انشا ۔ اور ان شاء میں فرق

87 بار دیکھا گیا

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ” زبر “ اور ”زیر “ کا فر ق ہے ۔ یعنی ان شاء اللہ میں پہلے والے الف کے نیچے ” زیر “ ہے ۔ انشاء جس کا مطلب بنانا ہے اُس میں پہلے الف کے اُوپر ” زبر “ ہے اور سب اِنشاء کہتے ہیں اس لئے غلط نہیں کہتے
یہ استدلال درست نہیں ۔ ذرا غور کیجئے نیچے نقل کردہ سورت 56 الوَاقِعَہ ۔ آیت 35 پر ۔ اس میں پہلے والے انشا میں زبر ہے اور دوسرے والے میں الف کے نیچے زیر ہے جبکہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے ۔ عربی زبان میں ربر اور زیر کا فرق فاعل اور مفعول سے پڑتا ہے

“انشا “ قرآن شریف میں سورت 56 الواقعہ کی آیت 35 میں دو بار آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے بنانا یا تخلیق کرنا ۔ نیچے 4 تراجم نقل کئے ہیں
سورت 56 الوَاقِعَہ ۔ آیت 35 ۔ اِنَّاۤ اَنۡشَاۡ نٰہُنَّ اِنۡشَآءً
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور سے نئے سرے سے پیدا کریں گے
‏‏ ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے
بیشک ہم نے اِن (حوروں) کو (حسن و لطافت کی آئینہ دار) خاص خِلقت پر پیدا فرمایا ہے
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا

“اِن شاء“ قرآن شریف میں آٹھ جگہ آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا
سورت 2 البقرہ ۔ آیت 70 ۔ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ
بولے دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کس قسم میں ہے وہ کیونکہ اس گائے میں شبہ پڑا ہے ہم کو، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پالیں گے‏
سورت 12 یُوسُف ۔ آیت 99 ۔ ۔ ۔ ۔ وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ
اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے
سورت 18 الکھف ۔ آیت 69 ۔ قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا
کہا تو پائے گا اگر اللہ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے والا اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم
سورت 27 النَّمل ۔ آیت 87 ۔ وَ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ
اور جس دن پھونکی جائے گی صور تو گھبرا جائے جو کوئی ہے آسمان میں اور جو کوئی ہے زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے
سورت 28 القَصَص۔ آیت 27 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَیۡکَ ؕ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ
تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے
سورت 37 الصافات ۔ آیت 102 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ
تو مجھ کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والا
سورت 39 الزُمر۔ آیت 68 ۔ وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ
اور پھونکا جائے صور میں پھر بےہوش ہو جائے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے پھر پھونکی جائے دوسری بار ، تو فوراً کھڑے ہوجائیں ہر طرف دیکھتے
سورت 48 الفتح ۔ آیت 27 ۔ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا
اللہ نے سچ دکھلایا اپنے رسول کو خواب تحقیق کہ تم داخل ہو رہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا آرام سے بال مونڈتے ہوئے اپنے سروں کے اور کترتے ہوئے بےکھٹکے پھر جانا وہ جو تم نہیں جانتے پھر مقرر کر دی اس سے ورے ایک فتح نزدیک

This entry was posted in دین, ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)