قابلِ اعتماد دوست ؟

my-id-pakلوگ وہی ہیں بہترین اور قابلِ اعتماد جو آپ جیسے کیسے بھی ہیں آپ کو قبول کرتے ہیں
نہ کہ وہ
جو آپ کی حیثیت دیکھ کر آپ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں
اور نہ وہ
جو اس توقع سے آپ کے ساتھ محبت کرتے ہیں کہ آپ اُن کیلئے کچھ کر سکیں گے

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “قابلِ اعتماد دوست ؟

  1. Afiya khan

    محترمی

    آداب

    آپ سے ایک سوال ہے.

    ایک آدمی اگر غریب و مفلس ہے جبکہ وہ نیک بھی ہے تو وہ اپنے ہاتھوں سے تو غریب و مفلس نہیں ہے. اللہ نے اسے غریب و مفلس ہی پیدا کیا ہو. اس میں اس کا اپنا کوئی قصور نہیں کہ لوگ اس کو ثانوی حیثیت میں رکھیں.

    اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی آزمائش کے لئے کسی کو غریب اور کسی کو امیر اپنی اسکیم کے تحت پیدا کرتا رہتا ہے. کسی کو مال و اسباب دے کے آزماتا ہے تو کسی کو تمام آسائشوں سے محروم کرکے آزماتا ہے. جب ہم اتنی سی بات جانتے اور مانتے ہیں کہ امیری و غریبی کا ہونا اللہ کے نزدیک معیار حق نہیں ہے سوائے جن میں تقویٰ ہو… اور دیکھا بھی یہی گیا ہے کہ امیروں و مال داروں میں دینی مزاج و تقویٰ کم ہی ہوتا ہے. یہ غریبی و امیری والے معیار تو ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں. ہمارے معاملات شادی بیاہ لین دین دوستی و چاری رشتہ داری انہی بنیادوں پر پروان چڑھتی ہیں کہ غریبوں کی Category الگ امیروں کی الگ.

    اگر کوئی غریب لالچ طمع و امید کے تحت ہی صحیح کسی صاحب حیثیت فرد سے یاری و دوستی کرنا چاہتا ہو تو کیا یہ گناہ و عیب ہوا. کیا ارمان , امیدیں و خواہشات صرف امیروں کا حق ہیں. اور غریب اپنی مفلسی پر قانع و قائم رہے.

    اگر وہ کسی امیر آدمی سے دوستی کرتا بھی ہے تو اپنے دل میں کوئی لالچ طمع و ارمان نہ رکھے. بس صدق دل سے دوستی کو نبھاتا رہے. اس پر کوئی الزام نہ لگ جائے. کیا سوچنے کا یہ انداز حق بجانب ہے.؟؟

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ عافیہ خان صاحبہ ۔ السلام علیکم
    آپ کے سوال کا جواب میں اپنے عِلم و تجربہ کے مطابق ہی دے سکتا ہوں ۔
    اللہ کریم و رحیم ہے ۔ وہ کسی سے زیادتی نہیں کرتا ۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کیلئے وہ کوشش کرتا ہے (سورۃ 53 النّجم آیۃ 39) ۔
    رہا لوگوں کا سلوک تو مُسلمان اگر اللہ کے فرمان کو بھول جائے تو قصور اُس کا اپنا ہے کسی اور کا نہیں ۔ ایک حقیقت ذہن میں رہے کہ خطہءِ ہِند میں اکثر مسلمانوں نے غیر مسلموں کے اطوار اپنا لئے ہیں جس میں رسم و رواج کے ساتھ باہمی سلوک بھی شامل ہے
    اللہ نیک بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے ۔ اس دنیا کے کار و بار کو دیکھا جائے اُستاذ بھی مشکل سوال ذہین اور محنتی طالب علم سے پوچھتا ہے ۔
    یہ ضروری نہیں ہے کہ غریب نیک ہو اور دولتمند نیک نہ ہو ۔ سلیمان علیہ السلام بادشاہ تھے ۔ اُن جیسا دولتمند اور بااختیار بادشاہ اور کوئی ہوا ہ نہیں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت دولتمند تھے ۔ اُن کا بنایا ہوا ٹرسٹ آج بھی مدینہ منورہ محرک ہے ایسا کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ۔ ج بھی ایسے اللہ کے بندے موجود ہیں جو بہت دولتمند ہونے کے باوجود اللہ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اپنا عمل اللہ کے فرمان کے تابع رکھتے ہیں
    تعلقات کی بنیاد اپنے اطوار ہوتے ہیں ۔ دولت نہیں ہوتی جو آدمی کسی سے اس لئے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے کہ دوسرا دولتمند ہے تو ی لالچ ہے خلوس نہیں ۔ جو آدمی خلوص، نیّت سے کام کرتا یا تعلقات بناتا ہے اُسے کسی الزام کی فکر نہیں ہوتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)