Sharing and forwarding

سوشل میڈیا (فیس بک ۔ وَٹس اَیپ وغیرہ) کے استعمال سے بہت سے لوگ غیر محسوس طور پر الله کی حُکم عدولی کے مُرتکِب ہو رہے ہیں یہاں تک کہ اپنی اِس قباحت کو حصُولِ ثواب سمجھ لیا گیا ہے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر آگے نکلنے کی دوڑ جاری ہے ۔ اِسے دعوتِ دین کا حِصہ سمجھتے ہوئے دوسرے لوگوں اسے اختیار کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ۔ اس طرح گردش میں رہنے والی کئی تحاریر مصدقہ نہیں ہوتیں ۔ ایک دِیندار شخص نے مجھے ایک تحریر بھیجی جو حقیقت کے بَرعَکس تھی
میں نے اُن سے پوچھا ” کیا یہ درست ہے ؟“
جواب آیا ”میں پڑھتا ہوں پھر دیکھتا ہوں“۔
یعنی اُنہوں نے بغیر پڑھے کارِ ثواب سمجھتے ہوئے سب کو فارورڈ کر دی تھی ۔ سُبحان الله
اس سلسلہ میں الله سُبحانُهُ و تعالٰی کا فرمان واضح ہے
سُوۡرَةُ 4 النِّسَاء آیة 83
بِسمِ اللہِ الَّرحمٰنِ الرَّحیم ۔ یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سُن پاتے ہیں اُسے لے کر پھَیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے عِلم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اَخذ کرسکیں تم لوگوں پر الله کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے
سُوۡرَةُ 49 الحُجرَات آیة 6
بِسمِ اللہِ الَّرحمٰنِ الرَّحیم ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانِستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو

فاسِق کے لُغوی معنی نافرمان اور حسن و فلاح کے راستے سے مُنحرف ہونے والا ہیں
اصطلاح میں فاسِق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو حرام کا مرتکب ہو یا واجب کو ترک کرے یا اطاعتِ الٰہی سے نکل جائے ۔ غیر عادل شخص کو بھی فاسق کہا جاتا ہے
الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور حدودِ شرعی کو توڑنے والا بھی فاسِق کہلاتا ہے
الله تعالیٰ کی نافرمانی 2 طرح کی ہے
ایک کُلّی اور دوسری جُزوی
کُلّی اور واضح نافرمانی کُفر ہے جس میں کوئی شخص الله کی نافرمانی کو درُست جانتا ہے
جُزوی نافرمانی فِسق ہے جس میں ایک شخص دین الٰہی اور شریعتِ محمدی کی تصدیق بھی کرتا ہے مگر خواہشاتِ نفس میں پڑ کر شریعت کے کِسی حُکم کی خلاف ورزی بھی کر دیتا ہے

This entry was posted in دین, ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “Sharing and forwarding

  1. سیما آفتاب

    درست ۔۔۔ اس سوشل میڈیائی دور میں یہ چلن عام ہو گیا ہے ۔۔۔ بعض کوئی بھی اچھی بات احادیث کے طور پر منسوب کرکے ثواب دارین بھی کما لیتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)