مفید عوامل

بڑوں کا احترام اُس وقت کیجئے جب آپ جوان ہوں
کمزوروں کی اُس وقت مدد کیجئے جب آپ توانا ہوں
جب آپ غلطی پر ہوں تو اپنی غلطی مان لیجئے
کیونکہ ایک وقت آئے گا
جب آپ بوڑھے اور کمزور ہوں گے اور یہ احساس بھی پیدا ہو گا کہ آپ غلطی پر تھے
لیکن
اُس وقت آپ صرف پچھتا ہی سکیں گے

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

20 thoughts on “مفید عوامل

  1. Zikra Khan

    محترم

    سلام مسنون

    بقیہ سب باتیں جو لکھی ہیں صحیح ہیں. پر یہ کہ…

    “بڑوں کا احترام اس وقت کیجئے جب آپ جوان ہوں”.

    مزکورہ قولِ زرین کیا آپ کا اپنا ہے. یہ عجیب بات ہوئی. یہ جو کم عمری و بچپن سے بتایا سمجھایا جاتا ہے کہ اپنوں سے بڑوں کا ادب و احترام کیا جانا چاہیئے وغیرہ وغیرہ تو پھر یہ سبق و تلقین کیا ہے. یعنی جوان ہونے تک جو جی چاہے کرے. یقیناً یہ آپ کی منشا نہیں ہو سکتی پر لکھا آپ نے تو یہی ہے. یا پھر Typographical error ہے.

    ذکریٰ خان

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ ذکرٰی خان صاحبہ ۔ السلام علیکم
    بی بی جی ۔ بچے تو بڑوں کا احترام کرتے ہی ہیں ۔ دماغ تب خراب ہوتا ہے جب جوانی سر پہ چڑھ جاتی ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر جوانی کا رنگ نہیں چڑھا میری طرح
    :)

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیما آفتاب صاحبہ ۔ السلام علیکم
    میری تحاریر بے شک سب نقل کر لیجئے ۔ البتہ میری نقل نہ کیجئے گا ۔ مجھ میں بہت سی بُری عادات ہیں

  4. Zikra Khan

    محترمی واہ

    کیا بات کہی ہے آپ نے بچے تو بڑوں کا احترام کرتے ہی ہیں دماغ تب خراب ہوتا ہے جب جوانی سر چڑھ جاتی ہے.

    اچھا آپ بھی گِلٹی فِیل کرتے ہیں , ازراہ مزاح کہہ رہے ہیں ہونگے.

    ذکریٰ خان

  5. Zikra Khan

    محترم

    سلام مسنون

    اصل بات کہنے والی تو رہ گئی وہ یہ کہ آدمی کو ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیئے ہم سے کب کہاں کیا کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں اور اگر وہ کسی سے سلوک کے ذمن میں ہوئی ہیں تو جن کی حق تلفی ہوئی ہو ان سے معافی تلافی کرلی جائے تو آدمی بڑھاپے کے پچھتاوے افسوس و شرمندگی سے بچ جاتا ہے.

    ایک اچھی تزکیر آپ نے پیش فرمائی ہے جزاک اللہ.

    ذکریٰ خان

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ ذکریٰ خان صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    بی بی جی ۔ اب تک تو میں سنجیدہ ہی تھا اور بے تکلّفی نہ ہو تو میں سنجیدہ ہی رہتا ہوں خواہ دوسرے قہقہے لگا رہے ہوں ۔ لیکن آپ نے دو لفظ ایسے لکھ دیئے ہیں جنہوں نے میری شرارتی حس کو جگا دیا ہے ۔ تین چار دہائیاں پرانی بات ہے پی ٹی وی پر سنجیدہ اصلاحی ڈراموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے ڈرامے ناظرین کو ہنسانے کیلئے بھی دکھائے جاتے تھے ۔ ایک ڈرامہ سیریز تھی جس میں ایک مشہور مزاحیہ اداکار کہا کرتا تھا ” گِلٹی فِیل ؟ یُو نَو گِلٹی فِیل“۔ اُس کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ خواہ مخوا ہنسی آ جا تھی
    سو میرا جواب ہے ” آئی نَو گِلٹی فِیل ۔ آئی نَو گِلٹی“۔ ”بَٹ آئی نَو ناٹ ۔ یُو گِلٹی“۔

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ ذکریٰ خان صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    واہ جی واہ ۔ زبردست ۔ آپ میری اسی طرح راہنمائی کرتی رہیں تو شاید اچھی باتیں سیکھ کر کچھ مہذب بن جاؤں گا ورنہ میرا حال تو دیکھ ہی رہی ہیں کہ آپ سلام مسنون لکھتی ہیں اور میں خُشک سا ”السلام علیکم“ لکھ دیتا ہوں

  8. wahaj d ahmad

    میں ایک عرصہ سے نوٹ کر رہا ہوں ایک افریقن [صومالی]بچہ صبح کی نماز میں اپنی دادی کے ساتھ آتا ہے کار کا دروازہ وہی کہولتا ہی اس کی دادی چلاتی ہیں مین خوش ہوتا ہوں کیوںکہ امریکہ میں یہ نہیں ہے یہاں بچے بڑوں کی عزت کرنا نہیں جانتے ہم دیسی ماں باپ کو باقاعدہ بچوں کو سکھانا پڑتا ہے :!:

  9. Zikra Khan

    Janab e Mohtram

    Salam e Masnoon

    I’M ONLY
    Bothered
    for what
    i say
    not for
    WHAT YOU
    UNDERSTAND

    Guilty Free

    😊
    Zikra khan

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھاج الدین احمد صاحب ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    آپ نے درست فرمایا ہے ۔ جب باہر بارش ہو رہی ہو تو بچوں کو خُشک رکھنا بہت مشکل کام ہے ۔ جو کرتا ہے وہ میری سمجھ کے مطابق ثواب کا حقدار ہے ۔ یہ طور طریقہ ایشیائی ہے ۔ روس کا تو علم نہین باقی چین جاپان انڈونیشیا فلپین تک بلاتمیز مذہب یہی شعار ہے

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ ذکرٰی خان صاحبہ ۔ السلام علیکم
    گستاخی معاف ۔ یہ فقرہ جو آپ نے بزبانِ انگریزی لکھا ہے ۔ اگر میں آپ سے پہلے لکھ دیتا تو ؟
    محترمہ ۔ ہر آدمی کو بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے کہ اگر یہ بات کوئی دوسرا مجھے کہے تو میرا ردِ عمل کیا ہو گا ۔
    ۔” گِلٹی فِیل“ کے الفاظ پہلے آپ نے استعمال کئے تھے ۔ میں نے تو مزاحیہ ڈرامے کے الفاظ نقل کئے ۔ آپ کے متعلق تو میں نے صرف یہ لکھا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ گِلٹی ہیں ۔

  12. Zikra Khan

    محترمی

    سلام مسنون

    بات دراصل یہ ہے کہ جسطرح آپ کو شرارت سوجھی تھی یا جاگی تھی اُسی طرح مجھے بھی سُوجھی کہ گِلٹی فِیل کا ذکر بھی میں نے کیا اور اپنی بات سے مُکر گئی.

    ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے حساب برابر.

    ……..

    آپ سے ایک سوال ہے وہ یہ ک آپ غالبً اپنے Status میں یا کہیں اور لکھتے ہیں کہ آپ کی منشاء بلاگ میں لکھنے کی محض یہ ہے کہ بندگانِ خدا تک اُن کے کام کی یا کوئی بھی نیک بات پینچائیں تاکہ آپ کے توشہ آخرت کا سامان بنے. یہ تو تھی آپ کی نیت و منشاء اور امید ہے آپ کو نیک نیتی کا اجر و ثواب ملے گا. یہ تو تھی آپ کی بات, رہے سامعین یا کمنٹس دینے لینے والے اور اسی میں مجھ جیسے اپنا قیمتی وقت کھپانے والوں کی سعیی و جہد کس کھاتے میں شمار ہوگی, آیا ٹائم پاس یا فروعی کھاتے میں. آیا ہم جیسے لوگوں کو بھی اجر و ثواب کی امید رکھنی چاہیئے. یا یہی وقت تلاوت ذکر و تسبیح یا دوسرے اور نیکی کے کاموں میں صرف کرنا زیادہ مناسب ہے. اردو فیڈز میں اللہ کے نزدیک ہماری کیا پوزیشن شمار ہوگی. اگر تھوڑی بہت نیکی بھی ملنے کی امید ہے تو رمضان کے اس با برکت مہینے میں افضل عبادت کیا ہے یہ آپ سے پتہ کرنا تھا. ورنہ اس بے مقصدیت کو ہم Wind up کریں.

    چونکہ معاملہ آپ کے ساتھ ہے لہٰزا تشفی بخش جواب آپ ہی کو دینا ہوگا.

    وسلام

    ذکریٰ خان

  13. افتخار اجمل بھوپال

    محترمہ ذکرٰی خان صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    میں نے اپنی تحاریر کا سبب بلاگ کے عنوان کے نیچے لکھا ہوا ہے جو یہ ہے ” ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنے علم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے“۔ وہیں میں نے قارئین سے ایک درخواست بھی کی ہوئی ہے
    میری سانس کا کیا بھروسہ کہاں ساتھ چھوڑ جائے
    مُجھ سے وابستہ لوگو ۔ مجھے معاف کر کے سونا
    میری تحاریر اپنے تجربات دوسروں تک پہنچانے کیلئے ہیں تاکہ جو بات میں نے عمر کا بیشتر حصہ لگا کر سمجھی قارئین اُس وقت کی بچت کر کے بچا ہوا وقت کسی دوسری بہتری میں لگا سکیں ۔ میں نے کہیں نہیں لکھا کہ میری تحاریر پڑھنا کارِ ثواب ہے یا آخرت کیلئے توشہ ہے ۔ ھدایت صرف قرآن شریف اور حدیث سے لی جا سکتی ہے ۔ کوئی آدمی زندگی میں صرف تسبیح نہیں کرتا ۔ اس دنیا میں اللہ کے فرمان کے مطابق درست طریقہ سے رہنا اور درست طریقہ سے رہنے کا طریقہ سیکھنا کارِ ثواب ہے ۔ ہر آدمی کی اپنا انتخاب ہے کہ وہ کہاں سے اور کیسے سیکھتا ہے ۔ اگر کسی بھی کام کو اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے تو وہ کارِ ثواب ہے ۔ اگر کوئی نماز اسلئے پڑھتا ہے کہ لوگ اسے نیک سمجھے تو نماز کارِ ثواب نہیں رہتی

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ ذکرٰی خان صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    میں نے اپنی تحاریر کا سبب بلاگ کے عنوان کے نیچے لکھا ہوا ہے جو یہ ہے ” ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنے علم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے“۔ وہیں میں نے قارئین سے ایک درخواست بھی کی ہوئی ہے
    میری سانس کا کیا بھروسہ کہاں ساتھ چھوڑ جائے
    مُجھ سے وابستہ لوگو ۔ مجھے معاف کر کے سونا
    میری تحاریر اپنے تجربات دوسروں تک پہنچانے کیلئے ہیں تاکہ جو بات میں نے عمر کا بیشتر حصہ لگا کر سمجھی قارئین اُس وقت کی بچت کر کے بچا ہوا وقت کسی دوسری بہتری میں لگا سکیں ۔ میں نے کہیں نہیں لکھا کہ میری تحاریر پڑھنا کارِ ثواب ہے یا آخرت کیلئے توشہ ہے ۔ ھدایت صرف قرآن شریف اور حدیث سے لی جا سکتی ہے ۔ کوئی آدمی زندگی میں صرف تسبیح نہیں کرتا ۔ اس دنیا میں اللہ کے فرمان کے مطابق درست طریقہ سے رہنا اور درست طریقہ سے رہنے کا طریقہ سیکھنا کارِ ثواب ہے ۔ ہر آدمی کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ کہاں سے اور کیسے سیکھتا ہے ۔ اگر کسی بھی کام کو اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے تو وہ کارِ ثواب ہے ۔ اگر کوئی نماز اسلئے پڑھتا ہے کہ لوگ اسے نیک سمجھے تو نماز کارِ ثواب نہیں رہتی
    جو تحریر تبادلہ خیال کا سبب بنی ہے. اس میں اللہ کے تین فرمان میں نے اپنے الفاظ میں لکھے ہیں. میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اللہ یا رسول اللہ کا فرمان لکھوں اور محسوس بھی نہ کراؤں

  15. Zikra Khan

    محترمی

    سلام مسنون

    جی مجھے آپ کی تحریر سے جواب مل گیا کہ…

    اس دنیا میں اللہ کے فرمان کے مطابق درست طریقہ سے رہنے کا طریقہ سیکھنا کارِ ثواب ہے. اور کسی بھی کام کو مقرر کردہ حدود میں رہ کر کیا جائے تو کار ثواب ہے.

    آپ نے “توشہ” والی بات کو ایک دوسری بات سے گُڈ مُڈ کردیا. یہ بات تو مینے بھی نہیں لکھی کہ آپ کی تحاریر پڑھنا کار ثواب ہے.

    بلکہ ہونا یہی چاہیئے کہ اپنے کسی بھی بھلائی کے کام کو کسی نہ کسی حیثیت میں ہی صحیح اُسے کارِ ثواب سمجھا و جانا جائے. کیونکہ..

    اس دنیا میں انسانی زندگی دو حیثیتوں سے خالی نہ ہوگی. یا تو وہ اللہ اور اس کے نبی کی اطاعت و فرمابرداری پر مبنی ہوگی یا انکار اور بغاوت پر مبنی ہوگی. اور قیامت کے دن انسان کی پوری زندگی کا حساب کتاب انہی دو بنیادوں پر ہوگا. کہ اس کی زندگی اطاعت و فرمابرداری کی بنیاد پر کتنی گزری اور انکار و بغاوت کی بنیاد پر کہاں کہاں گزری.

    جب آپ یہ کہتے ہیں “میرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنے علم اور تجربے کو نئی نسل تک پہنچانا ہے تو ظاہر بات ہے وہ اپنی جگہ نیک کام ہی ہوا کوئی useless تو ہوگا نہیں. پھر قارئین سے آپ نے درخواست بھی کی ہوئی ہے “کہ میری سانس کا کیا بھروسہ مجھے معاف کرکے اور نیک کلمات ادا کرکے سونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی تحاریر آپ کے لیئے توشہ آخرت ثابت ہوئی چاہے توشہ والی بات آپ نے کہیں لکھی ہو یا نہ لکھی ہو.

    جزاک اللہ

    ذکریٰ خان

  16. سیما آفتاب

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبر کاتہ

    جی میں نے تحریر ہی کی بات کی تھی ۔۔۔ عادات اپنی سنبھال لوں وہی کافی ہے میرے لیے :)

  17. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیما آفتاب صاحبہ. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    الله کی بڑی مہربانی ہے مجھ پر کہ آپ کی شکل میں ایک ایسی خاتون ملی ہیں جو میری الٹی سیدھی سب باتیں سمجھتیں ہیں. اللَّهِ خوش رکھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)