آزادی کا اعلان

اگست 1947ء کی 14 اور 15 تاریخ کی درمیانی رات 11 بج کر 57 منٹ پر ریڈیو پر آواز گونجی ”یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے“۔ اس کے ساتھ ہی فضا ”نعرہءِ تکبیر ۔ اللهُ اکبر“۔ ”پاکستان زندہ باد“۔ ”پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا اِلهَ اِلالله“کے نعروں سے گونج اُٹھی
15 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ بروز جمعہ سر زمینِ پاکستان پر آزادی کا پہلا سورج طلوع ہوا ۔ الله سُبحانُهُ و تعالٰی نے ہمیں اپنے آزاد ملک کا تحفہ ایک مقدس دن کو عنائت کیا
قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں جو پیغام دیا تھا نہائت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آسودگی حاصل ہوتے ہی قوم دولت کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے لگ گئی اور اپنے قائد و محسن کا پیغام ہی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو یکسر فراموش کر دیا ۔
قائداعظم کی تقریر نقل کرنے سے پہلے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ برطانیہ کے نمائیندہ ریڈ کلِف نے جواہر لال نہرو کے ساتھ مِلی بھگت کر کے نہائت عیّاری کی اور پاکستان کی حدُود کا اعلان 17 اگست 1947ء کو کیا جس سے معلوم ہوا کہ کسی ضلع کو تقسیم نہ کرنے کے طے شدہ اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مُسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کی تقسیم کر کے نارو وال کا مشرقی علاقہ بشمول ڈیرہ بابا نانک ۔ بٹالہ ۔ گورداسپور شہر ۔ دینا نگر ۔ پٹھانکوٹ ۔ مادھوپور راجپورہ بھارت میں شامل کر دیا جس سے بھارت کو کٹھوعہ کے راستہ جموں میں آسانی سے داخل ہونے کا زمینی راستہ مہیاء کر دیا ۔ اس ”تاخیری اعلان“ کی وجہ سے قائداعظم کی تقریر میں مسئلہ جموں کشمیر کا ذکر نہیں ہے

قائداعظم کا خطاب 15 اگست 1947ء
میں انتہائی مسرت اور جذبات کے احساس کے ساتھ آپ کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ 15 اگست پاکستان کی آزاد اور خود مختار ریاست کا جنم دن ہے ۔ یہ مسلم قوم کی منزل کی تکمیل کی علامت ہے جس نے اپنے وطن کے حصول کیلئے پچھلے چند سالوں میں بھاری قربانیاں دیں ۔ اس اعلٰی لمحے میں میرے ذہن میں اس مسلک کیلئے جد و جہد کرنے والے شجاع لوگ ہیں
ایک نئی ریاست کی تخلیق نے پاکستان کے شہریوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے ۔ اس تخلیق نے یہ ثابت کرنے کا موقع دیا ہے کہ کس طرح متعدد عناصر پر مشتمل قوم ذات اور عقیدہ سے قطع نظر کرتے ہوئے امن اور بھائی چارے کے ساتھ تمام شہریوں کی بہتری کیلئے کام کر سکتی ہے
ہمارا مقصد اندرونی اور بیرونی امن ہونا چاہیئے ۔ ہم امن میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنے قریبی ہمسایہ ملکوں اور دنیا کے ممالک کے ساتھ خوشگوار دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم کسی کے خلاف بھی جارحانہ عزائم نہیں رکھتے ۔ ہم اقوامِ متحدہ کے منشور کی حمائت کرتے ہیں اور دنیا میں امن اور خوشحالی کیلئے اپنا پورا حصہ ڈالیں گے
ہندوستان کے مسلمانوں نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ ایک متحد قوم ہیں اور ان کا مطالبہ انصاف اور حقائق پر مبنی ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ آیئے آج اس دن ہم عاجزی کے ساتھ اس عطیہ کیلئے الله کا شکر ادا کریں اور دعا کریں کہ ہم اپنے آپ کو اس کا مُستحِق ثابت کر سکیں
آج کا دن ہماری قومی تاریخ کے ایک تکلیف دہ دور کے اختتام کی علامت ہے اور اسے نئے باعزت دور کا آغاز بھی ہونا چاہیئے ۔ آیئے ہم اقلیتوں کو عمل ۔ گفتار اور سوچ سے باور کرائیں کہ اگر وہ بحیثیت وفادار پاکستانی اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں تو اُنہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیئے
ہم اپنی سرحدوں پر بسنے والے آزادی پسند قبائل اور ہماری سرحدوں سے باہر ریاستوں کو مبارکباد دیتے ہیں اور اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان اُن کی حیثیت کا احترام کرے گا اور امن قائم رکھنے کیلئے دوستانہ تعاون کرے گا ۔ ہمیں کوئی ہوّس نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم باعزت زندگی گذاریں اور دوسروں کو بھی باعزت زندگی گذارنے دیں
آج جمعۃ الوداع ہے ۔ رمضان کے مقدس مہینہ کا آخری جمعہ ۔ ہم اس وسیع برِ عظیم میں جہاں کہیں بھی ہوں اور اسی سبب پوری دنیا میں بھی ہم سب کیلئے خوشی کا دن ہے ۔ تمام مساجد میں ہزاروں مسلمانوں کے اجتماعات قادرِ مطلق کے سامنے عاجزی سے جھُکیں ۔ اُس کی دائمی مہربانی اور فراخدلی کا شکریہ ادا کریں اور پاکستان کو ایک طاقتور ملک اور اپنے آپ کو اس کے مُستحِق شہری بنانے کیلئے اُس کی رہنمائی اور مدد کے طلبگار ہوں
میرے ہموطنو ۔ میں آخر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان بڑے زبردست وسائل کی زمین ہے ۔ لیکن اسے مسلمانوں کے لائق ملک بنانے کیلئے ہمیں اپنی قوت و ہمت کا بھرپور استعمال کرنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ایسا پوری دلجمعی کے ساتھ کیا جائے گا
پاکستان زندہ باد ۔ یومِ آزادی مبارک

یہ تقریر انگریزی میں تھی ۔ میں نے حتی الوسع اس کا درست ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے

This entry was posted in پيغام, تاریخ, ذمہ دارياں, روز و شب, سیاست, طور طريقہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)