پڑھائی اور تعلیم

پڑھائی اور تعلیم
آجکل سکولوں میں صرف کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تعلیم کا کہیں نام نہیں ۔ میں اپنے آپ کو اس لحاظ سے بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ سکول و کالج میں ہمارے اساتذہ نے ہمیں تعلیم دی تھی یعنی پڑھایا ۔ سکھایا اور تربیت دی ۔ الله میرے اساتذہ کو جنت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے ۔ میں آئے دن اُن کی ہوئی نصیحتوں مین سے کوئی نہ کوئی یاد آتی ہے
میں نویں جماعت میں تھا جب میرے 2 ہمجماعت سکول سے چھُٹی کے بعد آپس میں لڑ پڑے ۔ دوسرے دن صبح ہمارے سیکنڈ ہیڈ ماسٹر شیخ ھدایت الله صاحب کلاس میں آئے ۔ اُن دونوں کو کھڑا کیا اور لڑنے کی وجہ پوچھی ۔ اُن میں سے ایک بابا کہہ رہا تھا ” الله کی قسم“۔ اور دوسرا بار بار کہتا تھا ”میں سچ کہتا ہوں“۔ سیکنڈ ہیڈ ماسٹر صاحب نے سب لڑکوں کو مخاطب کر کے کہا
”سچا آدمی الله کی قسم نہیں اُٹھاتا کیونکہ وہ اِسے بہت بڑا وزن سمجھتا ہے اور سچ بولنے والے کو اپنے منہ سے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ سچ ہو یا جھُوٹ کبھی چھُپتا نہیں“۔

اس کی موجودہ حکمرانوں سے مماثلت اتفاقیہ ہو گی

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “پڑھائی اور تعلیم

  1. Wahaj Ahmad

    میری بیٹی عایشہ سے آپ واقف ہیں ابھی اس نے مجھے اپنی ٹیچنگ فلاسفی کا مقالہ پڑھنے کو دیا میں بہت خوش ہوا اسے پڑھ کر کہ اس میں یہی بتایا گیا ہے عرصہ ہوا میں نے ایک بلاگ استادوں کے طلباء پر اثرات پر لکھتے ہوئے اپنی مثال دی تھی
    میرے آٹھویں جماعت کے استاد مولوی احمد دین تھے اللہ انھیں جنت میں اعلےا مقام عطا فرماءے
    انھوں نے ہمیں نماز کے بعد کے وظیفے اور بہت سے دعاءیں ےاد کروایں ان کے گاوں میں ہم سب لڑکے دن رات کی پڑھائی کے لیے ویک اینڈ پر جاتے ان ایک باغ تھا اس میں کںواں تھا صبح فجر کے واقت سب لڑکوں کو اٹھاتے ہندو سکھ لڑکے کوئیں سے پانی نکالنے کا کام کرتے تاکہ مسلمان لڑکے وضو کریں
    اٹحنے بیٹھنے کے آداب ان کے اور ہمارے ہیڈ ماسٹر قریشی صاحب کا کام تھا تمیز سکھانا وغیرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)