مخدوش معیشت اور خود غرض حکمران ۔ صرف ایک مثال

71 بار دیکھا گیا

کسٹمز حکام چھاپوں میں دو درجن سے زائد قیمتی گاڑیاں ساتھ لے گئے جو راولپنڈی میں سیف الرحمٰن کی ملکیت REDCO Textile Mills کے احاطے میں پارک تھیں۔ یہ گاڑیاں قطری شہزادے حماد الثانی اور ان کے خاندان کی ملکیت تھیں ۔ حُکام نے یہ جانتے ہوئے کہ شہزادے نے کوئی قانون نہیں توڑا اُس کی ملکیت پر چھاپہ مار کر اسے ٹارگٹ کیا ۔ قطری شہزادے کے قریبی ذریعے نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے ایکشن سے یہ خبر شہ سرخیوں میں آئی جو انتہائی بدقسمی ہے ۔
مُلک میں مسلسل Political witch hunting کا قطری شہزادہ بھی نشانہ بنا ۔ کسٹمز حکام کی غیر قانونی کاروائی کی وجہ سے قطری شہزادہ پاکستان سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالنے کےبارے میں سوچ رہا ہے۔
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قطری شہزادے نے تمام رولز پر عمل کیا تھا اور پاکستان میں سالانہ hunting season کیلئے یہ گاڑیاں امپورٹ کی تھیں ۔ یہ گاڑیاں ڈیوٹی سے مستثنٰی تھیں کیونکہ حکومت پاکستان SRO کے تحت یہ سہولت فراہم کرتی ہے ۔ بہت سے سعودیوں اور کویتیوں کی طرح جنہوں نے اپنی گاڑیاں clearance کے بعد پاکستان میں پارک کر رکھی ہیں پرنس حماد بن جاسم الثانی نے بھی یہ گاڑیاں پارک کر رکھی تھیں

پرنس حماد بن جاسم الثانی جو قطر کے سابق وزیراعظم اور اہم Regional player ہیں پاکستان کے دوست ہیں ۔ وہ کراچی پورٹ قاسم پاور پروجیکٹ کیلئے ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لائے ۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر پاکستان میں پاور پلانٹ لگایا جو 3 سال میں بنا اور اب بجلی پیدا کر رہا ہے ۔ انہوں نے آئل ریفائنری ۔ گیس پائپ لائن اور ایک اور پاور پروجیکٹ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے MOU پر دستخط کئے

سیف الرحمٰن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا اور حکام نے وہاں سے گاڑیاں قبضے میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ منسٹری آف فارن افیئرز نے ان کاروں کی اپروول جاری کی تھی اور یہ کاریں میری پراپرٹی میں اس لئے پارک تھیں کہ یہاں جگہ دستیاب تھی۔ میرے منیجر نے حکام کو بتایا کہ اس کے پاس ان گاڑیوں کی چابیاں نہیں ہیں کیونکہ ان کی چابیاں قطری سفارت خانے کے پاس ہیں لیکن وہ ان گاڑیوں کو ٹو کر کے وہاں سے لے گئے اور انتظار نہیں کیا۔ یہ کاریں سال میں صرف ایک مرتبہ شکار کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکام نے میرے منیجر کو گرفتار کرلیا اور ان کی بات سنے بغیر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھیانک تجربہ تھا۔ سابق سینیٹرنے کہا کہ میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جو سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ صورت حال حکومت کی موجودہ پریشانی کو ظاہر کرتی ہے۔ جو یہ نہیں جانتی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پاگل پن کے اقدامات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

This entry was posted in خبر, روز و شب, سیاست, طور طريقہ, قومی سانحات, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)