Category Archives: ذمہ دارياں

”پہلی بار ؟ ؟ ؟“۔

34 بار دیکھا گیا

ایک شخص کا اقرار
والدہ سے آخری بار بلند آواز سے بات کئے کئی برس بیت گئے ۔ تب ابا جی نے ایک جملہ کہا تھا جس کے بعد میری آواز گلے میں ہی کہیں دب گئی
کہنے لگے ”بیٹا اگر اتنا پڑھ لکھ کر بھی یہ نہ سیکھ پائے کہ بزرگوں سے بات کیسے کرنی ہے تو کل سے کالج نہ جانا ۔ جو تعلیم اچھا انسان نہ بنا پائے اس کا مقصد ہی کیا ہے ۔ کمائی تو سنیارے کی دکان کے باہر گندی نالی سے کیچڑ چھاننے والا اَن پڑھ بھی کئی پڑھے لکھوں سے زیادہ کر لیتا ہے“۔

اسی طرح پہلی اور آخری بار روزگار کا خوف تب ختم ہو گیا تھا جب ہم انتہائی سخت حالات کا شکار تھے ۔ چند ہزار کی ایک ملازمت کے دوران کسی نے ایسی بات کر دی جو برداشت نہ کر پایا ۔ دفتر سے ہی ابا جی کو مشورہ کے لئے فون کیا
کہنے لگے ”ملازمت چھوڑنے کے لئے مجھے فون تب کرنا جب خدا پر اعتبار نہ ہو ۔ اس مالک نے رزق کا وعدہ کیا ہے نا تو پھر اس کے وعدے پر یقین بھی رکھو ۔ یا پھر اسے مالک تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہو ؟ یہاں ملازمت کے لئے دل نہیں مانتا تو ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہ کرنا“۔

میں نے فون بند کیا اور اسی وقت استعفٰی لکھ دیا ۔ چار دن میں بے روزگار رہا ۔ ان چار دنوں میں جتنا فکر مند رہا ابا جی اتنے ہی مطمئن نظر آئے ۔ پانچویں دن مجھے ایک ایسے ادارے سے فون کال آ گئی جہاں میں نے ایک سال قبل ایک دوست کے کہنے پر مذاق مذاق میں سی وی بھیجی تھی اور مجھے اب یاد تک نہ تھا ۔ تنخواہ کا پیکج پہلی ملازمت سے تین گنا تھا

اس کے بعد سے یہی ہوتا آیا ہے ۔ جب بھی خدا کے بھروسے کسی ملازمت سے استعفی دیا اللہ نے پہلے سے بڑھ کر نواز دیا ۔ رب کی مہربانیوں کی طویل داستانیں ہیں جن کا عینی شاہد ہوں ۔ ایک بار صورت حال یہ تھی کہ جب ابا جی اپنا گھر تعمیر کر رہے تھے تو ٹائلوں کے لئے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کم پڑ گئے ۔ ہم سب قدرے پریشان تھے تو ایک دن ابا جی کہنے لگے ”بیٹا ۔ میں ساری عمر حرام سے بچا ہوں اور تم سب کو بچایا ہے ۔ مجھ سمیت میرے خاندان کے کسی فرد نے کسی کا حق نہیں کھایا تو یہ کیسے ممکن ہے مجھے ضرورت ہو اور رب عطا نہ کرے“۔

تب عجیب سا لگا ۔ نہ کوئی وسیلہ ۔ نہ کہیں سے امید ۔ ابا جی کی ملازمت کے آخری ماہ تھے ۔ اچانک خبر ملی کہ ابا جی کو پنجاب کا بیسٹ آفسر قرار دیا گیا ہے ۔ وزیراعلی کی جانب سے ایوارڈ کے ساتھ ساتھ کیش انعام بھی تھا ۔ اس انعام کے باوجود ابھی بھی پچاس ہزار کم تھے ۔ ابا جی کہنے لگے ”میں مقابلے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا ۔ صرف اپنا فرض ادا کرتا رہا ہوں ۔ اللہ نے اس انعام کا حق دار قرار دلا کر یہ رقم دلوا دی ہے تو باقی رقم کا انتظام بھی وہی کر دے گا ۔ میں اس کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائوں گا“۔

اسی ہفتے اگلی خبر یہ ملی کہ محکمہ کی جانب سے بھی بہترین آفیسر قرار دیتے ہوئے کیش انعام دیا جا رہا ہے ۔ ہمیں جتنی رقم کی ضرورت تھی اس سے زیادہ رقم عزت کے ساتھ آ گئی تھی ۔ اس دن سے ایمان پختہ ہو گیا ۔ ہم کسی کا حق نہ ماریں تو خدا ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ ابا جی کی زندگی ایسے ہی معجزوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ان بظاہر عام سی باتوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ سو اب ڈر نہیں لگتا۔ نہ کسی سے ہارنے کا اور نہ ہی رزق کی کمی کا ۔ میں گھر میں سب سے زیادہ نکما ہوں ۔ جب سب تہجد کے لئے اٹھتے ہیں تب سوتا ہوں لیکن رب مجھے بھی میری سوچ سے زیادہ نواز دیتا ہے

آج یومِ اِسلامی جمہوریہ پاکستان ہے

124 بار دیکھا گیا

flag-1بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین جنتری کے مطابق 23 مارچ 1940ء لاہور میں بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی شمال کی طرف اُس وقت کے منٹو پارک میں جو پاکستان بننے کے بعد علامہ اقبال پارک کہلایا مسلمانانِ ہِند کے نمائندوں نے ایک مُتفِقہ قرارداد منظور کی جس کا عنوان” قراردادِ مقاصد“ تھا لیکن وہ minar-i-pakistanقرارداد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے قراردادِ پاکستان ثابت
ہوئی ۔ مینارِ پاکستان علامہ اقبال پارک میں ہی کھڑا ہے ۔ مینار پاکستان پاکستان بننے کے بعد بطور ”یادگار قراردادِ پاکستان“ تعمیر کیا گیا تھا ۔ کچھ لوگوں نے اِسے ”یادگارِ پاکستان“ کہنا شروع کر دیا جو کہ مناسب نہ تھا ۔ چنانچہ اسے مینارِ پاکستان کا نام دے دیا گیا

مندرجہ بالا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یکجہتی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو 5 دہائیوں سے ہمارے ملک سے غائب ہے ۔ اللہ قادر و کریم کے حضور میں دعا ہے کہ ہماری قوم کو سیدھی راہ پر گامزن کرے ۔ اِن میں مِلّی یکجہتی قائم کرے اور قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی مفاد کو بھُول کر باہمی اور قومی مفاد کیلئے جد و جہد کرے اور مستقبل کی دنیا ہماری قوم کی مثال بطور بہترین قوم دے ۔ آمین

میرے مشاہدے کے مطابق بہت سے ہموطن نہیں جانتے کہ 23 مارچ 1940ء کو کیا ہوا تھا ۔ متعلقہ حقائق کا مختصر ذکر یہاں ضروری سمجھتا ہوں

آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اِجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اِس کے ساتھ اِسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اِختلافات اِتنے شدید اور تلخ ہیں کہ اِن دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ اِنہیں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں“۔

قائد اعظم کے تصَوّرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ابُو القاسم فضل الحق (المعروف اے کے فضل الحق جن کے نام پر اسلام آباد بلیو ایریا میں جناح ایوَینِیو کے متوازی سڑک کا نام رکھا گیا ہے) جو اُن دنوں بنگال کے وزیرِ اعلٰی تھے نے تاریخی ” قراردادِ مقاصد“ پیش کی جس کا خلاصہ یہ ہے

” کوئی دستوری منصوبہ قابل عمل یا مسلمانوں کو منظور نہیں ہو گا جب تک جغرافیائی طور پر مُنسلِک مسلم اکثریتی علاقے قائم نہیں کئے جاتے ۔ جو مسلم اکثریتی علاقے شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان میں ہیں کو مسلم ریاستیں بنایا جائے جو ہر لحاظ سے خود مختار ہوں ۔ ان ریاستوں میں غیرمسلم اقلیت کو مناسب مؤثر تحفظات خاص طور پر مہیا کئے جائیں گے اور اِسی طرح جن دوسرے علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں اُن کو تحفظات مہیا کئے جائیں“۔

اس قراداد کی تائید پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ۔ سرحد سے سردار اورنگزیب ۔ سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسٰی ۔ یونائیٹڈ پراونس (اب اُتر پردیش) سے چوہدری خلیق الزمان کے علاوہ اور بہت سے رہنماؤں نے کی ۔ اس قراداد کے مطابق مغرب میں پنجاب ۔ سندھ ۔ سرحد اور بلوچستان اور مشرق میں بنگال muslim-majority-map اور آسام پاکستان کا حصہ بنتے ۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور اِس کی تفصیلات طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ یہ قراداد 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے دستور کا حصہ بنا دی گئی

مندرجہ بالا اصُول کو برطانوی حکومت نے مان لیا مگر بعد میں کانگرس اور لارڈ مؤنٹ بیٹن کی ملی بھگت سے پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو تقسیم کر دیا گیا اور آسام کی صورتِ حال بھی بدل دی گئی ۔ بنگال اور پنجاب کے صوبوں کو نہ صرف ضلعی بنیاد پر تقسیم کیا گیا بلکہ پنجاب کے ایک ضلع گورداسپور کو تقسیم کر کے بھارت کو جموں کشمیر میں داخل ہونے کیلئے راستہ مہیا کیا گیا

مسلم اکثریتی علاقے ۔ اس نقشے میں جو نام لکھے ہیں یہ چوہدری رحمت علی کی تجویز تھی ۔ وہ لندن [برطانیہ] میں مقیم تھے اور مسلم لیگ کی کسی مجلس میں شریک نہیں ہوئے ۔ اِس نقشے میں ہلال کے ساتھ 10 ستارے دکھائے گئے ہیں یعنی پاکستان کی مملکت 10 مُسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دکھائی گئی ہے جس میں (1) مغربی پاکستان (جسے پاکستان لکھا گیا ہے) ۔ (2) مشرقی پاکستان (جسے بنگالستان لکھا گیا ہے) ۔ (3) جنوبی پاکستان (جس میں ریاست حیدر آباد اور ملحقہ مُسلم علاقے شامل ہیں) ۔ (4) گجرات کاٹھیا واڑ اور منادور وغیرہ ۔ اور مزید 6 چھوٹے چھوٹے علاقے شامل ہیں
m-l-working-committee

مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی

۔

۔
welcome-addr-22-march-1940
شاہنواز ممدوٹ سپاسنامہ پیش کر رہے ہیں

چوہدری خلیق الزمان قرارداد کی تائید کر رہے ہیں
seconding-reson-march-1940

۔

۔
quaid-liaquat-mamdot
قائدِ ملت لیاقت علی خان اور افتخار حسین خان ممدوٹ وغیرہ قائد اعظم کے ساتھ

انشا ۔ اور ان شاء میں فرق

96 بار دیکھا گیا

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ” زبر “ اور ”زیر “ کا فر ق ہے ۔ یعنی ان شاء اللہ میں پہلے والے الف کے نیچے ” زیر “ ہے ۔ انشاء جس کا مطلب بنانا ہے اُس میں پہلے الف کے اُوپر ” زبر “ ہے اور سب اِنشاء کہتے ہیں اس لئے غلط نہیں کہتے
یہ استدلال درست نہیں ۔ ذرا غور کیجئے نیچے نقل کردہ سورت 56 الوَاقِعَہ ۔ آیت 35 پر ۔ اس میں پہلے والے انشا میں زبر ہے اور دوسرے والے میں الف کے نیچے زیر ہے جبکہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے ۔ عربی زبان میں ربر اور زیر کا فرق فاعل اور مفعول سے پڑتا ہے

“انشا “ قرآن شریف میں سورت 56 الواقعہ کی آیت 35 میں دو بار آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے بنانا یا تخلیق کرنا ۔ نیچے 4 تراجم نقل کئے ہیں
سورت 56 الوَاقِعَہ ۔ آیت 35 ۔ اِنَّاۤ اَنۡشَاۡ نٰہُنَّ اِنۡشَآءً
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور سے نئے سرے سے پیدا کریں گے
‏‏ ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے
بیشک ہم نے اِن (حوروں) کو (حسن و لطافت کی آئینہ دار) خاص خِلقت پر پیدا فرمایا ہے
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

“اِن شاء“ قرآن شریف میں آٹھ جگہ آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا
سورت 2 البقرہ ۔ آیت 70 ۔ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ
بولے دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کس قسم میں ہے وہ کیونکہ اس گائے میں شبہ پڑا ہے ہم کو، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پالیں گے‏
سورت 12 یُوسُف ۔ آیت 99 ۔ ۔ ۔ ۔ وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ
اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے
سورت 18 الکھف ۔ آیت 69 ۔ قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا
کہا تو پائے گا اگر اللہ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے والا اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم
سورت 27 النَّمل ۔ آیت 87 ۔ وَ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ
اور جس دن پھونکی جائے گی صور تو گھبرا جائے جو کوئی ہے آسمان میں اور جو کوئی ہے زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے
سورت 28 القَصَص۔ آیت 27 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَیۡکَ ؕ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ
تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے
سورت 37 الصافات ۔ آیت 102 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ
تو مجھ کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والا
سورت 39 الزُمر۔ آیت 68 ۔ وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ
اور پھونکا جائے صور میں پھر بےہوش ہو جائے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے پھر پھونکی جائے دوسری بار ، تو فوراً کھڑے ہوجائیں ہر طرف دیکھتے
سورت 48 الفتح ۔ آیت 27 ۔ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا
اللہ نے سچ دکھلایا اپنے رسول کو خواب تحقیق کہ تم داخل ہو رہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا آرام سے بال مونڈتے ہوئے اپنے سروں کے اور کترتے ہوئے بےکھٹکے پھر جانا وہ جو تم نہیں جانتے پھر مقرر کر دی اس سے ورے ایک فتح نزدیک

ایک کہانی ۔ ایک سبق

151 بار دیکھا گیا

ایک خُوبرُو جوان کی شادی ایک بہت ہی حسیِن لڑکی سے ہو گئی ۔ شادی کے بعد دونوں پیار و احترام سے رہنے لگے ۔ زندگی ہنسی خوشی گذر رہی تھی کہ بیوی کو ایک جِلدی بیماری ہو گئی جس نے اُس کی خوبصورتی کو گہنانا شروع کر دیا ۔ جب اُس کے چہرے پر اثر بڑھنے لگا تو چند دنوں کیلئے خاوند دَورے پر چلا گیا ۔ واپس آنے پر اُس نے بتایا کہ ایک حادثے کے نتیجہ میں وہ بینائی سے محروم ہو گیا ہے ۔ بہر کیف میاں بیوی کی محبت میں کوئی فرق نہ آیا اور زندگی کی گاڑی حسبِ معمول چلتی رہی

وقت گذرتا گیا اور کچھ سال بعد بیوی اس دُنیا سے رُخصت ہو گئی ۔ بیوی کی موت سے خاوند کو بڑا صدمہ ہوا ۔ بیوی کے کفن دفن سے فارغ ہو کر اُس نے اعلان کیا کہ اس مکان اور اس شہر میں نہیں رہ سکتا کہ ان کی ایک ایک چیز اُسے بہت تڑپائے گی ۔ اس لئے وہ شہر چھوڑ کر جا رہا ہے

جنازے کے ساتھ آئے لوگوں میں سے ایک بولا ” دوسری جگہ جا کر آپ زندگی کیسے گذاریں گے ؟ جب سے آپ کی آنکھیں خراب ہوئیں مرحومہ آپ کو ہر جگہ لے کر جاتی تھی اور ہر کام مین آپ کی مدد کرتی تھی“۔
مرحومہ کے خاوند نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا ” میں نابینا نہیں ہوں ۔ مجھے بالکل درست نظر آتا ہے ۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ اپنی خوبصورتی کو زائل ہوتا دیکھ کر مرحومہ غمگیں سی ہو گئی تھی ۔ وہ بہت اچھی بیوی تھی اور مجھ سے والہانہ محبت کرتی تھی ۔ اُس کی صحت کی خاطر میں نابینا بن گیا تھا جس کا اُس پر اچھا اثر پڑا“۔

سبق ۔ آپس کے تعلقات اچھے رکھنے کی خاطر دوسروں کی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے یعنی سب کچھ دیکھتے ہوئے ہمیں نابینا بننا پڑتا ہے

اللہ کریم ہمیں دوسروں کی خامیوں سے درگذر کرنے کی توفیق عطا فرمائے

ہمارے دعوے اور حقیقت

77 بار دیکھا گیا

ہم میں سے ہر ایک کا دعوٰی یہ ہے کہ ”مجھ جیسا کوئی نہیں“۔
اگر یہ کہہ دیا جائے ”مجھ جیسا کوئی نہ پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا“
تو شاید حقیقت سے قریب تر ہو
میں ایسے مُلک کے باشندوں جنہیں ہم جاہل یا کم علم یا ظالم سمجھتے ہیں کا دوسروں کے ساتھ سلوک کے اپنے چند تجربات بیان کرتا ہوں ۔ اِنہیں پڑھ کر ہم سب کو اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا چاہیئے

1 ۔ جس عمارت کے ایک اپارٹمنٹ میں ہم رہائش پذیر ہیں ۔ اس کے درمیان میں بہت بڑا صحن ہے جس میں 2 سوِمِنگ پُول اور بچوں کیلئے پلے لینڈ ہیں جن کے آس پاس کافی کھُلی جگہ ہے ۔ درمیان والی جگہ پر باربِیکیو کرنے کا بندوبست ہے اور وہاں 6 میزیں اور 24 سے زیادہ کرسیاں پڑی رہتی ہیں ۔ بچے اور بڑے شام کو یہاں آتے ہیں ۔ کچھ لوگ جاتے ہوئے اپنی کئی چیزیں وہاں چھوڑ جاتے ہیں ۔ کوئی چوکیدار یا گارڈ وغیرہ وہاں نہیں ہوتا ۔ یہ چیز یں ایک سے 4 دن تک وہاں پڑی رہتی ہیں ۔ مجال ہے کہ بڑا تو درکنار کوئی بچہ بھی اِن میں سے کِسی چیز کو اُٹھانا تو درکنار ہاتھ بھی لگائے

2 ۔ ایک دن ہم کسی کی مزاج پُرسی کیلئے ہسپتال گئے ۔ واپسی پر سڑک کے کنارے ٹیکسی کی انتظار میں کھڑے تھے ۔ ایک کار ہمارے پاس آہستہ ہوئی اور مناسب جگہ پر جا کر کھڑی ہوئی ۔ اس میں سوار صاحب نے آ کر ہمیں پوچھا ” کیا آپ ٹیکسی کی انتظار میں کھڑے ہیں ؟“
ہم نے کہا ”ہاں“۔
پھر وہ صاحب بولے ” یہاں ٹیکسی آسانی سے نہیں ملے گی ۔ آپ نے کہاں جانا ہے؟“
ہمارے بتانے پر کہا ” معذرت ۔ میں مخالف سمت میں جا رہا ہوں ۔ مال آف ایمِیریٹس کے پاس بڑا ٹیکسی سٹیڈ ہے ۔ میں آپ کو وہاں پہنچا دیتا ہوں“۔ اور پہنچا دیا
(ہم شہر سے باہر نئی آبادی میں رہتے ہیں جو شہر سے بہت دُور ہے)۔

3 ۔ ہمارے پوتا پوتی سکول سے بس پر پونے 4 بجے واپس پہنچتے ہیں ۔ اُنہیں لینے کیلئے میں اور بیگم نیچے جاکر فُٹ پاتھ پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ کئی بار راہ گذر پوچھتے ہیں ”میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا / سکتی ہوں ؟“

4 ۔ میں سڑک کے کنارے پیدل جاتے ہوئے سڑک پار کرنے کیلئے سڑک ک طرف منہ کر کے سڑک کے کنارے کھڑا ہوتا ہوں اگر گاڑیاں تیز جا رہی ہیں تو ایک دو گذرنے کے بعد باقی کھڑی ہو جائیں گی ورنہ پہلی گاڑی کھڑی ہو جائے گی اور میرے سڑک کے پار پہنچنے تک سب گاڑیاں کھڑی رہیں گی

5 ۔ یہاں سڑک پر گاڑیاں داہنی طرف چلتی ہیں ۔ اگر میں کار پر جا رہا ہوں تو ہر چوک (چوراہے یا چورنگی) پر میرے داہنی جانب سے آنے والی سب گاڑیاں رُک کر مجھے جانے دیں گی

6 ۔ سڑک پر کوئی گاڑی بغیر اشارہ دیئے اور میرے اُس کو راستہ دیئے بغیر بائیں یا داہنی جانب سے میری گاڑی کے سامنے آنے کی کوشش نہیں کرے گی

پکی بات

140 بار دیکھا گیا

کوئی ہے جو روزانہ بیان بازی کرنے والے اِن نام نہاد سیاسی لیڈروں کو سمجھائے کہ تقریر کرنے بیان داغنے اور الز امات لگانے سے صرف ماحول پراگندہ ہوتا ہے ۔ کچھ حاصل کرنے کے لئے خود کام کرنا پڑتا ہے

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہو گا
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا سب کو خود ہی جلانا ہو کا