Yearly Archives: 2015

موجودہ ترقی کا شاخسانہ

سُنو ۔ یہ فخر سے اِک راز ہم بھی فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ دھوتے تھے مگر اب واش کرتے ہیں
تھا بچوں کیلئے بھوسہ مگر اب کِس ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب مِس کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے ۔ اب واک کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب ٹاک کرتے ہیں
کبھی جو امّی ابُو تھے ۔ وہی اب ممی پاپا ہیں
کبھی جو تھا غُسلخانہ ۔ بنا وہ باتھ رُوم آخر
بڑھا جو ایک اور درجہ ۔ بنا وہ واش رُوم آخر
کبھی تو درد ہوتا تھا ۔ مگر اب پین ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر ۔ اب تو نالج گین کرتے ہیں

پُر اسرار بندے ۔ کل اور آج

ترقی اور وہ بھی ایسی کہ دنیا بدل کے رہ گئی
ہر لٖفظ کے معنی بدل گئے
ہر فقرہ بدل گیا
کیا اس مُلک میں زیادہ گرمی ۔ بے وقت بارشیں ۔ مہنگائی اور بدامنی ہونے کی وجہ ہمارے اجتمائی کردار کا دیوالیہ پن نہیں ہے ؟
علّامہ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے لکھا تھا

یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے ۔ ۔ ۔ جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا ۔ ۔ ۔ سمٹ کر پہاڑ ، ان کی ہیبت سے رائی

ترقی کی ہوا ایسی چلی کہ بن گیا

یہ پڑھے لکھے، والد جن کے مالدار بندے ۔ ۔ ۔ اِن کی گاڑی کو جو روکے فرض پسند سپاہی
یہ لگائیں اُس کو ٹھوکر ، دیں گالی اور تھپڑ ۔ ۔ ۔ پھر کھیچ کے گاڑی میں کریں اچھی دھنائی

واقعہ یوں ہے کہ ٹریفک کے قوانین کی شدید خلاف ورزی پر پولیس اہلکار نے گاڑی کو روکا اور سلام کرنے کے بعد ڈرائیونگ لائسنس مانگا ۔ کار سواروں نے ڈانٹ پلا دی ”ہٹو آگے سے کیا سمجھتے ہو اپنے آپ کو“۔ پولیس اہلکار نے شائستگی سے پھر ڈرائیونگ لائسنس مانگا تو باہر نکل کر زبردستی پولیس اہلکار کو ہٹانے کی کوشش کی ۔ جب اُس نے مزاہمت کی تو اس کی پٹائی شروع کر دی ۔ یہ شریف نما پڑھے لکھے غُنڈے ایک قیمتی کا ر میں سفر کر رہے تھے

علّامہ صاحب نے لکھا تھا

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے ۔ ۔ ۔ ستاروں پہ ڈالتے ہیں جو کمند

ترقی نے بنا دیا

شان اس دور میں ، اُن جوانوں کی ہے ۔ ۔ ۔ اُٹھا لے جائیں لڑکی جو آ جائے پسند

کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ایک بارونق مرکز میں کار سوار پڑھے لکھے اور بڑے گھرانوں کے نوجوانوں نے ایک راہ جاتی لڑکی کو چھیڑا اور اس کے ساتھ دست درازی کی کوشش کی ۔ لڑکی کے مزاحمت کرنے پر اُسے کھینچ کر اپنی گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی ۔ لڑکی کا شور سُن کر تاجر پہنچ گئے اور اغواء کی کوشش ناکام بنا دی گئی