Category Archives: تاریخ

کُلُ عام انتم بخیر

میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عيد مبارک
الله کریم آپ سب کو کامِل ایمان کے ساتھ دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين
اُنہیں نہ بھولیئے جنہیں الله نے آپ کے مقابلہ میں کم نوازہ ہے ۔ ایسے لوگ دراصل آپ کی زیادہ توجہ کے حقدار ہیں

رمضان کا مبارک مہینہ بخیر و عافیت گزر گیا ۔ الله سُبحانُهُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے
عیدالفطر کی نماز سے قبل اور بہتر ہے کے رمضان المبارک کے اختتام سے پہلے فطرانہ ادا کر دیا جائے ۔ کمانے والے کو اپنا اور اپنے زیرِ کفالت جتنے افراد ہیں مع گھریلو ملازمین کے سب کا فطرانہ دینا چاہیئے
عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْا الله وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
ا اللهُ اکبر کبِیرہ والحمدُللهِکثیِرہ و سُبحَان اللهُ بکرۃً و أصِیلا

آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
جدِ امجد سیّدنا ابراھیم علیه السّلام کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ ہمارے مُلک کو امن کا گہوارہ بنا دے اور سب کے رزقِ حلال میں کُشائش عطا فرما
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین یا رب العالمین

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۔ (سُوۡرَةُ البَقَرَة ۔ آیة 126)
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: “اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے” جواب میں اس کے رب نے فرمایا ”اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے“۔

یومِ اِسلامی جمہوریہ پاکستان

flag-1بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین
ہمارے وطن پاکستان میں 23 مارچ کو یومِ اِسلامی جمہوریہ پاکستان منایا جاتا ہے
جنتری کے مطابق 23 مارچ 1940ء لاہور میں بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی شمال کی طرف اُس وقت کے منٹو پارک میں جو پاکستان بننے کے بعد علامہ اقبال پارک کہلایا مسلمانانِ ہِند کے نمائندوں نے ایک مُتفِقہ قرارداد منظور کی جس کا عنوان” قراردادِ مقاصد“ تھا لیکن وہ minar-i-pakistanقرارداد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے قراردادِ پاکستان ثابت
ہوئی ۔ مینارِ پاکستان علامہ اقبال پارک میں ہی کھڑا ہے ۔ مینار پاکستان پاکستان بننے کے بعد بطور ”یادگار قراردادِ پاکستان“ تعمیر کیا گیا تھا ۔ کچھ لوگوں نے اِسے ”یادگارِ پاکستان“ کہنا شروع کر دیا جو کہ مناسب نہ تھا ۔ چنانچہ اسے مینارِ پاکستان کا نام دے دیا گیا

مندرجہ بالا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یکجہتی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو 5 دہائیوں سے ہمارے ملک سے غائب ہے ۔ اللہ قادر و کریم کے حضور میں دعا ہے کہ ہماری قوم کو سیدھی راہ پر گامزن کرے ۔ اِن میں مِلّی یکجہتی قائم کرے اور قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی مفاد کو بھُول کر باہمی اور قومی مفاد کیلئے جد و جہد کرے اور مستقبل کی دنیا ہماری قوم کی مثال بطور بہترین قوم دے ۔ آمین

میرے مشاہدے کے مطابق بہت سے ہموطن نہیں جانتے کہ 23 مارچ 1940ء کو کیا ہوا تھا ۔ متعلقہ حقائق کا مختصر ذکر یہاں ضروری سمجھتا ہوں

آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اِجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اِس کے ساتھ اِسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اِختلافات اِتنے شدید اور تلخ ہیں کہ اِن دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ اِنہیں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں“۔

قائد اعظم کے تصَوّرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ابُو القاسم فضل الحق (المعروف اے کے فضل الحق جن کے نام پر اسلام آباد بلیو ایریا میں جناح ایوَینِیو کے متوازی سڑک کا نام رکھا گیا ہے) جو اُن دنوں بنگال کے وزیرِ اعلٰی تھے نے تاریخی ” قراردادِ مقاصد“ پیش کی جس کا خلاصہ یہ ہے

” کوئی دستوری منصوبہ قابل عمل یا مسلمانوں کو منظور نہیں ہو گا جب تک جغرافیائی طور پر مُنسلِک مسلم اکثریتی علاقے قائم نہیں کئے جاتے ۔ جو مسلم اکثریتی علاقے شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان میں ہیں کو مسلم ریاستیں بنایا جائے جو ہر لحاظ سے خود مختار ہوں ۔ ان ریاستوں میں غیرمسلم اقلیت کو مناسب مؤثر تحفظات خاص طور پر مہیا کئے جائیں گے اور اِسی طرح جن دوسرے علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں اُن کو تحفظات مہیا کئے جائیں“۔

اس قراداد کی تائید پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ۔ سرحد سے سردار اورنگزیب ۔ سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسٰی ۔ یونائیٹڈ پراونس (اب اُتر پردیش) سے چوہدری خلیق الزمان کے علاوہ اور بہت سے رہنماؤں نے کی ۔ اس قراداد کے مطابق مغرب میں پنجاب ۔ سندھ ۔ سرحد اور بلوچستان اور مشرق میں بنگال muslim-majority-map اور آسام پاکستان کا حصہ بنتے ۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور اِس کی تفصیلات طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ یہ قراداد 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے دستور کا حصہ بنا دی گئی

مندرجہ بالا اصُول کو برطانوی حکومت نے مان لیا مگر بعد میں کانگرس اور لارڈ مؤنٹ بیٹن کی ملی بھگت سے پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو تقسیم کر دیا گیا اور آسام کی صورتِ حال بھی بدل دی گئی ۔ بنگال اور پنجاب کے صوبوں کو نہ صرف ضلعی بنیاد پر تقسیم کیا گیا بلکہ پنجاب کے ایک ضلع گورداسپور کو تقسیم کر کے بھارت کو جموں کشمیر میں داخل ہونے کیلئے راستہ مہیا کیا گیا

مسلم اکثریتی علاقے ۔ اس نقشے میں جو نام لکھے ہیں یہ چوہدری رحمت علی کی تجویز تھی ۔ وہ لندن [برطانیہ] میں مقیم تھے اور مسلم لیگ کی کسی مجلس میں شریک نہیں ہوئے ۔ اِس نقشے میں ہلال کے ساتھ 10 ستارے دکھائے گئے ہیں یعنی پاکستان کی مملکت 10 مُسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دکھائی گئی ہے جس میں (1) مغربی پاکستان (جسے پاکستان لکھا گیا ہے) ۔ (2) مشرقی پاکستان (جسے بنگالستان لکھا گیا ہے) ۔ (3) جنوبی پاکستان (جس میں ریاست حیدر آباد اور ملحقہ مُسلم علاقے شامل ہیں) ۔ (4) گجرات کاٹھیا واڑ اور منادور وغیرہ ۔ اور مزید 6 چھوٹے چھوٹے علاقے شامل ہیں
m-l-working-committee

مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی

۔

۔
welcome-addr-22-march-1940
شاہنواز ممدوٹ سپاسنامہ پیش کر رہے ہیں

چوہدری خلیق الزمان قرارداد کی تائید کر رہے ہیں
seconding-reson-march-1940

۔

۔
quaid-liaquat-mamdot
قائدِ ملت لیاقت علی خان اور افتخار حسین خان ممدوٹ وغیرہ قائد اعظم کے ساتھ

یومِ یک جہتی جموں کشمیر

آج پورے مُلک میں یومِ یک جہتی جموں کشمیر منایا جا رہا ہے

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشتگردی کے نتیجے میں جنوری 1989ء سے دسمبر 2015ء تک مندرجہ ذیل ہلاکتیں ہوئیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں

94290 نہتے شہری ہلاک ہوئے جن میں 7038 زیرِ حراست ہلاک ہوئے
22806 عورتیں بیوہ ہوئیں
107545 بچے یتیم ہوئے
10167 عورتوں کی عزتیں لوٹیں
106050 مکانات تباہ کئے
8000 سے زائد لوگ گھروں سے اُٹھا کر غائب کئے گئے

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی ۔ بےنظیر بھٹو نے 1988ء میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں مِڈل مَین کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے ۔

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہل کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

تاریخ ۔ جس سے ہم سبق نہیں لیتے

کنفیوشس نے اپنے پیروکاروں سے کہا تھا ” انسان ناسازگار حالات حتیٰ کہ موت کے آس پاس بھی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے بشرطیکہ اسے وہاں ایک مکمل اور آسان انصاف حاصل ہو“۔
مجبوری میں اس ایک لفظ انصاف کا تعاقب کرنے پر آخری سرے پر ناانصافی ہی ہمارا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ آتش فشاں ہے جس سے مجبوریوں کے لاوے پھوٹتے اور ہماری زندگیوں کو بھسم کر دیتے ہیں۔ ناانصافی کا یہ لاوا پہلے ہماری اخلاقیات کو نگلتا، اُسے کمزور کرتا اور پھر اپنا راستہ بناتا سماجی زندگی سے لے کر اداروں تک کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا جاتا ہے

یہ پون صدی کا نہیں، صدیوں کا قصہ ہے جب سو سال پہلے کا امریکہ ایک ایسی عجیب و غریب سرزمین تھا جہاں پندرہ سے زیادہ ریاستوں میں سیاہ فام اور سفید فام قانونی طور پر شادی نہیں کر سکتے تھے۔ خواتین کو نہ رائے دہی کا حق حاصل تھا، نہ ہی جائیداد کی مختار ہونے کا۔ کم از کم اجرت کا کوئی قانونی معیار نہ تھا۔ سیاہ فام اور سفید فام نہ ایک اسکول میں پڑھ سکتے، نہ ہی ایک نلکے سے پانی پی سکتے تھے۔ سیاہ فاموں کو جتھے بنا کر بدترین تشدد کے بعد قتل کر دیا جاتا، کسی کو سزا تک نہ ہوتی۔ جان بچانے تک کے لئے عورتوں کو اسقاط حمل کا حق حاصل تھا نہ ہی میراتھن دوڑوں میں حصہ لینے کا۔ گھریلو تشدد عام، بچے فیکٹریوں میں کام کرتے، اقلیتوں کے لئے مذہبی آزادی مفقود۔ ظلم و ناانصافی کی اتنی طویل فہرست ہے کہ داستان الف لیلہ کی طرح پڑھتے چلے جایئے۔

سو سال بعد اگر کوئی مصنف، کوئی ادیب، کوئی محقق یا کوئی تاریخ دان ماضی کے دروازے کھول کر وطن عزیز پاکستان کی آج کی دنیا پر نظر ڈالے تو وہ کیا لکھے گا ؟
یقیناً وہ لکھے گا کہ ملک پاکستان سن 2018ء میں جس کی 70 فیصد آبادی ناخواندہ اور 60 فیصد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تھا، بیروزگاری عروج پر تھی، قوانین پر مذہبی اور سرکاری چھاپ تھی، غیرت کے نام پر قتل روزمرہ کا معمول تھا جس کا تحفظ حکومتی وزیر مشیر ایوانوں میں کرتے تھے۔ مثبت سوچ رکھنے والے جلاوطن کر دیئے جاتے، انہیں ہیرو کے بجائے سازشی، کٹھ پتلی، ڈرامہ باز اور کرپٹ قرار دے کر مطعون کیا جاتا، اسی جرم میں بزدل قوم کے بہادر لیڈر پھانسی پر لٹکا دیئے جاتے یا سرعام قتل کر دیئے جاتے اور اس عمل کی حمایت کرنے والے کھلے عام گھومتے۔ سیاست اور سیاسی منظر نامہ پر انہی کا غلبہ تھا۔ جمہوریت کے لبادے میں کٹھ پتلیاں نچانے کا کاروبار عروج پر تھا۔ عقل کی بات کرنے والے مطعون و ملعون اور حریت فکر کے پرچارک شیطان کے ہرکارے کہلاتے۔ ملک کے میدان، بازار، گلیاں، قوانین کے سیلاب کے سپرد تھیں جس سے پوری قوم ذہنی اختلال کا بدترین نمونہ تھی

یہ تاریخ شاید 100 سال بعد لکھی جائے لیکن آج کے انسان کا کیا قصور جو مہذب کہلاتا ہے، اسی آب و ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے جس میں کرپشن اور ناانصافی کا زہر گھلا ہے۔ کیا خدانخواستہ 100 سال بعد ایک ایسی قوم کی تاریخ لکھی جائے گی جس کے قوانین مکڑی کے جالے کی طرح تھے جس میں صرف چھوٹے کیڑے ہی پھنستے، طاقتور اسے توڑتے ہوئے نکل جاتے، ریاست اپنے ذمہ کے کام بھی افراد پر ڈال کر خود اپنے ہاتھ جھاڑ لیتی

ان انسانوں کا کیا حال، جن کے نزدیک زندگی سمندر نہیں نہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین ریت کے گھروندے، وہ جو زندگی کو ایک مستحکم چٹان سمجھتے اور ان کا قانون گویا سنگ تراش کی ایک چھینی ہے جس سے وہ چٹان پر اپنے وجود معنوی کے نقوش کھودتے ہیں مگر کتنی جلدی وہ اپنے ہی بنائے نقوش کو بنا بنا کر مٹاتے اور ہر نئے نقش کو مکمل سمجھتے ہیں۔ پھر ہر نقش تازہ ایک تازہ تر نقش کا محتاج پایا جاتا ہے۔ اس اپاہج کا کیا حال، جو رقص کرنے والوں کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلتا، اپنی لنگڑی ٹانگ، ٹوٹے ہاتھ اور پھوٹی آنکھ کی خوبیوں پر دلیلیں لاتا ہے۔ اس بوڑھے سانپ کا کیا حال، جو اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کینچلی نہیں اتار سکتا اور دوسرے نوجوان سانپوں کو کینچلی بدلتے دیکھ کر ننگا اور بے شرم سمجھتا ہے

وہ جو ضیافت میں اکثر بن بلائے بھی قبل از وقت آتا ہے، خوب کھاتا ہے اور کھاتے کھاتے تھک کر معذور ہو جاتا ہے، اٹھ کر چلا جاتا ہے مگر کہتا یہ ہے کہ یہ ضیافتیں قباحتیں ہیں، یہ میزبان قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں جن کی ضیافتوں میں لوگوں کے معدے بھاری اور ہاضمے خراب ہو جاتے ہیں

میرا ذاتی المیہ درد انگیز بھی ہے جس نے میری زبان پر قفل ڈال دیئے، میرے ہاتھوں کو جکڑ دیا، میں اس حال میں زندہ ہوں کہ میرے پاس عزم ہے نہ عمل۔ یہ سچ مجھے ہضم نہیں ہوتا کہ میرے ملک کی بربادی، خاموش بربادی ہے۔ وہ گناہ جس کے نتیجے میں سانپ اور اژدھے جنم لیتے ہیں، اس بربادی کی یہ داستان وہ المیہ تمثیل ہے جس میں نغمہ ہے نہ منظر۔ اس کے باوجود میں خوش ہوں کہ جنہیں میں چاہتا ہوں وہ صلیب پر مارے گئے، وہ مہر بہ لب مارے گئے کہ اپنے دشمنوں سے بزدلوں کی طرح محبت اور اپنے چاہنے والوں سے منکروں کی طرح نفرت نہ کر سکے۔ وہ اس لئے مارے گئے کہ گناہ گار نہ تھے، وہ اس لئے مارے گئے کہ انہوں نے ظالموں تک پر ظلم نہ کیا کہ وہ بلا کے صلح پسند تھے۔ اسی خاطر موت کی آغوش میں سو گئے۔ لیاقت علی خان کے مکے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر کا قتل اور پھر جمہوریت کا بہترین انتقام۔ نواز شریف کے بعد زرداری

یہ تاریخ اب نواز شریف اور زرداری کی کہانی تحریر کرے گی۔ واویلا گردی کے عادی اپنے شور و غوغا سے کان پڑی آواز سننے نہیں دیں گے، نواز شریف کا یہ شعر لوگوں کے سروں پر سے گزر جائے گا

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

دونوں رہنمائوں اور حریت و ترقی پسند دانشوروں کے بارے میں فیصلوں کی روشنی میں یہ تاریخ کہانی کو کیا موڑ دیتی ہے، بولنا تو درکنار بقول نواز شریف رو بھی نہ سکنے والوں کو تاریخ میں کیا مقام نصیب ہوتا ہے، وقت اس کا منصف بنے گا جیسا کہ وقت کی منصفانہ شمشیر ان پر بھی لٹک رہی ہے جنہیں واویلا گردی کی منحوس بلا پوری طرح نگل چکی ہے

تحریر ۔ محمد سعید اظہر
26 دسمبر 2018ء کو شائع ہوئی

ہم کیا کر رہے ہیں ؟

آج برِّ صغير ہندوپاکستان کے مُسلمانوں کے عظيم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کا يومِ ولادت ہے
قائداعظم کو الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے شعور ۔ مَنطق اور اِستقلال سے نوازا تھا جِن کے بھرپُور اِستعمال سے اُنہوں نے ہميں الله کی نعمتوں سے مالا مال مُلک لے کر ديا مگر ہماری قوم نے اُس عظيم رہنما کے عمَل اور قَول کو بھُلا ديا جس کے باعث ہماری قوم اقوامِ عالَم ميں بہت پيچھے رہ گئی ہے
قائداعظم کا ايک پيغام ہے ” کام ۔ کام ۔ کام اورکام ”
مگر قوم نے کام سے دِل چُرانے کی عادت اپنا لی اور اپنی نا اہلی سے نظریں ہٹانے کی کوشش میں دوسرون پر الزام تراشی شروع کر دی

قائداعظم نے آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پانچویں سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب ناگپور میں 26دسمبر1941ء کو خطاب کرتے ہوئے کہا فرمایا تھا ” میں آج آپ کو نصب العین دیتا ہوں ” ایمان ۔ اتحاد ۔ نظم”۔
قوم میں وہ لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے قائداعظم کا دیا ہوا نعرہ ہی بدل کر ” اتحاد ۔ یقین ۔ تنظیم” بنا دیا یعنی لوگوں کو ایمان سے دُور کرنے کی کوشش کی
اپنے آپ کو کشادہ ذہن قرار دینے والے کم ظرف کہنے لگے کہ پاکستان اسلام کے نام پر تو بنا ہی نہ تھا بلکہ قائداعظم کو سیکولر قرار دے کر پاکستان کو بھی سیکولر بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے
کچھ بدبَخت اس سے بھی آگے بڑھے اور قائداعظم کے مسلمان ہونے کو ہی مشکوک بنانے کی ناپاک کوشش کی

آيئے آج سے اپنی بد اعمالیوں کی توبہ کریں اور اپنے الله پر یقین کرتے ہوئے قرآن کی رہنمائی میں قائدِاعظم کے بنائے ہوئے راستہ پر چلیں اور اس مُلک پاکستان کو تنزل کی گہرائیوں سے نکالنے کی جد و جہد کریں

عِلم کی ناپُختگی

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ ۔ لادینی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطیء افکار سے مشرق میں غلام

کلام ۔ علامہ محمد اقبال

حُکمرانوں کے لئے

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوّت سرگرم تقاضہ ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرّہ نہیں ۔ شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ۔ بینا ہے ۔ توانا ہے

گلستاں میں نہیں حد سے گذرنا اچھا
ناز بھی کر تو باندازہء رعنائی کر
پہلے خود دار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں میں ہوس شوکت دلدائی کر

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میّسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہء حر کے لئے جہاں میں فراغ
فروغ مغربیان خیرہ کر رہا ہے تجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب مازاغ
وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو نفس
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے ایاغ
کیا تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ
کلام ۔ علامہ محمد اقبال