Category Archives: دین

”پہلی بار ؟ ؟ ؟“۔

191 بار دیکھا گیا

ایک شخص کا اقرار
والدہ سے آخری بار بلند آواز سے بات کئے کئی برس بیت گئے ۔ تب ابا جی نے ایک جملہ کہا تھا جس کے بعد میری آواز گلے میں ہی کہیں دب گئی
کہنے لگے ”بیٹا اگر اتنا پڑھ لکھ کر بھی یہ نہ سیکھ پائے کہ بزرگوں سے بات کیسے کرنی ہے تو کل سے کالج نہ جانا ۔ جو تعلیم اچھا انسان نہ بنا پائے اس کا مقصد ہی کیا ہے ۔ کمائی تو سنیارے کی دکان کے باہر گندی نالی سے کیچڑ چھاننے والا اَن پڑھ بھی کئی پڑھے لکھوں سے زیادہ کر لیتا ہے“۔

اسی طرح پہلی اور آخری بار روزگار کا خوف تب ختم ہو گیا تھا جب ہم انتہائی سخت حالات کا شکار تھے ۔ چند ہزار کی ایک ملازمت کے دوران کسی نے ایسی بات کر دی جو برداشت نہ کر پایا ۔ دفتر سے ہی ابا جی کو مشورہ کے لئے فون کیا
کہنے لگے ”ملازمت چھوڑنے کے لئے مجھے فون تب کرنا جب خدا پر اعتبار نہ ہو ۔ اس مالک نے رزق کا وعدہ کیا ہے نا تو پھر اس کے وعدے پر یقین بھی رکھو ۔ یا پھر اسے مالک تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہو ؟ یہاں ملازمت کے لئے دل نہیں مانتا تو ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہ کرنا“۔

میں نے فون بند کیا اور اسی وقت استعفٰی لکھ دیا ۔ چار دن میں بے روزگار رہا ۔ ان چار دنوں میں جتنا فکر مند رہا ابا جی اتنے ہی مطمئن نظر آئے ۔ پانچویں دن مجھے ایک ایسے ادارے سے فون کال آ گئی جہاں میں نے ایک سال قبل ایک دوست کے کہنے پر مذاق مذاق میں سی وی بھیجی تھی اور مجھے اب یاد تک نہ تھا ۔ تنخواہ کا پیکج پہلی ملازمت سے تین گنا تھا

اس کے بعد سے یہی ہوتا آیا ہے ۔ جب بھی خدا کے بھروسے کسی ملازمت سے استعفی دیا اللہ نے پہلے سے بڑھ کر نواز دیا ۔ رب کی مہربانیوں کی طویل داستانیں ہیں جن کا عینی شاہد ہوں ۔ ایک بار صورت حال یہ تھی کہ جب ابا جی اپنا گھر تعمیر کر رہے تھے تو ٹائلوں کے لئے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کم پڑ گئے ۔ ہم سب قدرے پریشان تھے تو ایک دن ابا جی کہنے لگے ”بیٹا ۔ میں ساری عمر حرام سے بچا ہوں اور تم سب کو بچایا ہے ۔ مجھ سمیت میرے خاندان کے کسی فرد نے کسی کا حق نہیں کھایا تو یہ کیسے ممکن ہے مجھے ضرورت ہو اور رب عطا نہ کرے“۔

تب عجیب سا لگا ۔ نہ کوئی وسیلہ ۔ نہ کہیں سے امید ۔ ابا جی کی ملازمت کے آخری ماہ تھے ۔ اچانک خبر ملی کہ ابا جی کو پنجاب کا بیسٹ آفسر قرار دیا گیا ہے ۔ وزیراعلی کی جانب سے ایوارڈ کے ساتھ ساتھ کیش انعام بھی تھا ۔ اس انعام کے باوجود ابھی بھی پچاس ہزار کم تھے ۔ ابا جی کہنے لگے ”میں مقابلے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا ۔ صرف اپنا فرض ادا کرتا رہا ہوں ۔ اللہ نے اس انعام کا حق دار قرار دلا کر یہ رقم دلوا دی ہے تو باقی رقم کا انتظام بھی وہی کر دے گا ۔ میں اس کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائوں گا“۔

اسی ہفتے اگلی خبر یہ ملی کہ محکمہ کی جانب سے بھی بہترین آفیسر قرار دیتے ہوئے کیش انعام دیا جا رہا ہے ۔ ہمیں جتنی رقم کی ضرورت تھی اس سے زیادہ رقم عزت کے ساتھ آ گئی تھی ۔ اس دن سے ایمان پختہ ہو گیا ۔ ہم کسی کا حق نہ ماریں تو خدا ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ ابا جی کی زندگی ایسے ہی معجزوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ان بظاہر عام سی باتوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ سو اب ڈر نہیں لگتا۔ نہ کسی سے ہارنے کا اور نہ ہی رزق کی کمی کا ۔ میں گھر میں سب سے زیادہ نکما ہوں ۔ جب سب تہجد کے لئے اٹھتے ہیں تب سوتا ہوں لیکن رب مجھے بھی میری سوچ سے زیادہ نواز دیتا ہے

دوسرے کو تلقین ؟

131 بار دیکھا گیا

آجکل انسان کا طور طریقہ کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ خود چاہے ٹھیک ہو نہ ہو دوسروں کو ٹھیک کرنا اُس نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔ وہ کسی فتوٰی لگاتا ہے اور کسی کو بُرا لقب دیتا ہے
ہم مسلمان ہونے کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن اللہ کے فرمان (قرآن شریف) سے بہت دُور ہو چکے ہیں
قرآن شریف پر عمل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اِسے سمجھ کر پڑھیں
کسی کو ھدائت دینے کے متعلق اللہ کا پیغام بہت واضح ہے

سورت 16 النّحل ۔ آیت 35 ۔ فَہَلۡ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ سو رسولوں پر تو صرف کھُلم کھُلا پیغام پہنچا دینا ہے
سورت 16 النّحل ۔ آیت 82 ۔ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے
سورت 24 النّور ۔ آیت 54 ۔ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
سورت 29 العنکبوت ۔ آیت 18 ۔ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پیغام پہنچا دینا ہی
ہے
سورت 36 یس ۔ آیت 17 ۔ وَ مَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر (پیغام) پہنچا دینا ہے
سورت 64 التّغابُن ۔ آیت 12 ۔ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمے صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے

انشا ۔ اور ان شاء میں فرق

110 بار دیکھا گیا

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ” زبر “ اور ”زیر “ کا فر ق ہے ۔ یعنی ان شاء اللہ میں پہلے والے الف کے نیچے ” زیر “ ہے ۔ انشاء جس کا مطلب بنانا ہے اُس میں پہلے الف کے اُوپر ” زبر “ ہے اور سب اِنشاء کہتے ہیں اس لئے غلط نہیں کہتے
یہ استدلال درست نہیں ۔ ذرا غور کیجئے نیچے نقل کردہ سورت 56 الوَاقِعَہ ۔ آیت 35 پر ۔ اس میں پہلے والے انشا میں زبر ہے اور دوسرے والے میں الف کے نیچے زیر ہے جبکہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے ۔ عربی زبان میں ربر اور زیر کا فرق فاعل اور مفعول سے پڑتا ہے

“انشا “ قرآن شریف میں سورت 56 الواقعہ کی آیت 35 میں دو بار آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے بنانا یا تخلیق کرنا ۔ نیچے 4 تراجم نقل کئے ہیں
سورت 56 الوَاقِعَہ ۔ آیت 35 ۔ اِنَّاۤ اَنۡشَاۡ نٰہُنَّ اِنۡشَآءً
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور سے نئے سرے سے پیدا کریں گے
‏‏ ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے
بیشک ہم نے اِن (حوروں) کو (حسن و لطافت کی آئینہ دار) خاص خِلقت پر پیدا فرمایا ہے
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

“اِن شاء“ قرآن شریف میں آٹھ جگہ آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا
سورت 2 البقرہ ۔ آیت 70 ۔ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ
بولے دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کس قسم میں ہے وہ کیونکہ اس گائے میں شبہ پڑا ہے ہم کو، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پالیں گے‏
سورت 12 یُوسُف ۔ آیت 99 ۔ ۔ ۔ ۔ وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ
اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے
سورت 18 الکھف ۔ آیت 69 ۔ قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا
کہا تو پائے گا اگر اللہ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے والا اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم
سورت 27 النَّمل ۔ آیت 87 ۔ وَ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ
اور جس دن پھونکی جائے گی صور تو گھبرا جائے جو کوئی ہے آسمان میں اور جو کوئی ہے زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے
سورت 28 القَصَص۔ آیت 27 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَیۡکَ ؕ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ
تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے
سورت 37 الصافات ۔ آیت 102 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ
تو مجھ کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والا
سورت 39 الزُمر۔ آیت 68 ۔ وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ
اور پھونکا جائے صور میں پھر بےہوش ہو جائے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے پھر پھونکی جائے دوسری بار ، تو فوراً کھڑے ہوجائیں ہر طرف دیکھتے
سورت 48 الفتح ۔ آیت 27 ۔ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا
اللہ نے سچ دکھلایا اپنے رسول کو خواب تحقیق کہ تم داخل ہو رہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا آرام سے بال مونڈتے ہوئے اپنے سروں کے اور کترتے ہوئے بےکھٹکے پھر جانا وہ جو تم نہیں جانتے پھر مقرر کر دی اس سے ورے ایک فتح نزدیک

قرآن شریف یا آپ ؟ ؟ ؟

179 بار دیکھا گیا

اہم یہ نہیں ہے کہ آپ قرآن شریف کی تعلیم میں کہاں تک پہنچے ہیں
بلکہ اہم یہ ہے کہ قرآن شریف نے آپ کے اندر کتنا گھر کیا ہے

اہم یہ نہیں کہ آپ نے کتنی بار قرآن شریف پڑھا
اہم یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن شریف آپ کے عمل میں نظر آئے
اور وہ اس طرح کہ
جن کے پاس کپڑے نہیں ہیں اُنہیں کپڑے پہنائیں
جو بھوکے ہیں ، اُنہیں کھانا کھلائیں
یتیموں اور مُفلِسوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں
جو آپ کو تکلیف پہنچائے اُسے معاف کر دیں
جو آپ کی مدد کرے اُسے یاد رکھیں
اپنے والدین کی خدمت کریں اور اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں

غور کیوں نہیں کرتے ؟

212 بار دیکھا گیا

قرآن شریف کی تلاوت کارِ ثواب ہے لیکن قرآن شریف کا مقصد اِسے سمجھنا اور اِس کے مطابق عمل کرنا ہے

سورت 39 الزُمَر ۔ آیت 9 ۔ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ
کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں

دین کی بات نہ بھی کریں تو عِلم والے کا مطلب رَٹا لگانے والا نہیں ہے بلکہ سمجھ کر اُس پر عمل کرنے والا ہے
اللہ نے انسان کو غور کرنے کا سبق بھی دیا ہے کیونکہ غور کرنے سے ہی درست سمجھ آ سکتی ہے

سورت 6 الانعام ۔ آیت 50 ۔ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ
بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟

ایک غیر مُسلم آئزک نِیوٹَن (1643ء ۔ 1727ء) جو مشہور ماہر طبیعات و ریاضی تھے اِن الفاظ میں غور کرنے کو اُجاگر کیا تھا
”ایک انگھوٹھے کی ایک پَور کا مطالعہ ہی یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ خدا ہے“۔

ہم سِینہ ٹھَونک کر مسلمان ہونے کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن اللہ کا فرمان جسے احترام کی خاطر ہم مخمل میں لپیٹ کر اُونچی جگہ پر رکھتے ہیں اُسے سمجھنے اور اُس پر غور و فکر کرنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا ۔ ہم دُنیاوی معاملات میں بھی صورتِ حال اور معاملہ کا مکمل جائزہ لئے بغیر فتوٰی صادر کر دیتے ہیں

اللہ ہمیں اپنے کلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

قابلِ توجہ

310 بار دیکھا گیا

عام لوگ جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی شامل ہیں آئے دن کچھ ایسے عمل کرتے رہتے ہیں جو گناہ ہیں لیکن اُنہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں
اِن عوامِل کو ایک اہلِ عِلم نے آسان زبان میں لکھا ہے تاکہ عوام کی سمجھ میں آ جائیں اور وہ اِن گناہوں سے بچ سکیں
1 ۔ ریا کاری ۔ ۔ ۔ عبادت یا نیکی کرتے ہوئے دِکھانا ۔ آج کل کئی لوگوں کا معمول بن گیا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کیلئے جاتے ہیں تو احرام پہنے اور حرم شریف کے اندر تصاویر کھینچ کر عزیز و اقارب کو بھیجتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں سوشل میڈیا جیسے فیس بُک پر لگا دیتے ہیں
2 ۔ بد گمانی ۔ ۔ ۔ کسی کیلئے غلط خیال دل میں لانا
3 ۔ دھوکہ ۔ ۔ ۔ عیب چھُپا کر مال بیچنا ۔ یا بیچتے ہوئے عیب دار مال کا عیب نہ دکھانا
4 ۔ ٹوہ میں رہنا ۔ ۔ ۔ دوسرے کی سرگرمی پر نظر رکھنا
5 ۔ غیبت ۔ ۔ ۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا (خواہ وہ برائی اُس میں موجود ہو)
6 ۔ طعنہ دینا ۔ ۔ ۔ احسان کر کے جتانا
7 ۔ تکبّر ۔ ۔ ۔ اپنے آپ کو بڑا یا بہتر سمجھنا (کئی بڑے نمازی اور خیرات کرنے والے اپنے نوکروں یا حاجتمندوں کو سامنے کھڑا رکھتے یا زمین پر بٹھاتے ہیں جبکہ خود صوفہ پر بیٹھے ہوتے ہیں)
8 ۔ چُغلی ۔ ۔ ۔ ایک کی بات کسی دوسرے سے بیان کرنا
9 ۔ سازش ۔ ۔ ۔ دوسرے کے خلاف کوئی منصوبہ بنانا یا کسی کو منصوبہ بنانے کی ترغیب دینا
10 ۔ اسراف ۔ ۔ ۔ ضرورت سے زیادہ خرچ یا استعمال کرنا ۔ جیسے گلاس بھر کر پانی لینا لیکن سارا نہ پینا اور چھوڑ دینا
11 ۔ حسد ۔ ۔ ۔ کسی کی خوشی یا ترقی سے بُرا محسوس کرنا
12 ۔ کانا پھُوسی ۔ ۔ ۔ محفل میں کھُلی بات کرنے کی بجائے کسی ایک کے کان میں کہنا