دوسرے کو تلقین ؟

240 بار دیکھا گیا

آجکل انسان کا طور طریقہ کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ خود چاہے ٹھیک ہو نہ ہو دوسروں کو ٹھیک کرنا اُس نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔ وہ کسی فتوٰی لگاتا ہے اور کسی کو بُرا لقب دیتا ہے
ہم مسلمان ہونے کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن اللہ کے فرمان (قرآن شریف) سے بہت دُور ہو چکے ہیں
قرآن شریف پر عمل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اِسے سمجھ کر پڑھیں
کسی کو ھدائت دینے کے متعلق اللہ کا پیغام بہت واضح ہے

سورت 16 النّحل ۔ آیت 35 ۔ فَہَلۡ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ سو رسولوں پر تو صرف کھُلم کھُلا پیغام پہنچا دینا ہے
سورت 16 النّحل ۔ آیت 82 ۔ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے
سورت 24 النّور ۔ آیت 54 ۔ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
سورت 29 العنکبوت ۔ آیت 18 ۔ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پیغام پہنچا دینا ہی
ہے
سورت 36 یس ۔ آیت 17 ۔ وَ مَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر (پیغام) پہنچا دینا ہے
سورت 64 التّغابُن ۔ آیت 12 ۔ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ۔ ترجمہ ۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمے صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے

This entry was posted in دین, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “دوسرے کو تلقین ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)