اتوار 18 جون 2017 کی یاد میں

وہ آئے معمول کو چھوڑ کر
پچھلی سب روائتیں توڑ کر
دماغ کی اُنہوں نے مان لی
پھِر دِل میں اپنے ٹھان لی
آج کر کے کچھ دِکھانا ہے
یُونہی لَوٹ کر نہیں جانا ہے
سینہ تان کے آئے میدان میں
اِس مبارک ماہِ رمضان میں
روزے تھے گھنٹے بیس کے
رکھ دیا مقابل کو پِیس کے
سب کے دِل میں وہ سما گئے
عید سے پہلے عید بنا گئے

تمام ہموطن بزرگوں بہنوں بھائیوں اور بچوں کو کرکٹ کی فتح مبارک ہو ۔ جس طرح ساری قوم یعنی ننھے بچوں سے لے کر مجھ سے بھی بڑے ہموطنوں تک کے دل اتوار کو ایک ہی رُخ پر تھے اور اُن کے دِل سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی ”یا اللہ ۔ فتح“۔ میری دعا ہے کہ باری تعالٰی میرے سب ہموطنوں کے دِلوں میں قوم و مُلک کی ہر بہتری کیلئے یکسُوئی اور محبت ڈال دے ۔ اور گروہوں اور ذاتی پسند ناپسند کو چھوڑ کر ہم سب مِل کر یگانگت سے بھرپور ایک پاکستانی قوم بن جائیں ۔ آمین ۔ پھر دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف مَیلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گی

تاخیر کی معذرت
میں نے علیل ہونے کے باوجود سارا میچ دیکھا تھا لیکن اُس کے بعد میری طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ۔ بخار بھی تیز ہو گیا تھا اسلئے خواہش کے باوجود بلاگ پر اظہارِ خیال نہ کر سکا ۔ آج بیٹھنے کے قابل ہوا ہوں تو سب سے پہلے یہی کام کیا ہے

This entry was posted in پيغام, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “اتوار 18 جون 2017 کی یاد میں

  1. محب پاکستان

    جنون کی حد تک کرکٹ سے لگاؤ اور شغف کے بارے میں آئے دن سننے میں آئے رہتے ہیں. لیکن پیرانہ سالی اور مرض کے شدت میں آپ جیسا سنجیدہ شخص کا میچ دیکھنا واقعی میں عجیب لگا.

    محسوس ہوتاہے کہ آپ سب کو عید کے تہوار سے یہ کوئی کم خوشی نہیں ہے.

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محب وطن صاحب
    کرکٹ کا جنون تو بہت دور کی بات ہے. دین اسلام جسے میں اپنا سب کچھ سمجھتا ہوں اس میں بھی مجھے جنون نہیں ہے. میں آجکل بچوں کے پاس دبئی میں ہوں. اکیلا باہر میں جاتا نہیں. بیٹھا علم سیکھتا رہتا ہوں. کبھی کبھار خبریں سن لیتا ہوں. یہ میچ بھارت کے ساتھ تھا جن سے پہلے ہی میچ میں بری شکست سے دوچار ہوئے تھے. میچ کے شروع ہی میں دلچسپی پیدا ہو گئی. سو
    دیکھتے رہے. اچھا ہوا کچھ وقت اپنی علالت کو بھولا رہا. باقی جسے اپنے ملک کے کسی فرد یا ادارے کی عمدہ کارکردگی پر فخر نہ ہو وہ ذہنی مریض ہی ہو سکتا ہے

  3. wahaj d ahmad

    Actually I did not know about it until people started talking about the great win which it really was The performance of Sarfraz reminded me of Imtiaz Who was also a wicket-keeper batsman and di sometime captain the Pakistani team But winning the championship by beating India has its own emotional effect. I remember when Indian team first came to Lahore and we watched all players. Zinda-Dilaan-e-Lahore would however make similar applause on good performance of Indian players. I remember Imtiaz style of batting and also Manjeraker’s batting

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)