بندے کی حیثیت


بھُولی ہوئی ہوں میں داستاں ۔ گذرا ہوا خیال ہوں
جس کو نہ کوئی سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں
سب نے مجھے بھُلا دیا ۔ نظروں سے یوں گرا دیا
جیسے کبھی ملے نہ تھے ۔ اِک راہ پر چلے نہ تھے
تھم جاؤ میرے آنسوؤ ۔ کسی سے نہ کوئی گلہ کرو
وہ حسنِ خُلق کی مثال ہیں ۔ میں ماضی کا زوال ہوں
جس کو نہ کوئی سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں

کرنا ہی تھا اگر ستم اور دینا تھا عمر بھر کا غم
درسِ وفا دیا تھا کیوں ؟ خُلق کی راہ پر چلایا تھا کیوں
سب نے نگاہ پھیر لی ۔ اب میں ہوں اور میری بے بسی
ویران شب کے چاند کا ۔ میں کھویا ہوا جمال ہوں
جس کو نہ کوئی سمجھ سکے میں ایسا اِک سوال ہوں
بھُولی ہوئی ہوں میں داستاں ۔ گذرا ہوا خیال ہوں

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “بندے کی حیثیت

  1. سیما آفتاب

    جی گیت تو میں نے بھی سنا ہوا ہے ۔۔۔۔ ترمیم پہ اب غور کیا
    لوگوں کا کیا غم۔۔۔
    نیک نے نیک سمجھا بد نے بد جانا مجھے،
    جتنا جس کا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے

  2. سیما آفتاب

    شکریہ : )

    مکرر کا کیا ہے پھر سے چھاپ دیتی ہوں :)
    “نیک نے نیک سمجھا بد نے بد جانا مجھے،
    جتنا جس کا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)