Monthly Archives: April 2016

بات ہے سمجھ کی

1,329 بار دیکھا گیا

یہ سطور میرے ایک دوست نے بھیجیں ہیں ۔ یہ اُن کے ایک واقفِ کار کی خود نوشت آپ بیتی ہے ۔ سوچا کہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں

پچھلے دنوں اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک دوست کے ساتھ ایک کیفے جانے کا اتفاق ہوا ۔ کچھ کھانے کا مُوڈ نہیں تھا تو بس دو فریش لائم منگوا لئے
ایک سیون اَپ کین کی قیمت 50 روپے ہے ۔ ایک لیموں کی قمیت اگر مہنگا بھی ہو تو 5 روپے ہے ۔ سٹرا شاید 2 روپے میں پڑتا ہو گا ۔ ٹوٹل ملا کر 109 روپے بنتے ہیں ۔ بل آیا تو مجھ سے پہلے میرے دوست نے بل دیکھے بغیر ویٹر کو اپنا ویزا کارڈ تھما دیا ۔ میرا دوست واش روم گیا ۔ اتنے میں ویٹر کارڈ اور پرچی واپس لے آیا ۔ میں نے بل اٹھا کر دیکھا تو تفصیل یوں تھی
فریش لائم -/1200 ۔ جی ایس ٹی -/204 ۔ ٹوٹل -/1404
اس بل کو دیکھ کر نہ مجھے کوئی حیرت ہوئی اور نہ میرے دوست نے ایسا محسوس کیا
ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جہاں ہم بے دریخ پیسے خرچ کرتے ہیں
تین سال کی وارنٹی والا کوٹ دس ہزار میں خرید کر اگلے سال دو اور لیں گے
سال میں چار جوڑے جوتوں کے لیں گے
ہوٹلنگ پر ہزاروں روپے برباد کریں گے
انٹرنیٹ، تھری جی، موبائل سیٹس، ٹائی، شرٹس، گھڑیاں، پین، لائٹرز، گیجٹس، لیپ ٹاپس اور پتہ نہیں کیا کیا
لیکن ہم خرچ کرتے رہتے ہیں ۔ جب کماتے ہیں تو خرچ کرنے کے لئے ہی کماتے ہیں
لیکن کبھی غور کریں کہ فریش لائم کے یہ 1404 روپے کسی کی زندگی میں کتنے اہم ہیں

آج بارش میں ایک جگہ انتظار کرتے ہوئے درخت کے نیچے خاتون نظر آئیں ۔ ہم کہتے ہیں یہ ایک بھکاری ہے ۔ بھیک مانگنا ان کا پیشہ ہے
غور کریں تو یہ ماں ہے ۔ ستر سالہ بوڑھی ماں ۔ جھریوں سے بھرا چہره سفید بال ایک چادر میں سردی اور بارش سے بچنے کی کوشش میں جانے کس مجبوری اور کس آس میں یہاں بیٹھی انسانیت کا ماتم منا رہی تھی
کبھی اپنی ماں کی مجبوری کا تصور کیجئے اور پھر اپنے دل کو ٹٹولئے کہ کیا یہ ایک بھکاری ہے؟
میں اظہار سے قاصر ہوں کہ میں اس وقت کس کیفیت کا شکار ہوں ۔ میں نے ان اماں جی کو ایک نوٹ تھمایا ۔ بڑی حسرت اور کرب سے کہنے لگیں ”بیٹا اس کا کھلا ہوتا تو یہاں بیٹھ کر کیا کرتی“۔
میں نے کہا ”ماں جی بس رکھ لیں“۔ جانے کتنی بار انہوں بے یقینی سے مجھے دیکھا ۔ پھر ایک نگاہ نوٹ پر ڈالی ایک مجھ پر ڈالی اور ایک آسمان پر ڈالی ۔ اس ایک نگاہ میں خوشی، طمانیت، دعا، شکر اور پتہ نہیں کیا کیا تھا ۔ اس نگاہ نے مجھے جتنی خوشی دی میں بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ اس ایک نگاہ نے مجھے اور ماں جی کو بیک وقت اپنے رب کے حضور جھکا دیا

فریش لائم ضرور پیجیے لیکن اگر پیسے فریش لائم سے ختم نہیں ہوتے تو کسی کی مدد کر کے اور خوشی دے کر بھی کبھی ختم نہیں ہوں گے ۔ اپنے آس پاس کے کمزور اور لاچار لوگوں پر ضرور نظر ڈالئے

آج خوشی کا ایک راز بتاتا ہوں ۔ کہیں بہت جلدی میں جاتے ہوئے ۔ کہیں ٹریفک میں پھنسے ہوئے ۔ کہیں بارش میں چلتے ہوئے ۔ کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے ۔ اپنے آس پاس دیکھیئے اور کوئی اس طرح کی اماں یا کوئی بھی ضرورت مند نظر آئے تو دوڑ کر جایئے اور اسے بس ایک نوٹ تھمایئے ۔ اور واپس آکر اپنے کام لگ جایئے ۔ پھر دیکھیئے کہ آپ کے دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے

فارَینزِک

853 بار دیکھا گیا

میرے دماغ میں ایک کِیڑا ہے جو عام طور پر سویا رہتا ہے لیکن جب کوئی نیا منظر دیکھے یا نئی بات سُنے تو وہ مجھے کاٹنا شروع کر دیتا ہے کہ اُس منظر یا بات کو سمجھوں اور میں سمجھنے کی کوشش میں لگ جاتا ہوں ۔ میں 2 سالوں سے ”حقوق اور آزادیءِ تقریر“ کو ہی نہیں سمجھ پایا تھا کہ 2 ہفتے سے مجھے ”فارَینزِک“ کے کیڑے نے کاٹنا شروع کر رکھا ہے ۔ “فورَینزِک“ انگریزی کا لفظ ہے Forensic جو ”فورَینزِک“ لکھا جانا چاہیئے البتہ ہو سکتا ہے کہ زمانے کی ترقی کے ساتھ”فورَینزِک“ بھی ترقی کر کے ”فارَینزِک“ بن گیا ہو

یہ لفظ ”فارَینزِک“ کچھ لوگوں کی زبان سے چِپَک کر رہ گیا ہے ۔ عوام بیچارے کیا کریں ہند و پاکستان میں انگریزوں کی حکمرانی کے زمانے سے اُن کے ذہنوں کو لیڈروں کا غلام بننا سکھایا گیا ہے ۔ وہ بیچارے تو 5 وقت ”سُبحان اللہ ۔ الحمدللہ ۔ اللہ اکبر“ کی تسبیح کی بجائے سارا دن ”فارَینزِک ۔ فارَینزِک“ پڑھتے ہیں اور اتنی فرصت نہیں ملتی کہ ڈکشنری کھول کر ”فارَینزِک“ کا مطلب ہی دیکھ لیں

مجھے اللہ نے توفیق دی تو میں نے اخبار اور ٹی وی سے دُور بیٹھ کر آج ڈکشنری کھولی تو پرانے زمانہ کی ضرب المثل یاد آئی ”کھودا پہاڑ ۔ نکلا چوہا ۔ وہ بھی مرا ہوا“۔
آئی جنون انگریزی سے اُردو ڈکشنری نے Forensic کا مطلب بتایا ”عدالت کے متعلق“۔

مریم وَیبسٹر انگریزی کی ڈکشنری نے بتایا ۔

Simple Definition of forensic
a) relating to the use of scientific knowledge or methods in solving crimes
b) relating to, used in, or suitable to a court of law

یعنی (الف) جُرم معلوم کرنے کیلئے سائنس کے عِلم یا طریقوں کے استعمال کے متعلق ۔ (ب) جو قانونی عدالت میں استعمال کیا جاتا ہو یا اس کے متعلق ہو

آکسفَورڈ ڈکشنری نے بتایا ۔

Relating to or denoting the application of scientific methods and techniques to the investigation of crime

جُرم معلوم کرنے کیلئے سائنسی طریقوں کے استعمال کے متعلق

تھِسَورَس نے بتایا

a) Relating to, used in, or appropriate for courts of law or for public discussion or argumentation.
b) Relating to the use of science or technology in the investigation and establishment of facts or evidence in a court of law:

(الف) قانونی عدالت یا عوامی بحث میں استعمال سے متعلق یا اس کیلئے موزُوں
(ب) تفتیش اور حقائق معلوم کرنے کیلئے یا بطور شواہد قانونی عدالت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال

حقیقی ٹام اور جیری

807 بار دیکھا گیا

بلی اور چوہے کی لڑائی کارٹون “ٹام اور جیری” میں دیکھنے کو بہت ملتی ہے لیکن اصلی بلی اور چوہے کی لڑائی اتفاق سے ہی فلمائی جا سکتی ہے ۔ ایسی ہی ایک نادر وِڈیو


میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔
” پچھلے 12 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا

خواہش اور محنت

874 بار دیکھا گیا

خواہش سے نہیں گِرتے پھل جولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہو گا
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دِیا ہر ایک کو خود ہی جلانا ہو گا

اپنے جوانوں کے نام

913 بار دیکھا گیا

کچھ لوگ یہاں اَفسر بن کر ۔ لوگوں کے خدا بن جاتے ہیں
کچھ لوگ ترقی جب پائیں تو ۔ اور بھی سر کو جھُکاتے ہیں
یہ دونوں قِسمیں اِنساں کی ہیں ۔ روزِ اوّل سے دُنیا میں
کچھ مَر کے بھی زندہ رہتے ہیں ۔کچھ جیتے جی مَر جاتے ہیں
ہے میری دعا اے بچو ۔ تُم انسانوں کی اس قسم میں ہو
خوشبو کی طرح ہر دم مہکے رُوح جو تمہارے جسم میں ہو
دُنیا میں اچھے کام کرو ۔ اور جب دنیا سے جاؤ تُم
غیروں کی آنکھوں میں آنسو اپنوں سے بڑھ کر لاؤ تُم
یہ لوگ جو تُم سے جَلتے ہیں یہ جھُوٹی دار پہ چلتے ہیں
یہ وقت کے چڑھتے سورج ہیں تب دیکھو جب ڈَھلتے ہیں
کرو وعدہ ان سا مَت ہو نا ۔ تُم اپنے اصلی کو مَت کھونا
دُنیا ہے اصل میں کچھ پانا ۔ اور لینا اصلی کا گُم ہونا
جو لوگ اس دُنیا کے لالچ میں ۔ سجدہ گاہ بدلتے ہیں
پھُولوں کو سجا کر کالر میں اَن دیکھی آگ میں جلتے ہیں
ہے ایک ۔ بَس ایک ہی راہِ وفا ۔ وہ راہِ وفا ہے راہِ خدا
ہر دَم یہ رکھنا لب پہ دُعا ۔ یا رب مجھے سیدھی راہ دِکھا
وہ راہ کہ جس پر چلتے ہوئے حاصل ہو سنہرا انعام تیرا
نہیں چاہیئے مجھ کو وہ رَستہ جس پہ پھیلا ہے قہرِ خدا
اس دُنیا کی آسائشیں سب بے شک کرتا ہوں تُجھ سے طلب
ہو شامل جن میں رحم تیرا ۔ ہو دُور جن سے تیرا غضب“۔