بچے مَن کے سَچّے

481 بار دیکھا گیا

چھٹی کا دن تھا ۔ ایک بہت بڑی کمپنی کے کمپیوٹر میں گڑبڑ ہو گئی تو کمپنی کے ایم ڈی نے ماہر انجنیئر کے گھر ٹیلیفون کیا
ایک بچے کی مدھم سی آواز آئی ”ہیلو“۔
ایم ڈی ” ابو گھر میں ہیں ؟“
بچہ ہلکی آواز میں ”ہاں“۔
ایم ڈی ”میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچہ ” نہیں“۔
ایم ڈی نے سوچا شائد غسلخانہ میں ہوں اور پوچھا ” آپ کی امّی ہیں ؟“
بچہ ”ہاں“۔
ایم ڈی نے التجا کی ”بیٹا۔ اپنی امّی سے بات کرا دیں“۔
بچے نے اسی طرح مدھم آواز میں کہا ” نہیں“۔
ایم ڈی نے سوچا شائد وہ باورچی خانہ میں ہو ۔ اتنے چھوٹے بچے کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا چنانچہ اس نے کہا ” آپ کے قریب کوئی تو ہو گا ؟“
بچہ مزید مدھم آواز میں بولا ”ہاں پولیس مین“۔
ایم ڈی حیران ہوا کہ کمپنی کے انجنیئر کے گھر میں پولیس مین کیا کر رہا ہے ۔ اس نے معاملہ معلوم کرنے کے لئے پولیس مین سے بات کرنے کا سوچا اور کہا ”میں پولیس مین سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچے نے سرگوشی میں کہا ” نہیں ۔ وہ مصروف ہیں“۔
ایم ڈی نے مزید حیران ہو کر کہا ”پولیس مین گھر میں کیا کر رہے ہیں ؟“
بچہ ”وہ ابو ۔ امّی اور ایک فائر مین سے باتیں کر رہے ہیں“۔
اچانک فون میں سے گڑگڑاہٹ سنائی دی ۔ ایم ڈی نے پریشان ہو کر پوچھا ”بیٹا ۔ یہ کیسا شور ہے ؟“
بچے نے سرگوشی میں کہا ”ہیلی کاپٹر اُترا ہے“۔
ایم ڈی نے نہائت پریشانی میں پوچھا ”یہ ہیلی کاپٹر کیوں آیا ہے ؟“
ایک پریشان سرگوشی میں بچے نے کہا ”سرچ ٹیم ہیلی کاپٹر سے اُتری ہے“۔
ایم ڈی کا دل دَھک دَھک کرنے لگا ۔ ہمت کر کے پوچھا ” کیا ہوا ہے ؟ یہ سرچ ٹیم کیوں آئی ہے ؟“
بچے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی میں کہا ”مجھے ڈھونڈ رہے ہیں“۔

This entry was posted in مزاح on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “بچے مَن کے سَچّے

  1. Pingback: بچے مَن کے سَچّے | میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ What Am I – ღ کچھ دل سے ღ

  2. Pingback: Shared from WordPress – ღ کچھ دل سے ღ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)