میری تحریر ”اسلام اور ہم“ انتشار کا نیا کھیل ہے ؟

میری تحریر ”اسلام اور ہم“ پر تبصرہ کرتے ہوئے دہلی سے ایک محترمہ لکھتی ہیں ”پہلا پیراگراف نئی آڈیالوجی ۔ ۔ ۔ اِنتشار کا نیا کھیل ۔ بقیہ عمدہ تحریر “

قبل اس کے کہ میں اس تبصرہ کے سلسلے میں کچھ لکھوں میں اس دنیا میں رائج انسان کے بنائے قوانین کی بات کرنا چاہتا ہوں ۔ کسی مُلک کا دستور یا آئین جب منظور ہو جاتا ہے تو اُس مُلک کے تمام باشندے (صدر اور وزیرِ اعظم سے لے کر ایک عام آدمی یا مزدور تک) اس کے ماننے اور اس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔ کسی کو اس بات پر کوئی چھُوٹ حاصل نہیں کہ اُس نے پڑھا نہیں تھا یا اُسے معلوم نہیں تھا ۔ دستور یا آئین دراصل ایک قوم یا ایک گروہ کا لائحہءِ عمل ہوتا ہے جس کی پابندی لازم ہوتی ہے ۔ بھُول چُوک پر آدمی سزا کا مستوجب قرار دیا جاتا ہے اور دستور یا آئین کو نہ ماننے والا غدار یا مُنحِرف اور مُنحرف کی سزا عام طور پر ”موت“ ہوتی ہے

میری تحریر ”اسلام اور ہم“ کا پہلا بند نجیب صاحب کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے جو نہ تو نئی بات ہے (کُجا کھیل) اور نہ اس سے انتشار کا کوئی پہلو نکلتا ہے ۔ دین کے معنی ہیں دستور ۔ آئین ۔ لائحہءِ عمل ۔ اسلام دین ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم جسے اپنے تمام عوامل میں درست سمجھتے ہیں دین کے معاملے میں اسے اختیار کرنے سے احتراز کرتے ہیں

ہو سکتا ہے کہ محترمہ عِلمِ دین کی عالِم فاضل ہوں ۔ میں ایک طالب عِلم ہوتے ہوئے اتنا جانتا ہوں کہ حاکمِ اعلٰی اللہ ہے ۔ سب پر اُس کا حکم چلتا ہے اور اُس کے سامنے انسان یا کسی اور مخلوق کا بس نہیں چلتا ۔ جب اللہ نے دین اسلام کو مکمل کر کے نافذ کر دیا تو پھر اسے کسی اور کے نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ دین اللہ کا بنایا ہوا ہے اور اللہ نے اپنے رسول سیّدنا محمد ﷺ کے ذریعہ نافذ کیا ہے ۔ یہ بات قرآن شریف میں درج اللہ کے فرمان سے ثابت ہے ۔ میں متعلقہ آیت اور اُس کا ترجمہ اس بند کے بعد نیچے نقل کروں گا ۔ پہلے بات مکمل کر لوں ۔ خطبہ حجۃ الوداع سے واضح ہے کہ رسول اللہ سیّدنا محمد ﷺ نے دین اسلام کو نافذ کر دیا تھا اور اس پر عمل کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا تھا ۔ رسول اللہﷺ اور خُلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے دور کے مطالع سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام مسلمانوں کے کردار و عمل کی وجہ سے پھیلا ۔ کسی حاکم یا سپہ سالار کے حُکم سے نہیں ۔ اگر اسلام انسانی حُکم سے پھیلنا ہوتا تو آج یورپ اور امریکہ جہاں اسلام دشمن حاکم ہیں لوگ اسلام قبول نہ کر رہے ہوتے ۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اگر حکومت بناتے ہیں تو مسلمان حاکم کا فرض ہے کہ مسلمانوں کیلئے اپنے دین پر عمل کو آسان بنانے کیلئے قوانین وضع کرے اور اللہ کے حُکم یعنی دین اسلام کے خلاف تمام قوانین کو ختم کر دے اور یہ حُکم پاکستان کے آئین میں موجود ہے گو اس پر ماضی میں پوری طرح عمل نہیں کیا گیا ۔ عُلماء کا فرض ہے کہ عوام کی درست رہنمائی کریں ۔ دین کے دائرے میں رہتے ہوئے فرقہ بندی کو روکیں ۔ ایسا اُسی صورت میں ممکن ہے جب حاکم اور عالِم پہلے دین کا نفاذ اپنے اُوپر کریں

سورۃ 5 المآئدہ آیۃ 3 ۔ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا

تراجم ۔ (مجھے میسّر تمام تراجم اسلئے نقل کر رہا ہوں کہ شک پیدا نہ ہو میں نے اپنے مطلب کا ترجمہ لکھ دیا ہے)
(جالندھری) ۔ ‏ آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا
(محمودالحسن‏) ۔١٤آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا ف۱۵ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین ‏
‏(جوناگڑھی) ۔ ‏ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا نام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا
(ابوالاعلٰی مودودی) ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے

(YUSUFALI) – This day have I perfected your religion for you, completed My favour upon you, and have chosen for you Islam as your religion.
(PICKTHAL) – This day have I perfected your religion for you and completed My favour unto you, and have chosen for you as religion al-Islam.
(SHAKIR) – This day have I perfected for you your religion and completed My favor on you and chosen for you Islam as a religion;
(Taqi Usmani) – Today, I have perfected your religion for you, and have completed My blessing upon you, and chosen Islam as Din (religion and a way of life) for you.

This entry was posted in دین, ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “میری تحریر ”اسلام اور ہم“ انتشار کا نیا کھیل ہے ؟

  1. Pingback: میری تحریر ”اسلام اور ہم“ انتشار کا نیا کھیل ہے ؟ « Jazba Radio

  2. Najeeb Alam

    جزاک اللہ بڑے برادر ۔۔۔۔۔ اللہ تعالی آپ کو اس کا بھرپور اجر دے ۔۔۔۔ آپ نے یہ سب لکھ کر مضمون کو مکمل کر دیا ہے ۔۔۔۔ آپ کی یہ تحریر میں اپنی تحریر کے نیچے لنک کے ساتھ آج رات نتھی کردوں گا ۔۔۔

  3. Pingback: اسلام نافذ کر دیا گیا ہے | Sheikho

  4. Bushra khan

    محترمی و مکرّمی

    سلام مسنون

    آپ نے جس انداز سے اپنے جوابی مضمون کی Heading لگائی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میں نے آپ کے مضمون پر تنقید کی تھی، یہ بات درست نہیں جبکہ آپ کے پیش کردہ ‘کوٹ ان کوٹ’ کے مضمون نگار کی عجیب وغریب منطق پر گرفت کی. وہ آپ کی تحریر نہیں کہلائے گی چاہے جس حیثیت سے آپ نے اپنے مضمون کا حصّہ بنایا ہو.

    میرا پہلے سے لکھا رکھا یہ دوسرا مسیج ‘نیٹ ورک’ نہ ہونے کی وجہ سے اُس وقت نہ بھیج پائ تھی کہ اتنے میں آپ نے جواب تحریر فرما دیا. پھر مزید تاخیر ہوگئ. میں وہی مسیج آپ کی خدمت میں بھیج رہی ہوں.

    آپ کے اسی دوسرے مضمون کا چوتھا پیراگارف کی چند سطور کو چھوڑ کے بقیہ تحریر بہت زوردار بہت عمدہ. حالات کے سُدھار کے لیئے جو رہنمائ آپ نے پیش فرمائ ہیں بہت لاجواب تحریر. کاش اس پر عمل درامد ہو تو حالات سازگار ہوں.

    اور آپ نے اپنے اسی مضمون میں قرآن کی آئتیں اور تفاسیر کے جوحوالے پیش کیئے ہیں اس سے کسے انکار ہوسکتا ہے.!

    آپ کے مضمون”اسلام اور ہم” میں موصوف نے جو نیا نظریہ پیش کیا ہے انتہائ غلط ہے جو ان کے علم کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے. لگتا ہے موصوف نے کبھی تاریخ اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ورنہ وہ اٹکل والی باتیں نہ کرتے. اسلام اُس طرح نافظ ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا جس طرح انھوں نے اپنی عجیب و غریب منطق پیش کی ہے عمل درامد والی. یہاں ایک خدشہ اور ہے وہ یہ کہ یہ تحریر لکھ کر موصوف کسی اور کے Agenda کو تقویت پہنچانے کا کھیل کھیل رہے ہیں انتشار کا مغالطہ دے کر.

    قرآن خود ایک مکمل دستورِ حیات ہے. عملاً قرآن کا قانون آج دنیا میں کہیں نافظ نہیں ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نافظ کیا تھا. اب ہر ملک میں انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے دستور نافظ العمل ہیں جو علل اعلان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اور اللہ سے بغاوت پر مبنی ہیں. اب پھر سے اسلام کے نفاظ کی کوشش ہونی چاہیئے.” موصوف یہ بات کہتے ہوتے تو ان کی بات میں صداقت و سچائ ہوتی”.

    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جو آخری خطبہ دیا تھا وہ کیا تھا.؟

    اُس خطبہ کا مفحوم یہ تھا کہ اللہ نے اپنا دین آج مکمل کردیا ہے یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اس امّت پر. اب یہاں جو لوگ موجود ہیں وہ آگے والوں تک دین کی مکمل تعلیمات کو منتقل کریں یعنی ان تک پہنچائیں تاکہ لوگ دین پر عمل پیرا ہوں اور دین کو ہر جگہ غلبہ نصیب ہو.

    اور یہ نہ کریں کہ پھر سے جاہلی نظام یعنی انسانوں کے بنائے ہوئے قوانیں و دستور کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں. جو بھی غیر اسلامی قانون و دستور ہوگا وہ اللہ اور اس کے نبی سے بغاوت پر مبنی ہوگا چاہے وہ سبز ہو یا ٹیکنی کلر، دل کے بہلانے کے لیئے غالب یہ خیال اچھا ہے. اللہ اور اس کے نبی کے دستور سے بغاوت اور حماقتوں کی وجہ سے اُمّت مُسلمہ ہر جگہ اللہ کے عزاب کی شکل میں جوتے کھا رہی ہے اور زلیل و خوار بھی ہو رہی ہے.

    عمل درامد

    مسلمانوں کی بد عملیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا انکار ہیں اور یہی “عمل درامد” ہے. موصوف اور کون سے ‘عمل درامد’ والی بات کرتے ہیں. کیا اُس کے لیئے فرشتوں کا نزول ہوگا.؟

    “کیا اللہ میاں فرشتوں کو حکم دیں گے کہ… “قوم چاہتی ضرور ہے ملک میں اسلام کا نفاظ ہو پر وہ اس کا شعور و ادراک نہیں رکھتی. جو بھی حَکَم آتا ہے لوٹ کھسوٹ کے چلا جاتا ہے. تو تم لوگ “انسانی بھیس میں وہاں جاو اور جو بھی حَکَم بنا بیٹھا ہو اسے کان پکڑ کے باہر کرو اور بھاری اکثریت سے “عمل درامد” کروا کر واپس آجاو” پھر وہ قوم صِراط المُستقیم کی شاہراہ پر خود ہی چل پڈے گی. بہت سمجھ دار قوم ہے، ‘ایک موسٰی کی قوم سمجھ دار تھی دوسری یہ.’

    …اب یہی ایک کام رہ گیا ہے ‘عمل درامد والا، باقی تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے موصوف کی منطق کے حساب سے..!

    بشریٰ خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)