سُنیئے محترمہ ۔ سُنیئے محترم

آج میرے مخاطب وہ خواتین و حضرات ہیں جو پڑھے لکھے ہیں اور اپنے آپ کو مُسلم یا مُسلمان سمجھتے ہیں
(خیال رہے کہ میں نے تعلیم یافتہ نہیں لکھا)
از راہ کرم اِسے واپس مجھ پر تھوپنے کی کوشش نہ کیجئے گا کیونکہ جب آپ اِسے پڑھیں گے تو آپ ”خطیب“ بن جائیں گے اور میں ”مُخاطب“۔

پہلا سوال یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سکول ۔ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھا تھا کیا اپنی عملی زندگی میں اس سے مکمل استفادہ کیا ؟
یا
حاصل کردہ اسناد کو صرف حصولِ روزگار یعنی پیٹ پالنے یا دولت اکٹھی کرنے کیلئے استعمال کیا ؟

مُسلم یا مُسلمان ہونے کے ناطے آپ نے قرآن شریف بھی پڑھا ہو گا چنانچہ میرا دوسرا سوال ہے کہ کیا آپ نے قرآن شریف کو سمجھا اور اسے اپنی عملی زندگی پر مُنطبق کیا ؟

اگر آپ کا پہلے سوال کا جواب ” نہیں “ہے ۔ ۔ ۔ تو آپ تعلیم یافتہ نہیں ہیں کیونکہ آپ نے سکول ۔ کالج اور یونیورسٹی میں کچھ نہیں سیکھا ۔ صرف اسے وقتی ضرورت کے تحت یاد کیا تھا

اگر دوسرے سوال کا جواب ” نہیں“ ہے
تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ صرف نام کے مُسلم یا مُسلمان ہیں حقیقت میں نہیں

میرے محترمین و محترمان ۔ آپ کی فلاح اِسی میں ہے کہ آپ تعلیم یافتہ مُسلم یا مُسلمان بنیں جس کیلئے کل کی اِنتظار نہ کیجئے ۔ آج اور ابھی سے کوشش و محنت کیجئے
صبح کا بھُولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اُسے بھُولا نہیں کہتے

This entry was posted in تجزیہ, ذمہ دارياں, روز و شب, سبق, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “سُنیئے محترمہ ۔ سُنیئے محترم

  1. سیما آفتاب

    سبحان اللہ ۔۔۔ وقعی اگر ہم اپنے آپ سے سوال کرنے لگیں تو کسی اور پر اعتراض کا وقت ہی نہ ملے ۔۔۔ اللہ ہم۔سب کو ہدایت دے اور اپنے علم۔کو اپنی بہتری اور دوسروں کے لیے آسانی دینے میں استعمال کرنے کی توفیق دے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)