Category Archives: تجزیہ

۔ ہماری ثقافت کیا ہے ؟What is our Culture?

307 بار دیکھا گیا

آخر ہماری ثقافت ہے کیا ؟ اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟ یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟
چھ دہائیاں قبل جب میں انٹرمیڈیٹ میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا
اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اُس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ ”رشیّن کلچرل ٹروپے)Russian Cultural Troupe)نے پرفارمینس(Performance) دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا“۔ میں نے پوچھا کہ ”پھر کیا دیکھا ؟“ کہنے لگا “اہُوں کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا “۔

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں
ميرے دفتر کے 3 پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر 5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھنٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر 3 گھنٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر پہنچ گیا

کچھ سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھَٹنے لگا ۔ اِنتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے ”ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے“۔
محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ عمر رسیدہ یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں(Screeches) ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کے درمیان کسی کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام اللہ تعالٰی نے شاید مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ (؟) سے لينا تھا

اسلام آباد میں جناح سُپر مارکیٹ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک خوش پوش جوان نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیا ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا ”جناب آپ نے میری گاڑی بلاک (block) کر دی ہے ۔ پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے“۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا “گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے”۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی (جو شاید بیوی تھی) کو وہیں ٹھہرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی

پھَل لینے گیا ۔ دُکاندار سے کہا ”بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی“ ۔ دُکاندار بولا ”جناب ہماری ایسی عادت نہیں“ ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیا ۔ گھر آ کر دیکھا تو 10 فيصد داغدار تھے ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا ”ہماری ایسی عادت نہیں“ یعنی اچھا دینے کی

3 دہائیاں قبل جب میں جنرل منیجر (گریڈ 20) تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب (گریڈ 19) آئے اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے ”اوئے ۔ یہ دوائیاں دو“۔ ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آئے ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟ بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے“ ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پرائے میں ۔ حقیقت یہ تھی کہ وہاں بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے تھے

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے

اسلام آباد ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين (lane) ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں جانب تھی جو بائيں طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے میری کار کا اگلا بَمپَر بھی چیرتے ہوئے ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف نقلی چیز اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ہے

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکّا اور نیو اِیئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں

کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟
کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟
کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟
نہیں بالکل بھی نہیں ۔
اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین
ثقافت کی حقیقت جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

حادثہ اور ہمارا کردار

132 بار دیکھا گیا

عیدالفظر سے ایک دن قبل احمد پور شرقیہ کے پاس ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں 150 افراد لُقمہءِ اجل بن گئے اور 100 زخمی ہوئے ۔ وطنِ عزیز میں عام طور پر اختیار کئے جانے والے ردِ عمل جس میں ہر کوئی حکومت اور سرکاری اہلکاروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر کوسنا شروع کر دیتا ہے سے ہٹ کر میں ایک خاص تکنیکی نقطہءِ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں جو میرے زندگی بھر کے مشاہدات پر مبنی ہے

واقعات کا خلاصہ کچھ یُوں ہے ۔ صبح سویرے ساڑھے 5 بجے 25000 لیٹر پٹرول سے بھرا ٹینکر شاہراہ پر اُلٹ گیا ۔ پٹرول بہنے لگا ۔ قریبی دیہات کے لوگ بالٹیاں اور ڈبے لے کر پٹرول لُوٹنے پہنچ گئے ۔ ڈرائیور نے اُنہیں ٹوکا ۔ ٹریفک پولیس نے اُنہیں منع کیا لیکن بے سود ۔ شاہرہ پر سفر کرنے والے اپنی کاریں اور موٹر سائیکلیں روک کر حصہ وصول کرنے لگے ۔ اس طرح سینکڑوں لوگ اس لُوٹ میں شامل ہو گئے ۔ ایک لمحہ کیلئے بھی نہ سوچا کہ وہ آگ کے بم کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔ بے فکری کا یہ عالم کہ سوا 6 بجے کے بعد کسی نے جلتا سگریٹ پھینکا پھر وہی ہوا جو متوقع تھا

اب اس سے مِلتے جُلتے حادثہ کا خلاصہ جو 4 دہائیاں قبل پیش آیا تھا
۔ میں طرابلس (لبیا) میں کہیں سے اپنی رہائشگاہ کی طرف آ رہا تھا ۔ مخالف سمت سے 2 پٹرول کے ٹینکر آگے پیچھے آ رہے تھے ۔ اگلے ٹینکر کے آگے سے ایک چھوٹا لڑکا بھاگ کر سڑک پار کر گیا ۔ بچے کو بچاتے ہوئے ٹینکر ڈرائیور نے یکدم بریک لگائی اور ٹینکر بائیں جانب موڑ کر درمیانی پٹڑی پر چڑھا دیا ۔ لڑکا تو بچ گیا لیکن پچھلا ٹینکر اگلے ٹینکر سے ٹکرایا گیا ۔ میں اگلے ٹینکر سے پانچ چھ میٹر کے فاصلے پر رُک گیا ۔ میری داہنی طرف ایک گاؤں تھا اور سڑک کے دونوں جانب گاؤں والوں کی دُکانیں تھیں

رُکنے کے بعد میں نے دیکھا کہ پٹرول سڑک پر بہنا شروع ہو گیا ہے ۔ دُکاندار اور گاؤں کے لوگ ٹینکروں کے گرد کم از کم 5 میٹر فاصلہ چھوڑ کر ایک دائرہ بنا چکے تھے دو تین آدمی دونو اطراف سے آنے والی ٹریفک کو روکنا شروع ہو گئے ۔ کچھ آدمی گینتیاں اور بیلچے لے کر آ گئے اور سڑک کے کنارے کچی جگہ پر گڑھا کھودنے لگ گئے ۔ کچھ بیلچوں والے کھودی ہوئی مٹی اُٹھا کر ٹینکر سے گھڑے تک ایک نہر بنانے لگ گئے ۔ جب پٹرول گڑھے کی طرف آنا شروع ہوا تو لوگ ایک اور گڑھا کھودنے لگ گئے ۔ پھر جو لوگ پہلے نہر بنا رہے تھے وہ دوسرے گڑھے کی مٹی اُس پٹرول پر ڈالنے لگ گئے جو چاروں طرف پھیل گیا تھا ۔ اس سارے عمل میں 15 منٹ لگے ہوں گے

اب میں نے سوچا کہ مجھے پچھلے جانا چاہیئے ۔ میں نے اپنی کار سے باہر نکل کر پچھلی طرف دیکھا تو کچھ لوگ تمام گاڑیوں کو پیچھے جانے کا اشارہ کر رہے ہیں اور گاڑیاں تیزی سے اُلٹی ہی پیچھے جانا شروع ہو چکی ہیں ۔ چند منٹ بعد میں بھی اپنی کار اُلٹی ہی پیچھے لے جا رہا تھا ۔ 10 منٹ اُلٹا جانے کے بعد ایک سڑک آئی جس پر سب لوگ مُڑ رہے تھے ۔ میں بھی مُڑ کر گاؤں کے اندر چلا گیا ۔ آہستہ آہستہ کار چلاتا کوئی 100 میٹر کے بعد پھر مُڑ کر اپنی رہائشگاہ کی سمت چل پڑا ۔ اپنی رہائش گاہ سے ایک کلومیٹر سے زائد آگے جا کر ایک سڑک پر مُڑ کر پھر رہائشگاہ کے پچھلی طرف گلی میں داخل ہو کر گھر پہنچا کیونکہ میری رہائشگاہ کا سامنے کا راستہ بھی بند تھا

قارئین کرام ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں میرے ہموطن اَن پڑھ ۔ جاہل ۔ بیوقوف اور نجانے کیا کچھ خطابات دیا کرتے تھے

بہت دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فی زمانہ ہموطنوں نے بے تُکی باتیں اور حرکات بہت سیکھ لی ہیں مگر کام کی بات اور باہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ عام طور پر اپنی کوتاہیاں وطن عزیز یا حُکرانوں کے سر تھوپ کر سرزنش کرتے رہتے ہیں ۔ ایک فقرہ عام طور پر بولا جاتا ہے ”اِس مُلک کا 70 سال سے بُرا حال ہے“۔ حالانکہ کہ ایسا کہنے والوں کو پچھلے 10 سال کے واقعات بھی یاد نہیں رہتے اور بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف وطنِ عزیز پاکستان کے حُکمران بلکہ اس میں بسنے والے سب بھی 1966ء تک باہمی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے تھے اور نظم و بُردباری کا مظاہرہ کرتے تھے ۔ پھر ایک نئی طرز کے شخص نے لیڈر بننے کی کوشش میں زہر گھولنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں ہماری 1966ء تک والی خصوصیات جن کی بدولت اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے ہمیں پاکستان عطا فرمایا تھا اور اس کی تعمیر کی توفیق دی تھی وہ خصوصیات اب اپنے دیس میں ناپید ہو چکی ہیں ۔ صرف ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں

فی زمانہ سب جانتے ہیں کہ دُشمن کے زر خرید ہموطن اپنے ہی وطن میں دہشتگردی کر کے ہزاروں شہریوں کو ہلاک کر چکے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں ۔ ۔ ۔

Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:
American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy.

ترجمہ ۔ بھارت کے ایک رسالے میں 24 اکتوبر 1951 میں چھپنے والے مضمون سے اقتباس
امریکی دانشوروں نے لیاقت علی کے قتل کے منصوبہ پر غور شروع کر دیا ۔ امریکہ چاہتا تھا کہ قاتل مسلمان ہو تاکہ بین الاقوامی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے ۔ جس طرح کہ ایران ۔ عراق ۔ اُردن میں غدار مل گئے تھے امریکہ کو پاکستان میں ایک بھی غدار نہ مل سکا ۔واشگٹن سے حُکمرانوں نے کابل میں امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیا ۔ امریکی سفارتخانے نے پختونستان کے لیڈروں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اُن کے راست میں لیاقت علی ہی ایک رکاوٹ ہے اور اُنہیں یقین دلایا کہ اگر وہ لیاقت علی کو ہلاک کر دیں تو 1952ء تک وہ پختونستان قائم کر دیں گے ۔ پختون لیڈروں نے اس کام کیلئے اکبر (سید اکبر) کو تیار کیا اور سازش کو چھُپانے کی خاطر سید اکبر کو بھی ہلاک کرنے کا بندوبست کر دیا

مسلمان بدنام کيوں ہيں ۔ لمحہءِ فکريہ

367 بار دیکھا گیا

کِسی مُلک کا قانون وہ ہوتا ہے جو کہ اُس مُلک کا مجاز حاکم بناتا ہے اور یہ بھی تمام ممالک کے قوانین کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ قانون سے لاعلمی بریّت یا معافی کا جواز نہیں ۔ کوئی ذی شعور آدمی يہ نہيں کہتا کہ قانون وہ ہے جس طرح لوگ کر رہے ہيں ۔ ايک روزمرّہ کی مثال ديتا ہوں ۔ ہمارے ملک ميں قوانين کی کھُلم کھُلا خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ ٹريفِک کے قوانين ہی کو لے ليجئے ۔ مقررہ رفتار سے تيز گاڑی چلانا ۔ غلط طرف سے اوورٹيک کرنا اور چوراہے ميں بتی سُرخ ہوتے ہوئے گذر جانا عام سی بات ہے ۔ 90 فيصد لوگ ٹريفک قوانين کی خلاف ورزی کرتے ہيں مگر کبھی کِسی نے نہيں کہا کہ قانون وہی ہے جيسا لوگ کرتے ہيں ۔ ليکن دین اسلام کا معاملہ ہو تو بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ مسلمان کہلوانے والوں کے کردار کو اسلام کا نام دے کر اسلام کی ملامت کرتے ہيں يا اسے رَد کرتے ہيں

اِسلام کے قوانین قرآن الحکیم میں درج ہیں ۔ قرآن شریف میں اللہ کا حُکم ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اِسلئے حدیث اور سنتِ رسول بھی اِسلام کے قوانین کا حصّہ ہيں ۔ قرآن الحکيم اور حديث کا مطالعہ کيا جائے تو اس میں نہ صرف يہ کہ کوئی بُرائی نظر نہيں آتی بلکہ اچھائياں ہی اچھائياں نظر آتی ہيں اور کئی غيرمُسلم مفکّروں نے بھی اسے بہترين قانون قرار ديا ۔ سياسی ليڈروں ميں چين کے ايک وزيراعظم اور بھارت کے ايک صدر نے دو اميرالمؤمنين اور خليفہ ابوبکر صِدّيق رضی اللہ عنہ اور عُمر رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کو انسانوں کے لئے بہترين قرار ديا حالانکہ ان دونوں شخصيات کا مسلک اسلام سے عاری تھا ۔ جسٹس کارنيليئس جو عيسائی تھے مگر اعلٰی پائے کے قانون دان تھے نے آسٹريليا ميں ورلڈ چيف جسٹسز کانفرنس ميں کہا تھا کہ دنيا کا بہترين اور قابلِ عمل قانون اسلامی قانون ہے اور يہ انتہائی قابلِ عمل بھی ہے اور اس کے حق ميں دلائل بھی ديئے ۔ دنيا کے کسی چيف جسٹس نے اُن کے اس استدلال کو رد کرنے کی کوشش نہ کی

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کا کردار ايسا تھا کہ اُن کے دين کے دُشمن بھی اُنہيں صادق ۔ امين اور مُنصِف سمجھتے تھے ۔ اُن کے پاس اپنی امانتيں رکھتے ۔ اُن سے اپنے معاملات ميں فيصلے کرواتے ۔ يہاں تک کہ يہودی اور مُسلمان ميں تنازع ہو جاتا تو يہودی فيصلہ کے لئے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے پاس جاتے اور جو وہ فيصلہ کرتے اُسے بخوشی قبول کرتے

خلفائے راشدين کو بھی ديکھیئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اميرالمؤمنين اور خليفہ ہيں ۔ ساتويں صدی عيسوی ميں بيت المقدّس پر بازنطینی [عيسائی] حکومت تھی جس نے 636ء میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا تھا

اب سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر آج مُسلمان بدنام کيوں ہيں ؟ اگر ديکھا جائے تو ہم اپنے دين اسلام کی بدنامی کا باعث ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ جس طرح کسی مُلک کا قانون وہ نہیں ہوتا جس طرح وہاں کے لوگ عمل کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جو مجاز حاکم بناتا ہے ۔ اسی طرح اِسلام بھی وہ نہیں ہے جس طرح کوئی عمل کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اللہ نے قرآن شریف میں اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ اٰلِہِ و سلّم نے اپنی حدیث اور عمل کے ذریعہ سمجھایا ہے

مُسلمانوں کی بدقسمتی يہ ہے کہ اُنہوں نے دنيا کی ظاہری چکاچوند سے مرغوب ہو کر اپنے دين پر عمل کرنا چھوڑ ديا ہے ۔ ناجائز ذاتی مفاد کيلئے جھوٹی گواہی ديتے ہيں ۔ اپنی خوبی جتانے کيلئے دوسروں کی عيب جوئی کرتے ہيں ۔ نہ تجارت ميں نہ لين دين ميں نہ باہمی سلوک ميں کہيں بھی اسلامی اصولوں کو ياد نہيں رکھا جاتا اور حالت يہ ہو چکی ہے کہ آج کا ايک اچھا مُسلمان تاجر ايک غير مُسلم تاجر پر تو اعتبار کر ليتا ہے مگر مُسلمان پر نہیں کرتا ۔ مُسلمان اس خام خيالی ميں مبتلا ہو گئے ہيں کہ سب کچھ کرنے کے بعد حج کر ليں گے تو بخش ديئے جائيں گے يا کسی پير صاحب کے پاس جا کر يا کسی قبر پر چڑھاوا چڑھا کر بخشوا ليں گے ۔ ہماری قوم کی اصل بيماری محنت کرنے کا فُقدان ہے ۔ صرف دين ہی نہيں دنيا ميں بھی شارٹ کَٹ ڈھونڈ لئے ہوئے ہيں ۔ امتحان پاس کرنے کيلئے کتابوں کی بجائے نوٹس پڑھ لئے وہ بھی اپنے لکھے ہوئے نہيں فوٹو کاپياں کالجوں ميں بِکتی ہيں ۔ والدين مالدار ہوں تو ممتحن اساتذہ کی جيبيں بھر نے سے بالکل آسانی رہتی ہے ۔ زيادہ مال بنانے کيلئے ہيراپھيری کرتے ہيں ۔ تولتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہيں ۔ اشياء خوردنی ميں ملاوٹ کرتے ہيں ۔ افسوس صد افسوس ۔ بننا تو امريکن چاہتے ليکن اتنی تکليف نہيں کرتے کے اُن سے محنت کرنا ہی سِيکھ ليں البتہ اُن کی لغويات سيکھ لی ہيں ۔

يہ ہنسنے کی باتيں نہيں پشيمان ہونے اور اپنے آپ کو ٹھيک کرنے کی سوچ کی باتيں ہيں ۔ ہم خود تو اپنے کرتوُتوں سے بدنام ہوئے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے ہمارے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے ذريعہ آئے ہوئے دين کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہيں

اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے ۔ اس پر عمل کرنے اور اپنے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ومَا عَلَيْنَا اِلْالّبلَاغ المبین

حاکم کا کردار

344 بار دیکھا گیا

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ روزانہ نمازِ فجر کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غائب ہو جاتے ہیں
ایک روز عمر فاروق رضی اللہ عنہ چُپکے سے اُن کے پیچھے چل پڑے ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چلتے چلتے مدینہ سے باہر نکل گئے اور شہر سے باہر ایک خیمہ میں داخل ہو کر کچھ دیر اندر رہنے کے بعد واپس مدینہ کی طرف چل پڑے
بعد میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ خیمے میں گئے تو وہاں ایک بُڑھیا کو پایا
پوچھنے پر بڑھیا نے بتایا ”میں نابینا اور مُفلس عورت ہوں ۔ میرا اور میرے دو بچوں کا اللہ کے سوا کوئی نہیں ۔ یہ آدمی روزانہ آ کر جھاڑو دیتا ہے اور کھانا بنا کر چلا جاتا ہے“۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا ”اے ابو بکر ۔ تُو نے بعد والوں کو بہت مُشکل میں ڈال دیا“۔

ہمارے دعوے اور حقیقت

219 بار دیکھا گیا

ہم میں سے ہر ایک کا دعوٰی یہ ہے کہ ”مجھ جیسا کوئی نہیں“۔
اگر یہ کہہ دیا جائے ”مجھ جیسا کوئی نہ پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا“
تو شاید حقیقت سے قریب تر ہو
میں ایسے مُلک کے باشندوں جنہیں ہم جاہل یا کم علم یا ظالم سمجھتے ہیں کا دوسروں کے ساتھ سلوک کے اپنے چند تجربات بیان کرتا ہوں ۔ اِنہیں پڑھ کر ہم سب کو اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا چاہیئے

1 ۔ جس عمارت کے ایک اپارٹمنٹ میں ہم رہائش پذیر ہیں ۔ اس کے درمیان میں بہت بڑا صحن ہے جس میں 2 سوِمِنگ پُول اور بچوں کیلئے پلے لینڈ ہیں جن کے آس پاس کافی کھُلی جگہ ہے ۔ درمیان والی جگہ پر باربِیکیو کرنے کا بندوبست ہے اور وہاں 6 میزیں اور 24 سے زیادہ کرسیاں پڑی رہتی ہیں ۔ بچے اور بڑے شام کو یہاں آتے ہیں ۔ کچھ لوگ جاتے ہوئے اپنی کئی چیزیں وہاں چھوڑ جاتے ہیں ۔ کوئی چوکیدار یا گارڈ وغیرہ وہاں نہیں ہوتا ۔ یہ چیز یں ایک سے 4 دن تک وہاں پڑی رہتی ہیں ۔ مجال ہے کہ بڑا تو درکنار کوئی بچہ بھی اِن میں سے کِسی چیز کو اُٹھانا تو درکنار ہاتھ بھی لگائے

2 ۔ ایک دن ہم کسی کی مزاج پُرسی کیلئے ہسپتال گئے ۔ واپسی پر سڑک کے کنارے ٹیکسی کی انتظار میں کھڑے تھے ۔ ایک کار ہمارے پاس آہستہ ہوئی اور مناسب جگہ پر جا کر کھڑی ہوئی ۔ اس میں سوار صاحب نے آ کر ہمیں پوچھا ” کیا آپ ٹیکسی کی انتظار میں کھڑے ہیں ؟“
ہم نے کہا ”ہاں“۔
پھر وہ صاحب بولے ” یہاں ٹیکسی آسانی سے نہیں ملے گی ۔ آپ نے کہاں جانا ہے؟“
ہمارے بتانے پر کہا ” معذرت ۔ میں مخالف سمت میں جا رہا ہوں ۔ مال آف ایمِیریٹس کے پاس بڑا ٹیکسی سٹیڈ ہے ۔ میں آپ کو وہاں پہنچا دیتا ہوں“۔ اور پہنچا دیا
(ہم شہر سے باہر نئی آبادی میں رہتے ہیں جو شہر سے بہت دُور ہے)۔

3 ۔ ہمارے پوتا پوتی سکول سے بس پر پونے 4 بجے واپس پہنچتے ہیں ۔ اُنہیں لینے کیلئے میں اور بیگم نیچے جاکر فُٹ پاتھ پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ کئی بار راہ گذر پوچھتے ہیں ”میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا / سکتی ہوں ؟“

4 ۔ میں سڑک کے کنارے پیدل جاتے ہوئے سڑک پار کرنے کیلئے سڑک ک طرف منہ کر کے سڑک کے کنارے کھڑا ہوتا ہوں اگر گاڑیاں تیز جا رہی ہیں تو ایک دو گذرنے کے بعد باقی کھڑی ہو جائیں گی ورنہ پہلی گاڑی کھڑی ہو جائے گی اور میرے سڑک کے پار پہنچنے تک سب گاڑیاں کھڑی رہیں گی

5 ۔ یہاں سڑک پر گاڑیاں داہنی طرف چلتی ہیں ۔ اگر میں کار پر جا رہا ہوں تو ہر چوک (چوراہے یا چورنگی) پر میرے داہنی جانب سے آنے والی سب گاڑیاں رُک کر مجھے جانے دیں گی

6 ۔ سڑک پر کوئی گاڑی بغیر اشارہ دیئے اور میرے اُس کو راستہ دیئے بغیر بائیں یا داہنی جانب سے میری گاڑی کے سامنے آنے کی کوشش نہیں کرے گی

جسمانی درد جذباتی حالت کا نتیجہ

375 بار دیکھا گیا

ماہرین کہتے ہیں کہ مشق طب مٖغربی (Western medicine practice) نے انسان کے جسم کے ذہن ۔ روح اور جذبات کے ساتھ تعلق کو بالکل نظر انداز کیا ہے ۔ جسم اور جذبات کے درمیان تعلق انسان اکثر محسوس کرتا ہے لیکن اس پر توجہ نہیں دیتا

انسان کے جسم میں 9 قسم درد ایسے ہیں جن کا تعلق انسان کی جذباتی حالت سے ہوتا ہے
1 ۔ سر درد ۔ دن بھر کی جد و جہد ۔ کشمکش یا سختی کا نتیجہ ہوتا ہے جو آرام کرنے سے ٹھیک ہو جاتا ہے
2 ۔ گردن میں درد ۔ دوسروں اور اپنے آپ کو معاف نہ کرنے کی عادت سے پیدا ہوتا ہے ۔ درگذر کرنا سیکھیئے
3 ۔ کندھے میں درد ۔ زیادہ جذباتی وزن اُٹھانے کے نتیجے میں ہوتا ہے یعنی ساری ذمہ داریوں کو اپنے ہی کندھوں پر اُٹھائے رکھنا ۔ دوسروں پر بھروسہ کرنا سیکھیئے
4 ۔ پُشت کے اُوپری حصے میں درد ۔ اس وجہ آپ کو جذباتی سہارا نہ ملنا یا آپ کا سمجھنا کہ آپ کی مدد کوئی نہیں کرتا یا کہ آپ کا کوئی نہیں ۔ چنانچہ اگر آپ کنوارے ہیں تو شادی کرنے کا سوچیئے ۔ اگر شادی شدہ ہیں تو بے غرض ہو کر دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے
5 ۔ پُشت کے نِچلے حِصے میں درد ۔ روزی یا دولت کی فکر رہنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس درد سے نجات کیلئے اپنے اخراجات کی بہتر منصوبہ بندی کیجئے ۔ محنت کیجئے اور نتیجہ کیلئے پریشان نہ ہویئے
6 ۔ کوہنی میں درد زندگی میں تبدیلی کے خلاف مزاحمت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ مناسب مفاہمت کا راستہ اختیار کیجئے
7 ۔ ہاتھوں میں درد کا مطلب ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ تعلقات یا تعاون سے ہچکچاتے ہیں ۔ دوستانہ رویّہ اپنایئے
8 ۔ کولہے میں درد ۔ گھومنے پھرنے یا نقل مکانی یا ملازمت یا کاروبار کی جگہ تبدیل کرنے سے گبھرانے کی یا پھر فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کی عادت سے پیدا ہوتا ہے ۔ حالات جیسے ہوں اُنہیں قبول کرنا سیکھیئے
9 ۔ گھُٹنے میں درد ۔ یہ درد اَنا یا اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ چاہیئے کہ اَنا سے بیئے اور رضاکارانہ کاروئیوں میں حصہ لیجئے ۔ دوسروں کی رضاکارانہ طور پر مدد کیجئے ۔ اس کی طفیل آپ فانی سے لافانی بھی ہو جائیں گے