قطب مینار

میں نے ڈائری میں 31 مارچ 1958ء کو لکھاQutub Minar Delhi
یوں تو دنیا کے مختلف شہروں میں بہت سے بلند و بالا مینار ہیں جو اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے کچھ کم شاندار نہیں مگر سنگین مینار چوٹی سے زمین تک خوبصورت اور بلند اور قدیم سوائے قطب مینار کے اور کوئی نہیں ۔ قطب مینار خالص پتھر کا بنا ہوا ہے ۔ اس کی بلندی 238 فٹ ہے ۔ مینار میں چوٹی تک 378 سیڑھیاں ہیں ۔ اس مینار کا پہلا درجہ اگرچہ رائے پتھورا کے زمانہ کا بنا ہوا ہے مگر 1193ء میں اسلامی فتوحات مکمل ہو جانے پر سُلطان قطب الدن ایبک نے اس پر چار درجوں کا اضافہ کرایا اور اس مینار کو مازنہ قرار دے کر اس نسبت سے ایک عالیشان مسجد کی تعمیر شروع کی جو مسجد قوت الاسلام کے نام سے معروف ہوئی ۔ جس مسجد کا ماذنہ اتنا بُلند ہو اس کی وسعت کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ بت خانہ کے صحن میں ماذنہ اور مسجد کا ہونا اور بت خانہ کا بھی قائم رہنا اور لوہے کی لاٹ ہندو راج کا نشان سب کا ملا جُلا ایک جگہ ایک ہزار سال قائم رہنا یہ نظارہ سوائے دہلی کے اور کسی جگہ نظر نہیں آئے گا ۔ اب حال یہ ہے کہ نہ بُت خانہ میں پوجا ہوتی ہے نہ مسجد میں نماز نہ ماذنہ سے اذان

سُلطان قطب الدین ایبک کے انتقال کے بعد سلطان شمس الدین التمش 627 ھ بمطابق 1229ء میں مسجد قوت الاسلام میں تین درجوں کا اضافہ کیا جس پر اسلامی پرچم نہائت شان سے لہرایا کرتا تھا اور اسلام کے شیدائی شمس الدین التمش نے ہر درجہ پر جلی حروف میں آیاتِ قرآنی کندہ کروائیں ۔ قطب مینار نیچے سے 48 فٹ گول ہے اور اُوپر تک گاؤ دُم ہوتا چلا گیا ہے ۔ یہ ایسی خوبصورتی سے بنایا گیا ہےکہ تحریر سے باہر ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی بڑی بڑی سِلیں اس زمانہ میں جبکہ آلاتِ جرثقیل اور سائنٹفک آلات موجود نہ تھے تو کس طرح اس بلندی پر پہنچ کر لگائی گئی تھیں کہ آج ایک ہزار سال ہو گئے لیکن اُکھڑنے کا نام نہیں لیتیں ۔ قطب مینار کی بنیاد کس ساعتِ سعید میں رکھی گئی ہو گی کہ ہندوؤں کے زمانہ میں اس کا پہلا درجہ بنا ۔ مسلمانوں نے اسے سربلند کیا ۔ ان کے عروج و کمال کو دیکھا ۔ پھر ان کے زوال کو بھی دیکھا اور نجانے کب تک انقلابِ لیل و نہار کا مشاہدہ کرتا رہے گا

اہم بات
جب 1950ء کی دہائی کے آخری سالوں میں اٹلی میں موجود پِسا (Pisa) کے مینار کے تِرچھا یعنی ایک طرف کو جھُکا ہوا ہونے کا چرچا ہو رہا تھا والد صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ قطب مینار شروع دن سے ہی عمودی نہیں بلکہ کچھ تِرچھا بنا ہوا ہے جبکہ پِسا کا مینار تعمیر کی خامی کی وجہ سے جھُکنا شروع ہو گیا ہے ۔ مزید قطب مینار کی اُونچائی پِسا کے مینار سے 53 فٹ زیادہ ہے اور قطب مینار کی عمر پِسا کے مینار سے 180 سال زیادہ ہے مگر پروپیگنڈہ کے ذریعہ پِسا کے مینار کو عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے اور قطب مینار کا نام کوئی نہیں لیتا

This entry was posted in تاریخ, معلومات, یادیں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “قطب مینار

  1. Pingback: قطب مینار « Jazba Radio

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)