خوشیاں حاصل کرنے کا طریقہ

ایک سیمینار میں 50 لوگ شریک تھے ۔ مقرر نے سب کو ایک ایک غبارہ دے کر کہا ”سب اپنے اپنے غبارے پر اپنا نام لکھیں”۔
جب سب نے نام لکھ لئے تو سارے غبارے ایک کمرے میں ڈال دیئے گئے اور سب کو 5 منٹ میں اپنا اپنا غبارہ تلاش کر کے لانے کا کہا گیا
سب اپنے غبارے تلاش کرنے میں لگ گئے ۔ اس بھگدڑ میں کئی غبارے پاؤں کے نیچے آ کر پھٹ گئے اور 5 منٹ میں کسی کو اپنا غبارہ نہ ملا

یہی عمل دوہرایا گیا لیکن اس بار یہ کہا گیا کہ ”جو غبارہ کسی کے ہاتھ میں آئے وہ اس پر نام دیکھ کر جس کا وہ ہے اُسے دے دے”۔
اس طرح 5 منٹ میں سب کو اپنے اپنے غبارے مل گئے

مقرر نے سب کو مخاطب کر کے کہا ” اسی طرح ہماری زندگی ہے ۔ ہم اپنی خوشیاں تلاش کرتے ہوئے افراتفری میں دوسروں کی خوشیاں پاؤں کے نیچے کُچل دیتے ہیں ۔ ہم لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری خوشیاں دوسروں کے ساتھ وابسطہ ہیں ۔ ہم دوسروں کو اُن کی خوشیاں دیں گے تو ہمیں ہماری خوشیاں بھی مِل جائیں گی اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے“۔

مزید زندگی کا مقصد جاننے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “خوشیاں حاصل کرنے کا طریقہ

  1. سیما آفتاب

    بہت خوبصورت مثال سے واضح کیا ہے ۔۔۔ زبردست : )
    اپنی خوشیوں کی تلاش میں راستے میں دوسروں کو خوشیاں دیتے چلو تو راستہ خود ہی صاف ہوتا چلا جاتا ہے : )

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیما آفتاب صاحبہ
    میں شکر گذار ہو کہ آپ میری تحاریر صرف پڑھتی ہی نہیں بلکہ میری حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں ۔ میری اِن باتوں کی وجہ سے میرے قاریوں کی تعداد 100 تک رہ گئی ہے جو 200 سے کم کبھی نہیں ہوئی تھی اور ہزاروں میں جاتی تھی

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیما آفتاب صاحبہ
    دونوں ہی بدل گئے ہیں ۔ میں کچھ سنجیدہ ہو گیا ہوں لیکن اصل مسئلہ فیس بُک کا ہے جس نے سب جوانوں اور کچھ بوڑھوں کو بھی کھینچ لیا ہے

  4. سیما آفتاب

    جی ٹھیک کہا آپ نے ۔۔۔ لوگ وقت کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش میں لگ گئے ہیں ۔۔۔۔ جب می نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا تھا تب فورم کا زمانہ تھا اور میں خود ایک ‘ہلچل’ نامی فورم پر بہت ایکٹو تھی ۔۔۔ پھر فیس بک آیا تو فورم بھی زوال پذیر ہو گیا اور ذوق بھی : )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)