اذان کا اثر

ہمارے مسلمان بھائی ایسے بھی ہیں جن پر اذان کی آواز کوئی اثر نہیں کرتی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلاح وہی پاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے ۔Convert آج مختصر سوانح عمری ایک شخص رُونی کی جو سکاٹ لینڈ کا ایک غیر مُسلم رہائشی تھا ۔ اُس کی کبھی کسی مسلمان سے ملاقات بھی نہ ہوئی تھی ۔ اپنی سوانح عمری میں رُونی لکھتے ہیں

میں نے زندگی بھرکبھی اسلام قبول کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور نہ کبھی کسی مسلمان سے میری ملاقات ہوئی تھی ۔ میں ترکی میں چھٹیاں گذارنے گیا ۔ وہاں اذان کی آواز سنی جس میں اتنی کشش تھی کہ میں ترکی سے اسکاٹ لینڈ کے شہر اینفرینس پہنچتے ہی ایک مقامی کُتب خانے گیا اور قرآن کریم کا انگریزی ترجمے پر مشتمل نسخہ خریدا ۔ میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اس نے میری آنکھیں کھول دیں ۔ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہوئے میرے اندر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوگئی ۔ میں نے قرآن کریم کو 3 بار مکمل پڑھا اور ہر بار پہلے کی نسبت زیادہ آگاہی حاصل ہوئی
میں نے اسلام کے بارے میں مطالعے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پرنومسلم حضرات کے بارے میں بھی پڑھا جن کےقبول اسلام کا ہر ایک کا اپنا منفرد سفر تھا مگر ان میں جو چیز مشترک تھی وہ یہ کہ ہر ایک نے اسلام کو شعوری طورپر قبول کیا اور باریک بینی سے مطالعے کے بعد دائرہءِ اسلام میں داخل ہوا

میں نے انٹرنیٹ پر عربی میں نماز کا طریقہ سیکھا اور قرآن کریم کی تلاوت سنی ۔ اسلامی موسیقی سُنی۔ موسیقی میری کمزوری تھی ۔ اس لئے اسلامی موسیقی سے بھی بہت محظوظ ہوا ۔ بہر حال اسلام کے بارے میں حقائق تک پہنچنے میں 18 ماہ کا عرصہ لگا ۔ ڈیڑھ سال کے بعد میں خود کو مسلمان سمجھنے لگا ۔ نماز پنجگانہ شروع کردی ۔ ماہ صیام کے روزے رکھے ۔ حلال وحرام کی تمیزشروع کردی

میرے محلے میں ایک چھوٹی مسجد بھی ہے ۔ میں مسجد پہنچا ۔ اپنا تعارف کرایا اور اندر داخل ہوگیا ۔ مسجد میں موجود تمام لوگ حیران ہوئے ۔ انہوں نےمجھے اسلام کے بارے میں اہم معلومات پرمبنی کُتب دیں ۔ اب میں اس مسجد کے اہم ارکان میں سے ایک ہوں

This entry was posted in آپ بيتی, دین, روز و شب, طور طريقہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “اذان کا اثر

  1. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب،
    السلام و علیکم،
    یقینی طور پر اذان کی آوازحیرت انگیز حد تک اثر ر کھتی ہے۔
    خا ص کر صبح کی اذان۔

    مجھے کبھی نہیں بھولتا کہ میرے اسلامیات کی ٹیچر نے کہا تھا
    عمر میری اس وقت بارہ سال تھی
    کہ تم اسلامیات صرف ایک مضمون کے طور پر نہ پڑ ھو
    اسے سمجھو
    صرف اس لئے مسلمان کا لیبل لگا کے نہ پھرو کہ مسلم ماں باپ کے گھر
    پیدا ہوگئی ہو
    بلکہ اس لئے فخر سے مسلمان کہلاؤکہ تم نے باقاعدہ سوچ سمجھ اور
    غور کے بعد اس مذ ہب کو اپنا یا ہے
    جو ماں باپ سے ملا تھا اس کو اپنی مر ضی اور اپنی سمجھ سے قبول
    کیا ہے۔

    اسی سوچ سے دین سے محبت اور جاننے کی جستجو پیدا ہوئی۔

  2. Pingback: اذان کا اثر « Jazba Radio

  3. سیما آفتاب

    السلام و علیکم ورحمتہ اللہ
    سبحان اللہ ۔۔۔ بے شک اللہ ہدایت مانگنے والوں کو ہی دیتا ہے۔

    اس تحریر سے مجھے مسجد الحرام کی اذان یاد آگئی ۔۔۔ ناقابلِ بیان کیفیت : )

  4. Nazneen khan

    جی محترم

    سلامِ مسنون

    عمدہ اور سبق آموز تحریر

    محترمہ بینا بہن صاحبہ اور سیماآفتاب صاحبہ نے بہت اچھا تبصرہ فرمایا.

    آپ نے صحیح لکھا کہ ہم میں اکثر اذان سنتے ہیں پر ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا. اِلاّ یہ کہ دل میں رجوع اور اللہ کا خوف ہو. جس کو طلب ہوتی ہے اسی کو ہدایت ملتی ہے.

    اللہ تعالٰی رونی صاحب کے ایمان کو ثابت قدم رکھے. آمین

    یہ سوال آپ سے ہے کہ یہ اسلامی موسیقی کیا ہوتی ہے.؟

    نازنین خان

  5. Pingback: اذان کی تاثیر « Jazba Radio

  6. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب،
    السلام و علیکم
    نازنین بہن کے جواب میں یہ کہنا چا ہوں گی کہ اسلام میں موسیقی کا کو ئی تصور
    نہیں ہے۔
    ہاں میر ی ناقص را ئے کے مطابق
    گورے لوگ ہماری حمد و نعت ، قوالی ، منقبت ، مر ثیے اور صوفیانہ کلام کو
    اسلامک میوزک ( اسلامی موسیقی) قرار دیتے ہیں۔
    یہ چیز وکی پیڈیا پہ بھی لکھی ہو ئی ہے ۔
    شاہ لطیف کی کا فیاں ، بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام ، نصر ت فتح علی خان کی قوالیاں
    ان کے لئے اسلامی مو سیقی کی کیٹگر ی میں آتی ہیں۔
    اس نومسلم کا اشارہ بھی شاید ایسے ہی کسی کلام کی جانب ہے۔
    واللہ اعلم

  7. سیما آفتاب

    افتخار اجمل صاحب
    بالکل ٹھیک کہا آپ نے ۔۔۔ میں نے اپنے بلاگ پر آپ کی تحریر کے ساتھ اپنی ریکارڈ کردہ اذان پوسٹ کی ہے : )

  8. Beenai

    سیما آفتاب صا حبہ،
    کیا آپ اپنے بلاگ کا نام بتانا پسند کر یں گی؟

  9. محمد زبیرمرزا

    جزاک اللہ – ہمیں ایسی کفیات وجذبات کو بیان کرتے رہنا چاہیے – بے شک اذان اثررکھتی لیکن ہم سے پیدائشی مسلمان جو اسے سنتے رہتے لیکن سمجھتے نہیں (عربی زبان میں ہونے کے باعث) سنی ان سنی کردیتے ہیں – اس فلاح کی پیشکش کو ہم لبیک نہین کہہ پاتے دل سے – ہم مسلمان پیداہوئے مسلمان مریں گے لیکن اسلام کو سمجھے بغیر – کوشش ہے دعاہے اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے ، نماز کو سمجھنے کی توفیق عطافرمائے-

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد زبیر مرزا صاحب
    حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر انگریزی کا ترجمہ سیکھتے رہتے ہیں ۔ کبھی انگریز اور کبھی امریکن بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اُردو کا ترجمہ بھی سیکھتے ہیں لیکن اتنی تکلیف نہیں کرتے کہ اذان اور نماز کا ترجمہ سیکھ کر اس پر عمل کریں

  11. Nazneen khan

    جناب محترم افتخار اجمل صاحب

    سلام مسنون

    میری اچھی بینا بہن صاحبہ بہت بہت شکریہ وضاحت فرمانے کا شائد نو مسلم موصوف نے وہی کچھ سنا ہوگا جس کی آپ نے نشان دہی فرمائی ہے. اب میں سمجھ گئی اسلامی میوزک والی بات.

    نازنین خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)