جسے آمر (Dictator) کہا جاتا ہے ؟

میں مئی 1976ء سے جنوری 1983ء تک لیبیا کے دارلحکومت طرابلس میں رہائش پذیر تھا ۔ اس دوران بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو ملا ۔ آج ایک واقعہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کے متعلق جسے امریکہ اور اس کے حواریوں نے خلافِ حقیقت بہت بدنام کیا

طرابلس میں موجود پاکستانی بھائیوں سے ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ ان میں انجنیئروں اور ڈاکٹروں کے علاوہ مختلف فیکٹریوں ۔ دفاتر اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے ہر سطح کے لوگ تھے ۔ معمر قذافی کے ذاتی معالج پاکستانی ڈاکٹر تھے جو کبھی کبھی معمر قذافی کے ساتھ اپنے سفر کے خاص خاص واقعات سنایا کرتے تھے

ایک دن میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا ”ایسا واقعہ سنایئے جس نے آپ کو بہت متاءثر کیا”۔
ڈاکٹر صاحب گویا ہوئے ” ایک دن معمر قذافی نے کہیں نہیں جانا تھا چنانچہ میں گھر پر رہا ۔ بعد دوپہر قذافی کا ڈرائیور پہنچ گیا ۔ میں سمجھا کہ قذافی کی طبعیت خراب ہو گی ۔ اپنا بیگ تیار کیا اوراس کے ساتھ چل پڑا ۔ شہر کے باہر پہنچے ۔ جہاں سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی تھیں ڈرائیور نے گاڑی روکی ۔ اُتر کر اِدھر اُدھر دیکھا تو دُور کچھ لوگ اپنی طرف آتے ہوئے نظر آئے ۔ قریب پہنچ کر قذافی نے مجھے آنے کی وجہ پوچھی ۔ اُسی وقت ایک افسر نے بتایا کہ قذافی کے سر میں درد ہے اسلئے میں نے ڈائیور کو بھیجا تھا ۔ میں نے بیگ میں سے دو اسپرین کی گولیاں نکالیں ۔ قذافی نے گولیاں لیں ۔ سڑک کے کنارے زمین پر بیٹھ کر بسم اللہ پڑھی اورھوالشّافی کہہ کر گولیاں نگل لیں ۔ پھر اُٹھ کھڑا ہوا“۔

ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا ” جب قذافی کسی کام سے صحرا میں گیا ہوتا ۔ وہاں کوئی عام آدمی کھانے کی چیز قذافی کو پیش کرتا تو قذافی زمین پر بیٹھ کر کھا لیتا اور چیز کی تعریف کے بعد دینے والے کا شکریہ بھی ادا کرتا ۔ ایک دن صحرا میں گھومتے بعد دوپر 3 بج گئے ۔ ایک چھوٹے سے مکان کے پاس پہنچے ۔ مکین نے کھانا پیش کیا ۔ بھوک لگی ہوئی تھی ۔ میں بھی کھانے لگا تو کھانے میں ریت کی وجہ سے مجھ سے کھایا نہ گیا مگر قذافی کھاتا رہا ۔ کھا چُکنے کے بعد حسبِ عادت کھانے کی تعریف کی اور کھلانے والے کا شکریہ ادا کیا“۔

کیا ایسے آدمی کو آمر کہنا چاہیئے ؟ ذرا موازنہ کیجئے اپنے ہموطن کسی معمولی افسر کے ساتھ ۔ کتنے ہیں جو ایسا کرتے ہیں ؟

ہمیں بچپن سے ہی بیٹھ کر کھانے پینے کی تربیت دی گئی تھی ۔ یہ واقعہ سُننے کے بعد اگر بیٹھنے کو کرسی یا سٹول نہ ملے میں کہیں بھی ہوں بغیر کچھ سوچے زمین پر بیٹھ کھاتا یا پانی پیتا ہوں

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)