Category Archives: تاریخ

جولائی کا الٹرا ساؤنڈ اور اگست کا بلیک باکس

27 بار دیکھا گیا

اَن گِنت حُرّیَت پسندوں نے محکُوم قوموں کے لئے آزادی کی سیاسی جدوجہد کے اصول وضع کئے ۔ یہ آزادی محض غیرملکی حکمرانوں کو بے دَخَل کرنے کا نَصبُ العَین نہیں تھی۔ آزادی کی اس لڑائی کا حتمی نَصبُ العَین یہ تھا کہ اس زمین کے رہنے والے اپنی معاشی ۔ سماجی اور سیاسی صلاحیتوں کو برُوئے کار لاتے ہوئے انسانی ترقی کی دوڑ میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے ۔ دنیا کے ابھرتے ہوئے امکانات میں اپنا پورا پورا حق حاصل کر سکیں گے

اِسی اصول کے تحت آزادی محمد علی جناح اور اُن کے ساتھیوں نے آزادی کی جد و جہد کی ۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم شمالی یورپ کے جزیرے برطانیہ سے آنے والوں کو رُخصت کر کے مقامی طاقتور گروہوں کے غلام ہو جائیں جو نسل ۔ عقیدے اور بندوق کے بَل پر ہمارا اِستحصال کریں

جاننا چاہیئے کہ 25 جولائی 2018ء کی تصویر بدستور دھُندلی ہے ۔ اہلِ حُکم کا تھُوک ہمارے مقَدّس پرچم پر جم گیا ہے ۔ ہماری زمیں پَر زَور آور کے قدموں کے نشان صاف دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ہمیں عِلم سے محروم کر کے تعصب اور نفرت میں اُلجھا دیا گیا ہے ۔ ہمارے قابل صد احترام آباؤاجداد کی سَتّر بَرس پر محیط قربانیوں سے ایک مرحلہ طے ہو گیا ہے ۔ اب ہماری کشمکش کسی ایک فرد یا منصب دار سے منسوب نہیں ہے ۔ ماضی میں ہم نے اپنے خوابوں کو فرد واحد کی ذات سے وابستہ کر رکھا تھا ۔ اب یہ کشمکش زیادہ اصولی اور ادارہ جاتی شکل اختیار گئی ہے ۔ ہمارے کچھ سیاسی رہنما آجکل اداروں کے احترام پر زور دے رہے ہیں ۔ ان کی رائے یقیناً وزن سے خالی نہیں ہو گی لیکن ان کی سوچ میں داخلی تضاد کی طرف اشارہ کئے بغیر بھی چارہ نہیں

ہمارے یہ مہربان عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن ووٹ کی بالادستی کا اعلان کرنے سے گریزاں ہیں ۔ اگر انہیں ووٹ مانگتے ہوئے ایسے خدشات اور وسوسے لاحق ہیں تو کل جب یہ رہنما ووٹ سے تشکیل پانے والے اداروں میں رونق افروز ہوں گے تو ان کے دست و بازو پہلے سے قطع ہو چکے ہوں گے ۔ زمانے کا انقلاب دیکھیئے ۔ جو مہربان سیاسی قوتوں کے مابین مفاہمت کو مک مکا قرار دیتے تھے اب سقوط جمہوریت کے دستاویزی شواہد پر شاداں و مسرور ہیں ۔ تاریخ کے یہ چیمبرلین اگر جولائی کے الٹرا ساؤنڈ سے خوف زدہ ہیں تو اگست کے بلیک باکس کا سامنا کیسے کریں گے ؟
وجاہت مسعود کی تحریر سے اقتباس

دو اسلام

347 بار دیکھا گیا

ڈاکٹر غلام جیلانی برق برصغیر کا عظیم دماغ تھے ۔ یہ 1901ء میں کیمبلپور (موجودہ اٹک) میں پیدا ہوئے ۔ والد گاؤں کی مسجد کے امام تھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے اِبتدائی تعلیم مدارس میں حاصل کی ۔ مولوی فاضل ہوئے ۔ مُنشی فاضل ہوئے اور ادِیب فاضل ہوئے ۔ میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد اسلامی اور مغربی دونوں تعلیمات حاصل کیں ۔ عربی میں Gold Medal لیا ۔ فارسی میں ایم اے کیا اور 1940ء میں پی ایچ ڈی کی ۔ امام ابن تیمیہ پر انگریزی زبان میں Thesis لکھا ۔ امامت سے عملی زندگی شروع کی ۔ پھر کالج میں پروفیسر ہو گئے ۔ آپ کے Thesis کو Oxford اور Harvard یونیورسٹی نے قبولیت بخشی ۔ اسلام پر تحقیق شروع کی ۔ 1949ء میں پاکستان کی تشکیل سے 2 سال بعد ”دو اسلام“ کے نام سے معرکۃ الآراء کتاب لکھی اور پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ یہ کتاب ۔ کتاب نہیں تھی ایک عالمی انقلاب تھا ۔ ”دو اسلام“ کے بعد ”دو قرآن“ اور ”من کی دنیا“ لکھی اور اسلامی دنیا کے پیاسے ذہنوں کو سیراب کیا

”دو اسلام“ اور ”دو قرآن“ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آج کے پاکستان کی عدم برداشت ۔ مذہبی تشدد اور مکالمے کے قبرستان کے مقابلہ میں ماضی کا پاکستان دانش ۔ برداشت ۔ عِلم اور مکالمے میں آج کے پاکستان سے کتنا آگے تھا ۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور ان کا پاکستان کس قدر بالغ تھا ۔ جاننے کیلئے ”دو اسلام“ کا صرف ابتدائیہ ملاحظہ کیجئے ۔ آج کا مسلمان ڈاکٹر برق کے مسلمانوں سے بہت پیچھے ہے ۔ ڈاکٹر صاحب جیسے دانشوروں اور مُسلم scholars کی باتیں صرف ماضی میں ہی لکھی اور بیان کی جا سکتی تھیں ۔ ہم لوگ آج ان کا تصور تک نہیں کر سکتے ۔ کیوں ؟ کیونکہ آج کے مسلمان میں سب کچھ ہے اگر نہیں ہے تو اسلام نہیں

ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں
یہ 1918 ء کا ذکر ہے ۔ میں والد صاحب کے ساتھ امرتسر گیا ۔ میں چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا جہاں نہ بلند عمارات ۔ نہ مصفّا سڑکیں ۔ نہ کاریں ۔ نہ بجلی کے قُمقُمے اور نہ اس وضع کی دکانیں ۔ دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔ لاکھوں کے سامان سے سَجی دکانیں اور بورڈ پر کہیں رام بھیجا سنت رام لکھا تھا ۔ کہیں دُنی چند اگروال ۔ کہیں سَنت سنگھ سبل اور کہیں شادی لال فقیر چند ۔ ہال بازار کے اِس سِرے سے اُس سِرے تک کسی مسلمان کی کوئی دکان نظر نہیں آئی ۔ ہاں مسلمان ضرور نظر آئے ۔ کوئی بوجھ اٹھا رہا تھا ۔ کوئی گدھے لاد رہا تھا ۔ کوئی کسی ٹال پہ لکڑیاں چیر رہا تھا اور کوئی بھیک مانگ رہا تھا ۔ غیر مسلم کاروں اور فٹنوں پر جا رہے تھے اور مسلمان اڑھائی من بوجھ کے نیچے دبا ہوا مشکل سے قدم اٹھا رہا تھا ۔ ہندوؤں کے چہرے پَر رونق ۔ بشاشَت اور چَمَک تھی اور مسلمان کا چہرہ فاقہ ۔ مُشقّت ۔ فکر اور جھُریوں کی وجہ سے افسردہ اور مسخ

میں نے والد صاحب سے پوچھا ”کیا مسلمان ہر جگہ اسی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں؟“
والد صاحب نے کہا ” ہاں“۔
میں نے عرض کیا ”الله نے مسلمان کو بھی ہندو کی طرح دو ہاتھ ۔ دو پاؤں اور ایک سر عطا کیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے ہندو تو زندگی کے مزے لوٹ رہا ہے اور مسلمان ہر جگہ حیوان سے بدتر زندگی بسر کر رہا ہے ؟“
والد صاحب نے جواب دیا ”یہ دنیا مُردار سے زیادہ نجس ہے اور اس کے مُتلاشی کُتوں سے زیادہ ناپاک ہیں ۔ الله نے یہ مُردار ہندوؤں کے حوالے کر دیا ہے اور جنت ہمیں دے دی ہے ۔ کہو کون فائدے میں رہا ؟ ہم یا وہ؟“
میں بولا ”اگر دنیا واقعی مُردار ہے تو پھر آپ تجارت کیوں کرتے ہیں اور مال تجارت خریدنے کے لئے امرتسر تک کیوں آئے ؟ ایک طرف دنیاوی ساز و سامان خرید کر منافع کمانا اور دوسری طرف اسے مُردار قرار دینا ۔ عجیب قِسم کی مَنطق ہے“
والد صاحب ”بیٹا ۔ بزرگوں سے بحث کرنا سعادت مندی نہیں ۔ جو کچھ میں نے تمہیں بتایا ہے وہ ایک حدیث کا ترجمہ ہے“۔
حدیث کا نام سن کر میں ڈر گیا اور بحث بند کر دی ۔ سفر سے واپس آ کر میں نے گاؤں کے مُلا سے اپنے شبہات کا اظہار کیا ۔ اس نے بھی وہی جواب دیا

میرے دل میں اس معمے کو حل کرنے کی تڑپ پیدا ہوئی لیکن میرے قلب و نظر پہ تقلید کے پہرے بیٹھے تھے ۔ عِلم کم تھا اور فہم محدود ۔ اس لئے معاملہ اُلجھتا گیا ۔ میں مسلسل 14 برس تک حصول علم کے لئے مختلف علماء و صوفیاء کے ہاں رہا ۔ درس نظامی کی تکمیل کی ۔ سینکڑوں واعظین کے واعظ سُنے ۔ بِیسِیوں دینی کتب پڑھیں اور بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام رائج کا ماحاصل یہ ہے ۔ توحید کا اقرار اور صلوٰۃ ۔ زکوٰۃ ۔ صوم اور حج کی بجا آوری ۔ اذان کے بعد ادب سے کلمہ شریف پڑھنا ۔ جمعرات ۔ چہلم ۔ گیارہویں وغیرہ کو باقاعدگی سے ادا کرنا ۔ قرآن کی عبارت پڑھنا ۔ الله کے ذکر کو سب سے بڑا عمل سمجھنا ۔ قرآن اور درُود کے ختم کرانا ۔ حق ہو کے ورد کرنا ۔ مرشد کی بیعت کرنا ۔ مرادیں مانگنا ۔ مزاروں پر سجدے کرنا ۔ تعویذوں کو مشکل کُشا سمجھنا ۔کسی بیماری یا مصیبت سے نجات کے لئے مولوی جی کی دعوت کرنا ۔ گناہ بخشوانے کے لئے قوالی سننا ۔ غیر مسلم کو ناپاک و نجس سمجھنا ۔ طبیعیات ۔ ریاضیات ۔ اقتصادیات ۔ تعمیرات وغیرہ کو کفر خیال کرنا ۔ غور و فکر اور اجتہاد و استنباط کو گناہ قرار دینا ۔ صرف کلمہ پڑھ کر بہشت میں پہنچ جانا اور ہر مشکل کا علاج عمل اور محنت کی بجائے دعاؤں سے کرنا

میں علمائے کرام کے فیض سے جب تعلیمات اسلامی پر پوری طرح حاوی ہو گیا تو یہ حقیقت واضح ہوئی خدا ہمارا ۔ رسول ہمارا ۔ فرشتے ہمارے ۔ جنت ہماری ۔ حوریں ہماری ۔ زمین ہماری ۔ آسمان ہمارا ۔ الغرض سب کچھ کے مالک ہم ہیں اور باقی قومیں اس دنیا میں جھک مارنے آئی ہیں ۔ ان کی دولت ۔ عیش اور تنعم محض چند روزہ ہے ۔ وہ بہت جلد جہنم کے پست ترین طبقے میں اوندھے پھینک دیئے جائیں گے اور ہم کمخواب و زربفت کے سوٹ پہن کر سرمدی بہاروں میں حوروں کے ساتھ مزے لوٹیں گے

زمانہ گزرتا گیا ۔ انگریزی پڑھنے کے بعد علُوم جدیدہ کا مطالعہ کیا ۔ قلب و نظر میں وسعت پیدا ہوئی ۔ اقوام و مِللّ کی تاریخ پڑھی تو معلوم ہوا مسلمانوں کی 128 سلطنتیں مِٹ چُکی ہیں ۔ حیرت ہوئی کہ جب الله ہمارا اور صرف ہمارا تھا تو اس نے خلافت عباسیہ کا وارث ہلاکو جیسے کافر کو کیوں بنایا ؟ ہسپانیہ کے اسلامی تخت پہ فرونیاں کو کیوں بٹھایا ؟ مغلیہ کا تاج الزبتھ کے سر پر کیوں رکھ دیا ؟ بلغاریہ ۔ ہنگری ۔ رومانیہ ۔ سرویا ۔ پولینڈ ۔ کریمیا ۔ یوکرائین ۔ یونان اور بلغراد سے ہمارے آثار کیوں مٹا دیئے ؟ ہمیں فرانس سے بیک بِینی دو گوش کیوں نکالا اور تیونس ۔ مراکو ۔ الجزائر اور لیبیا سے ہمیں کیوں رخصت کیا ؟

میں رفع حیرت کے لئے مختلف علماء کے پاس گیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے اس مسئلے پر پانچ سات برس تک غور و فکر کیا لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا ۔ ایک دن میں سحر کو بیدار ہوا ۔ طاق میں قرآن شریف رکھا تھا ۔ میں نے اُٹھایا ۔ کھولا اور پہلی آیت جو سامنے آئی وہ یہ تھی ”(ترجمہ) کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے ہم ان سے پہلے کتنی اقوام کو تباہ کر چکے ہیں ۔ ہم نے انہیں وہ شان و شوکت عطا کی تھی جو تمہیں نصیب نہیں ہوئی ۔ ہم ان کے کھیتوں پر چھما چھم بارشیں برساتے تھے اور ان کے باغات میں شفاف پانی کی نہریں بہتی تھیں لیکن جب انہوں نے ہماری راہیں چھوڑ دیں تو ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور ان کا وارث کسی اور قوم کو بنا دیا”۔

میری آنکھیں کھُل گئیں ۔ اندھی تقلید کی وہ تاریک گھٹائیں جو دماغی ماحول پر محیط تھیں یک بیک چھٹنے لگیں اور الله کی سُنّت جاریہ کے تمام گوشے بے حجاب ہونے لگے ۔ میں نے قرآن میں جا بجا یہ لکھا دیکھا ”یہ دنیا دار العمل ہے ۔ یہاں صرف عمل سے بیڑے پار ہوتے ہیں ۔ ہر عمل کی جزا و سزا مقرر ہے جسے نہ کوئی دعا ٹال سکتی ہے اور نہ دوا“۔ ”لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی (انسان کیلئے وہی ہے جس کی کوشش خود اُس نے کی)“۔

میں سارا قرآن مجید پڑھ گیا اور کہیں بھی محض دعا یا تعویذ کا کوئی صِلہ نہ دیکھا ۔ کہیں بھی زبانی خوشامد کا اجر زمردیں محلات ۔ حوروں اور حجوں کی شکل میں نہ پایا ۔ یہاں میرے کانوں نے صرف تلوار کی جھنکار سُنی اور میری آنکھوں نے غازیوں کے وہ جھُرمَٹ دیکھے جو شہادت کی لازوال دولت حاصل کرنے کے لئے جنگ کے بھڑکتے شعلوں میں کود رہے تھے ۔ وہ دیوانے دیکھے جو عزم و ہمت کا علَم ہاتھ میں لئے معانی حیات کی طرف باانداز طوفان بڑھ رہے تھے اور وہ پروانے دیکھے جو کسی کے جمالِ جاں افروز پہ رہ رہ کے قربان ہو رہے تھے

قرآن مجید کے مطالعے کے بعد مجھے یقین ہو گیا مسلمان ہر جگہ محض اس لئے ذلیل ہو رہا ہے کہ اس نے قرآن کے عمل ۔ محنت اور ہیبت والے اسلام کو ترک کر رکھا ہے ۔ وہ اوراد و اوعیہ کے نشے میں مست ہے اور اس کی زندگی کا تمام سرمایہ چند دعائیں اور چند تعویذ ہیں اور بس ۔ اور ساتھ ہی یقین ہو گیا کہ اسلام دو ہیں ”ایک قرآن کا اسلام جس کی طرف الله بُلا رہا ہے اور دوسرا وہ اسلام جس کی تبلیغ ہمارے اسّی لاکھ ملا قلم اور پھیپھڑوں کا سارا زور لگا کر کر رہے ہیں“۔
برق کیمبل پور ۔ 25 ستمبر 1949ء

ہم اِتنے بے عِلم کیوں ؟

276 بار دیکھا گیا

ناجانے ہمارے مُلک میں کِس کا زَور چلتا ہے کہ تاریخ کو مَسَخ کیا جاتا ہے ۔ حقائق کو بدل دیا جاتا ہے ۔ آج اِس کی ایک مثال پیشِ خدمت ہے

ایک صاحب جنہوں نے اپنا قلمی نام عاشُور بابا رکھا ہے لکھتے ہیں
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب عوامی نیشنل پارٹی کے راہنماؤں کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا تو ایک ایسا شخص تھا جو بہت ہی خستہ حال تھا ۔ اس کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل لایا گیا ۔ جیلر نے اس پریشان حال شخص کو دیکھا اور حقارت سے کہا ”اگر تم عبدالولی خان کے خلاف بیان لکھ کر دے دو تو ہم تم کو رہا کر دیں گے ورنہ یاد رکھو اس کیس میں تم ساری عمر جیل میں گلتے سڑتے رہو گے اور یہیں تمہاری موت ہو گی“۔
یہ سُن کر اس شخص نے جیلر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور مسکرا کر کہا ” جیلر صاحب ۔ جیل میں تو شاید میں چند برس زندہ بھی رہ لوں لیکن اگر میں نے یہ معافی نامہ لکھ دیا تو شاید چند دن بھی نہ جی پاؤں“۔

اصولوں اور عزم و ہمت کی اس دیوار کا نام حبیب جالب تھا اور اس کو جیل میں بھیجنے والا اپنے وقت کا سب سے بڑا لیڈر ذوالفقار علی بھٹو تھا
میں کل سے حیرت کا بُت بنا بیٹھا ہوں جب سے میں نے بلاول زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر حبیب جالب کا کلام پڑھتے دیکھا اور کلام بھی وہ جو اس نے بھٹو کے دور میں لکھا تھا ۔ آپ کو یہ سن کر شاید حیرت ہو کہ بھٹو دور میں حبیب جالب نے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور الیکشن ہارنے کے بعد وہ بھٹو کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے رہے ۔ ان کو جیل میں ڈال دیا گیا اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد ان کو اس کیس سے بری کیا گیا تھا
کاش کہ بلاول کو تاریخ سے تھوڑی سی بھی آگہی ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کا بیشتر کلام بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھا جس میں سے ایک مشہور نظم پیش خدمت ہے

میں پسرِ شاہنواز ہوں ۔ میں پدرِ بے نظیر ہوں
میں نِکسَن کا غلام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں
میں شرابیوں کا پِیر ہوں ۔ میں لکھ پتی فقیر ہوں
وِہسکی بھرا اِک جام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں
جتنے میرے وزِیر ہیں ۔ سارے بے ضمیر ہیں
میں اِن کا بھی امام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں
دیکھو میرے اعمال کو ۔ میں کھا گیا بنگال کو
پھر بھی میں نیک نام ہوں ۔ میں قائد عوام ہوں

کل جب بھٹو کی برسی پر بلاول حبیب جالب کا کلام پڑھ رہے تھے تو بھٹو دور میں ہونے والے مظالم میری آنکھوں کے سامنے آ گئے۔ حبیب جالب پر اتنا ظُلم ایوب خان اور ضیاءالحق جیسے آمروں کے دور میں نہیں ہوا جتنا ظُلم قائد عوام اور جمہوری لیڈر بھٹو کے دور میں ہوا ۔ جس دن بھٹو نے حبیب جالب کو گرفتار کروایا تھا اس دن جالب کے بیٹے کا سوئم تھا اور وہ چاک گریبان کے ساتھ جیل میں گئے تھے اور اُن کی اپنے بیٹے کی یاد میں لکھی نظم ایک تاریخی انقلابی نظم ہے

کاش کوئی یہ سب باتیں جا کر بلاول کو بتائے کہ رَٹی رَٹائی تقریریں کر لینا بہت آسان ہے لیکن بہتر ہو اگر آپ ان باتوں کا تاریخی پسِ منظر بھی جان لو ۔ جیسی جاہل یہ قوم ہے ویسے ہی جاہل اور تاریخی حقائق سے نابلد اِن کے لیڈر

اُسی دَور میں حبیب جالِب نے یہ اشعار بھی پڑھے تھے مگر 1988ء میں یا اِس کے بعد میڈیا نے اِن اشعار کو ضیاء الحق سے منسُوب کر دیا تھا

دِیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پَلے
ایسے دستُور کو ۔ صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختہءِ دار سے
میں بھی منصُور ہوں کہہ دو اَغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زِنداں کی دیوار سے
ظُلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
پھُول شاخوں پہ کھِلنے لگے تُم کہو
جام رِندوں کو ملنے لگے تُم کہو
چاک سِینوں کے سِلنے لگے تُم کہو
اس کھُلے جھُوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

80 سال بعد

141 بار دیکھا گیا

یہ بنیادی طور پر 3 خاندانوں کا قصہ ہے ۔ پہلا خاندان واڈیا فیملی تھی ۔ خاندان کی بنیاد پارسی تاجر لوجی نصیر وان جی واڈیا نے بھارت کے
شہر سورت میں رکھی

فرنچ ایسٹ انڈیا اور برٹش ایسٹ انڈیا میں جنگ ہو چکی تھی ۔ برطانوی تاجر فرانسیسی تاجروں کو پسپا کر چکے تھے ۔ پلاسی کی جنگ بھی ختم ہو چکی تھی اور میسور میں ٹیپو سلطان بھی ہار چکے تھے ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کو اب مغل سلطنت پر قبضے کے لئے برطانیہ سے مضبوط رابطے چاہیں تھے ۔ یہ رابطے بحری جہازوں کے بغیر ممکن نہیں تھے

لوجی واڈیا لوہے کے کاروبار سے وابستہ تھے ۔ وہ انگریزوں کی ضرورت کو بھانپ گئے چنانچہ انہوں نے 1736ء میں ہندوستان میں پہلی شِپنگ کمپنی کی بنیاد رکھ دی ۔ وہ سورت سے ممبئی منتقل ہوئے ۔ بحری جہاز بنانے کا کارخانہ لگایا ۔ ممبئی پورٹ بنائی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ طاقتور تجارتی دھاگے میں پرو گئے ۔ انگریز بعد ازاں واڈیا گروپ سے بحری جنگی جہاز بھی بنوانے لگے

واڈیا گروپ نے 1810ء میں ایچ ایم ایس مینڈن کے نام سے دنیا کا دوسرا بڑا بحری جہاز بنایا ۔ امریکا نے 1812ء میں اس جہاز پر اپنا قومی ترانہ لکھا ۔ یہ دنیا میں بحری جہاز پر لکھا جانے والا پہلا امریکی ترانہ تھا ۔ واڈیا فیملی کے اردشیر کاؤس جی 1849ء میں امریکا گئے ۔ یہ امریکی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے پارسی تھے

یہ لوگ 1840ء تک 100 سے زائد بحری جنگی جہاز بنا چکے تھے ۔ یہ پوری دنیا میں اپنا تجارتی نیٹ ورک بھی پھیلا چکے تھے اور یہ دنیا میں جہاز رانی میں پہلے نمبر پر بھی آ چکے تھے ۔ واڈیا فیملی بعد ازاں کپڑا سازی ۔ فلم ۔ تعلیم اور میڈیا کے شعبوں میں بھی آ گئی ۔ لوجی واڈیا کے پوتے کے پوتے نوروجی واڈیا نے پونا میں پہلا پرائیویٹ کالج بنایا ۔ واڈیا فیملی نے 1933ء میں ممبئی میں اسٹوڈیوز اور فلم سازی کی کمپنیاں بنائیں ۔ جے بی ایچ واڈیا اور ہومی واڈیا فلمیں بنانے لگے اور یہ فیشن میگزین بھی چلانے لگے ۔ فیشن چینلز بھی اور ’’گوائیر‘‘ کے نام سے ائیر لائین بھی ۔ یہ بھارت میں اس وقت بھی بڑا کاروباری نام ہیں

پٹیٹ بھارت کا دوسرا تجارتی خاندان تھا ۔ یہ لوگ کپڑے کی صنعت سے وابستہ تھے ۔ سر ڈِنشا مانک جی پٹیٹ نے ہندوستان میں پہلی کاٹن مل لگائی تھی ۔ یہ ملکہ سے نائیٹ کا خطاب حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی بھی تھے ۔ سر ڈِنشا پٹیٹ کی شادی ہندوستان کے پہلے ارب پتی رتن ٹاٹا کی بیٹی سائیلا ٹاٹا سے ہوئی تھی ۔ سائیلا ٹاٹا کی والدہ فرنچ تھیں ۔ ان کا نام سوزانا تھا ۔ وہ ہندوستان میں گاڑی چلانے والی پہلی خاتون تھی ۔ جہانگیر ٹاٹا سائیلا کے بھائی تھے ۔ یہ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین تھے

سرڈنشا مانک جی پٹیٹ اور سائیلا ٹاٹا کے ہاں 1900ء میں ایک نہایت خوبصورت بچی پیدا ہوئی‘ بچی کا نام رتی بائی پٹیٹ رکھا گیا ۔ سر ڈِنشا پٹیٹ نے بچی کو اپنے نوجوان دوست محمد علی جناح سے گھُٹی دلائی ۔ محمد علی جناح اس وقت ممبئی کے نامور وکیل تھے ۔ وہ ذہین ترین شخص کہلاتے تھے ۔ سر ڈِنشا پٹیٹ چاہتے تھے اِن کی بیٹی محمد علی جناح کی طرح ذہین ثابت ہو ۔ سرڈِنشا پٹیٹ کی یہ خواہش بعد ازاں پوری ہوئی لیکن کس طرح یہ ہم آپ کو تیسرے خاندان کے تعارف کے بعد بتائیں گے

بھارت کا تیسرا خاندان جناح کہلاتا ہے ۔ خاندان کے بانی پریم جی بھائی تھے ۔ یہ گجرات کاٹھیاواڑ کے رہنے والے تھے ۔ وہ مذہباً ہندو تھے ۔ اُنھوں نے اسلام قبول کیا اور تجارت شروع کر دی ۔ کراچی اس زمانے میں چھوٹا سا ساحلی قصبہ تھا ۔ یہ مچھیروں تک محدود تھا ۔ یہ شہر 1870ء میں اچانک اہمیت اختیار کر گیا ۔ کیوں؟ وجہ بہت دلچسپ تھی ۔ انگریز نے 1859ء میں مصر میں نہر سویز کھودنا شروع کی ۔ یہ نہر 10 سال بعد 1869ء میں مکمل ہو ئی ۔ نہر سویز نے بحیرہ روم کو بحیرہ احمر کے ساتھ ملا دیا ۔ بحری جہازوں کا فاصلہ 7000کلو میٹر کم ہو گیا ۔ نہر سویز سے قبل ممبئی ہندوستان کی واحد بندر گاہ تھی ۔ نہر کی وجہ سے یورپ اور ہندوستان کے درمیان تجارت میں 3 گناہ اضافہ ہوگیا

ممبئی کی بندرگاہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔ انگریز کو نئی بندرگاہ کی ضرورت پڑ گئی ۔ کراچی قدرتی بندرگاہ تھا چنانچہ انگریز نے یہاں بندر گاہ بنانا شروع کر دی ۔ یہ بندر گاہ ہندوستان کے دوسرے درجے کے ہزاروں تاجروں کو کراچی کھینچ لائی ۔ ان تاجروں میں جناح پونجا بھی شامل تھے ۔ یہ 1875ء میں کراچی آئے اور ان کے ہاں 1876ء میں محمد علی پیدا ہوئے ۔ یہ والد کی مناسبت سے محمد علی جناح کہلانے لگے ۔ جناح پونجا کامیاب تاجر تھے ۔ یہ اپنا مال بحری جہازوں کے ذریعے یورپ بھجواتے تھے

اب صورت حال ملاحظہ کیجئے ۔ جناح پونجا تاجر ہیں ۔ یہ چمڑا اور سوتی کپڑا برآمد کرتے ہیں ۔ سوتی کپڑا پٹیٹ فیملی کی مِلوں میں بنتا ہے ۔ چمڑا پٹیٹ فیملی کے سسرالی ٹاٹا فیملی کی ٹینریز میں رنگا جاتا ہے اور یہ مال واڈیا فیملی کے جہازوں پر یورپ جاتا ہے ۔ یوں قدرت نے تینوں (چاروں) خاندانوں کے درمیان ایک دلچسپ تعلق پیدا کر دیا

اب ان تمام خاندانوں کی کُنجی محمد علی جناح کی طرف آتے ہیں ۔ قائداعظم 1896ء میں وکیل بن کر ممبئی آئے اور شہر کی سماجی زندگی میں تہلکہ مچا دیا ۔ یہ انگریزوں سے بہتر انگریزی بولتے تھے ۔ ان کے پاس 200 نہایت قیمتی سوٹ تھے ۔ یہ روز نیا سوٹ پہنتے تھے ۔ ان کی شخصیت میں دِل آویزی اور کشش بھی تھی ۔ پریکٹس بھی بہت اچھی تھی اور Social networking بھی کمال تھی ۔ انگریز افسر انہیں بہت پسند کرتے تھے چنانچہ یہ اس زمانے میں پٹیٹ ۔ ٹاٹا اور واڈیا تینوں خاندانوں کے لئے hot cake بن گئے

سر ڈِنشا پٹیٹ کے ہاں 1900ء میں رتی بائی پٹیٹ پیدا ہوئیں ۔ یہ ’’مسٹر جناح ۔ مسٹر جناح‘‘ کی آوازوں میں بڑی ہوئیں اور جوانی میں ان کی محبت کی اسیر ہو گئیں ۔ رتی بائی نے 1918ء میں اسلام قبول کیا ۔ یہ رتی سے مریم جناح بنیں اور نئی زندگی شروع کر دی ۔ سر ڈِنشا پٹیٹ نے بیٹی کو عاق کر دیا ۔ ان سے Patent کا Title تک لے لیا گیا ۔ قائداعظم اور مریم اس زمانے میں ہندوستان کا خوبصورت اور ذہین ترین جوڑا تھا ۔ اللہ تعالٰی نے دونوں کو 15 اگست 1919ء کو خوبصورت بیٹی دینا عطا کی

دینا جناح لندن میں پیدا ہوئیں ۔ ماں اور باپ تھئیٹر دیکھ رہے تھے ۔ ایمرجنسی ہوئی ۔ یہ دونوں تھئیٹر سے سیدھے ہسپتال پہنچے اور دینا دنیا میں تشریف لے آئیں ۔ بیٹی ابھی بچی تھی کہ ماں باپ میں اختلافات ہو گئے ۔ والدہ گھر سے ہوٹل شفٹ ہو گئیں ۔ یوں دینا کا بچپن اداسی اور تنہائی کا شکار ہوگیا ۔ والدہ بیمار ہوئی اور 29 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔ دینا کی عمر اس وقت 10 سال تھی ۔ والد کو بیوی کے غم اور سیاست نے نگل لیا ۔ بچی کی پرورش کی ذمے داری پھوپھی فاطمہ جناح پر آ گئی ۔ وہ یہ ذمے داری نبھاتی رہیں

دینا پارسی کمیونٹی کا حصہ تھیں ۔ وہ ممبئی کے پارسی کلب میں بھی جاتی تھیں اور پارسی فیملیز سے بھی ملتی رہتی تھیں ۔ یہ اس دوران واڈیا فیملی کے نوجوان نیولی واڈیا کی محبت میں گرفتار ہو گئیں ۔ والد نے شادی سے روکا ۔ یہ باز نہ آئیں ۔ دینا نے1938ء میں نیولی واڈیا سے شادی کر لی ۔ قائداعظم نے بیٹی سے قطع تعلق کر لیا ۔ نسلی واڈیا اور جمشید واڈیا 2 بیٹے ہوئے ۔ 1943ء میں طلاق ہو گئی لیکن طلاق کے باوجود باپ اور بیٹی میں فاصلہ رہا تاہم قائداعظم کے نواسے سرِ راہ اپنے نانا سے ملتے رہتے تھے

قائد اعظم ان سے بہت محبت سے پیش آتے تھے ۔ آپ انہیں تحفے بھی دیتے تھے جو عموماً 3 ہوتے تھے ۔ تیسرا تحفہ ہمیشہ بے نام ہوتا تھا ۔ یہ ایک باپ کا اپنی واحد بیٹی کے نام بے نام تحفہ ہوتا تھا ۔ ملک تقسیم ہو گیا ۔ قائداعظم کراچی تشریف لے آئے اور دینا واڈیا ممبئی رہ گئیں ۔ یہ بعد ازاں امریکہ مُنتقِل ہو گئیں ۔ قائد اعظم بیمار ہوئے ۔ 11 ستمبر 1948ء کو اِنتقال فرمایا ۔ وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے دِ ینا کو اطلاع دی ۔ خصوصی طیارہ ممبئی بھجوایا اور وہ والد کے آخری دیدار کے لئے پاکستان تشریف لے آئیں

وہ 2004ء میں دوسری اور آخری مرتبہ پاکستان تشریف لائیں‘ وہ شہریار خان کی درخواست پر میچ دیکھنے پاکستان آئی تھیں ۔ ان کے صاحبزادے نسلی واڈیا اور دونوں پوتے نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا بھی ان کے ساتھ تھے ۔ وہ اس وقت تک ہُوبہو قائداعظم کی تصویر بن چکی تھیں ۔ وہی ستواں ناک ۔ وہی تیز گرم نظریں اور وہی تحمکانہ لہجہ ۔ وہ آئیں تو لوگ بھول گئے وہ پارسی ہو چکی ہیں یا قائداعظم نے ان سے قطع تعلق کر لیا تھا ۔ لوگ ان کے پیروں کی خاک اُٹھا کر اپنے ماتھے پر لگاتے رہے ۔ وہ لاہور میں علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین کی حویلی بھی گئیں ۔ یوسف صلاح الدین کے ماتھے پر پیار کیا ۔ یہ اس وقت چین اسموکر تھے ۔ حُکم دیا ” آپ فوراً سگریٹ چھوڑ دو“۔ یوسف صلاح الدین نے اُسی وقت سگریٹ پینا بند کر دیا ۔ یہ پاکستان سے واپس امریکا چلی گئیں اور 2 نومبر 2017ء کو نیویارک میں انتقال کر گئیں

والد اور بیٹی دونوں با اصول تھے ۔ والد نے قطع تعلق کے بعد پوری زندگی بیٹی کی شکل نہیں دیکھی ۔ بیٹی نے بھی مرنے تک والد کی وراثت سے حصہ نہیں مانگا ۔ وہ صرف آخری عمر ممبئی میں قائداعظم کے گھر میں گزارنا چاہتی تھیں ۔ عدالت میں کیس چل رہا تھا لیکن عدالت اور بھارتی حکومت دونوں کا دل چھوٹا نکلا

جاوید چوہدری کا مضمون 7 نومبر 2017ء کو شائع ہوا

”چُوہا “ یا ”چَوآ “۔ کیوں اور کیسے ؟

406 بار دیکھا گیا

آپ نے کبھی دیکھا ہو گا کہ سبز چُگے میں ملبُوس ایک لڑکا یا لڑکی جس کا سر بہت چھوٹا ہے کسی عورت یا مرد کے ساتھ ہے اور بھیک مانگ رہا ہے ۔ اِنہیں”شاہ دولہ شاہ کا چوہا“ کہا جاتا ہے ۔ ”شاہ دولہ شاہ“ ایک نیک سیرت بزرگ تھے جن کا مزار گجرات (پاکستان) میں واقع ہے ۔ مشہور یہ ہے کہ بھانج عورتیں شاہ دولہ شاہ کے مزار پر جا کر منت مانگتی ہیں کہ ان کے ہاں اولاد ہو جائے تو پہلا بچہ مزار کی نذر کر دیں گی چنانچہ اُن کی پہلی اولاد چھوٹے سر والی معذور پیدا ہوتی ہے جو وہ حسبِ وعدہ مزار پر چھوڑ جاتی ہیں ۔ لیکن معتقدین اور گجرات کے پڑھے لکھے لوگ ان تمام روایات کو من گھڑت کہانیاں کہتے ہیں ۔ اُن کے مطابق پہلا ہو یا بعد والا سب بچے بغیر کسی نقص کے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان اصحاب کا کہنا ہے کہ شاہ دولہ شاہ ایک نیک اور باعمل مسلمان تھے جو عوامی فلاح و بہبود کے کام بھی کرواتے رہے تو کیا ایسی نیک ہستیوں سے کوئی چیز مانگی جائے تو وہ خراب چیز دیں گے ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ ” چُوہا “ نہیں تھا بلکہ ” چوآ “ تھا جو بگڑ کر ” چُوہا “ بن گیا ۔ ” چوآ “ کا مطلب ہوتا ہے ” چشمہ (spring)۔

ہم نے 1949ء یا 1950ء میں جھنگی محلہ (راولپنڈی) میں رہائش اختیار کی ۔ اُس کے بعد ہی میں نے پہلی بار ایسا بچہ دیکھا ۔ پھر ان کے متعلق کہانیاں سُننے میں آتی رہیں ۔ میں جب نویں جماعت میں تھا تو میں نے مختلف ذرائع سے ان کے متعلق معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں اور انجنئرنگ کالج کے دوران (شاید 1959ء) اس سلسلہ میں میں گجرات کا چکر بھی لگایا تو وہ ساری کہانیاں غلط ثابت ہوئیں جو پہلے سُن رکھی تھیں

اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکمرانی (1658ء تا 1707ء) میں شاہ دولہ شاہ ایک نیک شخص گجرات کے نزدیک قیام پذیر ہوئے ۔ اِن کا اصلی نام تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ گیا ۔ شاہ دولہ شاہ رفاہ عامہ کے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے ۔ مغل بادشاہ اور اس کے گجرات کے علاقہ میں نمائندے ان سے قلبی لگاﺅ رکھتے تھے اور ان کے کئی طرح کے وظائف مقرر کئے ہوئے تھے ۔ یہ وظائف شاہ دولہ شاہ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ کرتے تھے ۔ انہوں نے شہر میں نہ صرف نالیاں تعمیر کراوئیں بلکہ اہم گزر گاہوں میں آنے والے نالوں پر پل بھی تعمیر کروائے ۔ مسجدیں اور مسافروں کے لئے سرائے بنوائیں ۔ علاقے کے بے سہارا اور مفلوک الحال بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لئے ادارے کی بنیاد رکھی اور یتیم خانہ کی عمارت بنوائی

کہا جاتا ہے کہ اِن کی وفات کے کچھ دہائیاں بعد ان کی قبر پر توہّم پرست لوگوں کا تانتا بندھ گیا ۔ قبر کے نام نہاد وارث بے اولاد عورتوں کو بیوقوف بناتے اور پہلا بچہ شاہ دولہ شاہ کی نذر کرنے کا کہتے ۔ ایسے بچے کو سخت چمڑے کی ٹوپی پہنا دی جاتی جس کی وجہ سے اُس کا سر چھوٹا ہی رہتا اور دماغ نشو و نما نہ پا سکتا ۔ یہ انسانیت سے گرے ہوئے لوگ ان بچوں کو بھیک مانگنے کے دھندہ پر لگا کر اپنی روزی پیدا کرتے ۔ جب اس طرح کے بچے زیادہ ہوئے تو انہیں ماہانہ کرایہ پر دیا جانے لگا یا خطیر رقم کے عِوض بیچ دیا جاتا ۔ اس طرح یہ ذہنی معذور بچے سارے مُلک میں پھیلا دیئے گئے ۔ ایسے بچے بھارت میں پائے جاتے ہیں

ڈاکٹر جانسٹن پہلا غیر مُلکی (برطانوی) تھا جو 1866ء میں شاہ دولہ شاہ کے مزار پر پہنچا ۔ اس نے بچوں کا مطالعہ کیا اور تحریر کیا کہ ان کے سر قدرتی چھوٹے نہیں ہوتے بلکہ بچپن میں ان کے سروں پر کوئی فولادی یا کسی اور سخت میٹِرِئل کی ٹوپی پہنائی جاتی ہو گی
کیپٹن ایونز جس نے 1902ء میں اس بارے میں تحقیق کی اُس کے بقول یہ ایک بیماری تھی اور اس طرح کے بچے اس نے برطانیہ میں بھی دیکھے ہیں

حکومت پاکستان نے 1969ء میں اس کاروبار کی ممانعت کا قانون بنایا اور اس پر عمل شروع ہوا ۔ ابتداء میں محکمہ اوقاف نے ایسے 9 بچے اپنی تحویل میں لے کر ان کی بحالی کا کام شروع کیا ۔ پھر ملک میں سیاسی گڑ بڑ شروع ہو گئی اور یہ کام رُک گیا ۔ عوامی دَور کے جولائی 1977ء میں خاتمہ کے چند سال بعد تک بھی یہ کام پس پشت پڑا رہا ۔ اس کے بعد کسی طرح یہ بات ضیاء الحق تک پہنچی اور کچھ اقدامات ہوئے ۔ پنجاب کی موجودہ حکومت نے اسے بھی اپنی اصلاحات میں شامل کیا ہوا ہے
یہ سب کچھ دراصل ان خاموش کام کرنے والے باعمل مسلمانوں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ بات حکمرانوں تک پہنچائی جاتی رہی اور عمل بھی ہوتا رہا

پہلے ہر سال ایسے زیادہ بچے نذر کئے جاتے تھے ۔ 1969ء میں قانون بننے کے بعد تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی ۔ اگر بعد کے سب حکمران توجہ دیتے تو شاید یہ قباحت ختم ہو چکی ہوتی ۔ کچھ سال قبل معلوم ہوا تھا کہ سالانہ نذر کئے جانے والے بچوں کی تعداد کم ہو کر ایک سے 3 سالانہ ہو گئی ہے ۔ کوئی عجب نہیں کہ جو شیر خوار بچے اغواء ہوتے ہیں اور ملتے نہیں وہ اسی انسانیت سے گرے مافیا کی کارستانی ہو جو اُنہیں خاص ٹوپیاں پہنا کر اپاہج بناتے اور اپنا مکروہ دھندہ چلاتے ہوں

ضرورت ہے کہ عوام کو قرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف راغب کیا جائے ۔ الله کرے کے موجودہ حکومت کے نئے قانون پر سکول و کالج کے پرنسپل اور اساتذہ درست عمل کریں اور آئیندہ آنے والی نسلوں میں قرآن شریف کی سمجھ پیدا ہو

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہم لوگ تِکے ۔ پِزا اور برگر کھانے کے اخراجات کچھ کم کر کے اس سے ہونے والی بچت کے ساتھ اپنے علاقہ کی مسجد کے امام صاحب کا ماہانہ مشاہرہ اتنا کر دیں (کم از کم پے سکیل 17) کہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی ذاتی پسند کا امام مسجد میں رکھنے کی بجائے حکومت سے رجسٹرڈ مدرسہ کا 8 سالہ کورس پاس کرنے والے کو امام مسجد رکھیں اور مسجد میں دکھاوے کیلئے جانے کی بجائے عِلم دین کے حصول اور الله کی خوشنودی کیلئے جائیں
الله ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

کیا قائد اعظم پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے ؟

1,422 بار دیکھا گیا

دانشوروں کا ایک منظم گروہ گزشتہ کچھ برسوں سے یہ ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف ہے کہ قائداعظم سیکولر ذہن کے مالک تھے اور وہ پاکستان میں سیکولر نظام نافذ کرنا چاہتے تھے ۔ یہ حضرات قائداعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کو اپنا سیکولر ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ قائداعظم کی دیگر سینکڑوں تقاریر جو شاید انہوں نے پڑھی نہیں میں مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کی بنیاد اسلام کو ہی بتایا گیا ہے ۔ متذکرہ تقریر دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد دستور ساز اسمبلی سے قائداعظم کا پہلا خطاب تھا ۔ یہ تقریر (پوری تقریر اس مضمون کے آخر میں منقول ہے) نہ تو لکھی ہوئی تھی اور نہ تیار کردہ بلکہ فی البدیہہ تھی۔ اس تقریر کے آخر میں قائد اعظم نے کہا تھا

ہمیں اسی لگن کے ساتھ کام کا آغاز کرنا ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ اکثریت اور اقلیت کی حصہ داری ، ہندو طبقہ اور مسلم طبقہ کیونکہ مسلمانوں میں بھی پٹھان پنجابی شیعہ سُنّی وغیرہ اور ہندوؤں میں برہمن وشنواس کھتری اور بنگالی مدراسی وغیرہ ختم ہو جائیں گے ۔ درحقیقت اگر آپ مجھ سے پوچھیں، یہ ہندوستان کی آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی اگر یہ نہ ہوتا تو ہم بہت پہلے آزاد ہو گئے ہوتے ۔ دنیا کی کوئی قوم کسی دوسری قوم کو خاص کر 400 ملین نفوس کو محکومیت میں نہیں رکھ سکتی ۔ نہ کوئی قوم آپ کو زیر کر سکتی تھی اور نہ مغلوب رکھ سکتی تھی سوائے متذکرہ گروہ بندی کے ۔ اسلئے ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیئے ۔ آپ آزاد ہیں ۔ آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی ہے ۔ آپ اپنی مساجد میں جانے کیلئے آزاد ہیں یا پاکستان کی اس ریاست میں کسی بھی دوسری عبادت کی جگہ ۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات یا مسلک سے ہو اس کا ریاست کے کاروبار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے
بتایئے اس میں سے سیکولر کیسے اخذ کیا گیا ؟ قائد اعظم نے باقی باتوں کے علاوہ جس طرح مذہبی اقلیتوں کو برابری کے درجے کا وعدہ کیا اور مذہبی آزادی کا پیغام دیا وہ دراصل اسلامی تعلیمات کا ہی ایک جزو ہے ۔ خیال رہے کہ پاکستان کی پہلی کابینہ میں چودھری ظفر اللہ خان (مرزائی) اور جوگندر ناتھ منڈل (ہندو) موجود تھے

قائداعظم نے تقسیم ہند سے قبل لگ بھگ 100 بار یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر اٹھائی جائے گی اور قیام پاکستان کے بعد 14 بار یہ واضح کیا کہ پاکستان کے نظام، آئین اور ملکی ڈھانچے کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا جائے گا۔ انہوں نے لاتعداد بار کہا کہ قرآن ہمارا راہنما ہے اور ہمیں قرآن ہی سے راہنمائی کی روشنی حاصل کرنی چاہیئے۔ ان سینکڑوں اعلانات اور وعدوں کے باوجود سیکولر حضرات اپنی ضد پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اپنے ذہن کے دریچے کسی اختلافی بات پر کھولنے کے لئے تیار نہیں

جنرل اکبر کے مطابق قائداعظم سے ملاقات میں اُس (جنرل اکبر) نے فوجی میسوں میں انگریز حکومت کی شروع کی گئی شراب نوشی کی رسم کو ختم کرنے کی تجویز دی جس کے جواب میں قائداعظم نے اپنے اے ڈی سی کو بلایا اور کانفیڈریشن بکس لانے کو کہا۔ قائداعظم نے بکس کو کھول کر چمڑے سے جلد بند ایک کتاب نکالی ۔ انہوں نے اسے کھولا اور فرمایا ”جنرل یہ قرآن مجید ہے ۔ اس میں لکھا ہے کہ شراب و منشیات حرام ہیں“۔ میں (جنرل اکبر) نے عرض کیا کہ ”آپ ایک حُکم جاری کریں اور افسروں کو مُتنبہ کریں کہ شراب حرام اور منع ہے“۔ قائداعظم مسکرائے اور فرمایا کہ ”کیا تم سمجھتے ہو کہ قائداعظم کا حُکم قرآن مجید کے احکامات سے زیادہ موثر ہوگا ؟“ سٹینو کو بُلایا گیا اور قائداعظم نے ایک مسودہ تیار کیا جس میں قرآنی آیات کی جانب توجہ دلا کر فرمایا کہ ”شراب و منشیات حرام ہیں“۔ میں (جنرل اکبر) نے اس مسودے کی نقل لگا کر شراب نوشی بند کرنے کا حکم جاری کر دیا کہ جس پر میری (جنرل اکبر کی) ریٹائرمنٹ تک عمل ہوتا رہے
قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے صدر منتخب ہونے پر دستور ساز اسمبلی سے پہلے خطاب کا متن

Mr. President, Ladies and Gentlemen!
I cordially thank you, with the utmost sincerity, for the honour you have conferred upon me – the greatest honour that is possible to confer – by electing me as your first President. I also thank those leaders who have spoken in appreciation of my services and their personal references to me. I sincerely hope that with your support and your co-operation we shall make this Constituent Assembly an example to the world. The Constituent Assembly has got two main functions to perform. The first is the very onerous and responsible task of framing the future constitution of Pakistan and the second of functioning as a full and complete sovereign body as the Federal Legislature of Pakistan. We have to do the best we can in adopting a provisional constitution for the Federal Legislature of Pakistan. You know really that not only we ourselves are wondering but, I think, the whole world is wondering at this unprecedented cyclonic revolution which has brought about the clan of creating and establishing two independent sovereign Dominions in this sub-continent. As it is, it has been unprecedented; there is no parallel in the history of the world. This mighty sub-continent with all kinds of inhabitants has been brought under a plan which is titanic, unknown, unparalleled. And what is very important with regards to it is that we have achieved it peacefully and by means of an evolution of the greatest possible character.
Dealing with our first function in this Assembly, I cannot make any well-considered pronouncement at this moment, but I shall say a few things as they occur to me. The first and the foremost thing that I would like to emphasize is this: remember that you are now a sovereign legislative body and you have got all the powers. It, therefore, places on you the gravest responsibility as to how you should take your decisions. The first observation that I would like to make is this: You will no doubt agree with me that the first duty of a government is to maintain law and order, so that the life, property and religious beliefs of its subjects are fully protected by the State.
The second thing that occurs to me is this: One of the biggest curses from which India is suffering – I do not say that other countries are free from it, but, I think our condition is much worse – is bribery and corruption. That really is a poison. We must put that down with an iron hand and I hope that you will take adequate measures as soon as it is possible for this Assembly to do so.
Black-marketing is another curse. Well, I know that blackmarketeers are frequently caught and punished. Judicial sentences are passed or sometimes fines only are imposed. Now you have to tackle this monster, which today is a colossal crime against society, in our distressed conditions, when we constantly face shortage of food and other essential commodities of life. A citizen who does black-marketing commits, I think, a greater crime than the biggest and most grievous of crimes. These blackmarketeers are really knowing, intelligent and ordinarily responsible people, and when they indulge in black-marketing, I think they ought to be very severely punished, because the entire system of control and regulation of foodstuffs and essential commodities, and cause wholesale starvation and want and even death.
The next thing that strikes me is this: Here again it is a legacy which has been passed on to us. Along with many other things, good and bad, has arrived this great evil, the evil of nepotism and jobbery. I want to make it quite clear that I shall never tolerate any kind of jobbery, nepotism or any influence directly or indirectly brought to bear upon me. Whenever I will find that such a practice is in vogue or is continuing anywhere, low or high, I shall certainly not countenance it.
I know there are people who do not quite agree with the division of India and the partition of the Punjab and Bengal. Much has been said against it, but now that it has been accepted, it is the duty of everyone of us to loyally abide by it and honourably act according to the agreement which is now final and binding on all. But you must remember, as I have said, that this mighty revolution that has taken place is unprecedented. One can quite understand the feeling that exists between the two communities wherever one community is in majority and the other is in minority. But the question is, whether it was possible or practicable to act otherwise than what has been done, A division had to take place. On both sides, in Hindustan and Pakistan, there are sections of people who may not agree with it, who may not like it, but in my judgement there was no other solution and I am sure future history will record is verdict in favour of it. And what is more, it will be proved by actual experience as we go on that was the only solution of India’s constitutional problem. Any idea of a united India could never have worked and in my judgement it would have led us to terrific disaster. Maybe that view is correct; maybe it is not; that remains to be seen. All the same, in this division it was impossible to avoid the question of minorities being in one Dominion or the other. Now that was unavoidable. There is no other solution. Now what shall we do? Now, if we want to make this great State of Pakistan happy and prosperous, we should wholly and solely concentrate on the well-being of the people, and especially of the masses and the poor. If you will work in co-operation, forgetting the past, burying the hatchet, you are bound to succeed. If you change your past and work together in a spirit that everyone of you, no matter to what community he belongs, no matter what relations he had with you in the past, no matter what is his colour, caste or creed, is first, second and last a citizen of this State with equal rights, privileges, and obligations, there will be no end to the progress you will make.
I cannot emphasize it too much. We should begin to work in that spirit and in course of time all these angularities of the majority and minority communities, the Hindu community and the Muslim community, because even as regards Muslims you have Pathans, Punjabis, Shias, Sunnis and so on, and among the Hindus you have Brahmins, Vashnavas, Khatris, also Bengalis, Madrasis and so on, will vanish. Indeed if you ask me, this has been the biggest hindrance in the way of India to attain the freedom and independence and but for this we would have been free people long long ago. No power can hold another nation, and specially a nation of 400 million souls in subjection; nobody could have conquered you, and even if it had happened, nobody could have continued its hold on you for any length of time, but for this. Therefore, we must learn a lesson from this. You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place or worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with the business of the State. As you know, history shows that in England, conditions, some time ago, were much worse than those prevailing in India today. The Roman Catholics and the Protestants persecuted each other. Even now there are some States in existence where there are discriminations made and bars imposed against a particular class. Thank God, we are not starting in those days. We are starting in the days where there is no discrimination, no distinction between one community and another, no discrimination between one caste or creed and another. We are starting with this fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one State. The people of England in course of time had to face the realities of the situation and had to discharge the responsibilities and burdens placed upon them by the government of their country and they went through that fire step by step. Today, you might say with justice that Roman Catholics and Protestants do not exist; what exists now is that every man is a citizen, an equal citizen of Great Britain and they are all members of the Nation.
Now I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.
Well, gentlemen, I do not wish to take up any more of your time and thank you again for the honour you have done to me. I shall always be guided by the principles of justice and fairplay without any, as is put in the political language, prejudice or ill-will, in other words, partiality or favouritism. My guiding principle will be justice and complete impartiality, and I am sure that with your support and co-operation, I can look forward to Pakistan becoming one of the greatest nations of the world.
I have received a message from the United States of America addressed to me. It reads:
I have the honour to communicate to you, in Your Excellency’s capacity as President of the Constituent Assembly of Pakistan, the following message which I have just received from the Secretary of State of the United States:
On the occasion of of the first meeting of the Constituent Assembly for Pakistan, I extend to you and to the members of the Assembly, the best wishes of the Government and the people of the United States for the successful conclusion of the great work you are about to undertake.

اُردو قومی زبان کیسے بنی ۔ بہتان اور حقیقت

406 بار دیکھا گیا

تقریباً 70 سال قبل 21 مارچ کو ایک واقعہ ہوا تھا جسے درست بیان کرنے کی بجائے نامعلوم کس مقصد کیلئے قوم کو خود تراشیدہ کہانیاں سنائی جاتی رہی ہیں اور اب تک سنائی جاتی ہیں ۔ جن صاحب نے سب سے پہلے خود تراشیدہ کہانی کو کتابی صورت میں پیش کیا وہ عطا ربانی صاحب (میاں رضا ربانی کے والد) تھے ۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا
” قائداعظم نے مارچ 1948ء میں اپنے دورۂ مشرقی پاکستان کے دوران مشرقی بازو کی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا جو محض 2 فیصد آبادی کی زبان تھی اور وہاں ہنگامہ ہوگیا جس میں 3 طلباء مارے گئے“۔
عطا ربانی صاحب نے جو لکھا وہ حقیقت کے منافی ہے ۔ وہ ڈھاکہ کے اس جلسے میں بطور اے ڈی سی قائداعظم کے ساتھ نہیں تھے ۔ وہ سات ماہ قائداعظم کے ساتھ رہے اور 19 مارچ 1948ء کو واپس ایئرفورس میں چلے گئے تھے جبکہ قائداعظم نے ڈھاکہ کے جلسہ سے 21 مارچ 1948ء کو خطاب کیا ۔ مزید یہ کہ اس جلسہ میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تھا

قائداعظم کی اس جلسہ میں تقریر کا پس منظر اور پیش منظر منیر احمد منیر صاحب نے اپنی کتاب ” قائداعظم ۔ اعتراضات اور حقائق“ میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ قائداعظم نے ڈھاکہ میں جو اعلان کیا وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اکثریتی فیصلہ تھا ۔ 25 فروری 1948ء کو کراچی میں دستور ساز اسمبلی میں مشرقی پاکستان سے کانگریس کے ہندو رُکن دھرنیدر ناتھ دتہ نے بنگالی کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ قائداعظم نے اسمبلی کے سپیکر کے طور پر اس مطالبے کو رد کرنے کی بجائے اس پر بحث کرائی ۔ کانگریسی رُکن اسمبلی نے کہا ”ریاست کے 6 کروڑ 80 لاکھ باشندوں میں سے 4 کروڑ 40 لاکھ باشندے بنگالی بولتے ہیں اس لئے قومی زبان بنگالی ہوگی“۔ ایک اور کانگریسی رُکن پریم ہری ورما نے اس مطالبے کی حمایت کی ۔ لیکن مشرقی پاکستان کے بنگالی ارکان مولوی تمیز الدین اور خواجہ ناظم الدین نے اس مطالبے کی مخالفت کی ۔ لیاقت علی خان نے وضاحت کی کہ ہم انگریزی کی جگہ اُردو کو لانا چاہتے ہیں ۔ اس کا مطلب بنگالی کو ختم کرنا نہیں ۔ کافی بحث کے بعد متذکرہ مطالبہ مسترد کردیا گیا ۔ یہ مطالبہ مسترد کرنے والوں میں بنگالی ارکان حسین شہید سہروردی ۔ نور الامین ۔ اے کے فضل الحق ۔ ڈاکٹر ایم اے مالک اور مولوی ابراہیم خان بھی شامل تھے ۔ چنانچہ اُردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ قائداعظم کا نہیں دستور ساز اسمبلی کا فیصلہ تھا

قائداعظم نے 21 مارچ 1948ء کی تقریر میں یہ بھی کہا تھا آپ اپنے صوبے کی زبان بنگالی کو بنانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے نمائندوں کا کام ہے ۔ بعدازاں صوبائی حکومت نے اُردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تو یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا لیکن تاخیر سے کیا گیا اور اس تاخیر کا پاکستان کے دشمنوں نے خوب فائدہ اٹھایا

بنگالی عوام قائداعظم سے ناراض ہوتے تو 2 جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں جنرل ایو ب خان کے مقابلے میں قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت نہ کرتے ۔ محترمہ فاطمہ جناح ڈھاکہ میں جیت گئی تھیں جہاں اِن کے چیف پولنگ ایجنٹ شیخ مجیب الرحمان تھے“۔