Category Archives: تجزیہ

باہمی اختلاف ۔ میڈیکل سائنس کی نظر میں

348 بار دیکھا گیا

میں نے قرآن شریف کی ایک آیت نقل کی تھی ۔ اس سلسلہ میں امریکہ میں ایک مایہ ناز پاکستانی نژاد (Neurologist) وھاج الدین احمد نے میری توجہ اپنی اس تحریر کی طرف مبزول کرائی

جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور دوسری مخلوق سے (سوال سمجھنے اور جواب دینے یعنی اپنی یادداشت سے) مقابلہ کرایا تو حضرت آدم علیہ االسلام جِیتے ۔ یہ چیز ہے جو صرف انسان کو عطا کی گئی ہے ۔ یہی تمام ذہانت کی بنیاد ہے اور یہی ڈاروِن صاحب کی تھِیُوری میں اب تک جواب طلب ہے ۔ حال ہی میں میں نے دماغ کی evaluation کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ آخر میں نیُورالوجِسٹ جو ہوا

تمام آدم سے نیچے والی مخلوق ایسی بات کرنے سے معذور ہیں تمام experiment قوت گویائی کے متعلق یہی بتاتے ہیں کہ یہ “یکدم’ اس مخلوق – یعنی آدم میں پیدا ہو گئی یقین جانئے اس سائنس نے اس تھیوری کو صحیح اور مکمل ثابت کرنے میں ایڑی چوتی کا زور لگایا ہے مگر یہ مندرجہ بالا اور چند دوسری باتیں اس خلاء کو پر نہیں کر سکیں
یہی قوت گویائی ہماری افضل المخلوقات ہونے کی وجہ ہے اور یہی وجہ ہماری اللہ تعالٰے کے سامنے جوابدہی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے

آپ کے پاس 3 روپے ہوں گے ؟

123 بار دیکھا گیا

کوٹھی کے خوبصورت لان میں سردی کی ایک دوپہر میں اور علی بھائی (مشہور اداکار محمد علی) بیٹھے گفتگو کر رہے تھے ۔ چپڑاسی نے علی بھائی سے آ کر کہا ”باہر کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے ۔ یہ اس کا چوتھا چکر ہے“۔
علی بھائی نے اسے بلوا لیا ۔ کاروباری سا آدمی تھا ۔ لباس صاف سُتھرا مگر چہرے پر پریشانی جھلَک رہی تھی ۔ شیو بڑھی ہوئی ۔ سُرخ آنکھیں اور بال قدرے سفید لیکن پریشان ۔ وہ سلام کرکے کرسی پر بیٹھ گیا تو علی بھائی نے کہا ” جی فرمایئے“۔
”فرمانے کے قابل کہاں ہوں صاحب جی ۔ کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں“۔ اس آدمی نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا اور میری طرف دیکھا جیسے وہ علی بھائی سے کچھ تنہائی میں کہنا چاہتا تھا
علی بھائی نے اس سے کہا ” آپ ان کی فکر نہ کیجئے جو کہنا ہے کہیئے“۔
اس آدمی نے کہا ”چَوبُرجی میں میری برف فیکٹری ہے علی صاحب“۔
” جی“۔
” لیکن کاروباری حماقتوں کے سبب وہ اب میرے ہاتھ سے جا رہی ہے“۔
” کیوں ؟ کیسے جا رہی ہے“۔ علی بھائی نے تفصیل جاننے کے لئے پوچھا
وہ آدمی بولا ” ایک آدمی سے میں نے 70ہزار روپے قرض لئے تھے لیکن میں لوٹا نہیں سکا ۔ میں نے کچھ پیسے سنبھال کر رکھے تھے لیکن چور لے گئے ۔ اب وہ آدمی اس فیکٹری کی قرقی لے کر آ رہا ہے“۔
یہ کہہ کر وہ آدمی رونے لگا اور علی بھائی اسے غور سے دیکھتے رہے اور اس سے کہنے لگے ” آپ کا برف خانہ میانی صاحب والی سڑک سے ملحقہ تو نہیں؟“
وہ آدمی بولا ” جی جی وہی ۔ ۔ ۔ علی بھائی میں صاحب اولاد ہوں اگر یہ فیکٹری چلی گئی تو میرا گھر برباد ہو جائے گا ۔ میں مجبور ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں“۔
”فرمایئے میں کیا کر سکتا ہوں ؟“
” میرے پاس 20 ہزار ہیں ۔ 50 ہزار آپ مجھے اُدھار دے دیں میں آپ کو قسطوں میں لوٹا دوں گا“۔
علی بھائی نے مُسکرا کر اس آدمی کو دیکھا۔ سگریٹ سُلگائی اور مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگے ”روبی بھائی ۔ یہ آسمان بھی بڑا ڈرامہ باز ہے ۔
کیسے کیسے ڈرامے دکھاتا ہے ۔ شطرنج کی چالیں چلتا ہے ۔ کبھی مات کبھی جیت“۔
یہ بات کہی اور اُٹھ کر اندر چلے گئے ۔ واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں نوٹوں کا ایک بنڈل تھا ۔ کرسی پر بیٹھ گئے
اور اس آدمی سے کہنے لگے ”پہلے تو آپ کی داڑھی ہوتی تھی“۔
وہ آدمی حیران رہ گیا اور چونک کر کہنے لگا ” جی ۔ یہ بہت پرانی بات ہے“۔
”جی میں پرانی بات ہی کر رہا ہوں“۔ علی بھائی نے کہا اور اچانک کہیں کھو گئے ۔ سگریٹ کا دھُواں چھوڑ کر فضا میں کچھ تلاش کرتے رہے ۔ پھر اس آدمی سے کہنے لگے ” آپ کے پاس 3 روپے ٹوٹے ہوئے ہیں ؟ “
” جی جی ہیں“۔
اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نوٹ نکالے اور ان میں سے 3 روپے نکال کر علی بھائی کی طرف بڑھا دیئے
علی بھائی نے وہ پکڑ لئے اور نوٹوں کا بنڈل اُٹھا کر اس آدمی کی طرف بڑھایا ”یہ 50 ہزار روپے ہیں ۔ لے جایئے“۔
اس آدمی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوٹ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے
اس آدمی نے جذبات کی گرفت سے نکل کر پوچھا ” علی بھائی مگر یہ 3 روپے آپ نے کس لئے ۔ ۔ ۔ ؟“
علی بھائی نے اس کی بات کاٹ کر کہا ”یہ میں نے آپ سے اپنے 3 دن کی مزدوری لی ہے“۔
”مزدوری ۔ ۔ ۔ مجھ سے ؟ میں آپ کی بات نہیں سمجھا “ اس آدمی نے یہ بات پوچھی تو ایک حیرت اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی
علی بھائی نے مُسکرا کر جواب دیا ” 1952ء میں جب میں لاہور آیا تھا تو میں نے آپ کے برف خانے میں برف کی سلیں اُٹھا کر قبرستان لے جانے کی مزدوری کی تھی“۔
یہ جواب میرے اور اس آدمی کے لئے دنیا کا سب سے بڑا انکشاف تھا
علی بھائی نے مزید بات آگے بڑھائی ” مگر آپ نے جب مجھے کام سے نکالا تو میرے 3 دن کی مزدوری رکھ لی تھی ۔ وہ آج میں نے وصول کر لی ہے“۔
علی بھائی نے مُسکرا کر وہ 3 روپے جیب میں ڈال لئے
” آپ یہ 50 ہزار لے جائیں ۔ جب آپ سہولت محسوس کریں دے دیجئے گا “۔
علی بھائی نے یہ بات کہہ کر مزے سے سگریٹ پینے لگے ۔ میں اور وہ آدمی کرسیوں پر یوں بیٹھے تھے جیسے ہم زندہ آدمی نہ ہوں بلکہ فرعون کے عہد کی 2 حنوط شدہ مَمِیاں کرسی پر رکھی ہوں
احمد عقیل روبی صاحب کا تحریر کردہ واقعہ تو ختم ہوا

کیا آپ کو سمجھ آئی کہ کروڑ پتی محمد علی کیلئے 3 روپے کی کیا اہمیت تھی کہ لے لئے ؟
یہ محمد علی کی معاملہ فہمی ہے ۔ محمد علی نے سوچا ہو گا ” اچھا بھلا چلتا کار و بار تباہ ہونے کی وجہ شاید ایک غریب مزدور کی 3 دِن کی مزدوری نہ دینا ہو “۔
محمد علی نے اپنی مزدوری وصول کر لی تا کہ اُس شخص کی سختی ختم ہو

بشکریہ ۔ مصطفٰے ملک صاحب ” گھریلو باغبانی والے“۔

جولائی کا الٹرا ساؤنڈ اور اگست کا بلیک باکس

104 بار دیکھا گیا

اَن گِنت حُرّیَت پسندوں نے محکُوم قوموں کے لئے آزادی کی سیاسی جدوجہد کے اصول وضع کئے ۔ یہ آزادی محض غیرملکی حکمرانوں کو بے دَخَل کرنے کا نَصبُ العَین نہیں تھی۔ آزادی کی اس لڑائی کا حتمی نَصبُ العَین یہ تھا کہ اس زمین کے رہنے والے اپنی معاشی ۔ سماجی اور سیاسی صلاحیتوں کو برُوئے کار لاتے ہوئے انسانی ترقی کی دوڑ میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے ۔ دنیا کے ابھرتے ہوئے امکانات میں اپنا پورا پورا حق حاصل کر سکیں گے

اِسی اصول کے تحت آزادی محمد علی جناح اور اُن کے ساتھیوں نے آزادی کی جد و جہد کی ۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم شمالی یورپ کے جزیرے برطانیہ سے آنے والوں کو رُخصت کر کے مقامی طاقتور گروہوں کے غلام ہو جائیں جو نسل ۔ عقیدے اور بندوق کے بَل پر ہمارا اِستحصال کریں

جاننا چاہیئے کہ 25 جولائی 2018ء کی تصویر بدستور دھُندلی ہے ۔ اہلِ حُکم کا تھُوک ہمارے مقَدّس پرچم پر جم گیا ہے ۔ ہماری زمیں پَر زَور آور کے قدموں کے نشان صاف دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ہمیں عِلم سے محروم کر کے تعصب اور نفرت میں اُلجھا دیا گیا ہے ۔ ہمارے قابل صد احترام آباؤاجداد کی سَتّر بَرس پر محیط قربانیوں سے ایک مرحلہ طے ہو گیا ہے ۔ اب ہماری کشمکش کسی ایک فرد یا منصب دار سے منسوب نہیں ہے ۔ ماضی میں ہم نے اپنے خوابوں کو فرد واحد کی ذات سے وابستہ کر رکھا تھا ۔ اب یہ کشمکش زیادہ اصولی اور ادارہ جاتی شکل اختیار گئی ہے ۔ ہمارے کچھ سیاسی رہنما آجکل اداروں کے احترام پر زور دے رہے ہیں ۔ ان کی رائے یقیناً وزن سے خالی نہیں ہو گی لیکن ان کی سوچ میں داخلی تضاد کی طرف اشارہ کئے بغیر بھی چارہ نہیں

ہمارے یہ مہربان عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن ووٹ کی بالادستی کا اعلان کرنے سے گریزاں ہیں ۔ اگر انہیں ووٹ مانگتے ہوئے ایسے خدشات اور وسوسے لاحق ہیں تو کل جب یہ رہنما ووٹ سے تشکیل پانے والے اداروں میں رونق افروز ہوں گے تو ان کے دست و بازو پہلے سے قطع ہو چکے ہوں گے ۔ زمانے کا انقلاب دیکھیئے ۔ جو مہربان سیاسی قوتوں کے مابین مفاہمت کو مک مکا قرار دیتے تھے اب سقوط جمہوریت کے دستاویزی شواہد پر شاداں و مسرور ہیں ۔ تاریخ کے یہ چیمبرلین اگر جولائی کے الٹرا ساؤنڈ سے خوف زدہ ہیں تو اگست کے بلیک باکس کا سامنا کیسے کریں گے ؟
وجاہت مسعود کی تحریر سے اقتباس

تباہی کی طرف تیزی سے سفر

198 بار دیکھا گیا

ایک سکیورٹی گارڈ فیصل آباد کے ایک بس ٹرمینل میں ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بس سروس میں بطور میزبان ملازمت کرنے والی ایک لڑکی کو روکتا ہے ۔ دونوں میں چند لمحوں کے لئے تکرار ہوتی ہے ۔ سکیورٹی گارڈ لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لڑکی اپنا ہاتھ چھڑواتی ہے ۔ جواب میں گارڈ اپنی بندوق سے اس پر فائر کرتا ہے ۔ لڑکی گر جاتی ہے ۔ چند ثانیوں کے لئے بے بسی سے تڑپتی ہے اور پھر وہیں سیڑھیوں پر مر جاتی ہے
یہ اٹھارہ سالہ لڑکی جو اپنے گھر کی واحد کفیل تھی ۔ ایک بھرے پُرے بس ٹرمینل پر ہلاک کر دی گئی ۔ قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نوکری کرنے نکلی تھی ۔ مجبور ی یہ تھی وہ باعزت نوکری کرنا چاہتی ۔ نہ جانے کتنی مشکل سے اُس نے یہ معمولی نوکری حاصل کی ہو گی ۔ اُسے کیا معلوم تھا کہ سکیورٹی گارڈ جسے وہ محافظ سمجھتی تھی وہ کس قماش کا آدمی ہے

آج کے دَور میں ہماری ذہنی حالت یہ ہو چُکی ہے کہ اوّل ہم لڑکی کو کسی لحاظ سے قصور وار ٹھہرا دیں گے ۔ اگر یہ نہ کیا تو بھارت (جن کے دھرم میں بھی عورت صرف ایک لونڈی کی حیثیت رکھتی ہے) وہاں کے اعداد و شُمار گِنوا کر اِسے معمولی واقعہ قرار دے دیں گے ۔ یہ بھی نہ کریں تو ہم شور کریں گے ۔ کمپنی والوں کو گالیاں دیں گے ۔ توڑ پھوڑ کریں گے
ٹی وی اور اخبار کا روّیہ تو ہر معاملہ میں یکساں ہے ۔ چند دِن شور بپا ہو گا پھر خبر غائب

بڑے بڑے دانشور ۔ عورت کی ناموس کے نام پر چلنے والی بڑی بڑی تنظیموں کو تو نہ کسی غریب کی بے حُرمتی نظر آتی ہے نہ موت ۔ جب اُنہیں چندے یا مشہوری کی ضرورت ہوتی ہے تو معاملہ خواہ بے نام ہو پکڑ کر واویلہ شروع کر دیتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی عیسائی قانون کی زد میں آ جائے یا کسی حادثہ میں مر جائے تو اُسے مظلوم کہہ کر اپنے سرپرست مُلک کو خوش کرنے یا مالی امداد حاصل کرنے کیلئے طوفان مچا دیں گے

غرضیکہ ہم اب اپنے اسلاف کے قصے کہانیاں سنانے والے مُسلمان بن چکے ہیں ۔ ہم یہ حوالہ بھی دیتے ہیں کہ جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا تو وہاں کے دانشور مباحث میں مشغول تھے ۔ ہم تاریخ میں بڑے فخر سے پڑھتے ہیں کہ محمد بن قاسم صرف ایک عورت کی فریاد سُن کر دیبل پر حملہ آور ہو گیا ۔ لیکن خود جب کسی غریب پر ظُلم ہوتا دیکھتے ہیں تو تمسخر اُڑانا یا وِڈیو بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں

ایک اور طریقہ بھی ہے کہ ایسی خبر کو نظر انداز کر دیں یعنی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں
ہم اس معاشرے میں زندہ ہیں جہاں مُلک کی بہترین جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والا نوجوان اپنی ماں کی عمر کے برابر خاتون کے بارے میں (جسے چند گھنٹوں کے لئے اغوا کیا گیا تھا) ٹوِیٹ کرتا ہے ”اس عورت کے لئے جنسی تشدّد ہی بہترین علاج ہے“۔
ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر ایک مخصوص طبقے کے پڑھے لکھے جوان ایک بوڑھی بیمار ماں کی بیماری کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ سفاکانہ طعنے دیتے ہیں اور پھَبتیاں کستے ہیں

یہ درندگی دو دہائیاں پہلے تک تو نہ تھی ۔ جانے کس نے ہمارے معاشرے میں یہ زہرِ قاتل پھیلا دیا اور ہم امرت سمجھ کر پیتے چلے گئے
پھر بھی ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر بہت خوبصورت ہے ۔ ہم نجانے کس غلط فہمی میں مُبتلاء ہیں ۔ ہمیں بالکل احساس نہیں ہے کہ نفرت اور زہر کے جو بِیج ہم نے اپنے معاشرے میں بو دیئے ہیں اس کے ثمرات ہم نے اور ہماری آئیندہ نسلوں نے سمیٹنے ہیں ۔ ہم تو اُن لوگوں کی اولاد ہیں جن کے پاس کوئی دُشمن بھی پناہ لے لے تو وہ اُس کے محافظ بن جاتے تھے

ہماری اِس بے حِسی کا سبب صرف ایک ہے کہ ہم غور و فکر سے عاری ہو چُکے ہیں ۔ قرآن شریف کی بجائے الیکٹرانک میڈیا (بشمول سوشل میڈیا) ہمارا رہبر بن چُکا ہے ۔ حالانکہ قرآن شریف میں کم از کم 8 بار اللہ نے فرمایا ہے ” تم غور کیوں نہیں کرتے“۔
سورت 6 الانعام آیت 50
سورت 10 یونس آیت 3
سورت 11 ھود آیت 30
سورت 11 ھود آیت 24
سورت 16 النّحل آیت 17
سورت 23 المؤمنون آیت 85
سورت 37 الصّٰفّٰت آیت 155
سورت 45 الجاثیہ آیت 23

ختمِ نبوّت منطقی حوالہ 2 ۔ نبی کب مبعوث ہوتے ہیں ؟

554 بار دیکھا گیا

نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اُس شخص میں پیدا ہو جایا کرے جس نے عبادت اور عملِ صالح میں ترقی کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو ۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صِلے میں عطا کیا جاتا ہو ۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر الله تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے ۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لئے مامور کیا جاتا ہے اور جب ضرورت نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کِن کِن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ہیں جن میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں
(1) کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لئے کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا تھا
(2) نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھُلا دی گئی ہو یا اس میں تحریف ہو گئی ہو اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو
(3) پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لئے مزید انبیاء کی ضرورت ہو
(4) ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لئے ایک اور نبی کی حاجت ہو
اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی نبی صلی الله علیہ و سلم کے بعد باقی نہیں رہی ہے
قرآن خود کہہ رہا ہے کہ
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (سورت 21 الانبیاء آیت 107) ۔ ترجمہ ۔ اے نبی ﷺ ، ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور دنیا کی تمدّنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپﷺ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپﷺ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے ۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی
قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے ۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے ۔ جو کتاب آپ لائے تھے اس میں ایک لفظ بھی کمی و بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہو سکتی ہے ۔ جو ہدایت آپؐ نے اپنے قول و عمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپﷺ کے زمانے میں موجود ہیں ۔ اس لئے دوسری ضرورت بھی ختم ہو گئی۔

پھر الله تعالٰی قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضورﷺ کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی ۔
سورت 5 المآئدہ آیت 3 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترجمہ ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ۔ لہٰذا تکمیل دین کے لئے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا
اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت ۔ اگر اس کے لئے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ حضورﷺ کے زمانے میں آپﷺ کے ساتھ مقرر کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ بھی ساقط ہو گئی ۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ پانچویں وجہ کونسی ہے جس کے لئے آپﷺ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟
اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لئے اِصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اِصلاح کے لئے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لئے وہ آئے ؟ نبی تو اس لئے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لئے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لئے یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لئے ۔ قرآن اور سنتِ محمد صلی الله علیہ و سلم کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں تو اب اصلاح کے لئے صرف مُصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی

ختمِ نبوّت منطقی حوالہ 1 ۔ کسی کو نبی ماننا

498 بار دیکھا گیا

نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے ۔ قرآن مجید کی رُو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے
سورت 2 البقرۃ آیت 285 ۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۣلَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ
ترجمہ ۔ رسول ﷺ اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے ۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حُکم سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ۔ ہم تُجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے“۔
ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر ۔ ایسے نازک معاملے میں تو الله تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجۂ اولیٰ توقع نہیں کی جا سکتی ۔ اگر محمد صلی الله علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو الله تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا ، رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ذریعہ سے اس کا کھُلا کھُلا اعلان کراتا اور حضور دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی اُمت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہو گا ۔ آخر الله اور اس کے رسول ﷺ کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دُشمنی تھی کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھُلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا بلکہ اس کے برعکس الله اور اس کا رسول دونوں ایسی باتیں فرما دیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری اُمت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے
اب اگر بفرضِ محال نبوت کا دروازہ کھُلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے ۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو الله تعالیٰ کی باز پُرس ہی کا تو ہو سکتا ہے ۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ الله اس کُفر کے خطرے میں تو الله کی کتاب اور اس کے رسول کی سُنّت ہی نے ہمیں ڈالا تھا ۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ ریکارڈ کو دیکھ کر بھی الله تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی مُدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہیئے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لئے وہ کون سا ریکارڈ الله کی عدالت میں پیش کر سکتا ہے جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو ۔ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہیئے اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کر کے خود ہی دیکھ لینا چاہیئے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کر رہا ہے کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کر کے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے ؟

ختمِ نبوّت ۔ رسول الله کی حدیث

449 بار دیکھا گیا

سیّدنا محمد صلی الله علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) ۔ یہ الفاظ آنحضرت صلی الله علیہ وسلّم سے حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ نے صحیح بخاری حدیث نمبر 3455 ، صحیح مسلم حدیث نمبر 1842 میں ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے صحیح مسلم حدیث نمبر 2404 میں اور حضرت ثوبان بن بجداد رضی الله عنہ نے سنن ترمذی حدیث نمبر 2219 ، سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4252 اور مستدرک حاکم میں حدیث نمبر 8390 میں صحیح اسناد کے ساتھہ بیان کی
جیسا کہ میں 8 ستمبر 2017ء کو بیان کر چکا ہوں سورت 53 النّجم میں الله تعالٰی نے فرمایا کہ سیّدنا محمد صلی الله علیہ وسلّم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تو پھر ہمیں اُن کے فرمان کو ماننا ہو گا

ختمِ نبوّت ۔ صحابۂ کرام کا اِجماع
قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے میں صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے ۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی، اُن سب کے خلاف صحابۂ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی
اس سلسلے میں خصوصیّت کے ساتھ مُسَیلمۂ کذّاب کا معاملہ قابلِ ذکر ہے ۔ یہ شخص نبی صلی الله علیہ و سلّم کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اُسے حضورؐ کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے ۔ اُس نے حضورؐ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپؐ کو لکھا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں
من مُسَیْلمۃ رسول الله الیٰ محمدٍ رسول الله سلام علیک فانی اُشرِکتُ فی الامر معک(طَبَری، جلد دوم، ص ۳۹۹، طبع مصر)
مُسَیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول الله کی طرف ۔ آپ پر سلام ہو ۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں
علاوہ بریں مؤرخ طَبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مُسَیلمہ کے ہاں جو اذاں دی جاتی تھی اس میں اشھدانّ محمّداً رسول الله کے الفاظ
بھی کہے جاتے تھے ۔ اس صریح اقرارِ رسالتِ محمدؐی کے باوجود اسے کافر اور خارج ا ز مِلت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی ۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنِیفیہ نیک نیتی کے ساتھ اُس پر ایمان لائے تھے اور انہیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اسے خود شریکِ رسالت کیا ہے ۔ نیز قرآن کی آیات کو اُن کے سامنے مُسِیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینۂ طیّبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کر کے گیا تھا (البِدایۂ و النِّہایہَ لابن کثیر، جلد ۵، ص۵۱)۔

مگر اس کے باوجود صحابۂ کرام نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کے جُرم میں جنگ کی تھی ۔ اسلامی قانون کی رُو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیرانِ جنگ غلام نہیں بنائے جا سکتے بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمّی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے لیکن مُسَیلمہ اور اس کے پیرووں پر جب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابو بکر ؓ نے اعلان فرمایا کہ اُن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا ۔ اور جب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا ۔ چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصّے میں آئی جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیّت محمد بن حَنَفیہ(حنفیہ سے مراد ہے قبیلۂ بنو حنیفہ کی عورت) نے جنم لیا (البِدایہ والنہایہ، جلد۶، ص ۳۱۶، ۳۲۵)۔

اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جُرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد صلی الله علیہ و سلّم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے ۔ یہ کارروائی حضورؐ کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابو بکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے، اور صحابہ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے ۔ اجماع صحابہ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو

تمام علمائے اُمّت کے اجماع کی تفصیل بھی وہاں درج ہے لیکن طوالت کے باعث اس سے استفادہ نہیں کیا ہے