احساسِ کمتری یا وطن دُشمنی ۔ بیکن ہاؤس سکول سِسٹم

میرے عِلم میں یہ بات آئی ہے کہ بیکن ہاؤس سکول سِسٹم نے طلباء کے والدین کو ایک خط بھیجا جس پر 22 اگست 2016ء کی تاریخ ہے
یہ خط طالب عِلموں کے نظم و نسق کے متعلق ہے
اس خط کا پانچواں نقطہ یہ ہے
Foul language is NOT ALLOWED within and outside the school premises, in the morning, during the school hours beaconhouse and after home time. Foul language includes taunts, abuses, Punjabi and the hate speech.

پنجابی زبان کو گندھی زبان کے تحت لکھا گیا ہے اور طنز ۔ گالی ۔ نفرت انگریز تقریر کے برابر کہا گیا ہے
اس طرح ایک طرف مُلک کی قومی زبان کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان کی توہین کی گئی ہے تو دوسری طرف دُنیا کے 9 کروڑ پنجابی بولنے والوں کی توہین کی گئی ہے

یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سکول کے کرتا دھرتا شدید قسم کے احساسِ کمتری میں مُبتلاء ہیں ۔ جس زبان کو آجکل پنجابی کہا جاتا ہے یہ صرف صدیوں پرانی ہی نہیں بلکہ پنجابی ادب کا معیار بہت اُونچا ہے اور پرانے زمانہ میں اس زبان میں بہت سا صوفیانہ کلام بھی لکھا گیا ہے ۔ بابا فرید ۔ بابا بھُلہے شاہ اور اُستاد محمد بخش کے صوفیانہ کلام بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں

میں بہت پہلے لکھ چکا ہوں کہ جس زبان کا نام 200 سال قبل اُردو رکھا گیا اس نے اُسی لاہور میں جنم لیا جسے آج پنجابی کا گھر کہا جاتا ہے اور پنجابی کو اُردو کی ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ پنجابی دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں گیارہویں نمبر پر ہے
1 ۔ چینی ۔ ایک ارب 10 کروڑ
2 ۔ انگریزی ۔ 33 کروڑ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3 ۔ ہسپانوی ۔ 30 کروڑ
4 ۔ اُردو ۔ 25 کروڑ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5 ۔ عربی ۔ 20 کروڑ
6 ۔ بنگالی ۔ 18 کروڑ 50 لاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ 7 ۔ ولندیزی ۔ 16 کروڑ
8 ۔ روسی ۔ 16 کروڑ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9 ۔ جاپانی ۔ 12 کروڑ 50 لاکھ
10 ۔ جرمن ۔ 10 کروڑ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 11 ۔ پنجابی ۔ 9 کروڑ
12 ۔ جاوانیز ۔ 8 کروڑ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13 ۔ فرانسیسی ۔ 7 کروڑ 50 لاکھ
۔
حیرت تو یہ ہے کہ پنجابی بیکن ہاؤس سکول سِسٹم کے مالکوں کے آباؤ اجداد کی زبان بھی ہے

بیکن ہاؤس سکول سِسٹم نے اپنی آفِیشِیئل ویب سائٹ پر وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے

We are NOT going to disown the circular that has been shared on social media, but we need to STRONGLY clarify (which anyone who reads English can easily understand from context) that our School Head in Sahiwal was referring to a ban on profanity and cursing in Punjabi,

گویا پڑھنے والوں کو انگریزی کی سمجھ نہیں آئی ۔ beaconhouse-2بیکن ہاؤس سکول سِسٹم کے کارپرادزوں کی آنکھ سے دیکھتے تو اُنہیں Punjabi کی بجائے Punjabi cursesلکھا ہوا نظر آتا جبکہ curses کا لفظ وہاں موجود ہی نہ تھا ۔
اس وضاحت سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ ”کیا گالی صرف پنجابی میں ہی گندی ہوتی ہے کسی اور زبان میں نہیں ؟“

اس پاکستانیوں سے اربوں روپے کمانے والے سکول سِسٹم کی فاؤنڈر اور ڈائریکٹر ہیں بیگم نسرین محمود قصوری جو قوم کی سب سے زیادہ ہمدرد ہونے کی دعویدار سیاسی جماعت تحریکِ انصاف کے ایک اہم راہنما خورشید محمود قصوری کی بیوی ہیں

This entry was posted in انتباہ, ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “احساسِ کمتری یا وطن دُشمنی ۔ بیکن ہاؤس سکول سِسٹم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)