مقدر اور نصیب

میں کار میں جا رہا تھا جناح ایوینیو اور نائنتھ ایوینیو والے چوراہے پر بتی سُرخ تھی ۔ رُک گیا ۔ میرے آگے کھڑی کار پر نظر پڑی تو اُس کے پچھلے حصے کی تصویر بنا لی ۔ پڑھیئے کیا لکھا ہے
A Car
مقدّر آزما چکا ہوں ۔ نصیب آزما رہا ہوں
اِک بے وفا کی خاطر ۔ گاڑی چلا رہا ہوں

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, مزاح, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “مقدر اور نصیب

  1. سیما آفتاب

    میں اس کو ایسے بھی پڑھ چکی ہوں :)

    قسمت آزما چکا ہوں، مقدر آزما رہا ہوں،
    کسی بے وفا کی خاطر، رکشا چلا رہا ہوں’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)