سِولائیزیشن (Civilization)

آجکل بلکہ چند دہائیوں سے اُردو بولتے ہوئے انگریزی کے کئی لفظ استعمال کرنا رواج پا گیا ہے یا اِسے بڑھائی سمجھا جانے لگا ہے ۔ اس پر اعتراض نہ بھی کیا جائے تو بھی ایک پہلو پریشان کُن ہے کہ انگریزی کے جو الفاظ بولے جاتے ہیں بولنے والا اُن کے اصل معانی سے واقف نہیں ہوتا ۔ ایسے زیادہ بولے جانے والے الفاظ میں سے ایک سِولائیزیشن (Civilization) ہے جسے اُردو میں ” تمدُّن“ کہتے ہیں جسے عام طور پر اکائی کی بجائے جوڑا ” تہذِیب و تمدُّن“ بولا جاتا ہے

ثقافت ۔ تہذیب اور تمدُّن“ ایک ہی ماں باپ کے بچے ہیں ۔ میں ” ثقافت “ اور ” تہذیب “ کے بارے میں سوا تین سال قبل لکھ چکا ہوں ۔ آج بات ” تمدُّن (Civilization)“ کی

عصرِ جدید کے پڑھے لکھے لوگوں کا خیال ہے کہ اُردو والے ” تمدُّن“ کا تعلق مذہب سے ہو سکتا ہے لیکن انگریزی والی سِولائیزیشن کا نہیں ۔ ہر چند کہ میرے لئے دین اوّل ہے لیکن دین کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر زبانِ فرنگی (انگریزی) میں سے ہی حقیقت تلاش کرتے ہیں
دیکھتے ہیں کہ انگریزی کی معروف ڈکشنریاں سِولائیزیشن (Civilization) کے کیا معنی لکھتی ہیں

سب سے بڑی انگریزی سے اُردو آن لائین ڈِکشنری

تمدن ۔ تہذیب ۔ شائستگی

انگریزی اُردو لغت آن لائین

تہذیب ۔ تمدن ۔ تربیت ۔ انسانیت

ایک اور انگریزی اُردو لغت آن لائین

تہذیب و تمدن

مریم ویبسٹر ڈکشنری

مقابلتاً اعلٰی سطحی ثقافت اور فنی ترقی بالخصوص وہ ثقافتی ترقی جس میں تحریر اور تقاریر کو محفوظ رکھنے کا حصول مقصود ہو ۔ خیالات عادات اور ذائقہ کی شُستگی یا آراستگی

کیمبرج ڈکشنری

اچھی طرح ترقی یافتہ ادارے رکھنے والا انسانی گروہ یا کسی گروہ کے رہن سہن کا طریقہ

رھائیمیزون

اعلٰی سماجی ترقی کا حامل گروہ [مثال کے طور پر پیچیدہ باہمی قانونی اور سیاسی اور مذہبی تنظیم

اینکارٹا آن لائین انسائیکلوپیڈیا

تاریخی اور ثقافتی یگانگی رکھنے والا ترقی یافتہ گروہ ۔ قرونِ وسطہ سے اُنیسویں صدی تک اکثر یورپی مؤرخین نے مذہبی پسِ منظر لیا ہے

الٹرا لِنگوا

ایک گروہ مخصوص ترقی کی حالت میں ۔ کوئی گروہ جو قانون کا پابند ہو اور وحشت کا مخالف ۔ ثقافت کا اعلٰی درجہ

اگر غور سے دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ڈکشنریوں میں مذہب کا لفظ غائب کر دیا گیا ہے لیکن اشارہ مذہب ہی کی طرف ہے ۔ پانج سات دہائیاں پرانی ڈکشنریوں میں سِولائیزیشن (Civilization) کو مذہب کے زیرِ اثر ہی لکھا جاتا رہا ہے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مطابق بھی ہر بھلائی کا سرچشمہ زبور ۔ تورات اور انجیل تھیں گو کہ ان کُتب میں بہت تحریف کی جا چکی تھی

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, طور طريقہ, معائنہ کار, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

11 thoughts on “سِولائیزیشن (Civilization)

  1. عبدالرؤف

    اسلامُ علیکم و رحمتہ اللہ

    سر جی، آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ثقافت / تہذیب و تمدن ایک ہی ماں باپ کے بچے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کرؤنگا کہ کسی بھی ثقافت / تہذیب و تمدن کا تذکرہ بغیر اُسکے معاشرہ کے تذکرہ کے نامکمل رہتا ہے، اور معاشرہ کی یہ تعریف کرنا کہ “معاشرہ محض افراد کے مجموعہ سے تشکیل پاتا ہے” بجائے خود ایک انتہائی سطحی نظریہ ہے، جبکہ معاشرہ کے بارے میں اسلامی فہم یہ ہے کہ یہ افراد کے علاوہ تین اور عناصر سے ترکیب پاتا ہے اور یہی عناصر افراد کے باہمی تعلق کو متعین کرتے ہیں اور یوں ایک ثقافت / تہذیب اور تمدن وجود میں آتا ہے :

    معاشرہ کے بنیادی عناصر:
    —————-
    0. افراد کا گروہ مجموعہ۔
    1. افکار : جو افراد پر مسلط اور حاوی ہوں۔
    2. جذبات : جو افراد پر مسلط اور حاوی ہوں۔
    3. رائج الوقت نظامِ حکمرانی (حکومت)۔

    اور افراد کے علاوہ یہ تینوں عناصر کسی نہ کسی دین کے ہی مرہونِ منت ہوتے ہیں اور یہ دین قطعئی ضروری نہیں کہ صرف کوئی آسمانی دین ہی ہو، بلکہ زمین پرہی تشکیل پانے والا کوئی دین بھی ہوسکتا ہے۔

    وسلام ، عبدالرؤف

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    اظہارِ خیال کیلئے مشکور ہوں ۔ میری درخواست ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ میری تین تحاریر جن کے روابط اس تحریر میں دیئے گئے ہیں اُنہیں یا صرف ” ثقافت ۔ تہذیب و تمدن “ ہی کو پڑھ لیجئے اُمید ہے آپ اپنے سوال کا جواب مل جائے گا

  3. سیما آفتاب

    السلام و علیکم
    بہت خوب ۔۔۔۔۔ اب انگریزی کی آمیزش کرکے سامنے والے پر اپنی نام نہاد قابلیت کا رعب بھی تو جھاڑنا ہوتا ہے ناں ۔۔۔۔ معنی وغیرہ پر کون غور کرے :)

  4. شمیم

    افتخار اجمل بھائ صاحب اسلام وعلیکم آپ نے نہائت اعلی طریقہ سے ثقافت تہزیب وتمدن پر روشنی ڈالی بنیادی باتیں سمجھ آجائں تو پھر ہی ہم اپنی مشکلوں کا حل نکال سکتے ہیں ورنہ بحث براے بحث کرنا تو ہمارا وطیرہ بن چکا ہے اگر ہم بنیادی حقوق سے ہے باخبر ہو جایں تو وہ منزل دور نہیں ہوگی جس کے ہم متلاشی ہیں آپ جس علم اور ظرف کی بات کرتے ہیں ہم ابھی اس کے قریب نہیں پہنچ سکتے جب تک گہرائ تک نہ جائیں گے بہر حال ایک جامع اور واضع طور پر سمجھ آنے والی بات آپ نے کی ہے بہت شکریہ ایک مدلل تحریر کے لیے اللہ آپ کو صحت اور سلامتی دے آمین بہن شمیم

  5. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب،
    السلام و علیکم،
    سولائزیشن کی درست تشریح کا بے حد شکریہ۔
    یقینی طور پر دنیا کے وحشی انسانوں کے لئے مذ ہب اتارا گیا جو ان کو اٹھنے بیٹھنے سے لے کر
    بولنے اور عبادت تک کے آداب سے روشنا س کرا سکے۔
    مذ ہب اقدار کا ایک ایسا دائرہ کھینچتا ہے کہ اس کے اندر آپ خود بخود تہذ یب کے دائر ے میں
    رہتے ہیں۔
    گویا تہزیب کا دائرہ مذ ہب کے دائرے کے اندر والا دائرہ ہے۔
    مگر ہمارے ہاں لفظ سولائزیشن یا کلچرڈ کے معنی ہی جد ا لئے جاتے ہیں۔
    ار مانی کا سوٹ پہننے والا زرداری سولائزڈ ہے اور ململ کا سستا کرتا پہننے والا عبدالستار ایدھی
    سولائزڈ اور کلچرڈ نہیں ٹہھرتا۔
    میں ایک ایسی ملٹی نیشنل کمپنی کے بار ے میں جانتی ہوں جنہوں ںے ایدھی کو صرف اس لئے
    اپنے چیریٹی پروگرام میں نہیں بلایا کہ اس میں گورے بھی مدعو تھے اور انہیں گوروں سے
    ایدھی کو ملواتے ہو ئے شرم آرہی تھی۔
    ایدھی جو دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس کا مالک ہے
    جو لاشیں اٹھا تا ہے
    جو مدد کرتا ہے
    مگر برانڈ ڈ کپڑے نہیں پہنتا، انگریزی نہیں بولتا اور چھری کانٹے سے کھانا نہیں کھاتا
    وہ ان سولائزڈ قرار پاتا ہے۔
    ہمارے ان ہی معیارات نے ساری تبا ہی مچا ئی ہے ۔
    جس کا الزام ہمیں خود کو ہی دینا چاہیئے ۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ ۔ و علیکم السلام و رحمۃ اللہ
    خُوب کہا ہے آپ نے ۔ جب میں انجیئر بن چکا تھا ۔ عام سی شلوار قمیض میں گذرا تو ایک نوجوان جو پتلون پہنے ہوئے تھا اور انگریزی سکول میں پڑھتا تھا نے مجھ پر انگریزی میں جُملہ کسا ۔ میں نے اُسے کہا
    “ Never think that only you know English”
    اور چلا گیا ۔ جس لڑکے کو وہ ملنے آئے تھے وہ بعد میں میرے گھر آیا اور پوچھا کہ اُن لڑکوں نے کیا کہا تھا ۔ میرے بتانے پر بولا ”بھائیجان ۔ اب یہ نہ میرے دوست ہیں اور نہ کبھی اس گلی میں آئیں گے“۔

  7. Beenai

    سارا المیہ یہی تو ہے کہ ہمارا معیار یہی بن چکا ہے کہ جس نے
    گورے کی زبان ، لباس اور انداز خود پہ لاد رکھے ہیں ، بس وہی
    سولائزڈ ہے۔
    جو اپنی شنا خت والی زبان ، لبا س اور انداز اپنائے ہوئے ہے
    وہ سولائزڈ ہونے کے معیار پہ پورا نہیں اترتا۔
    میں خود دوپٹہ پہننے کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بنتی ہوں
    کیونکہ آج کل پاکستان کی فیشن ایبل کلاس میں دوپٹہ فیشن
    سے مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے
    مجھے اولڈ اسکو ل قرار دیا گیا ہے جو مجھے خوشی سے
    قبول ہے۔

  8. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب،
    نیکی اور پوچھ پوچھ۔

    اپنے ارد گرد اچھے اور ہم خیال لوگوں کا دائر ہ جتنا وسیع ہو اتنا اچھا۔
    برا ہ کر م مجھے ان سے ملوائیے یا ان کے ای میل ایڈ ر یس سے آگاہ فر ما ئیے۔
    شکر یہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)