Yearly Archives: 2017

ہم محبِ وطن یا مُلک دُشمن ؟ ؟ ؟

38 بار دیکھا گیا

میں کبھی کبھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ہم لوگ محبِ وطن ہونے کی بجائے کیا وطن دُشمن ہیں ؟

گو میں وطن (پاکستان) سے باہر درجن بھر ممالک میں رہاہوں لیکن بھارتی باشندوں سے میرا واسطہ صرف 4 ممالک (جرمنی ۔ سعودی عرب ۔ متحدہ عرب امارات اور لبیا) میں پڑا ۔ جرمنی میں سکھوں سے واسطہ پڑا جو ہر حال میں خوش رہتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں جن سے واسطہ پڑا وہ زیادہ تر ہندو تھے ۔ سعودی عرب میں صرف بھارتی مسلمانوں سے واسطہ پڑا اور لبیا میں بھارتی ہندو اور مسلمان دونوں سے

میں نے دیکھا کہ

بھارتی باشندے کبھی اپنی زبان پر اپنے مُلک (بھارت) کے خلاف کوئی بات نہیں آنے دیتے اور اگر کسی دوسرے مُلک کا باشندہ بھارت یا بھارت کے لوگوں کے خلاف کوئی بات کرے تو اُس کی بھرپور مخالفت اور اپنے وطن اور اپنے ہموطن کی زور دار حمائت کرتے تھے ۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف اُن کے پاس مصدقہ یا خیالی الزامات ہوتے تھے جس سے وہ پاکستانیوں پر بھرپور وار کرتے تھے

میں نے اپنے ہموطنوں کو دیکھا کہ سب کے سامنے اپنے مُلک اور ہموطنوں سے برملا شکایات کا اظہار کرتے تھے ۔ لبیا میں میرا قیام کافی لمبا ہونے کی وجہ سے میں نے دیکھا کہ میرے بعض مسلمان ہموطن اپنے مُلک اور ہموطنوں کی مخالفت میں لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے تھے اور بھارتی ہندوؤں سے دوستی رکھتے تھے

یہ تو خاکہ تھا مُلک سے باہر کردار کا ۔ اب دونوں ممالک کے اندر کے حالات کا منظر نامہ

بھارت میں لوگ آپس میں جھگڑا اور تکرار ہم پاکستانیوں کی نسبت زیادہ کرتے ہیں ۔ بھارت میں مار دھاڑ بھی پاکستان ک نسبت زیادہ ہے لیکن جب معاملہ بھارت بمقابلہ غیر مُلک (بالخصوص پاکستان) کا ہو تو ایک دوسرے کے جانی دُشمنوں سمیت بلا امتیاز سب بھارتی یک زبان ہو کر محبِ وطن بن جاتے ہیں

میرے پاکستانی بھائی جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو سب سے زیادہ ایمان دار اور دیانتدار سمجھتا ہے وہ کوئی موقع اپنے مُلک اور اپنے ہموطنوں پر تنقید کا ضائع نہیں ہونے دیتا یہاں تک کہ وہ قومی اور مُلکی معاملات جن کی یک زبان ہو کر ببانگ دُہل ہمیں حمائت کرنا چاہیئے اُسے غلط طور یا کج فہم کی بنا پر گندھی سیاست کا نُقطہ بنا کر میڈیا ۔ سوشل میڈیا اور ذاتی محفلوں میں اپنے مخالف سیاستدانوں کی ہِجو شروع کر دیتے ہیں ۔ اس عمل میں صرف عام یعنی کم عِلم آدمی ہی نہیں بلکہ سیاسی سربراہ بھی بڑے کرّ و فر سے شامل ہوتے ہیں ۔ یہ ایسے وقت میں ہوتا ہے جب ہماری قوم اور ہمارے مُلک کا دُشمن اسی بات پر ہمارے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ میں مشغول ہوتا ہے ۔ اور ہماری قوم کا تمسخر اُڑا رہا ہوتا ہے

اب یہ بھارتی ایجنسی ” را “ کے ایجنٹ کلبوشن یادیو کا قصہ ہی لیجئے ۔ اُس بلوچستان آمد اور کارستانیوں کی معلومات فوج کی کسی ایجنسی نے حاصل کر کے اپنی ہائی کمان کو اطلاع کی ۔ فوج ہی نے اُسے گرفتار کیا اور آئین و قانون کے مطابق اُس پر مقدمہ بھی فوجی عدالت میں چلایا گیا اور پھانسی کی سزا مقرر ہوئی ۔ اگر بھارت اُس کا مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں لے گیا اور بین الاقوامی عدالت نے حسبِ معمول تعصب کا ارتکاب کرتے ہوئے بھارت کی درخواست برائے امتناع مان لی تو بجائے اس کے کہ سب سیاسی سربراہ قومی مفاد میں تمام اختلاف کو ایک طرف رکھتے ہوئے وہی آواز اُٹھاتے جو مؤقف پاکستان کے وکیل نے وہاں پر اختیار کیا تھا حکومت کے خلاف محاظِ جنگ بنا کر قوم اور مُلک کو دُسمنوں ک نظر مں مذاق بنا دیا

برائی کا بدلہ

49 بار دیکھا گیا

آنسو بہانا بُری بات نہیں
غمگین ہونا بُرا نہیں

بُرا یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک اسلئے کریں کہ اُنہوں نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا
تو پھر آپ میں اور بُرے آدمی میں کیا فرق رہ جائے گا ؟

میں کوئی چُوٹھ بولیا

126 بار دیکھا گیا


اَیویں دُنیا دیوے دُہائی ۔ چُوٹھا پاؤندی شور
اپنے دِل تے پُچھ کے ویکھو ۔ کون نئیں اے چور
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
حق دُوجے دا مار مار کے بَن گئے لوک امِیر
میں اَیہنُوں کہندا چوری ۔ لوکی کہن تقدیر
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
ویکھے پنڈت گھیانی دھیانی دیآ دھرم دے بندے
رام نام چَپ کے کھاؤندے گاؤ شالہ دے چَندے
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ
سَچے پھانسی چَڑھدے ویکھے ۔ چُوٹھا مَوج اُڑاوے
لوکی کہن اے رَب دی مایا ۔ میں کہندا انیآ اے
تے کی میں چُوٹھ بولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں کُفر تولیا ۔ کوئی نہ
تے کی میں زہر کولیا ۔ کوئی نہ

بچے مَن کے سَچّے

136 بار دیکھا گیا

چھٹی کا دن تھا ۔ ایک بہت بڑی کمپنی کے کمپیوٹر میں گڑبڑ ہو گئی تو کمپنی کے ایم ڈی نے ماہر انجنیئر کے گھر ٹیلیفون کیا
ایک بچے کی مدھم سی آواز آئی ”ہیلو“۔
ایم ڈی ” ابو گھر میں ہیں ؟“
بچہ ہلکی آواز میں ”ہاں“۔
ایم ڈی ”میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچہ ” نہیں“۔
ایم ڈی نے سوچا شائد غسلخانہ میں ہوں اور پوچھا ” آپ کی امّی ہیں ؟“
بچہ ”ہاں“۔
ایم ڈی نے التجا کی ”بیٹا۔ اپنی امّی سے بات کرا دیں“۔
بچے نے اسی طرح مدھم آواز میں کہا ” نہیں“۔
ایم ڈی نے سوچا شائد وہ باورچی خانہ میں ہو ۔ اتنے چھوٹے بچے کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا چنانچہ اس نے کہا ” آپ کے قریب کوئی تو ہو گا ؟“
بچہ مزید مدھم آواز میں بولا ”ہاں پولیس مین“۔
ایم ڈی حیران ہوا کہ کمپنی کے انجنیئر کے گھر میں پولیس مین کیا کر رہا ہے ۔ اس نے معاملہ معلوم کرنے کے لئے پولیس مین سے بات کرنے کا سوچا اور کہا ”میں پولیس مین سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچے نے سرگوشی میں کہا ” نہیں ۔ وہ مصروف ہیں“۔
ایم ڈی نے مزید حیران ہو کر کہا ”پولیس مین گھر میں کیا کر رہے ہیں ؟“
بچہ ”وہ ابو ۔ امّی اور ایک فائر مین سے باتیں کر رہے ہیں“۔
اچانک فون میں سے گڑگڑاہٹ سنائی دی ۔ ایم ڈی نے پریشان ہو کر پوچھا ”بیٹا ۔ یہ کیسا شور ہے ؟“
بچے نے سرگوشی میں کہا ”ہیلی کاپٹر اُترا ہے“۔
ایم ڈی نے نہائت پریشانی میں پوچھا ”یہ ہیلی کاپٹر کیوں آیا ہے ؟“
ایک پریشان سرگوشی میں بچے نے کہا ”سرچ ٹیم ہیلی کاپٹر سے اُتری ہے“۔
ایم ڈی کا دل دَھک دَھک کرنے لگا ۔ ہمت کر کے پوچھا ” کیا ہوا ہے ؟ یہ سرچ ٹیم کیوں آئی ہے ؟“
بچے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی میں کہا ”مجھے ڈھونڈ رہے ہیں“۔

بارہویں سالگرہ

161 بار دیکھا گیا

الحمد للہ آج اس بلاگ کی عمر اللہ کی مہربانی سے 12 سال ہو چکی ہے ۔ یہ بلاگ میں نے 5 مئی 2005ء کو اللہ کے نام سے شروع کیا تھا ۔ 5 مئی 2005ء سے قبل میں اپنے بلاگ ” Reality is Often Bitter . حقيقت اکثرتلخ ہوتی ہے“ پر ہی اُردو بھی لکھتا رہا ۔ اُردو کا بلاگ الگ شروع کرنے کے بعد میں نے پہلے بلاگ کو انگریزی کیلئے مخُتص کر دیا

شُکر اُس ذاتِ اعلٰی و ارفع کا جس نے صرف مجھے ہی نہیں کُل کائنات کو پیدا کیا اور اس کا نظام چلا رہا ہے ۔ اُس رحمٰن و رحیم نے مجھے توفیق دی کہ میں اس بلاگ کو جاری رکھوں ۔ میں نے 12 سال میں 2485 تحاریر لکھیں ۔ جب میں نے یہ بلاگ شروع کیا تھا تو اُمید نہ تھی کہ یہ ایک سال بھی پورا کر سکے گا ۔ دوسرے بلاگرز کا تجربہ مزید حوصلہ پست کرتا تھا ۔ یہ بھی خیال تھا کہ میں خُشک باتیں لکھتا ہوں اسلئے شاید ہی اسے کوئی پڑھے مگر اللہ کی ذرہ نوازی دیکھیئے کہ
میرے اُردو بلاگ کو اس وقت تک 405225 مرد و خواتین پڑھ چکے ہیں
میری 2 تحاریر کم از کم 57550 بار پڑھی جا چکی ہے
9 تحاریر کم از کم 14200 بار پڑھی جاچکی ہیں
23 تحاریر کم از کم 11250 بار پڑھی جاچکی ہیں
40 تحاریر کم از کم 7050 بار پڑھی جا چکی ہیں
58 تحاریر کم از کم 6000 بار پڑھی جا چکی ہیں
100 تحاریر کم از کم 5000 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر کم از کم 3150 بار پڑھی جا چکی ہیں
300 تحاریر کم از کم 2700 بار پڑھی جا چکی ہیں
400 تحاریر کم از کم 2500 بار پڑھی جا چکی ہیں
500 تحاریر کم از کم 2350 بار پڑھی جا چکی ہیں
600 تحاریر کم از کم 2250 بار پڑھی جا چکی ہیں
700 تحاریر کم از کم 2150 بار پڑھی جا چکی ہیں
900 تحاریر کم از کم 1950 بار پڑھی جا چکی ہیں

مسلمان بدنام کيوں ہيں ۔ لمحہءِ فکريہ

260 بار دیکھا گیا

کِسی مُلک کا قانون وہ ہوتا ہے جو کہ اُس مُلک کا مجاز حاکم بناتا ہے اور یہ بھی تمام ممالک کے قوانین کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ قانون سے لاعلمی بریّت یا معافی کا جواز نہیں ۔ کوئی ذی شعور آدمی يہ نہيں کہتا کہ قانون وہ ہے جس طرح لوگ کر رہے ہيں ۔ ايک روزمرّہ کی مثال ديتا ہوں ۔ ہمارے ملک ميں قوانين کی کھُلم کھُلا خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ ٹريفِک کے قوانين ہی کو لے ليجئے ۔ مقررہ رفتار سے تيز گاڑی چلانا ۔ غلط طرف سے اوورٹيک کرنا اور چوراہے ميں بتی سُرخ ہوتے ہوئے گذر جانا عام سی بات ہے ۔ 90 فيصد لوگ ٹريفک قوانين کی خلاف ورزی کرتے ہيں مگر کبھی کِسی نے نہيں کہا کہ قانون وہی ہے جيسا لوگ کرتے ہيں ۔ ليکن دین اسلام کا معاملہ ہو تو بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ مسلمان کہلوانے والوں کے کردار کو اسلام کا نام دے کر اسلام کی ملامت کرتے ہيں يا اسے رَد کرتے ہيں

اِسلام کے قوانین قرآن الحکیم میں درج ہیں ۔ قرآن شریف میں اللہ کا حُکم ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اِسلئے حدیث اور سنتِ رسول بھی اِسلام کے قوانین کا حصّہ ہيں ۔ قرآن الحکيم اور حديث کا مطالعہ کيا جائے تو اس میں نہ صرف يہ کہ کوئی بُرائی نظر نہيں آتی بلکہ اچھائياں ہی اچھائياں نظر آتی ہيں اور کئی غيرمُسلم مفکّروں نے بھی اسے بہترين قانون قرار ديا ۔ سياسی ليڈروں ميں چين کے ايک وزيراعظم اور بھارت کے ايک صدر نے دو اميرالمؤمنين اور خليفہ ابوبکر صِدّيق رضی اللہ عنہ اور عُمر رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کو انسانوں کے لئے بہترين قرار ديا حالانکہ ان دونوں شخصيات کا مسلک اسلام سے عاری تھا ۔ جسٹس کارنيليئس جو عيسائی تھے مگر اعلٰی پائے کے قانون دان تھے نے آسٹريليا ميں ورلڈ چيف جسٹسز کانفرنس ميں کہا تھا کہ دنيا کا بہترين اور قابلِ عمل قانون اسلامی قانون ہے اور يہ انتہائی قابلِ عمل بھی ہے اور اس کے حق ميں دلائل بھی ديئے ۔ دنيا کے کسی چيف جسٹس نے اُن کے اس استدلال کو رد کرنے کی کوشش نہ کی

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کا کردار ايسا تھا کہ اُن کے دين کے دُشمن بھی اُنہيں صادق ۔ امين اور مُنصِف سمجھتے تھے ۔ اُن کے پاس اپنی امانتيں رکھتے ۔ اُن سے اپنے معاملات ميں فيصلے کرواتے ۔ يہاں تک کہ يہودی اور مُسلمان ميں تنازع ہو جاتا تو يہودی فيصلہ کے لئے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے پاس جاتے اور جو وہ فيصلہ کرتے اُسے بخوشی قبول کرتے

خلفائے راشدين کو بھی ديکھیئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اميرالمؤمنين اور خليفہ ہيں ۔ ساتويں صدی عيسوی ميں بيت المقدّس پر بازنطینی [عيسائی] حکومت تھی جس نے 636ء میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا تھا

اب سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر آج مُسلمان بدنام کيوں ہيں ؟ اگر ديکھا جائے تو ہم اپنے دين اسلام کی بدنامی کا باعث ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ جس طرح کسی مُلک کا قانون وہ نہیں ہوتا جس طرح وہاں کے لوگ عمل کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جو مجاز حاکم بناتا ہے ۔ اسی طرح اِسلام بھی وہ نہیں ہے جس طرح کوئی عمل کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اللہ نے قرآن شریف میں اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ اٰلِہِ و سلّم نے اپنی حدیث اور عمل کے ذریعہ سمجھایا ہے

مُسلمانوں کی بدقسمتی يہ ہے کہ اُنہوں نے دنيا کی ظاہری چکاچوند سے مرغوب ہو کر اپنے دين پر عمل کرنا چھوڑ ديا ہے ۔ ناجائز ذاتی مفاد کيلئے جھوٹی گواہی ديتے ہيں ۔ اپنی خوبی جتانے کيلئے دوسروں کی عيب جوئی کرتے ہيں ۔ نہ تجارت ميں نہ لين دين ميں نہ باہمی سلوک ميں کہيں بھی اسلامی اصولوں کو ياد نہيں رکھا جاتا اور حالت يہ ہو چکی ہے کہ آج کا ايک اچھا مُسلمان تاجر ايک غير مُسلم تاجر پر تو اعتبار کر ليتا ہے مگر مُسلمان پر نہیں کرتا ۔ مُسلمان اس خام خيالی ميں مبتلا ہو گئے ہيں کہ سب کچھ کرنے کے بعد حج کر ليں گے تو بخش ديئے جائيں گے يا کسی پير صاحب کے پاس جا کر يا کسی قبر پر چڑھاوا چڑھا کر بخشوا ليں گے ۔ ہماری قوم کی اصل بيماری محنت کرنے کا فُقدان ہے ۔ صرف دين ہی نہيں دنيا ميں بھی شارٹ کَٹ ڈھونڈ لئے ہوئے ہيں ۔ امتحان پاس کرنے کيلئے کتابوں کی بجائے نوٹس پڑھ لئے وہ بھی اپنے لکھے ہوئے نہيں فوٹو کاپياں کالجوں ميں بِکتی ہيں ۔ والدين مالدار ہوں تو ممتحن اساتذہ کی جيبيں بھر نے سے بالکل آسانی رہتی ہے ۔ زيادہ مال بنانے کيلئے ہيراپھيری کرتے ہيں ۔ تولتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہيں ۔ اشياء خوردنی ميں ملاوٹ کرتے ہيں ۔ افسوس صد افسوس ۔ بننا تو امريکن چاہتے ليکن اتنی تکليف نہيں کرتے کے اُن سے محنت کرنا ہی سِيکھ ليں البتہ اُن کی لغويات سيکھ لی ہيں ۔

يہ ہنسنے کی باتيں نہيں پشيمان ہونے اور اپنے آپ کو ٹھيک کرنے کی سوچ کی باتيں ہيں ۔ ہم خود تو اپنے کرتوُتوں سے بدنام ہوئے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے ہمارے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے ذريعہ آئے ہوئے دين کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہيں

اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے ۔ اس پر عمل کرنے اور اپنے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ومَا عَلَيْنَا اِلْالّبلَاغ المبین