مساوات یا عدل ؟

my-id-pak
یُونِیَن آف سَووِیَّٹ سَوشَلِسٹ رِیپَبلِکس (USSR) 1917ء میں مساوات کے نعرے پر بنائی گئی تھی مگر اس کی اصلیت عوام پر آشکار ہونا شروع ہوئی تو اندر ہی اندر لاوا پکنے لگا اور بالآخر دسمبر 1991ء میں یو ایس ایس آر 15 خود مُختار ریاستوں میں بٹ گئی

وطنِ عزیز میں مساوات کا نعرہ پہلی بار 1969ء میں لگایا گیا ۔ ہمارے عوام جو ہر دم فریب کھانے کیلئے مستعد رہتے ہیں اس نعرے کے سحر میں مُبتلاء ہو کر جھُومنے لگے ۔ اُنہیں اُس وقت کے نام نہاد نجات دہندہ (ایک جابر سرمایہ دار) نے اپنی تقاریر میں یہ سمجھایا تھا کہ ہم اس مُلک میں سب کو برابر حصہ دیں گے ۔ جھونپڑیوں میں رہنے والے بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہنے لگیں گے ۔ ایک چپڑاسی بھی فیڈرل سیکریٹری بن سکے گا ۔ کوئی مزدور پیاز کے ساتھ روٹی نہیں کھائے گا ۔ جو ہوا وہ سب جانتے ہیں
پچھلے دو تین سال سے نجات دہندہ ہونے کا ایک اور دعویدار پیدا ہو گیا ہے مگر اس کا نعرہ فرق ہے

مساوات ایک ڈھونگ ہے ۔ ایک جھانسہ ہے ۔ میں مساوات کی اصل حقیقت آسان اور قابلِ فہم الفاظ میں پیش کرتا ہوں

”مساوات“ کا مطلب ہے” مادی لحاظ سے برابری“ یا ایک جیسا سلوک ۔ ایک مثال یہ ہے کہ ایک دودھ پیتا بچہ ۔ ایک بڑا بچہ اور ایک جوان ہے ۔ تینوں کو ایک ایک روٹی دے دی ۔ دودھ پیتا بچہ تو روٹی کھا نہیں سکتا ۔ بڑے بچے کا پیٹ ایک روٹی سے بھر جائے گا یا ہو سکتا ہے کہ آدھی روٹی سے ہی بھر جائے لیکن جوان جس کا پیٹ 2 روٹیوں سے بھرتا ہے وہ بھُوکا رہے گا

عدل کا مطلب ہے کہ زندگی کی اصل ضروریات اور فرد کی محنت کے حساب سے دینا ۔ عدل کے نتیجہ میں لوگوں میں اطمینان پیدا ہوتا ہے اور خوشحالی آتی ہے

نیچے مساوات اور انصاف کی مثال تصویر کے ذریعہ واضح کی گئی ہے
پہلی تصویر مساوات کی ہے
دوسری تصویر انصاف کی
Equality
Equity

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “مساوات یا عدل ؟

  1. سیما آفتاب

    السلام و علیکم ورحمتہ اللہ
    بہت اچھی طرح سمجھایا آپ نے مساوات اور عدل کا فرق۔۔۔۔ جزاک اللہ

    یعنی عدل ہر جگہ ممکن ہے مگر مساوات کے لیے ‘برابری’ ہونا شرط ہے (اگر میں ٹھیک سمجھی ہوں تو)

  2. Beenai

    السلام و علیکم افتخاراجمل صا حب،
    کچھ عرصے غیرحاضری کے بعدآج بلاگ کھولا تو کئی بہترین بلاگز ایک ساتھ
    پڑھنے کوملے۔
    مساوات اور عدل کا فرق خوب سمجھایا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے خود اس
    طر ح کبھی یہ فرق سمجھ نہ آٰیا تھا جیسے اب سمجھ آیا۔
    تو مساوات بھی اس وقت مسئلہ پیدا کرتی ہے جب عدل کے بغیر ہو۔
    جیسے کسی شاعر نے خوب کہا:
    انصاف اس لئے نہیں کہ دل صاف نہیں
    دل صاف اس لئے نہیں کہ انصا ف نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)