تقاضہ اور عمل

شاید یہ الفاظ طارق جمیل صاحب کے ہیں my-id-pak
اخلاق 1اخلاق 2

This entry was posted in پيغام, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “تقاضہ اور عمل

  1. Afiya khan

    یہ کون سے اسلام کی بات کرتے ہیں وہ. طارق جمیل صاحب ہیں کون کچھ ان کا حُلیہ و تعارف بتادیتے , آیا سیساسی آدمی ہیں یا مولانا ٹائپ.

    چاہے جس نے بھی کہی ہو بہت احمقانہ بات کہی کہ ناچنے والیوں کو برا کہنے سے اسلام منع کرتا ہے.

    یا وہ حضرت رنگیلے مزاج ہوں گے جاتے ہونگے ان محفلوں میں کہہ گئے ہونگے ترنگ میں.

    آپ کو یہ کیسے یاد آگئے…

    عافیہ خان

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عافیہ خان صاحبہ
    آپ الفاظ میں پھنس گئی ہیں ۔ پورے مضمون کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ آپ نے جو کہا ہے اس کی دلیل کے طور پر قرآن شریف کی آیت مع نام سورت و آیت نمبر تحریر فرمائیں گی
    طارق جمیل صاحب میرے پیر یا اُستاذ نہیں ہیں نہ سیاست میں ہیں ۔ نہ فرقہ بندی میں ۔ اللہ کے نیک بندے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے رہتے ہیں ۔ سادہ طبیعت ہیں اور عالِم ہیں ۔ بین الاقوامی طور پر مسلمانوں میں جانے جاتے ہیں

  3. سیما آفتاب

    پچھلا جواب حذف کردیجئے گا :)
    ایک اصلاحی لکھاری ابو یحییٰ کا کہنا ہے
    “آپ اپنی ناک اونچا کرنے کی جتنی کوشش کرتے ہیں، اپنا قد اتنا ہی گھٹاتے چلے جاتے ہیں”

    یہی معاملہ ہے کہ دوسرے پر انگلی اٹھاتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ باقی تین انگلیوں کا رخ ہماری اپنی طرف ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ ہم میں ‘خوش خلقی’ کی صفت روز بہ روز گھٹتی چلی جارہی ہے ۔۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے۔

  4. سیما آفتاب

    ہم بولتے بہت ہیں لیکن سوچتے کم ہیں، ہم دوسروں کو تو بتاتے ہیں لیکن خود کو نہیں سمجھاتے، ہم دوسروں کو یاد دلاتے ہیں لیکن خود بھول جاتے ہیں، ہم اچھی باتوں کو دوسروں کے ساتھ شئیر کرتے ہیں مگر اپنے ساتھ شئیر کرنے کی کوشش نہیں کرتے، ہم دوسروں کا احتساب کرنا چاہے ہیں مگر اپنا احتساب نہیں کر پاتے، ہم دوسروں کی لاکھوں گز زمین پر انہیں برائی کے بجائے بھلائی کی فصل کی کاشت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اپنی دو گز زمین پر وہ فصل کاشت نہیں کرنا چاہتے۔ یہی ہماری خرابی کی بنیادی وجہ ہے۔

    تحریر: ابو یحییٰ
    https://seems77.blogspot.com/2014/01/blog-post_13.html

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)