کیا آپ جانتے ہیں ”چائنا کٹنگ“ کیا ہوتی ہے ؟

کچھ دن قبل میں نے لفظ ”چائنا کٹنگ“ پہلی بار سُنا ۔ میں اِسے چینی کے برتنوں کا کوئی ڈیزائن ہی سمجھتا اگر یہ قبضہ مافیا کے حوالے سے نہ کہا گیا ہوتا ۔ اپنے گرد و پیش لوگوں سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو سب کو بے خبر پایا ۔ ویب کی جستجو کے بعد ایک تحریر دو حصوں میں ملی (1) حصہ اوّل اور (2) حصہ دوم ۔ چنانچہ اس کا ترجمہ حاضر ہے کیونکہ کراچی کی یہ اصطلاح باقی وطنِ عزیز میں شاید ہی کسی کے عِلم میں ہو

لفظ ”چائنا کٹنگ“ انسان کی تاریخ میں پہلی بار ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ٖصاحب نے استعمال کیا تھا ۔ یہ ظہور کراچی کے رہائشیوں کیلئے کوئی عجوبہ نہیں ہے لیکن بقایا پاکستان میں رہنے والوں کیلئے یہ پریشانی کا سبب بنتا ہے ۔ میں اختصار کے ساتھ آپ کو بتاتا ہوں کہ چائنا کٹنگ کیا ہوتی ہے اور یہ کس طرح کی جاتی ہے ۔ وضاحت کو آسان بنانے کی خاطر میں اپنی دوست کے ساتھ پیش آیا حقیقی واقعہ بیان کرتا ہوں جو شاید پہلا آدمی ہے جس نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی ۔ لاحق خطرات کے پیشِ نظر متذکرہ دوست کا نام اور جگہ وغیرہ کے نام تبدیل کر دیئے ہیں

یہ 2004ء کا عام دن تھا صدیقی صاحب صبح 6 بجے اُٹھے اور ورزش کرنے اپنے گھر قریب ہی ایک پارک میں گئے ۔ باہر نکلتے ہی اُنہوں نے دیکھا کہ کئی ٹرک اور بھاری تعمیراتی مشینری پارک میں داخل ہو رہے ہیں ۔ پارک جس ہاؤسنگ سوسائٹی کی ملکیت تھا صدیقی صاحب اُس کے جنرل سکریٹری تھے ۔ وہ حیران ہوئے کہ سوسائٹی کے پارک میں یہ کام ہو رہا ہے اور اُنہیں اتنے بڑے تعمیراتی پروگرام کی خبر ہی نہیں ۔ اُنہیں ایک لڑکا نظر آیا جو مجوزہ کام کی ھدایات دے رہا تھا ۔ صدیقی صاحب اُس لڑکے سے معلومات حاصل کرنے کیلئے آگے بڑھے
صدیقی ۔ السلام علیکم ۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟
لڑکا ۔ آپ کون ہیں ؟
صدیقی ۔ میرا نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے ۔ میں اس عمارت میں رہتا ہوں اور اس سوسائٹی کا جنرل سیکریٹری ہوں
لڑکا ۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ یہاں ایک عمارت تعمیر ہو رہی ہے ؟
صدیقی ۔ ہاں میں دیکھ رہا ہوں لیکن آپ یہ عمارت سوسائئی کی زمین پر بنا رہے ہیں جو کہ یونین کونسل میں رجسٹر ہے

اس لڑکے نے صدیقی صاحب کو گھورا اور پھر اپنے موبائل فون پر کسی سے بات کرنے لگا ۔ بات ختم کرنے کے بعد بولا ”صدیقی صاحب ۔ میں اس بارے میں نہیں جانتا ۔ آپ طارق بھائی سے ملیں ۔ وہ آپ کے سوال کا مناسب جواب دیں گے“۔
(طارق بھائی ایک پولٹیکل پارٹی کا جوائنٹ یونٹ انچارج اور جانا پہچانا آدمی ہے)

اُسی دن صدیقی صاحب نے سوسائٹی کا اجلاس بُلایا جس میں متذکرہ غیرقانونی تعمیر کا مسئلہ اُٹھایا ۔ سوسائٹی کے دوسرے اراکین نے صدیقی صاحب کی تائید کی اور طارق بھائی سے ملنے کیلئے ایک تین رُکنی کمیٹی صدیقی صاحب کی سربراہی میں بنائی ۔ یہ کمیٹی متذکرہ پولٹیکل پارٹی کے مقامی یونٹ آفس میں طارق بھائی سے ملنے گئی ۔ لوکل یونٹ آفس میونسپل پارک میں بنا ہوا تھا جو پہلے بچوں کے کھیلنے کا میدان ہوا کرتا تھا ۔ جو لڑکا ایک دن قبل سوسائٹی کے پارک پر عمارت تعمیر کی ھدایات دے رہا وہ اسلحہ اُٹھائے یونٹ آفس کی حفاظت کر رہا تھا
لڑکا ۔ ہیلو صدیقی صاحب ۔ آپ یہاں طارق بھائی سے ملنے آئے ہیں ؟
صدیقی ۔ جی ہاں ۔ آپ نے ہی مشورہ دیا تھا
لڑکا ۔اس وقت وہ یہاں نہیں ہیں ۔ یہاں کبھی کبھی بیٹھتے ہیں ۔ زیادہ تر وہ پارٹی کے ہیڈ آفس میں ہوتے ہیں
صدیقی ۔ پھر ہم اُنہیں کس طرح مل سکتے ہیں ؟
لڑکا ۔ میں ٹیلیفون کر کے پوچھتا ہوں کہ آج کس وقت یہاں آئیں گے

بات کرنے کے بعد اُس لڑکے نے کہا کہ طارق بھائی ادھر ہی آ رہے ہیں چنانچہ صدیقی صاحب بھی طارق بھائی سے ملنے والوں کی قطار میں کھڑے ہو گئے ۔ آدھے گھنٹہ کے بعد طارق بھائی 3 اسلحہ بردار گارڈوں کے ساتھ آئے اور ملنے والوں کو باری باری دفتر میں بلایا جانے لگا ۔ صدیقی صاحب کی باری ایک گھنٹہ بعد آئی
صدیقی ۔ السلام علیکم ۔ میرا نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے اور میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کا جنرل سیکریٹری ہوں
طارق بھائی ۔ ہاں ہاں مجھے معلوم ہے ۔ اُس نے مجھے بتا دیا ہے
صدیقی ۔ تو پھر اُس نے ہمارا مسئلہ بھی بتا دیا ہو گا
طارق بھائی ۔ ہاں بتا دیا ہے ۔ کیا آپ نے اس معاملہ میں کسی اور سے بھی بات کی ہے یعنی کوئی اور پارٹی ممبر ۔ میڈیا وغیرہ
صدیقی ۔ نہیں ۔ دراصل مجھے آپ سے ملنے کا کہا گیا تھا اسلئے ہم سیدھے آپ ہی کے پاس آئے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں گے

اس کے بعد طارق بھائی نے صدیقی صاحب سے کچھ سوالات صدیقی صاحب کی بیک گراؤنڈ کے بارے میں پوچھے اور یقین کر لیا کہ صدیقی صاحب اور ساتھی عام آدمی ہیں ۔ نہ ان کے کوئی سیاسی روابط ہیں اور نہ ہی اعلٰی افسروں سے کوئی شناسائی ہے پھر بولے
طارق بھائی ۔ آپ ہماری کمیونٹی میں سے ہیں اسلئے آپ کو کمیونٹی کے مسائل کا علم ہونا چاہیئے ۔ آپ شہر کی موجودہ حالت جانتے ہیں ؟ لوگوں کیلئے بہت زیادہ رہائشی عمارات کی ضرورت ہے چنانچہ ہم کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کو چھت میسّر ہو سکے ۔ کیا اس میں کوئی خرابی ہے ؟
صدیقی ۔ میں آپ کے نظریہ اور عوام کیلئے کام کی قدر کرتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ جہاں یہ تعمیر کر رہے ہیں وہ زمین آپ کی نہیں ہے اور یہ غیرقانونی ہے
طارق بھائی (غُصے میں) ۔ سارا شہر ہمارا ہے صدیقی صاحب ۔ کو ئی ہمیں روکنے کی جراءت نہیں کر سکتا ۔ ہم جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ۔ اسے دھمکی نہ سمجھیں ۔ ہم دھمکیاں نہیں دیا کرتے ۔ ہم عمل میں یقین رکھتے ہیں ۔ ہم یہ عمارت بنائیں گے ۔ اب جائیں مجھے اہم کام کرنے ہیں ۔ اور پولیس کے پاس جانے کی کوشش نہ کرنا ۔ وہ کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ تھانیدار نے ابھی میرے ساتھ چائے پی ہے ۔ جائیں اور دوبارہ ادھر کا رُخ نہ کریں

یہ صورتِ حال صدیقی صاحب کیلئے حیران کُن تھی ۔ وہ ایسی بد اخلاقی کی توقع نہیں رکھتے تھے ۔ وہ پریشان تھے جبکہ اُن کے ساتھی ڈر گئے تھے ۔ ساتھیوں نے تجویز کیا کہ معاملہ کو یہیں چھوڑ دیا جائے اور جو وہ چاہتے ہیں اُنہیں کرنے دیا جائے ۔ لیکن صدیقی صاحب نے سوچا کہ وہ غلط آدمی سے ملے ہیں ۔ اُنہیں پارٹی کے ہیڈ آفس جانا چاہیئے ۔ چنانچہ مدد اور انصاف کے حصول کیلئے پارٹی کے ہیڈ آفس کو چل دیئے

اس کے بعد کیا ہوا ؟ یہ راوی نے نہیں لکھا

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

15 thoughts on “کیا آپ جانتے ہیں ”چائنا کٹنگ“ کیا ہوتی ہے ؟

  1. سیما آفتاب

    معلومات کے لیے شکریہ ۔۔۔ پہلےمیں بھی لاعلم تھی اس اصطلاح سے ۔۔۔ دیکھ لیں بس “بھائی” کی ایجادات ۔۔ ہاہاہا

  2. سیما آفتاب

    جی بالکل میں کراچی میں رہتی ہوں ۔۔۔۔ جب میں نے پہلی بار یہ اصطلاح سنی تو پہلی بات دماغ میں یہ آئی کے جیسے ہر دو نمبر چیز کو چائنا کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اسی طرح اس میں بھی کوئی دو نمبری ہوگی ۔۔۔ وقت گزرنے کے بعد جب ہمارے علاقے میں ایک پارک پر یہ کام ہوا تو پتا چلا کہ یہ کیا بلا ہے

  3. wahaj d ahmad

    May be I have become “too un-pakistani “I am still not clear how and why this najaaiz qabza is called China cutting

  4. مہر افشاں

    کیا عمر ہوگئی ہوگی آپکی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    میرا خیال ہے ستر سال سے اوپر کے ہوں گے قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھے ہیں لیکن جھوٹ بولنے اور سنی سنائی کہانیاں بیان کرنے سے باز نہیں آتے
    ایک تو یہ کہ کراچی میں یہ شیطانی کام سب سے پہلے پنجابی پولس نے شروع کیا تھا جب اس نے ناجائز بستیاں ادھر ادھر کے لوگوں کے لیئے قائم کر کے ان سے پیسے بٹورنے کے لیئے شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کے بعد تمام پٹھان پنجابی سندھی بلوچی سب نے کراچی کی زمینوں کو باپ کی جاگیر سمجھ کر ہاتھ صاف کرنا شروع کیئے،کیا آپ کو معلوم ہے کہ ریلوے کی دس ہزار ایکڑ زمین ہے جس پر ان سب کی کتنی ہی ناجائز آبادیاں قائم ہیں کبھی آپ جیسے بد بودار تعصبیوں کو وہ نظر نہین آئیں؟؟؟؟؟؟ اور نہ کبھی ان پر زبان کھولنے کی توفیق ہوئی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بالکل ایم کیو ایم میں گھسنے والے مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں نے بھی جب سب کو بہتی گنگا مین ہاتھ دھوتے دیکھا تو اپنے ہاتھ بھی رنگنا شروع کردیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب اگر آپ میں رتی بھر بھی شرافت ہے تو زرا یہ معلوم کیجیئے کہ اس کہانی کا اینڈ کیا ہوا اور وہ نائن زیرو گئے یا نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  5. مہر افشاں

    اور ہاں فوج کا کراچی کی زمینوں پر قبضہ و خرید و فروخت تو اس سے بھی کہیں پہلے کی باتیں ہیں۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ مہر افشاں صاحبہ
    میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ عبارت کس تحریر کا ترجمہ ہے اور روابط بھی دیئے ہیں ۔ وجہ بھی لکھی ہے کہ چائنا کٹنگ کے معنی تلاش کرتا اُس ویب سائٹ پر پہنچا
    محترمہ ۔ میں 180 سال کا سہی لیکن آپ کے جوان مغز میں ذرا سی عقل ہوتی تو سمجھ آ جاتی کہ میں نے یہ کہانی نہیں بنائی ۔ اور کہانی میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ کاروائی ایم کیو ایم والے کرتے ہیں لیکن کسی نے سچ کہا ہے ”چور کی داڑھی میں تنکا“۔ چنانچہ آپ نے تاؤ میں آ کر اپنے اندر کی گندگی یہاں اُنڈیل دی ہے

    آپ کے گریٹ لیڈر کا سچ تو یہ ہے کہ وہ 17 ستمبر 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوا اور مہاجر بن بیٹھا ۔ اگر وہ اتنا ہی سچا ہے تو اپنے لوگوں میں آ کر کیوں نہیں رہتا ۔ اور کئی سال برطانیہ میں بیٹھا فرنگیوں کی خیرات کیوں کھاتا رہا ؟
    اُس کے ساتھیوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور اُن میں سے زیادہ تر کے والدین 1951ء کے بعد بھارت میں اپنا سب کچھ ٹھکانے لگانے کے بعد بڑے آرام سے پاکستان منتقل ہوئے تھے
    میں اور میرے بزرگ کئی ماہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اپنا سب کچھ چھوڑ کر تن پر موجود کپڑوں کے ساتھ 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے کیونکہ ہندو مہا سبھا ۔ راشٹریہ سیوک سنگ اور اکالی دل کے مسلحہ غنڈوں نے ہمیں ہجرت پر مجبور کر دیا تھا ۔ پھر جب میرے والد صاحب پاکستان میں محنت مزدوری کرنے لگے تو اپنے آپ کو کبھی مہاجر نہ کہا
    محترمہ ۔ مجھے ایم کیو ایم کے موجودہ لیڈروں کے متعلق ذاتی معلومات لکھنے پر مجبور نہ کریں ۔ میں آپ کی جماعت کا اندر سے واقف ہوں کیونکہ میں اس کے ایم کیو ایم بننے تک مہاجر تحریک میں شامل رہا اور ان لوگوں بالخصوص الطاف حسین کے کرتوتوں کی وجہ سے دُوری اختیار کی

  7. نعیم خان

    کچھ دن پہلے ٹی وی پر ایک رپورٹ میں “چائنا کٹنگ” کے بارے میں سنا اور تجسس پیدا ہوا، اب تھوڑا بہت سمجھ آگیا ہے۔ نیشنل جیوگرافک پر بمبئی میں طوفانی بارشوں کا ایک پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں بھی اسی موضوع کو زیربحث لایا گیا اور پھر پاکستانی ٹی وی پر جو رپورٹ دیکھی وہ بھی بہت عجیب تھی کہ کیسے لینڈ مافیا زمینوں پر قبضہ کرتا ہے اور کون کون سے طریقے اپناتا ہے ان کو قانونی شکل دینے کیلئے۔

  8. مہر افشاں

    :) آپ کیا ہیں یہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے اور کس ایجینڈے پر کام کررہے ہیں یہ بھی اچھی طرح جانتی ہوں لیکن آپ کی یہ خرافات اب کوئی فائدہ نہیں پہنچانے والیں کیونکہ وہ دن لد گئے جب پنجاب کے لوگ جھوٹی سچی کہانیاں بنا کر کراچی والوں اور ان کی نمائندہ جماعت کے خلاف سنایا کرتے تھے اور لوگ آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے تھے اب جلد ہی دودھ کا دودھ اور پانی کیا پانی ہونے والا ہے اس لیئے اپنے بولے ہوئے تمام جھوٹوں پر ابھی سے معافی مانگ لیں ورنہ بعد مین اپنا تھوکا آپ ہی کو چاٹنا پڑے گا
    واسلام

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ مہر افشاں صاحبہ
    آپ بڑی غلط فہمی میں مُبتلا ہیں جو کہہ رہی یں کہ آپ مجھے جانتی ہیں اور یہ بھی جانتی ہیں کہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہوں ۔ کیونکہ آپ مجھے بالکل نہیں جانتیں ۔ آپ تو اُسے بھی پوری طرح نہیں جانتیں جو میں اس بلاگ پر لکھتا ہوں ۔ البتہ آپ نے ایک بات سو فیصد درست لکھی ہے کہ ”اب جلد ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے”۔ اللہ کرے کہ واقعی ہی جلد ایسا ہو جائے پھر جس کے جھوٹ کا بھانڈا پھوٹے گا دنیا دیکھے گی ۔ پنجاب کے لوگ کیا کرتے ہیں وہ جانیں مگر میں آپ یا کسی اور ایجنڈے کی خاطر جھوٹ بولنے والا نہیں ہوں کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔
    ایک طرف میرے بلاگ پر 2005ء سے 2007ء تک کے میرے لئے آپ کے تحسین و آفرین سے پُر تبصرے اور میری تعریفوں اور میرے لئے نیک دعاؤں سے اٹی آپ کی بھیجی ہوئی لمبی لمبی ای میلز ہیں اور دوسری طرف بعد میں شروع ہونے والی آپ کی غلاظت بھری زبان ہے ۔ ان میں سے صرف ایک ہی سچ ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ یا تو پہلے آپ جھوٹ بولتی تھیں یا اب بولتی ہیں

  10. Sangeen khan

    چائنا کٹنگ کی سیر حاصل مفحوم سمجھ میں نہیں آئی کہ قبضہ مافیا سے چائنا لفظ کیسے بنا اور کٹنگ کیس ہوئی

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سگین خان صاحب
    جتنا میری سمجھ میں آیا میں نے لکھ دیا ۔ دونوں تحاریر کے ربط (لِنک) دیئے ہوئے ہیں ۔ پہلے حصہ اوّل پر کلِک کر کے پڑھ لیجئے پھر حصہ دوم پر

  12. شاہد اقبال

    السلام علیکم!
    پوچھنا یہ تھا کہ 2015 کے اس بلاگ میں مہر افشاں صاحبہ نے مستقبل کا جو عندیہ دیا تھا، پورا ہوا؟
    یا کبھی کبھی اپنی ہی تحریر کو پڑھ کر شرمندہ شرمندہ تو نہیں ہوتیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)