مُسمان بدنام کیوں ؟

میں اپنی 29 اپریل 2006ء کی تحریر دہرا رہا ہوں ۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ آج اس کی 2006ء سے بھی زیادہ ضرورت ہے

کِسی مُلک کا قانون وہ ہوتا ہے جو کہ اُس مُلک کا مجاز حاکم بناتا ہے اور یہ بھی تمام ممالک کے قوانین کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ قانون سے لاعلمی بریّت یا معافی کا جواز نہیں ۔ کوئی ذی شعور آدمی يہ نہيں کہتا کہ قانون وہ ہے جس طرح لوگ کر رہے ہيں ۔ ايک روزمرّہ کی مثال ديتا ہوں ۔ ہمارے ملک ميں قوانين کی کھُلم کھُلا خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ ٹريفِک کے قوانين ہی کو لے ليجئے ۔ مقررہ رفتار سے تيز گاڑی چلانا ۔ غلط طرف سے اوورٹيک کرنا اور چوراہے ميں بتی سُرخ ہوتے ہوئے گذر جانا عام سی بات ہے ۔ يہی لوگ اگر ٹريفک سارجنٹ موجود ہو تو سب ٹريفک قوانين کی پابندی کرنے لگتے ہيں ۔ 90 فيصد لوگ ٹريفک قوانين کی خلاف ورزی کرتے ہيں مگر کبھی کِسی نے نہيں کہا کہ قانون وہی ہے جيسا لوگ کرتے ہيں ليکن دین اسلام کا معاملہ ہو تو بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ مسلمان کہلوانے والوں کے کردار کو اسلام کا نام دے کر اسلام کی ملامت کرتے ہيں يا اسے رد کرتے ہيں

اِسلام کے قوانین قرآن الحکیم میں درج ہیں ۔ قرآن شریف میں اللہ کا حُکم ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اِسلئے حدیث اور سنتِ رسول بھی اِسلام کے قوانین کا حصّہ ہيں ۔ قرآن الحکيم اور حديث کا مطالعہ کيا جائے تو اس میں نہ صرف يہ کہ کوئی بُرائی نظر نہيں آتی بلکہ اچھائياں ہی اچھائياں نظر آتی ہيں اور کئی غيرمُسلم مفکّروں نے بھی اسے بہترين قانون قرار ديا ۔ سياسی ليڈروں ميں چين کے ايک وزيراعظم اور بھارت کے ايک صدر نے دو اميرالمؤمنين اور خليفہ ۔ ابوبکر صِدّيق رضی اللہ عنہ اور عُمر رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کو انسانوں کے لئے بہترين قرار ديا حالانکہ ان دونوں راوی شخصيات کا مسلک اسلام سے عاری تھا ۔ جسٹس کارنيليئس جو عيسائی تھے مگر اعلٰی پائے کے قانون دان تھے نے آسٹريليا ميں ورلڈ چيف جسٹسز کانفرنس ميں کہا تھا کہ ”دنيا کا بہترين قانون اسلامی قانون ہے اور يہ انتہائی قابلِ عمل بھی ہے“۔ پھر اس کے حق ميں دلائل بھی ديئے ۔ دنيا کے کسی چيف جسٹس نے اُن کے اس استدلال کو رد کرنے کی کوشش نہ کی

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کا کردار ايسا تھا کہ اُن کے دين کے دُشمن بھی اُنہيں صادق ۔ امين اور مُنصِف سمجھتے تھے ۔ اُن کے پاس اپنی امانتيں رکھتے ۔ اُن سے اپنے معاملات ميں فيصلے کرواتے ۔ يہاں تک کہ يہودی اور مُسلمان ميں تنازع ہو جاتا تو يہودی فيصلہ کے لئے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے پاس جاتے اور جو فيصلہ وہ کرتے اُسے بخوشی قبول کرتے

خلفائے راشدين کو بھی ديکھئے ۔ عمر رضی اللہ عنہ اميرالمؤمنين اور خليفہ ہيں ۔ ساتويں صدی عيسوی ميں بيت المقدّس پر بازنطینی (عيسائی) حکومت تھی جس نے 636 ء میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا تھا

اب سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر آج مُسلمان بدنام کيوں ہيں ؟ اگر ديکھا جائے تو اپنے دين اسلام کی بدنامی کا باعث بھی ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ جس طرح کسی مُلک کا قانون وہ نہیں ہوتا جس طرح وہاں کے لوگ عمل کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جو مجاز حاکم بناتا ہے ۔ اسی طرح اِسلام بھی وہ نہیں ہے جس طرح کوئی عمل کرتا ہے بلکہ وہ ہے جو اللہ نے قرآن شریف میں اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ و اٰلِہِ و سلّم نے اپنی حدیث اور عمل کے ذریعہ سمجھایا ہے

مُسلمانوں کی بدقسمتی يہ ہے کہ اُنہوں نے دنيا کی ظاہری چکاچوند سے مرغوب ہو کر اپنے دين پر عمل کرنا چھوڑ ديا ہے ۔ ناجائز ذاتی مفاد کيلئے جھوٹی گواہی ديتے ہيں ۔ اپنی خوبی جتانے کيلئے دوسروں کی عيب جوئی کرتے ہيں ۔ نہ تجارت ميں نہ لين دين ميں نہ باہمی سلوک ميں کہيں بھی اسلامی اصولوں کو ياد نہيں رکھا جاتا اور حالت يہ ہو چکی ہے کہ آج کا ايک اچھا مُسلمان تاجر ايک غير مُسلم تاجر پر تو اعتبار کر ليتا ہے مگر مُسلمان تاجر پر نہیں کرتا ۔ مُسلمان اس خام خيالی ميں مبتلا ہو گئے ہيں کہ سب کچھ کرنے کے بعد حج کر ليں گے تو بخش ديئے جائيں گے يا کسی پير صاحب کے پاس جا کر يا کسی قبر پر چڑھاوا چڑھا کر بخشوا ليں گے ۔ ہماری قوم کی اصل بيماری محنت کرنے کا فُقدان ہے ۔ صرف دين ہی نہيں دنيا ميں بھی شارٹ کَٹ ڈھونڈ لئے ہوئے ہيں ۔ امتحان پاس کرنے کيلئے کتابوں کی بجائے نوٹس پڑھ لئے وہ بھی اپنے لکھے ہوئے نہيں فوٹو کاپياں کالجوں ميں بِکتی ہيں ۔ والدين مالدار ہوں تو ممتحن اساتذہ کی جيبيں بھر نے سے بالکل آسانی رہتی ہے ۔ زيادہ مال بنانے کيلئے ہر فعل ہيراپھيری کا کرتے ہيں ۔ تولتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہيں ۔ اشياء خوردنی ميں ملاوٹ کرتے ہيں ۔ افسوس صد افسوس ۔ بننا تو امريکن چاہتے ہیں ليکن اتنی تکليف نہيں کرتے کے اُن سے محنت کرنا ہی سِيکھ ليں البتہ اُن کی لغويات سيکھ لی ہيں

يہ ہنسنے کی باتيں نہيں پشيمان ہونے اور اپنے آپ کو ٹھيک کرنے کی سوچ کی باتيں ہيں ۔ ہم خود تو اپنے کرتوُتوں سے بدنام ہوئے ۔ ہمارے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے ذريعہ آئے ہوئے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے دين کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہيں

اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے ۔ اس پر عمل کرنے اور اپنے پيارے نبی محمد صلّی اللہ علیہ و اٰلہِ و سلّم کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ومَا عَلَيْنَا اِلْالّبلَاغ

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

8 thoughts on “مُسمان بدنام کیوں ؟

  1. Pingback: مُسمان بدنام کیوں ؟ « Jazba Radio

  2. Bushra khan

    محترمی

    سلامِ مسنون

    حالات کے تناظر میں ایک بہت اچھا تجزیہ اور عمدہ تحریر آپ نے پیش فرمائ. یہ وقت کی ضرورت ہے کہ قوم ان ھدایات پر غور و فکر کرے اور ان پر عمل پیرا ہو.

    میں آپ کے مضمون کی تائید میں بیت المقدس کے ذکر کے سلسلے کو تھوڑا Elaborate کرنا چاہتی ہوں جس میں بہت سی نشانیاں اور سبق ہیں.

    “حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے سے ہی حضرات خالد بن ولید، ابوعبیدہ بن الجراح، عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ، یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم جمیعا جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رومیوں سے جہاد میں مصروفِ کار تھے۔ ایک سے ایک بڑا معرکہ اہلِ ایمان کی شان دار کامیابی پر منتج ہوا اور بالآخر ایلیا (بیت المقدس) کے دروازوں تک جا پہنچے اور اس کا محاصرہ کرلیا۔ جب اہلِ ایلیا کی ہرکوشش ناکام ہوگئی اور انھیں یقین ہوگیا کہ اب شکست یقینی ہے تو انھوں پیش کش کی کہ اگر تمھارا امیر خود آجائے تو ہم بیت المقدس کی چابیاں ان کے حوالے کرتے ہوئے شکست تسلیم کرلیں گے۔ حضرت عمر کو اطلاع دی گئی تو مشاورت کے بعد وہ فلسطین کو روانہ ہوئے۔ مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے حضرت علی بن ابی طالب کو اپنا قائم مقام مقرر کرگئے۔ ۴۱, راتوں کے سفر کے بعد بیت المقدس پہنچے۔ محصورین نے آکر معاہدہ کیا۔ حضرت عمر بن الخطاب نے معاہدے کی تحریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ عہد ہے جس کی رُو سے اللہ کے بندے، امیرالمومنین عمر نے اہلِ ایلیا کو امن کی ضمانت دی۔ اس نے ان کی جان، مال، عبادت گاہوں، کلیساؤں اور صلیبیوں کو امان دی۔ ان کے بیماروں، صحت مندوں اور تمام باشندوں کو امان دی۔ اس نے عہد کیا کہ نہ تو ان کے کلیساؤں میں کوئی دوسرا رہایش پذیر ہوگا، نہ انھیں ڈھایا جائے گا۔ ان میں سے ان کا کوئی سامان یا ان کی صلیبیں نہیں نکالی جائیں گی۔ ان کے اموال سے کچھ نہ لیا جائے گا، نہ انھیں ان کا دین بدلنے پر مجبور کیا جائے گا، نہ ان کے ساتھ بیت المقدس میں یہودیوں میں سے کسی کو آنے کی اجازت دی جائے گی۔ اہلِ ایلیا کو اس کے مقابل اسی طرح جزیہ ادا کرنا ہوگا۔

    اسی طرح کی چند مزید عبارتوں سے معاہدے کا متن مکمل ہوا اور اس پر امیرالمومنین کے علاوہ ان کے سپہ سالاروں خالد بن ولید، عمرو بن العاص، عبدالرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کے دستخط ثبت ہوگئے۔ اس معاہدے کی عبارت کے ایک ایک لفظ میں مسلمانوں اور مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں اور سبق ہیں.”

    (بشکریہ ترجمان)

  3. Bushra khan

    Salam e masnoon

    I, hereby with deep pleasure wud like to enclose my conversation with my daughter Dr Asma, as per the subject mentioned above.:

    Salam alekum
    Merijan

    Salam per yad aya, Arabs me islamic culture k against jab atheist n liberalist culture phylna shuru hua to except ‘faith n beliefs’ ke islamic teaching se wo dur hote gy to unme bahot si kharabian pyda huin un me se ek salam alekum ki jaga saba hal khyr, saba han naom jysi (istilahat) ki adat aam ho gai. Ye bimari pure arab region me aam hy jo tumare han bhi hogi aur saudi me b hai. Iske elawa digar non islamic behaviors aur attitudes bhi tum ne dekha aur feel kia hoga arabs ki shadion me. Jistare christians me dulha dulhan ki activities hoti hyn same activities aur functions n parties arabs me b hoti hyn. Arabs ki shadian attend karo to ye nahi lagta ke kisi muslim ki shadi ho rahi hy. Yahi lagta hy k kisi christian family ki shadi me hum aye hue hyn. Ye ek setback hy arabs societies ke liye. Is taraf dhyan na dia gya to ane wali naslon me kahin ek atheist n liberal state me convert na ho jayn. Ye ek sazish hy. Arbon ko koi ehsas nahi hy iska k hum kidhar ja rahe hyn. Jo zyada par likh jata wo western culture se mar’ub hoke unki Rusumath o Rahen sahen ko adopt karne ko faqar, izzat, shan aur pta ni kya kya samajne lagta hy aur islamic culture pe chalne ko fourteen hundred years Old farsudah o daqyanus culture Purana useless culture samaj ker follow karne me unhe sharm ati hai. Jab sharam ati hy islam ko follow karne me to unhi me convert ho jayn koi zor zabardasti thodi hy ke islam ka sirf nam aur feeta laga rahe. Ayse log liberals kahlate hyn. Ayse logon ka mazhab islam nahi hota wo kuch aur ban jata hy.

    M: Am eye right ?

    Asma: Absolutely
    Same practice going on here

    M: Tumne ye difference ladies patients ko dekh k unme note kia hoga

    Asma: Men jb phli bar gye yhan ke wedding me to i was really shocked k ye kiyaaa

  4. Bushra khan

    Salam e masnoon

    I, hereby with deep pleasure wud like to enclose my conversation with my daughter Dr Asma, as per the subject mentioned above.:

    Salam alekum
    Merijan

    Salam per yad aya, Arabs me islamic culture k against jab atheist n liberalist culture phylna shuru hua to except ‘faith n beliefs’ ke islamic teaching se wo dur hote gy to unme bahot si kharabian pyda huin un me se ek salam alekum ki jaga saba hal khyr, saba han naom jysi (istilahat) ki adat aam ho gai. Ye bimari pure arab region me aam hy jo tumare han bhi hogi aur saudi me b hai. Iske elawa digar non islamic behaviors aur attitudes bhi tum ne dekha aur feel kia hoga arabs ki shadion me. Jistare christians me dulha dulhan ki activities hoti hyn same activities aur functions n parties arabs me b hoti hyn. Arabs ki shadian attend karo to ye nahi lagta ke kisi muslim ki shadi ho rahi hy. Yahi lagta hy k kisi christian family ki shadi me hum aye hue hyn. Ye ek setback hy arabs societies ke liye. Is taraf dhyan na dia gya to ane wali naslon me kahin ek atheist n liberal state me convert na ho jayn. Ye ek sazish hy. Arbon ko koi ehsas nahi hy iska k hum kidhar ja rahe hyn. Jo zyada par likh jata wo western culture se mar’ub hoke unki Rusumath o Rahen sahen ko adopt karne ko faqar, izzat, shan aur pta ni kya kya samajne lagta hy aur islamic culture pe chalne ko fourteen hundred years Old farsudah o daqyanus culture Purana useless culture samaj ker follow karne me unhe sharm ati hai. Jab sharam ati hy islam ko follow karne me to unhi me convert ho jayn koi zor zabardasti thodi hy ke islam ka sirf nam aur feeta laga rahe. Ayse log liberals kahlate hyn. Ayse logon ka mazhab islam nahi hota wo kuch aur ban jata hy.

    M: Am eye right ?

    Asma: Absolutely
    Same practice going on here

    M: Tumne ye difference ladies patients ko dekh k unme note kia hoga

    Asma: Men jb phli bar gye yhan ke wedding me to i was really shocked k ye kiyaaa

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بشرٰی خان صاحبہ
    مختصر یہ کہ ان کا عِلم اور معلومات سطحی اور سرسری ہیں ۔ کیا یہ پیسہ کمانے کی خاطر عرب میں جانے والے لوگ اُن سے زیادہ جان سکتے ہیں جن کا تعلق عرب سے صدی سے زیادہ پر محیط ہے ؟ تفصیل کیونکہ ذاتی نوعیت کی ہے اسلئے میں وقت ملنے پر بذریعہ ای میل بھیجوں گا

  6. Bushra khan

    Sir,

    Pls find below the rest of the message and sorry for the inconvenience caused in this respect.

    “Asma: Yhan k log boht sada mizaj hen pr wedding dekh k men heran hogye the it was same like christians

    M: Dehati Badui logon me ye badlao kam hota hy ba nis bat sherion ke ye bat tumne sahi kahi.

    Asma: Hmm

    End of conversation.

    Aulad ki tarbiyat ka ye bhi ek andaz hy ke bat direct kahne k bajaye khubsurat pyrae men bhi kahi ja sakti hy take woh Galat se ejtenab aur Achai ko khule Dilse Accept karen.”

    Wa’ma Alaina illal Balaagh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)