سفرالعشق

عشق کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ایک ملاحظہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”ھُناء الدبئی“

رحمت دا مینہ پا خدایا

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, طور طريقہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “سفرالعشق

  1. Pingback: سفرالعشق « Jazba Radio

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیماء آفتاب صاحبہ ۔ و علیکم السلام
    میری محدود عقل کے مطابق ترجمہ حاضر ہے ۔ اُمید ہے کہ مطلب براری ہو گی
    رحمت کی بارش برسا اے خدا ۔ سوکھا باغ ہرا بھرا کر دے ۔ میری اُمیدوں کے شجر کو پھلوں سے بھر دے
    ایسا میٹھا پھل بخش دے جیسے قدرت کی ہر چیز شیریں ہے ۔ کہ جو اس پھل کو چکھے اُس کا دکھ اور پریشانیاں دور ہو جائیں
    اس گلشن کو سدا بہار بنا دے جس پر کبھی خزاں نہ آئے ۔ اتنا فیض ہو کہ ہر شخص اس سے مستفید ہو
    مجھے بھی اپنی نعمت بخش دے کہ میں تمیں پہچان سکوں ۔ اور دل کو وہ ہمت عطا کر کہ ہر وقت تیرا شکر ادا کرتا رہے
    شاید آپ نے ملاحظہ نہیں کیا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی کرم فرمائی کے نتیجہ میں بندہ مع اپنی بیگم کے دبئی میں اپنے چھوٹے بیٹے ۔ بیٹی ۔ بہو بیٹی اور ننھے پوتا پوتی کے ساتھ ہونے سے لُطف اندوز ہو رہا ہے ۔ اِن شاء اللہ جمعرات کی رات بڑا بیٹا ۔ بڑی بہو بیٹی اور بڑی پوتی بھی امریکہ سے ایک ہفتہ کیلئے دبئی پہنچ جائیں گے ۔ دسمبر 2002ء کے بعد اللہ کریم نے ہمارے اکٹھے ہونے کا بندو بست کیا ہے ۔ اس ذاتِ باری کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ ویسے بڑے بیٹے سے ہم میاں بیوی کی ملاقات 4 سال بعد ہو رہی ہے

  3. سیما آفتاب

    بہت شکریہ ترجمہ کرنے کا ۔۔۔ بہت خوبصورت کلام ہے
    ما شاء اللہ بہت خوشی کی بات ہے ۔۔۔بھرپور طریقےسے لطف اندوز ہوں اس وقت سے :)

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیماء آفتاب صاحبہ
    جانتی ہیں ؟ کہ میں نے بلا وجہ کی چخ چخ سے بچنے کیلئے لکھا تھا کہ یہ پنجابی ہے ۔ پنجابی تو اُس دور میں کوئی زبان تھی ہی نہیں ۔ یہ دراصل اُس زمانہ کی اُردو ہے بلکہ اس کا نام اُردو بھی نیا نیا ہی رکھا گیا تھا
    پ کی نظر نہیں پڑھی تو اب اس ربط پر دیکھئے
    http://www.theajmals.com/blog/2014/05/01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)