاہتاہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میراخدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی ۔ تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا ۔ میں آپ سے داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل ۔ میرا ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا ۔ جناح تم مسلمانوں کی تنظیم ۔ اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے ۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے (انقلاب لاہور 22اکتوبر 1939 بحوالہ احمد سعید صفحہ 233)

قائداعظمؒ کے الفاظ کو غور سے پڑھیں تو محسوس ہوگا کہ یہ روشن باطن ۔ زندہ ضمیر ۔ اسلام اورمسلمانوں سے محبت اور خوفِ الٰہی قرآ ن فہمی ہی کا اعجاز تھا اور مسلمانان ہند و پاکستان کتنے خوش قسمت تھے جنہیں ایسا رہنما ملا ۔ اسی لئے تو علامہ اقبالؒ جیسا عظیم مسلمان فلسفی ۔ مفسر قرآن اور زندہ کلام کاشاعر قائداعظمؒ کو اپنا لیڈر مانتا تھا