Monthly Archives: May 2017

آواز جو دُنیا میں ہر وقت گونجتی ہے

113 بار دیکھا گیا

کیا آپ ایسی آواز جانتے ہیں جو خواہ گرمی ہو سردی ہو بارش ہو طوفان ہو دُنیا میں ہر وقت گونجتی رہتی ہے ۔ اور اِسے سُن کر کئی لوگ متحرک ہو جاتے ہیں ۔ یہ عمل ایک ہفتہ یا ایک مہینہ نہیں سارا سال جاری رہتا ہے

جناب یہ اذان کی آواز ہے فرض کریں کہ انڈونیشیا دنیا کے ایک سِرے پر ہے ۔ جب انڈونیشیا میں فجر کی اذان ہوتی ہے تو سورج انڈونیشیا سے مشرق کی طرف ڈیڑھ گھنٹہ پیچھے ہوتا ہے ۔ سورج کے آگے آگے اذان سفر کرتی ہوئی ملیشیا ۔ بنگلہ دیش ۔ بھارت ۔ پاکستان ۔ افغانستان ۔ ایران ۔ کویت ۔ سعودی عرب ۔ مصر ۔ لیبیا ۔ تیونس ۔ مراکش پہنچتی ہے ۔ جب مراکش میں فجر کی اذان ہوتی ہے تو انڈونیشیا میں ظہر کی اذان ہو چکی ہوتی ہے

مراکش سے چلتی ہوئی فجر کی اذان جب نیویارک پہنچتی ہے تو انڈونیشیا میں عصر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے اور انڈونیشیا کے مغرب کے کئی ممالک مں ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے ۔ جب فجر کی اذان کیلیفورنیا پہنچتی ہے تو انڈونیشیا میں مغرب کی اذان ہو چکی ہوتی ہے اور انڈونیشیا اور کیلیفورنیا کے درمیان کچھ ممالک میں عصر اور کچھ میں ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے

اس سے پہلے کہ فجر کی اذان ہوائی پہنچے انڈونیشیا میں عشاء کی اذان کے بعد نماز پڑھ کر لوگ سونے کی تیاری میں ہوتے ہیں اور دنیا کے کچھ ممالک میں مغرب کچھ میں عصر اور کچھ میں ظہر کی اذان ہو رہی ہوتی ہے

ہوائی سے آسٹریلیا ۔ جاپان ۔ فلیپائین سے ہوتے ہوئے اذان انڈونیشیا پہنچتی ہے تو اگلی صبح کی اذان شروع ہو جاتی ہے

اسی طرح پانچوں وقت کی اذانیں دُنیا کے گرد 24 گھنٹے گھومتی رہتی ہیں ۔ اور ہر لمحے میں کُرّہ ارض پر درجنوں اذانیں گونج رہی ہوتی ہیں

سُبحان اللہ و بحمدہ

رمضان کریم

81 بار دیکھا گیا

اللہ الرحمٰن الرحيم میرے سمیت سب کو اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے جو صرف نماز اور تلاوت نہیں بلکہ دراصل غُصہ سے بچنے ۔حِلم ۔ برداشت اور صبر کی عادت ڈالنے کی سالانہ مَشَق ہے
اللہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے احتساب کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نیک عمل ۔ حِلم ۔ برداشت اور صبر کی عادت سے نوازے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم ۔ سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيات 183 تا 185
اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ ۔ چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دِنوں سے اور جن کو طاقت نہیں ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو ۔ ‏ مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیئے اور دِنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو

کیا بُوفے (Buffet)کھڑے ہو کر کھانا ہوتا ہے ؟

102 بار دیکھا گیا

ہم لوگوں نے اغیار کی اچھی عادات تو کم ہی اپنائی ہیں البتہ اُن کی قباحتیں بہت اپنا لی ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے جو بھی اپنایا ہے وہ سمجھے بغیر اپنایا ہے ۔ ایک مثال بُوفے (buffet) کی ہے جسے عام طور پر کھڑے ہو کر کھانا سمجھا جاتا ہے
دیکھتے ہیں کہ بُوفے کیا ہوتا ہے

Merriam-Webster Dictionary :- (1) A blow especially with the hand (2) Something that strikes with telling force
مریم ویبسٹر ڈکشنری ۔ (1) مُکا ۔ گھونسا (2) زور دار چوٹ

Oxford Dictionaries :- (1) A meal consisting of several dishes from which guests serve themselves (2) A room or counter in a station, hotel, or other public building selling light meals or snacks (3) A cabinet with shelves and drawers for keeping dinnerware and table linens.
آکسفورڈ ڈکشنریز ۔ (1) مختلف کھانوں پر مُشتمل ضیافت جس میں مہمان خود کھانا لیتے ہیں (2) ایک کمرہ یا ریلوے سٹیشن یا ہوٹل یا عوامی عمارت میں کاؤنٹر جہاں کھانا فروخت ہوتا ہو (3) خانوں والی الماری جس میں کھانے کے برتن وغیرہ رکھے جاتے ہیں

American Heritage Dictionary :- (1) A large sideboard with drawers and cupboards (2) A counter or table from which meals or refreshments are served or a restaurant having such a counter (3) A meal at which guests serve themselves from various dishes displayed on a table or sideboard.
امریکی ورثہ ڈکشنری ۔ (1) ایک طرف رکھی بڑی الماری (2) ایک کاؤنٹر یا میز جہاں کھانا یا مشروبات تقسیم کی جاتی ہیں یا ایک ریستوراں جہاں یہ کاؤنٹر ہو (3) ایک ضیافت جس میں مہمان رکھے گئے کھانوں میں سے خود لیں

Wikipedia :- A buffet is a system of serving meals in which food is placed in a public area where the diners generally serve themselves
وِکی پیڈیا ۔ بُوفے اُس ضیافت کو کہتے ہیں جس میں ایک کھُلی جگہ پر سب کھانے رکھے ہوتے ہیں اور عام طور پر مہمان خود وہاں سے کھانا لیتے ہیں

ہم محبِ وطن یا مُلک دُشمن ؟ ؟ ؟

243 بار دیکھا گیا

میں کبھی کبھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ہم لوگ محبِ وطن ہونے کی بجائے کیا وطن دُشمن ہیں ؟

گو میں وطن (پاکستان) سے باہر درجن بھر ممالک میں رہاہوں لیکن بھارتی باشندوں سے میرا واسطہ صرف 4 ممالک (جرمنی ۔ سعودی عرب ۔ متحدہ عرب امارات اور لبیا) میں پڑا ۔ جرمنی میں سکھوں سے واسطہ پڑا جو ہر حال میں خوش رہتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں جن سے واسطہ پڑا وہ زیادہ تر ہندو تھے ۔ سعودی عرب میں صرف بھارتی مسلمانوں سے واسطہ پڑا اور لبیا میں بھارتی ہندو اور مسلمان دونوں سے

میں نے دیکھا کہ

بھارتی باشندے کبھی اپنی زبان پر اپنے مُلک (بھارت) کے خلاف کوئی بات نہیں آنے دیتے اور اگر کسی دوسرے مُلک کا باشندہ بھارت یا بھارت کے لوگوں کے خلاف کوئی بات کرے تو اُس کی بھرپور مخالفت اور اپنے وطن اور اپنے ہموطن کی زور دار حمایت کرتے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف اُن کے پاس مصدقہ یا خیالی الزامات ہوتے تھے جس سے وہ پاکستانیوں پر بھرپور وار کرتے تھے

میں نے اپنے ہموطنوں کو دیکھا کہ سب کے سامنے اپنے مُلک اور ہموطنوں سے برملا شکایات کا اظہار کرتے تھے ۔ لبیا میں میرا قیام کافی لمبا ہونے کی وجہ سے میں نے دیکھا کہ میرے بعض مسلمان ہموطن اپنے مُلک اور ہموطنوں کی مخالفت میں لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے تھے اور بھارتی ہندوؤں سے دوستی رکھتے تھے

یہ تو خاکہ تھا مُلک سے باہر کردار کا ۔ اب دونوں ممالک کے اندر کے حالات کا منظر نامہ

بھارت میں لوگ آپس میں جھگڑا اور تکرار ہم پاکستانیوں کی نسبت زیادہ کرتے ہیں ۔ بھارت میں مار دھاڑ بھی پاکستان ک نسبت زیادہ ہے لیکن جب معاملہ بھارت بمقابلہ غیر مُلک (بالخصوص پاکستان) کا ہو تو ایک دوسرے کے جانی دُشمنوں سمیت بلا امتیاز سب بھارتی یک زبان ہو کر محبِ وطن بن جاتے ہیں

میرے پاکستانی بھائی جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو سب سے زیادہ ایمان دار اور دیانتدار سمجھتا ہے وہ کوئی موقع اپنے مُلک اور اپنے ہموطنوں پر تنقید کا ضائع نہیں ہونے دیتا یہاں تک کہ وہ قومی اور مُلکی معاملات جن کی یک زبان ہو کر ببانگ دُہل ہمیں حمایت کرنا چاہیئے اُسے غلط طور یا کج فہم کی بنا پر گندھی سیاست کا نُقطہ بنا کر میڈیا ۔ سوشل میڈیا اور ذاتی محفلوں میں اپنے مخالف سیاستدانوں کی ہِجو شروع کر دیتے ہیں ۔ اس عمل میں صرف عام یعنی کم عِلم آدمی ہی نہیں بلکہ سیاسی سربراہ بھی بڑے کرّ و فر سے شامل ہوتے ہیں ۔ یہ ایسے وقت میں ہوتا ہے جب ہماری قوم اور ہمارے مُلک کا دُشمن اسی بات پر ہمارے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ میں مشغول ہوتا ہے ۔ اور ہماری قوم کا تمسخر اُڑا رہا ہوتا ہے

اب یہ بھارتی ایجنسی ” را “ کے ایجنٹ کلبوشن یادیو کا قصہ ہی لیجئے ۔ اُس بلوچستان آمد اور کارستانیوں کی معلومات فوج کی کسی ایجنسی نے حاصل کر کے اپنی ہائی کمان کو اطلاع کی ۔ فوج ہی نے اُسے گرفتار کیا اور آئین و قانون کے مطابق اُس پر مقدمہ بھی فوجی عدالت میں چلایا گیا اور پھانسی کی سزا مقرر ہوئی ۔ اگر بھارت اُس کا مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں لے گیا اور بین الاقوامی عدالت نے حسبِ معمول تعصب کا ارتکاب کرتے ہوئے بھارت کی درخواست برائے امتناع مان لی تو بجائے اس کے کہ سب سیاسی سربراہ قومی مفاد میں تمام اختلاف کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہی آواز اُٹھاتے جو مؤقف پاکستان کے وکیل نے وہاں پر اختیار کیا تھا حکومت کے خلاف محاذ جنگ بنا کر قوم اور مُلک کو دُسمنوں ک نظر مں مذاق بنا دیا

برائی کا بدلہ

107 بار دیکھا گیا

آنسو بہانا بُری بات نہیں
غمگین ہونا بُرا نہیں

بُرا یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک اسلئے کریں کہ اُنہوں نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا
تو پھر آپ میں اور بُرے آدمی میں کیا فرق رہ جائے گا ؟

میں کوئی چُوٹھ بولیا

226 بار دیکھا گیا


اَیویں دُنیا دیوے دُہائی ۔ چُوٹھا پاؤندی شور
اپنے دِل تے پُچھ کے ویکھو ۔ کون نئیں اے چور
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
حق دُوجے دا مار مار کے بَن گئے لوک امِیر
میں اَیہنُوں کہندا چوری ۔ لوکی کہن تقدیر
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
ویکھے پنڈت گھیانی دھیانی دیآ دھرم دے بندے
رام نام چَپ کے کھاؤندے گاؤ شالہ دے چَندے
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
سَچے پھانسی چَڑھدے ویکھے ۔ چُوٹھا مَوج اُڑاوے
لوکی کہن اے رَب دی مایا ۔ میں کہندا انیآ اے
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ

بچے مَن کے سَچّے

225 بار دیکھا گیا

چھٹی کا دن تھا ۔ ایک بہت بڑی کمپنی کے کمپیوٹر میں گڑبڑ ہو گئی تو کمپنی کے ایم ڈی نے ماہر انجنیئر کے گھر ٹیلیفون کیا
ایک بچے کی مدھم سی آواز آئی ”ہیلو“۔
ایم ڈی ” ابو گھر میں ہیں ؟“
بچہ ہلکی آواز میں ”ہاں“۔
ایم ڈی ”میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچہ ” نہیں“۔
ایم ڈی نے سوچا شائد غسلخانہ میں ہوں اور پوچھا ” آپ کی امّی ہیں ؟“
بچہ ”ہاں“۔
ایم ڈی نے التجا کی ”بیٹا۔ اپنی امّی سے بات کرا دیں“۔
بچے نے اسی طرح مدھم آواز میں کہا ” نہیں“۔
ایم ڈی نے سوچا شائد وہ باورچی خانہ میں ہو ۔ اتنے چھوٹے بچے کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا چنانچہ اس نے کہا ” آپ کے قریب کوئی تو ہو گا ؟“
بچہ مزید مدھم آواز میں بولا ”ہاں پولیس مین“۔
ایم ڈی حیران ہوا کہ کمپنی کے انجنیئر کے گھر میں پولیس مین کیا کر رہا ہے ۔ اس نے معاملہ معلوم کرنے کے لئے پولیس مین سے بات کرنے کا سوچا اور کہا ”میں پولیس مین سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچے نے سرگوشی میں کہا ” نہیں ۔ وہ مصروف ہیں“۔
ایم ڈی نے مزید حیران ہو کر کہا ”پولیس مین گھر میں کیا کر رہے ہیں ؟“
بچہ ”وہ ابو ۔ امّی اور ایک فائر مین سے باتیں کر رہے ہیں“۔
اچانک فون میں سے گڑگڑاہٹ سنائی دی ۔ ایم ڈی نے پریشان ہو کر پوچھا ”بیٹا ۔ یہ کیسا شور ہے ؟“
بچے نے سرگوشی میں کہا ”ہیلی کاپٹر اُترا ہے“۔
ایم ڈی نے نہائت پریشانی میں پوچھا ”یہ ہیلی کاپٹر کیوں آیا ہے ؟“
ایک پریشان سرگوشی میں بچے نے کہا ”سرچ ٹیم ہیلی کاپٹر سے اُتری ہے“۔
ایم ڈی کا دل دَھک دَھک کرنے لگا ۔ ہمت کر کے پوچھا ” کیا ہوا ہے ؟ یہ سرچ ٹیم کیوں آئی ہے ؟“
بچے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی میں کہا ”مجھے ڈھونڈ رہے ہیں“۔