میری زندگی کا نچوڑ ؟

میں نے زندگی میں بڑے نچوڑ دیکھے ۔ لیموں کا نچوڑ ۔ مالٹے کا نچوڑ ۔ سیب کا نچوڑ ۔ یہ مجھے مرغوب تھے اور ہیں
اس کے علاوہ ایک اور نچوڑ بھی دیکھا جس کا نام سُنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ گلاب کا نچوڑ جسے لوگ قبر پر چھڑکتے ہیں
کچھ لوگ دوسروں کا مال نچوڑتے ہیں ۔ ڈاکٹر مریض کا خون نچوڑتے ہیں ۔ کیا معلوم تھا کہ اس بڑھاپے میں مجھے اپنی ہی زندگی کا نچوڑ نکالنا ہو گا ۔ میں ڈرتا تو نہیں ہوں
چھٹی سے آٹھویں جماعت تک روزانہ صبح سویرے اپنی پوری طاقت سے کہتا رہا ہوں
”باطل سے دبنے والے ۔ اے آسماں نہیں ہم ۔ سو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا“

لیکن بات یہ ہے کہ وہ حاجن بی بی ہیں نا ۔ اُن سے مجھے بہت ڈر لگتا ہے ۔ عمر میں 77 برس کی لگتی ہیں ۔ کیا پتا 107 برس کی ہوں ۔ خالص دودھ پیتی اور دیسی گھی کھاتی رہی ہوں ۔ اسی لئے کم عمر کی لگتی ہیں ۔ مُشکل یہ ہے کہ حاجن بی بی کے میاں بھی حاجی ہیں ۔ ”میں جاؤں تو جاؤں کہاں ۔ سمجھے گا کون یہاں ۔ مجھ جیسے بیوقوف کی زباں“۔

خیر کیا پوچھتے ہیں صاحب ۔ حاجن بی بی لَٹھ لے کے پیچھے پڑ گئیں کہ ”نکالو اپنی زندگی کا نچوڑ“۔
تب سمجھ آئی صاحب کہ وہ لیموں وہ مالٹے اور سیب کیا کہتے ہوں گے جب ہم اُن کو نچوڑتے تھے ۔ ہائے بیچارے لیموں مالٹے سیب
دیکھیں نا ۔ ایک میں بوڑھا ۔ اُوپر سے بیماری نے گھیرا ۔ کہاں رہ گئی ہے طاقت مجھ میں نچوڑنے کی
لیکن جناب مرتا کیا نہ کرتا ۔ بیٹھ گیا نچوڑنے ۔ اور بڑی مُشکل سے بس اتنا سا نچوڑ نکلا

1 ۔ نماز کسی حال میں مت چھوڑو
2 ۔ اللہ پر مکمل یقین اور بھروسہ رکھو کیونکہ سب کچھ اُسی کے ہاتھ میں ہے
3 ۔ گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کرو خواہ کچھ بھی ہو جائے
4 ۔ جھوٹ کبھی مت بولو خواہ کتنا ہی دُنیاوی نقصان ہو
5 ۔کسی کو تکلیف مت دوچاہے وہ کتنی ہی تکلیف دے
6 ۔ اس کے نتیجہ میں بہت تکالیف اُٹھائیں مگر اللہ نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا ۔ میں نے مجبور ہو کر 53 سال کی عمر میں ملازمت چھوڑ دی ۔ دورانِ ملازمت تنگدست رہا اور آ ج خوشحال ہوں ۔
سُبحان اللہ و بحمدہ

ارے غضب ہو گیا ۔ حاجن بی بی دیکھ تو نہیں رہیں کہیں ؟ میں بھاگ لوں ۔ اللہ حافظ

This entry was posted in آپ بيتی, روز و شب, طور طريقہ, یادیں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

28 thoughts on “میری زندگی کا نچوڑ ؟

  1. Pingback: میری زندگی کا نچوڑ ؟ « Jazba Radio

  2. اسد حبیب

    ماشاللہ! اللہ آپ کو صحت اور خوشگوار زندگی عطا کرے۔
    آپ کے نچوڑ کے لئے حاجن بی کا بہت شکریہ اور آپ کا بھی۔ ٭٭٭٭
    آپ چلتے چلتے حاجن بی سے بھی ان کی زندگی کا نچوڑ پوچھ لیتے۔
    مجھے لگتا ہے کہ حاجن بی آپ کو اپنی زندگی کا نچوڑ بھی بتانا چاہتی تھیں۔

  3. سیما آفتاب

    ہا ہا ہا ہا مزہ آگیا پڑھ کے …. یہ حاجن بی تو بڑے کمال کی ہیں … جتنا آپ ڈر رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کوئی 207 برس کی بھٹکی روح ہیں ….

  4. محمد زبیرمرزا

    بڑی باتیں آپ نے اختصار سے کہہ دیں – زندگی کا یہ نچوڑ تو ہم سے بہت سے لوگوں کےلیے راہ دکھانے کا سبب بن گیا وہ جگنو کہ اسے مٹھی میں بندکرکے ہرراہ کوروشن کرلیں گے ان شاءاللہ-
    جزاک اللہ سر اللہ تعالٰی آپ کو خیرِ کثیر اورصحت کے ساتھ شاد وآباد رکھے-

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیماء آفتاب صاحبہ
    میں جو لکھتا ہوں آپ اُس کی تعریف کر دیتی ہیں ۔ آپ نے بے تحاشہ تعریفیں کر کر کے میرا مزاج خراب کر دیا ہے ۔ اب مجھے اُس کو زنجیر ڈال کے رکھنا پڑ رہا ہے

  6. شعیب سعید شوبی

    اجمل صاحب آپ کی تحریروں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ میں تبصرہ نہیں کرتا مگر جب بھی وقت ملتا ہے آپ کے بلاگ پر ضرور آتا ہوں اور ایک ہی نشست میں تازہ ترین تحریریں پڑھ کر چلا جاتا ہوں۔
    کسی دن اس پر بھی اپنے تجربات کی روشنی میں ضرور لکھیے کہ کیریئر کے دوران اچانک آنے والے دھچکے یا set back سے کس طرح نکلا جائے؟ مایوسی کو خود پر حاوی ہونے سے کس طرح بچا جائے؟ بعض اوقات کسی مصلحت کی وجہ سے شاید اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی فوری شنوائی نہیں ہوتی۔ عبادت میں بھی دل نہیں لگتا۔ اس کا کیا حل ہے؟

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شعیب سعید شوبی صاحب
    آپ کی فرمائش ذہن نشین کر لی ہے ۔ اِن شاء اللہ جلد اس سلسلے میں حاضرِ خدمت ہوں گا ۔ ابھی کندھوں پر کچھ بوجھ ہے جسے ہلکا کرنے کی مہلت چاہتا ہوں

  8. شمیم

    افتخار اجمل بھائ صاحب آداب زندگی کا نچوڑ جیسی تحریر لکھ کر آپ نے ایک آس بندھادی ہے کہ ابھی زندگی کہیں ہے لیکن اسے کار آمد بنانے کے لئے جو آپ نے نچوڑ نکالا شائد دنیاوی مصلحتوں کے تحت میں نہیں نکال سکی زندگی کا نظام دھرم بھرم ہو گیا ہے عورت زات بعض اوقات کمزور ہو جاتی ہے جہاں معاشرہ تنگ نظر اور بد نیت ہو ۔ بہت سی پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے مجھے بھی کوئ ایسا مجرب نسخہ بتائیں کہ پریشانیوں سے نکل سکوں اللہ آپ کو ہمیشہ خوش اور سلامت رکھے اللہ میری بی شنوائ کرے دعا گو بہن شمیم

  9. شمیم

    بھائ صاحب اسلام وعلیکم میں جب بھی ذرا بہتر محسوس کرتی ہوں کچھ نہ کچھ پھڑولتی ہوں تو آج تو آپ کی بہت سی تحریریں پڑھ لی ہیں جس سے بہت خوشی ہوئ میں ابھی تک واپس نہیں پہنچی اللہ سبحان وتعالے آپ کو ہمیشہ تندرست اور سلامت رکھے اور آپ ہماری ڈھارس بندھاتے رہیں ۔ بہت کوشش کرتی ہوں کہ ایسی مشکل میں سے نکلوں لیکن کوی حل نظر نہیں آتا آپ میری راہنمائ فرمائیں کہ میں کس طرح سے زہنی اذیت سے نکلوں میرے ذمہ کچھ کام ایسے ہیں کہ جن سے نکلنا سمجھ نہیں آرہا وصیت لکھ کر کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟ انشاللہ جلد واپس آنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔ سب کو میرا سلام دیں آپ کی خیر اندیش بہن شمیم

  10. Beenai

    السلام و علیکم ،
    آپ کی ہر تحر یر کی طرح مذ کورہ بالا تحر یر بھی زندگی کے تجر بات اور حقا ئق سے بھر پور ہے۔
    دعا ہے زور قلم اور زیادہ ۔ عرض یہ ہے کہ بندی تار یخ ، ثقافت اور مذ ہب کی تار یخ پر کچھ مستندکتابوں کی تلاش میں سر گر داں ہے۔ بتا نے والے بہت ہیں مگر صحیح بتا نے والے کم ہیں۔
    برا ہ مہر با نی ، اس جانب میری رہنما ئی فر ما ئیں کہ مذاہب کی تاریخ ، اسلا می تاریخ (ابن خلدون کا مطالعہ کر چکی ہوں اس کے علا وہ) اور تحر یک پاکستا ن کی تار ٰیخ ، اکابر ین پاکستا ن پر کچھ کتب تجویز فرما ئیں۔
    تحر یک پاکستا ن پر صفدر محمود ، اشتیاق قریشی کی کتب کا مطا لعہ یونیورسٹی کے دور میں کر چکی ہوں۔
    راہنما ئی فر ما ئیں ۔ شکر یہ

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ شمیم صاحبہ
    میں نے اپنی زندگی کا کیا نچوڑ نکالنا تھا ۔ میں نے ایک بہن کے مجبور کرنے پر وہ چند اصول لکھ دیئے جن پر میں ساری زندگی سختی سے کاربند رہا ۔ یہ اللہ کریم کی مہربانی کے بعد میری محترمہ والدہ صاحبہ (اللہ جنت نصیب کرے) کی تربیت اور اس کے بعد میرے اساتذہ کی تربیت کا نتیجہ تھا ۔ مصلحتیں انسان خود پیدا کرتا ہے ۔ پھر ان کو روکنا مشکل سمجھنے لگتا ہے ۔ اور جب سب کچھ درہم برہم ہو جاتا ہے تو اس کا قصور وار کسی دوسرے کو ٹھہرانے لگتا ہے ۔ کسی انسان پر نہ تھوپ سکے تو اللہ یا قسمت پر ڈال دیتا ہے ۔ اسلام ہمیں صرف ایک مصلحت کا سبق دیتا ہے اور وہ ہے اللہ پر یقینِ کامل ۔ یہ ہو جائے تو پھر کوئی اور مصلحت پیدا ہی نہیں ہو سکتی ۔ اللہ مجھے سیدھی راہ پر چلنے کی قوی توفیق عطا فرمائے

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ شمیم صاحبہ ۔ و علیکم السلام
    اللہ آپ کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور آپ کی پریشانیاں احسن طریقہ سے دُور فرمائے ۔ کوئی چیز بذاتِ خود مُشکل نہیں ہوتی ۔ انسان کسی بھی چیز کو اپنی سوچ اور عمل کے تحت مشکل بنا دیتا ہے ۔ روز مرہ کے اٹکاؤ ( راستے کے پتھر) اور طوفانوں سے انسان سیکھتا ہے پھر تجربہ کار اور عقلمند کہلاتا ہے ۔ جو خود اپنے لئے مشکلات پیدا کرے وہ پریشانیوں میں گھِرا رہتا ہے ۔ کچھ دن قبل ایک صاحب نے کچھ اسی طرح کا حل بتانے کا مجھے شرف بخشا تھا ۔ میں اِن شاء اللہ کل اُن کے سوالات اور ان کا جواب شائع کروں گا ۔ تب تک کی اجازت مرحمت فرما دیجئے ۔ ہاں آجکل میں پاکستان میں نہیں ہوں ۔ بچوں کے پاس ہوں

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ ۔ السلام علیکم
    حوصلہ افزائی کیلئے بہت مشکور ہوں ۔ میں جس علاقے میں پلا کر جوان ہوا (پوٹھوہار) اس میں ایک کہاوت ہے ”پہلے جاتکے نی سُن لو“۔ یعنی پہلے چھوٹے بچے کی بات سُن لو ۔ یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کی بات کا جواب دینے سے پہلے اپنی بات بتانا ہو ۔ میں نے یکے بعد دیگرے 2 ای میلز آپ کو بھیجیں ۔ نامعلوم آپ کو ملی یا نہیں اسلئے یہاں نقل کر رہا ہوں
    1 ۔ میں نے پاکستان کے قومی ترانہ پر ایک غلط خبر کے بارے میں ایک تحریر نقل کی تھی. مندرجہ ذیل ربط پر پاکستان کا پہلا قومی ترانہ درج ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2014/08/17
    2 ۔ قائد اعظم پر ایک اور بہتان ہے اردو زبان کے متعلق۔ اس کی حقیقت مندرجہ ذیل ربط پر پڑھیئے
    http://www.theajmals.com/blog/2014/03/21
    محترمہ ۔ آپ نے اتنی کُتب پڑھ رکھی ہیں اور مجھ سے پوچھ کر مجھے شرمندہ ہونے کا موقع دے رہی ہیں ۔ تحریکِ پاکستان پر ڈاکٹر صفدر محمود اور اشتیاق قریشی صاحب کی کُتب سیر حاصل ہیں اگر آپ نے سب پڑھی ہیں ۔ثقافت اور تہذیب کے متعلق میرا مضمون ”ثقافت ۔ تہذیب و تمدن“ کئی کُتب کے مطالعہ کا نچوڑ ہے ۔ اس سلسلے میں پہلے تو کچھ آن لائین نہیں ملتا تھا اب کچھ مل جاتا ہے لیکن زیادہ تر بگڑی ثقافت و تہذیب کا بیان ہیں ۔ فی الحال مندرجہ ذیل روابط کو دیکھ لیجئے
    http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/02-Islami Tahzib_MDU_6_June_11.htm

    https://jamaat.org/ur/articledetail.php?id=6689

    http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AB%D9%82%D8%A7%D9%81%D8%AA.53481/

    https://www.facebook.com/Sufiiism/posts/464005203706122

    میں آجکل پاکستان میں نہیں ہوں ۔ اسلئے فی الحال خاص مدد شاید نہ کر پاؤں ۔ اگر اللہ نے مُہلت اور توفیق عطا کی تو اِن شاء اللہ 5 فروری 2016ء کے بعد کوشش کروں گا ۔ کیا معلوم آپ کو یاد دہانی کرانا پڑے ۔ میں سوچ کر اسلئے نہیں بتا سکتا کہ میری سوچنے کی طاقت ستمبر 2010ء میں ایک حادثہ میں مجروح ہو گئی تھی

  14. Beenai

    اجمل افتخار صا حب،
    السلام و علیکم ،
    سب سے پہلے تو جواب دینے کا بہت شکر یہ ۔ دوسرے نمبر پر معذرت اور شر مندگی کہ کچھ عر صے سے اپنا جی میل ان باکس نہیں چیک کر سکی تھی ۔ آپ کی پوسٹ پڑ ھنے کے بعد جی میل باکس کھولا تو آپ کی
    مذ کورہ بالادونو ں ای میلز کوموجود پایا۔ بہت شکر یہ۔
    مجھ غر یب نا چیز کا مطالعہ کچھ بھی نہیں ، تب ہی ہر وقت شدید پیاس لگی رہتی ہے ، پانی کی نہیں ، مزید کچھ جان لینے کی ، سچ جان لینے کی۔
    مطالعہ تو آپ جیسے لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی مطالعہ اور تحقیق کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔
    ہم ٹھہرے نو سے پانچ کے کولہو کے گرد گھومنے والے بیل ۔ محض اپنے آرام کا وقت چرا کے اس میں مطالعہ کرتے ہیں کہ ذ ہنی آرام و سکون اسی سے ملتا ہے۔ رات کو کچھ پڑھے بغیر نیند نہ آنے کی عادت مر حوم والدین ہمارے حوالے کر گئے ہیں۔ سو اس کا بھی پاس ر کھنا ہوتا ہے۔
    مسئلہ یہ ہے کہ میری مطالعے کی عادت پر سو میں سے نوے لوگ پلٹ کے مشورہ دیتے ہیں کہ آج کل تو سب کچھ ہاتھ کی ہتھیلی پہ دھرا ہے ۔ کتاب کے پیچھے کیوں بھا گتی ہو؟ موبا ئل کھولو اور سر چ کر لو۔مگر میرا مسئلہ کچھ اور ہے۔

    انٹرنیٹ پر سچ جھوٹ، صحیح غلط اور نئی پرانی معلومات کی ایسی الجھی ہو ئی گتھیا ں بطور انفار میشن موجود ہیں کہ انفار میشن ٹیکنا لوجی نے مس انفارم کر کے ر کھ دیا ہے ۔
    میں ان لوگوں میں سے ہوں جو یقین رکھتے ہیں کہ کتاب زندہ رہے گی ۔ اس کی اہمیت ہمیشہ انٹرنیٹ سے زیادہ رہے گی وہ انٹر نیٹ سے زیادہ مستند رہے گی ۔ انشا اللہ
    آپ کے فراہم کر دہ لنکز پر بلاگز میں ابھی صرف قائداعظم سے متعلقہ بلاگز اردو زبان اور قومی ترانے والے پڑھے ہیں اور ان سے بہت سے حقا ئق سامنے آئے ۔ باقی بلاگزجلد پڑھوں گی انشا اللہ۔
    آخر میں حسب معمول ایک گذارش کروں گی ۔ برا ئے مہر بانی اس بات پر ضرور کوئی تحریر لکھیئے کہ
    طے شدہ حقائق کو الٹ پلٹ کر نے اور غیر متنازعہ حقا ئق کو متنازعہ اور شخصیا ت کو متنازعہ بنانے کی اس مہم کا آغاز کب ، کیسے ، کہاں اور کس کے ہاتھوں ہوا؟
    عین نوازش ہوگی ۔ از حد شکر یہ

  15. Beenai

    اللہ آپ کو صحت کاملہ دے اور ہمیشہ خوش ر کھے ۔ آمین ۔ آپ کی یادداشت ہم نوجوانوں سے آج بھی ہزار گنا بہتر ہے ۔۔۔آپ کو یاد تو ہے کہ پاکستان کس نے بنا یا تھا؟ یہاں لوگ یہ بھی بھو ل گئے ہیں کہ ہمیں منزل پر
    کون لا کے چھوڑ گیا ہے۔

  16. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ
    مجھے بچپن سے حق کی تلاش رہی ہے جس کیلئے میں نے بہت محنت اور مشکلیں بھی اُٹھائیں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مجھ پر بڑی کرم نوازی رہی کہ میں جس راستہ سے میں ایک بار گذر جاؤں یا جو مضمون یا نظم ایک دو بار پڑھ لوں وہ مجھے یاد رہتا تھا ۔ ملازمت شروع کرنے پر میں نے اپنے وقت میں ملازمت کے تمام قوانین پڑھ ڈالے ۔ ایک بات اپنے ساتھی سے کہنے پر یہ راز افشاء ہو گیا اور بڑے سینیئر افسر بھی قوانین کے معاملہ میں مجھ سے رابطہ کرتے رہے گو ویسے وہ مجھ پسند نہیں کرتے تھے ۔ پُر روز مطالبات پر میں نے اپنی ذاتی زندگی مختصر طور پر یہاں لکھی ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2015/01/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B0%D8%A7%D8%AA/

  17. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    آپ نے درست کہا ۔ انٹر نیٹ پر بہت کچھ حقائق کے منافی موجود ہے اور گمراہ کُن بھی ۔ ان کے لکھنے والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کا نام لکھ دوں تو شاید آپ مجھ سے ہی متنفر ہو جائیں ۔ قرآن شریف کا غلط ترجمہ یا تفسیر بھی انٹر نیٹ پر موجود ہے ۔ میں انٹر نیٹ سے پڑھتا ہوں لیکن اس کی تصدیق کی پوری کوشش کرتا ہوں ۔ کچھ لوگ انٹر نیٹ سے کچھ نقل یا شیئر کرتے ہوئے انجانے میں خلافِ دین حرکت کے مرتکب ہو جاتے ہیں
    کئی کتابیں بھی حقائق کو مسخ کرنے کیلئے لکھی گئی ہیں ۔ ایسا ایک حوالہ میری تحریر ”اُردو قومی زبان کیسے بنی ۔ بہتان اور حقیقت“ میں ہے
    پاکستان کے خلاف سازشیں پاکستان بننے سے قبل ہی شروع ہو گئی تھیں اور آج تک جاری ہیں ۔ ان میں کچھ غیرمُلکی اور کچھ ہموطن شامل ہیں ۔ میرے خیال میں ہموطن غیر مُلکی سرمایہ کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں یا اس کا سبب اُن کا دین اسلام سے انجانا خوف ہے ۔ اس سلسلے میں میرے بلاگ پر کچھ تحاریر موجود ہیں جن کا حوالہ اِن شاء اللہ بعد میں دوں گا ۔ اللہ نے توفیق دی تو مزید مطالعہ اور تحقیق کے بعد مزید بھی لکھ سکتا ہوں ۔ محبِ وطن ہموطنوں کو چاہیئے کہ عملی طور پر اپنی تحریر و تقریر سے اپنے وطن کا دفاع کریں ۔ میرا یقین ہے کہ یہ ملک پاکستان ہمیں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے عنائت فرمایا ہے اور وہی اس کی حفاظت کر رہا ہے ۔ اِن شاء اللہ پاکستان تاقیامت دنیا کے نقشے پر موجود رہے گا اور دن بدن مضبوط ہو گا

  18. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ
    یہ تحاریر بھی اُمید ہے آپ کے کیلئے دلچسپ ہو گی”وقت کے بوجھ تلے دبے حقائق“۔
    http://www.theajmals.com/blog/2012/11/07/
    یومِ پاکستان حقائق
    http://www.theajmals.com/blog/2015/03/%DB%8C%D9%88%D9%85%D9%90-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DB%94-%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82/
    بنیادی مجرم کون
    http://www.theajmals.com/blog/2009/04/%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D9%85%D9%8F%D8%AC%D8%B1%D9%85-%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%9F/
    بقیہ بنیادی مجرم کون
    http://www.theajmals.com/blog/2009/04/%D8%A8%D9%82%DB%8C%DB%81-%DB%94-%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%85-%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%9F/
    بھولی بسرے واقعات پہلا سوال
    http://www.theajmals.com/blog/2011/11/%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92-%D8%A8%D8%B3%D8%B1%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%DB%94-%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84/
    شرم و حیاء کیا ہوتی ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2015/05/%D8%B4%D8%B1%D9%85-%D9%88-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%A1-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92/
    خفیہ کتاب کا ایک ورق
    http://www.theajmals.com/blog/2015/03/%D8%AE%D9%8F%D9%81%DB%8C%DB%81-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%88%D8%B1%D9%82/
    سقوطِ ڈھاکہ ۔ پروپیگنڈا اور حوائق
    http://www.theajmals.com/blog/%D8%B3%D9%82%D9%88%D8%B7%D9%90-%DA%88%DA%BE%D8%A7%DA%A9%DB%81-%DB%94-%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%D8%A7%D8%AA/
    دل کا داغ جو مٹ نہ سکا
    http://www.theajmals.com/blog/2013/12/%D8%AF%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%A7%D8%BA-%D8%AC%D9%88-%D9%85%D9%B9-%D9%86%DB%81-%D8%B3%DA%A9%D8%A7/
    سانحہ 1971ء ۔ درست کیا ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2012/12/%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AD%DB%81-1971%D8%A1-%DB%94-%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%9F/

  19. Beenai

    جناب اجمل افتخارصاحب،
    السلام وعلیکم،
    امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ اللہ آپ کو صحت وزندگی دے ۔ آمین

    آپ کے فراہم کر دہ لنکز پر کلک کیا کیا، علم کے در یچے کھل گئے۔ بہت بہت شکر یہ
    مجھ جیسی کم علم کے لئے یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔
    بند ی ملک کے ہر موجودہ سیاستدان سے ایک جتنی بے زار ہے ۔
    اس لئے دیگر لوگوں کی طر ح کسی مخصوص سیاستدان کے خلاف کچھ پڑھ کر میرا بی پی کبھی ہائی نہیں ہوتا۔
    کیونکہ ہمارے ملک کے تمام موجودہ سیاستدان ملک کی تباہی کے ذ مے دار ہیں ۔ ان سے ہمدردی ر کھنے کا
    مطلب پاکستان سے ہمد ردی کا نہ ہو نا ہے۔
    دوسری بات یہ کہ بندی کو کسی پارٹی سے زیادہ پاکستان عزیز ہے اس لئے پاکستان کو زک پہنچانے والوں سے میری بے زاری در اصل پاکستان سے میری محبت ہے۔

    آپ کے تحر یر کر دہ بلاگز میں خاص کر بنیادی مجر م کون ، یوم پاکستان کے حقا ئق ، سقوط ڈھاکہ اور داغ جو مٹ نہ سکا ، چشم کشا حقا ئق پر مبنی تھے ۔ جن سے بندی کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
    اور بندی اس کے لئے شکر کذار ہے ۔۔۔( شکر گذار اس لئے کہ سنا ہے مقتدرہ اردو زبا ن نے لفظ “مشکور“ کو متروک قرار دے دیا ہے) ہوسکتا ہے ، اس کا سبب یہ ہو کہ ہمارے معاشرے میں لوگو ں نے مشکور ہو نا ہی متر وک کر دیا ہے ۔۔۔ نہ اللہ کے مشکور ہیں نہ کسی اور کے۔

    یہاں محترمہ زعف صاحبہ ( اگر نام صحیح ہے تو) کے گرما گرم تنصرے اور ان پر آپ کے ٹھنڈے دل ودماغ کے جوابات بھی پڑ ھنے کو ملے ۔ جن سے آگاہی میں اضا فہ ہوا اور یہ بھی سیکھا کہ اختلاف کا جواب
    سکون سے کیسے دیا جا سکتا ہے؟

    محتر مہ یقینا علم میں مجھ سے زیادہ ہوں گی ۔ تاہم ایک حقیقت کا مشاہد ہ گذشتہ ماہ ٹرین کے سفر میں ہوا جو کرا چی تا اسلام آباد اور پھر لاہور تا کرا چی کیا ۔ بندی کا مشاہدہ یہ رہا کہ پنجاب سر سبز ہے ، جہاں گنے ، گندم اور چاول کے کھیت ہی کھیت ہیں ۔۔۔ راوی ہے ،چناب ہے ۔۔۔ تر قی ہے ۔۔۔ شادابی ہے ۔۔۔
    ٹر ین پنجاب سے نکل کر سند ھ میں دا خل ہوتی ہے تو چٹیل میدان ، ریت کے ٹیلے ، بنجر ز مینیں ، کچے مکانات اور بیمار مویشی دکھا ئی دیتے ہیں ۔۔۔۔دونو ں اپنی اپنی چنی سیا سی پا رٹی کا منہ بولتا اشتہار ہیں۔

    بندی ایک کرا چی والی ٹہھری ، نہ نواز شر یف سے غرض نہ کسی سے عداوت ۔ تاہم پچیس تیس سالوں میں دونو ں پارٹیوں کو ووٹ دینے والوں کی حالت زار کا مشا ہدہ کر نے کے لئے سند ھ تا پنجاب کا
    ایک ٹر ین کا سفر کافی ہے ۔۔۔۔

    شکر یہ

  20. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ. السلام علیکم و رحمة الله
    سیاست نام ہی ہیرا پھیری کا ہے. نظام حکومت صرف اسلامی ہی درست ہے لیکن اسے قائم کرنے کے لئے عوام کا خود کو درست کرنا ضروری ہے. مقتدرہ قومی زبان کے ادارے کو تو پرویز مشرف نے دفن کر دیا تھا اسے بنانے والا ضیاءالحق تھا. بی بی ہم اپنے حالات درست کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے . کیونکہ ہم شارٹ کٹ چاہتے ہیں. بغیر محنت کے مال چاہتے ہیں

  21. Beenai

    اجمل افتخار صا حب،
    جواب دینے کا شکر یہ۔ بندی اپنی کم علمی کا ہمیشہ اعترا ف کرتی ہے ۔ غا لبا مقتدرہ قومی زبان کا نیا نام
    ادارہ فروغ قومی زبان رکھ دیا گیا ہے۔ معذرت خواہ ہوں کہ غلطی ہوگئی۔
    http://www.nlpd.gov.pk/aboutus.php
    یہ ادارہ وزارت اطلاعات ونشریات کے ماتحت ہے۔
    تاہم ٰٰیقین سے نہیں کہہ سکتی کہ یہ وہی ادارہ ہے ۔ کیونکہ بندی کی معلومات ازحد ناقص ہیں۔

    کچھ اس پر بھی لکھیئے کہ اردو کو سب سے زیادہ نقصان وہ پہنچا رہے ہیں جو اردو کے ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں ۔۔۔جو خود کواردواسپیکنگ کہلاتے ہیں جو کہ بذات خود نصف اردو نصف انگریزی کی تر کیب ہے۔
    جناب عالی جیسا کہ عر ض کر چکی ہوں کہ زمانے کے حساب کتاب سے میں بھی اردو اسپیکنگ ہوں لیکن

    کراچی میں جس طر ح بر گر کلاس کے افراد اردو کی مٹی پلید کر رہے ہیں ۔ وہ خاصی تکلیف دہ ہے ۔
    یو توٹھیک نا ں ؟ آئی ایم تو گوئینگ نا ں ،آپ کو کوئی ڈیفی کلٹی لگے تو آسک می۔۔۔ہاں !،فر ینکلی اسپیکنگ وہ مجھے اچھا نہیں لگتا، اف ہی از سچ آچھچھورا پر سن ۔۔۔وغیرہ وغیرہ میرے دفتر میں عام سننے میں آتے ہیں۔۔۔یہ کیا ہے؟ اردو انگر یزی کی کھچڑی؟ جسے فخر یہ منگلش کہا جانے لگا ہے ۔ اب تو اشتہار بنوانے والے ادارے بھی کہتے ہیں ، منگلش میں ٹی وی کمر شل بنادیں۔ گاڑھی اردو نہ ہو ۔ میرے اکثر اشتہار اسی بنیاد پر مسترد کئے گئے کہ جی اس میں بڑی سلیس اردو تھی ۔ کلائنٹ موصؤف سمجھتے ہیں کہ سلیس اردو ، مشکل اردو کو کہتے ہیں ۔ اب سر نہ پیٹے کو ئی تو کیا کرے ؟ وہ بھی ایسا فرد جس کے ماں باپ کی زبا ن بھی اردو ہو اور روٹی روزی کا وسیلہ بھی اردو۔۔۔ :(

  22. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ
    مقتدرہ قومی زبان ایک خود مختار ادارہ تھا جس کی پہلی ذمہ داری گورنمنٹ رولز کا اردو ترجمہ تھی پھر قوانین کا ترجمہ ہونا تھا جس کے بعد تعلیمی کتب کا اردو ترجمہ ہونا تھا. مقصد ملک میں آئین کے مطابق اردو رائج کرنا تھا. پرویز مشرف نے نہ صرف اس ادارے کو ختم کیا بلکہ اسلام آباد کی سڑکوں کے اردو ناموں کو بھی انگریزی کر دیا جیسے خیابان جناح کو جناح ایوینیو
    رہے نام نہاد اردو سپیکنگ تو پرویز مشرف انہی میں سے ہے
    میں مکمل اردو لکھا کرتا تھا تو کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)