شرم و حیاء کیا ہوتی ہے

عمران اقبال صاحب کے بلاگ پر ”کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے“ کے عنوان سے مانو بلی کے نام سے ایک مضمون لکھا گیا ۔ میں عمران اقبال صاحب سے معذرت خواہ ہوں کہ اُن کی مہمان لکھاری کی معلومات پر اعتراض کی جسارت کر رہا ہوں ۔ اگر عُمر میں لکھاری محترمہ مجھ سے بڑھی ہیں تو اُن سے بھی معذرت ۔ مجھے لکھنے کی جراءت محترمہ کی تحریر کے آخر میں مرقوم اِس ”نوٹ“ سے ہوئی ۔ ۔ ۔ ” اگر کسی دوست کو اختلاف ہو یا ذہن میں کوئی سوال آئے تو میں جواب دینے کیلئے حاضر ہوں ۔ اگر میں نے کہیں کوئی واقعہ مسخ کرکے لکھا ہو تو نشاندہی ضرور کیجیئے گا”۔

محترمہ نے دعوٰی کیا ہے ۔ ۔ ۔ ” اتنا دعوی ضرور کرتی ہوں کہ جو تاریخی حقائق بیان کرونگی من و عن کرونگی“۔
محترمہ شاید بے پَر کے اُڑتی خبروں سے محسور ہو گئی ہیں اور پاکستان کی تاریخ کا علم بھی کم عُمری کے باعث کم ہی رکھتی ہیں

قارئین اور بالخصوص محترمہ کے عِلم کیلئے عرض کر دوں کہ تاریخ کچھ یوں ہے
قائداعظم کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل بنے ۔ ایک گہری سازش کے تحت 16 اکتوبر 1951ء کو قائدملت لیاقت علی خان کو قتل کروا دیا گیا ۔ خواجہ ناظم الدین کو بہلا پھُسلا کر وزیراعظم بنا دیا گیا اور سابق سیکریٹری فنانس غلام محمد (غیرمُلکی قابضوں کا پالا بیوکریٹ) گورنر جنرل بنا جو سازش کی ایک کڑی تھی ۔ خواجہ ناظم الدین کی کابینہ نے آئین کا مسؤدہ تیار کر لیا اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی پاکستان کیلئے منتخب کردہ اسمبلی میں پیش ہوا ہی چاہتا تھا کہ غلام محمد نے 17 اپریل 1953ء کو خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے پاکستان کے امریکہ میں سفیر محمد علی بوگرہ (غیرمُلکی قابضوں کا پالا بیوکریٹ) کو وزیراعظم بنا دیا ۔ محمد علی بوگرہ نے آئین کا ایک متبادل مسؤدہ تیار کرایا جو اسمبلی کو منظور نہ تھا ۔ فیصلہ کیا گیا کہ قائداعظم کی ھدایات کی روشنی میں تیار کیا گیا آئین وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی مرضی کے بغیر اسمبلی سے منظور کرا لیا جائے ۔ جسے روکنے کیلئے غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954ء کو پاکستان کی پہلی مُنتخب اسمبلی توڑ دی ۔ سپیکر مولوی تمیزالدین نے چیف کورٹ (اب ہائی کورٹ) میں اس کے خلاف درخواست دی جو منظور ہوئی مگر غلام محمد نے فیڈرل کورٹ (اب سپریم کورٹ) میں اپیل دائر کی جہاں غلام محمد کا ہم نوالہ و ہم پیالہ چیف جسٹس منیر احمد (غیرمُلکی قابضوں کا پالا بیوکریٹ) تھا ۔ اُس نے ملک کے مستقبل پر اپنی یاری کو ترجیح دی ۔ نظریہءِ ضرورت ایجاد کیا اور اپیل منظور کر لی ۔ نظریہءِ ضرورت پہلا مرض ہے جو پاکستان کو لاحق ہوا ۔ محمد علی بوگرہ نے غلام محمد کی منشاء کے مطابق نام نہاد ٹیکنوکریٹ حکومت تشکیل دی اور فوج کے سربراہ (غیرمُلکی قابضوں کا پالا بیوکریٹ) کو وردی میں وزیر دفاع بنا دیا یعنی پاکستان کا عنانِ حکومت مکمل طور پر سفید اورخاکی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں چلا گیا ۔ یہ دوسرا مرض ہے جو پاکستان کو لاحق ہوا ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل عنوان پر کلِک کر کے ایک دستاویزی ثبوت کا حوالہ دیکھیئے
خُفیہ کتاب کا ایک ورق

غلام محمد پر فالج کا حملہ ہوا ۔ سیکریٹری دفاع سکندر مرزا (غیرمُلکی قابضوں کا پالا بیوکریٹ جسے قائداعظم محبِ وطن نہیں جانتے تھے) ڈپٹی گورنر جنرل بن گیا ۔ عملی طور پر وہ گورنر جنرل ہی تھا کیونکہ غلام محمد کچھ لکھنے یا بولنے کے قابل نہ تھا ۔ سکندر مرزا جب سیکریٹری دفاع تھا خود ہی نوٹیفیکیشن جاری کر کے میجر جنرل کا لاحقہ لگا لیا تھا ۔ 8 اگست 1955ء کو غلام محمد کو برطرف کر کے سکندر مرزا پکا گورنر جنرل اور پھر صدر بن گیا ۔ سکندر مرزا نے 11 اگست 1955ء کو چوہدری محمد علی کو وزیراعظم بنا دیا ۔ 30 ستمبر 1955ء کو مغربی پاکستان کو وَن یونٹ بنا کر مغربی پاکستان کا سربراہ ڈاکٹر عبدالجبّار خان المعروف ڈاکٹر خان صاحب (عبدالغفّار خان کے بڑے بھائی یعنی اسفندیار ولی کے دادا کے بھائی) کو بنا دیا گیا جو کانگرسی اور نظریہ پاکستان کا مخالف تھا ۔ پاکستان بننے سے پہلے جب پاکستان کیلئے ووٹنگ ہوئی تھی تو ڈاکٹر خان صاحب شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب خیبر پختونخوا) کا قابض حکمرانوں کی طرف سے حاکم تھا اور اس نے پوری کوشش کی تھی کہ صوبے کے مسلمان کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالیں لیکن ناکام رہا تھا ۔ مگر اسے سکندر مرزا کا اعتماد حاصل تھا ۔ ڈاکٹر خان صاحب نے بتدریج مُخلص مسلم لیگیوں کو فارغ کر کے اُن کی جگہ دوغلے یا اپنے ساتھی رکھ لئے ۔ چوہدری محمد علی نے بوگرہ کے تیار کروائے ہوئے آئین کے مسؤدے میں کچھ ترامیم کر کے 23 مارچ 1956ء کو آئین منظور کرا لیا۔ ڈاکٹر خان صاحب کی مہربانی سے حکومت میں اکثریت نظریہ پاکستان کے مخالفین کی ہو چکی تھی جس کے نتیجہ میں چوہدری محمد علی 8 ستمبر 1956ء کو مجبوراً مُستعفی ہو گئے

حسین شہید سہروردی ڈاکٹر خان صاحب کی پارٹی سے اتحاد کر کے 12 ستمبر 1956ء کو وزیراعظم بنے لیکن بیوروکریسی کی سازشوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور عزت بچانے کیلئے 10 اکتوبر 1957ء کو مُستعفی ہو گئے ۔ ان کی جگہ آئی آئی چندریگر کو قائم مقام وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ وہ صرف 2 ماہ رہے ۔ 16 دسمبر 1957ء کو ملک فیروز خان نون وزیراعظم بنے ۔ اُس وقت تک مُلکی حالات نے مغربی پاکستان میں خان عبدالقیوم خان کی سربراہی میں مسلم لیگ اور مشرقی پاکستان میں حسین شہید سہرودری کی سربراہی میں عوامی لیگ کو مضبوط کر دیا تھا ۔ یہ دونوں بڑی جماعتیں متحد ہو گئیں اور ملک فیروز خان نون کو سہارا دیا جس سے سکندر مرزا کو اپنی کرسی خطرے میں نظر آئی اور اُس نے جون 1958ء میں کانگرسی لیڈر خان عبدالغفار خان (جو نہ صرف پاکستان بنانے کے مخالف تھے بلکہ قائداعظم کے بھی مخالف تھے) سے مدد کی درخواست کی اور مشرقی پاکستان میں گورنر کے ذریعہ حسین شہید سہروردی کی عوامی لیگ میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ۔ آخر 7 اور 8 اکتوبر 1958ء کی درمیانی رات سکندر مرزا نے فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع جنرل محمد ایوب خان کو آگے بڑھنے کا کہا ۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب جانتے ہیں

محترمہ مزید لکھتی ہیں ”پاکستان میں فرقہ وارا نہ دہشتگردی کو فروغ اور عوام خاص طور پر پنجاب میں انتہاپسندی کا جو بیج ضیا نے بویا اسکی آبیاری کے علاوہ تو مجھے ‘شہید’ کا کوئی اور مشن سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ یہی ایک کام میاں صاحب نے بخوبی کیا۔ آج بھی دہشتگرد تنظیموں کو پیغام بھیجے جاتے ہیں کہ پنجاب کو چھوڑ کر کہیں بھی دہشتگردی پر انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا“۔

محترمہ کا مندرجہ بالا بیان بے بنیاد اور لَغو ہے ۔ محترمہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ پورے پاکستان میں ہر قسم کے دہشتگردوں کے خلاف بلاامتیاز فوجی کاروائی کا فیصلہ نواز شریف ہی نے کیا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے دہشتگردی کے واقعات تو 1972ء سے ہوتے چلے آرہے تھے جن میں کچھ اضافہ 1977ء کے بعد ہوا جب 2 نام ”ہتھوڑا گروپ“ اور ”الذوالفقار“ زبان زدِ عام ہوئے تھے ۔ الذوالفقار والے پی آئی اے کا ایک جہاز اغواء کر کے افغانستان لے گئے تھے اور اس جہاز میں سوار ایک شخص کو ہلاک بھی کیا تھا
دہشتگردی کے بڑے واقعات ستمبر 2001ء کے بعد شروع ہوئے جب پرویز مشرف نے پاکستان کی بجائے امریکہ کی مکمل تابعداری اختیار کی ۔ ان میں شدت اُس وقت آئی جب 13 جنوری 2006ء کو امریکی ڈرون نے باجوڑ کے علاقہ ڈماڈولا میں ایک مدرسے کو میزائل مار کر درجنوں معصوم بچوں کو ہلاک کر دیا اور پرویز مشرف نے کہا کہ ”یہ حملہ ہمارے گن شپ ہیلی کاپٹر نے کیا ہے“۔ اگر بات کراچی کی ہے تو وہاں کے رہنے والے ہی اس کا سبب ہیں
ضیاء الحق نے 3 ماہ کا کہہ کر حکومت سنبھالی اور پھر 11 سال چپکا رہا اس وجہ سے وہ مجھے پسند نہیں لیکن ضیاء الحق پر جس فرقہ واریت ۔ دہشتگردی ۔ کلاشنکوف کلچر اور افغانستان میں دخل اندازی کا الزام لگایا جاتا ہے اُس کی پنیری ذوالفقار بھٹو نے لگائی تھی ۔ ملاحظہ ہو

1 ۔ صوبہ سندھ میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے بے بنیاد زہرآلود تقاریر کیں اور وہ سندھی جنہوں نے قائد اعظم کا ساتھ دیا تھا اور پاکستان کیلئے ہونے والی ووٹنگ میں شاہنواز بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو کے والد) کے خلاف قائداعظم کے نام زد کردہ سکول ٹیچر کو جتوا دیا تھا اُن کو پنجابی اور اُردو بولنے والوں کا دشمن بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ مزید کالا باغ ڈیم بنانے کی مکمل تیاری ہو چکی تھی ۔ کنسٹرکشن کمپنی کا چناؤ ورلڈ بنک نے کرنا تھا اسلئے کسی پاکستانی کی جیب میں ناجائز پیسہ جانے کی اُمید نہ تھی ۔ مال کمانے کی خاطر ذوالفقار علی بھٹو نے صوبہ سندھ سوکھنے کا شوشہ چھوڑ کر کالا باغ کے خلاف سندھ میں فضا ہموار کی اور پاکستان انجنیئرنگ کانگرس (جس میں اراکین کی اکثریت صوبہ سندھ سے تھی) کی مخالفت کے باوجود تربیلہ ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ۔ کالا باغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے آج تک پاکستان کی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے

2 ۔ فیڈرل سکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) بنائی جس میں جیب کُترے ۔ جوئے باز اور دیگر آوارہ جوانوں کو بھی بھرتی کر کے اُنہیں آٹومیٹک رائفلیں دے دیں ۔ انہیں نہ صرف سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا بلکہ اپنی ہی پارٹی میں جس نے اختلاف کیا اُسے بھی پٹوایا یا ھلاک کیا گیا ۔ اس کی اہم مثال احمد رضا قصوری کے والد کی ہلاکت ہے جو بھٹو صاحب کو تختہ دار پر لے گئی

3 ۔ آئی ایس آئی پاکستان کا مُخلص اور محافظ ادارہ تھا ۔ اس میں سیاسی شاخ بنا کر آئی ایس آئی کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جو بعد میں رواج پکڑ گیا اور آئی ایس آئی سیاست میں بھرپور طور پر ملوّث ہو گئی

مزید مندرجہ ذیل عنوانات پر کلِک کر کے پڑھیئے
4 ۔ دہشتگردی کا ذمہ دار کون
5 ۔ سرکاری دفاتر میں دھونس اور دھاندلی کیسے شروع ہوئی

محترمہ نے آگے چل کر لکھا ہے ”نواز شریف ایک اوسط درجے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انکے والد صاحب کی ایک چھوٹی سی فاؤنڈری تھی جو بھٹو کے زمانے میں قومیائی گئی اور ضیاالحق نے واپس دی ۔ اس کی تفصیلات اگلے مضمون میں لکھوں گی

مجھے نواز شریف نے نہ کچھ دیا ہے اور نہ کچھ ملنے کی کبھی اُمید ہوئی ۔ لیکن سچ لکھنا میرا حق ہے ۔ نواز شریف کے والد میاں محمد شریف اور برادران (کُل 6 بھائی) نے 1930ء میں فاؤنڈری بنائی ۔ جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا تو 1958ء یا 1959ء میں ہماری کلاس کو اتفاق فاؤنڈری کے مطالعاتی دورے پر لیجایا گیا تھا ۔ اُن دنوں بھی یہ فاؤنڈری چھوٹی نہ تھی ۔ ہمارے پروفیسر صاحب نے اتفاق فاؤنڈری جاتے ہوئے ہمیں بتایا تھا کہ ”پہلا بڑا کام اس فاؤنڈری نے پاکستان بننے کے چند سال بعد کیا کہ جن شہروں میں ہندو جاتے ہوئے بجلی گھروں کو آگ لگا گئے تھے اُن کیلئے چھوٹے چھوٹے بجلی گھر تیار کر کے ان شہروں میں نصب کئے ۔ اگر یہی پاور سٹیشن درآمد کئے جاتے تو دوگُنا خرچ ہوتا“۔ اُس دور میں پاکستان میں کوئی فاؤنڈری سوائے اس کے نہ تھی ۔ چھوٹا چھوٹا ڈھالنے کا کام ہو تو اُسے بھی فاؤنڈری کہہ دیا جاتا ہے مگر ان میں نہ تو پیداوار کا خاص معیار ہوتا ہے اور نہ ہی یہ بڑا کام کر سکتی ہیں
ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دورِ حکومت سے قبل اتفاق فاؤنڈری کی جگہ اتفاق گروپ آف انڈسٹریز لے چکا تھا جو بغیر معاوضہ قومیا لیا گیا تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد جن کارخانہ داروں نے چارہ جوئی کی اُنہیں اُن کے کارخانے واپس دے دیئے گئے تھے کیونکہ وہ خسارے میں جا رہے تھے

محترمہ نے مزید لکھا ہے ”بینظیر کی حکومت گرانے کیلئے اسامہ بن لادن سے پیسے لینے والے میاں صاحب
یہ خبر کسی محلہ اخبار میں چھپی ہو تو معلوم نہیں البتہ کسی قومی سطح کے اخبار میں نہیں چھپی اور نہ ہی پیپلز پارٹی (جو مسلم لیگ نواز کی مخالف سب سے بڑی اور پرانی جماعت ہے) کے کسی سرکردہ لیڈر کے منہ سے سُنی گئی ہے ۔ پکی بات ہے کہ کم از کم 2001ء تک اوسامہ بن لادن افغانستان میں تھا ۔ اگر امریکہ نے 2 مئی 2011ء کو اُسے ایبٹ آباد میں ہلاک کیا تو وہاں وہ پرویز مشرف یا آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں آیا اور رہائش رکھی ۔ اس لحاظ سے تو پرویز مشرف اور آصف علی زرداری اوسامہ بن لادن کے دوست ہوئے

بینظیر بھٹو صاحبہ سیاسی لحاظ سے جو کچھ تھیں وہ ایک طرف لیکن میں اُن کا احترام اسلئے کرتا ہوں کہ اُنہیں اپنے مُلک کی مٹی سے پیار تھا اور اسی وجہ سے میں محمد نواز شریف کو بھی اچھا سمجھتا ہوں
ایک اہم حقیقت جسے ہمارے ذرائع ابلاغ نے اہمیت نہیں دی یہ ہے کہ لیاقت علی خان ۔ ضیاء الحق اور بینظیر بھٹو کو ہلاک کرانے کے پیچھے ایک ہی ہاتھ تھا اور ہماری ناعاقبت اندیشی کہیئے یا بدقسمتی کہ میرے پڑھے لکھے ہموطنوں کی اکثریت اُس دُشمنِ پاکستان کو اپنا دوست بنانے یا کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے ۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے ناجائز قتل کی وجہ سے دوسرے واقعات میڈیا نے پسِ پُشت ڈال دیئے تھے ۔ محترمہ بینظیر بھٹو سے قبل محمد نواز شریف پر کامیاب قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ابھی اُن کی موت نہیں لکھی تھی اسلئے بچ گئے تھے ۔ ہوا یوں تھا کہ اسلام آباد آتے ہوئے جب وہ روات پہنچے تو چوہدری تنویر نے محمد نواز شریف کو زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا تھا ۔ جب حملہ ہوا تو محمد نواز شریف کی گاڑی میں بیٹھے اُن کے سب محافظ ہلاک ہو گئے تھے ۔ چنانچہ ہلاک کروانے والا دراصل پاکستان کا دشمن ہے

This entry was posted in تاریخ, تجزیہ, سیاست, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “شرم و حیاء کیا ہوتی ہے

  1. نورین تبسم

    السلام علیکم
    جزاک اللہ ۔ آپ نے تاریخ کے مضبوط دلائل اور اپنی ذات کی سچائی کے ساتھ حقائق بیان کیے۔ تنقید برائے تنقید اور دل کی بھڑاس نکالنا محض اپنی کم علمی ظاہر کرتا ہے۔ جس سے وقتی طور پر تو عام افراد کی توجہ حاصل ہو سکتی ہے لیکن تاریخ کو نہ بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جاسکتا ہے ۔ سیاست دانوں سے لے کر ہم عام عوام تک سب عام انسان ہیں ۔خامیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے۔ ہمیں برائی میں سے اچھائی کا پہلو تلاش کرنا چاہیے لیکن ہم برائی میں سے برائی تو نکالتے ہی ہیں اچھائی میں سے بھی برائیاں ہی ڈھونڈ لاتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ آنکھ کھلی رکھنا بہت ضروری ہے قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارےرہنماؤں کے ہاتھوں ہمارا جذباتی استحصال ہی تو ہوتا چلا آیا ہے ۔ دُکھ ہے تو صرف یہ کہ لفظ کی ایسی بے پر کی چنگاریاں ہمیں بحیثیت قوم اندر ہی اندر راکھ بنائے دے رہی ہیں ۔ اور چراغ کی مانند اہل علم کی آواز صدابہ صحرا ہوتے ہوئے مدہم پڑتی جا رہی ہے۔
    اللہ آپ کو جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ لفظ کے محاذ پر اسی طرح ڈٹا رکھے

  2. زعف

    بہت شکریہ اجمل صاحب۔
    جو تاریخ آپ نے یہاں بیان کی ہے وہ میں نے نویں کلاس میں پاکستان سٹیڈیز کے نصاب میں پڑھی تھی۔ میرے مضمون کا مقصد ن لیگ اور نواز شریف کے سازشی کردار کو بے نقاب کرنا تھا جسے آپ بڑی سہولت سے اگنور کرگئے ہیں۔ اپنی مرضی کے اور پسندیدہ ‘حقائق’ حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔
    اتفاق فاؤنڈری کے ستر اور اسی کی دہائی کے ٹیکس ریٹرنز دکھا دیں میں اپنے الزامات واپس لے لونگی۔ قومی خزانے کی لوٹ مار کے شواہد دستاویزات میں موجود ہیں۔
    نواز شریف کے انتہا پسندوں سے روابط بھی ڈھکیپے چھپے نہیں رہے۔ آپکے دلائل ایک جانبدار ہمدرد سے زیادہ کی راگ ی نہیں ہے۔ ن لیگ کی تاریخ پر روشنی ڈالنا آپ بھول گئے حالانکہ میرے مضمون کا لبِ لباب وہی تھا۔ میری عمر چوبیس سال ہے لیکن غلامی کا طوق گلے میں ڈالے بغیر پیدا ہوئی ہوں اسلئے منافق نہیں ہوں۔
    فی الحال میں آپریشن مڈنائٹ جیکال پر شریفوں کی کرتوتیں لکھ رہی ہوں اسکے بعد چھانگا مانگا پر لکھوں گی۔ آپکے کچھ ‘دلائل’ کا جواب وہیں لکھنے کی کوشش کرونگی۔
    وہ لوگ جو تاریخ کی الف ب سے واقف نہیں وہ اس سوال چنا جواب گندم کو پڑھ کر یقیناً خوش ہونگے۔

  3. زعف

    آخر میں شکریہ بھی لکھا تھا لیکن چھپا نہیں۔ شاید الفاظ کی حد ہوتی ہو۔
    آپکے جواب کا بےحد شکریہ۔ میرے لیئے باعثِ تکریم ہے۔
    رویئے اگر طنزیہ نہ ہوں تو اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ مخاطب میں ہوں لہٰزا اس کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے تھا۔ آپ بڑے ہیں انشااللّہ ادب کا خیال رکھوں گی۔
    نوازش۔

  4. زعف

    معاف کیجیئے گا ایک بات کا جواب رہ گیا۔
    اسامہ بن لادن سے پیسے لینے والی کہانی خاصی authentic سمجھی جاتی ہے۔ آپکے لیئے ایک لنک پوسٹ کررہی ہوں۔ اس اخبار کو پٹوار نگر میں کافی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ انجوائے۔

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نورین تبسم صاحبہ ۔ و علیکم السلام و رحمۃ اللہ
    حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کے تبصرہ کے بعد مجھے وہ جواب مل گیا جو عام طور پر ملتا ہے ۔ اللہ سب کو خوش رکھے

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    زعف صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    بی بی ۔ میں طالب علم ہوں ۔ آپ واقعی بڑی تاریخ دان ہیں کہ جو علم میں نے کئی کُتب اور دستاویزات کئی سالوں پر محیط دور میں پڑھ کر حاصل کیں وہ سب آپ نے صرف نویں جماعت کی ایک کتاب پاکستان سٹڈیز میں پڑھ لی تھیں ۔ سُبحان اللہ
    آپ نے لکھاہے ” اسامہ بن لادن سے پیسے لینے والی کہانی خاصی مستند سمجھی جاتی ہے“۔ حوالہ دیا ہے نیوز اخبار میں لکھے مضمون کا اور وہ بھی رحمٰن ملک اور سِمنز کے حوالے سے ۔ اول الذکر کا کام بے پر کی چھوڑنا ہے اور سِمنز کا سنسنی خیز کہانیاں لکھ کر روزگار حاصل کرنا ۔ بی بی ۔ 1970ء اور 1980ء کی نواز شریف کی ٹیکس ریٹرنز مانگتے ہوئے خود اپنے لکھے کو بھول گئیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اتفاق فاؤنڈری قومیا لی تھی اور ضیاء الحق نے واپس کی ۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا دور 1972ء سے 1977ء تک تھا ۔ اتفاق فاؤنڈری 1986ء میں واپس کی گئی تھی ۔ 1988ء میں بینظیر بھٹو حکمران بنیں اور اتفاق فاؤنڈری کو بھاری ٹیکس کا نوٹس بھیجوا کر فاؤنڈری کو تالا لگوا دیا تھا
    آپ نے لکھا ہے ”غلامی کا طوق گلے میں ڈالے بغیر پیدا ہوئی ہوں اسلئے منافق نہیں ہوں“۔
    بی بی ۔ منافق کا سرنامہ مجھ پر لگانے کا شکریہ
    بی بی ۔ آپ لکھتی رہیئے ۔ آپ کے دل کی بھڑاس نکل جائے گی تو اس کا آپ کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا
    بی بی ۔ آپ کی دریا دلی ہے کہ آپ نے صرف میری ہی تحقیر پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میرے محترم قارئین کو بھی بے عِلم قرار دے دیا ہے ۔ آپ نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ آپ سے پہلے نورین تبسم صاحبہ تبصرہ کر چکی تھیں جو اعلٰی تعلیم یافتہ اور اعلٰی کردار و اقدار کی مالک باعِلم خاتون ہیں
    آپ کا یہ قیاس درست نہیں کہ تبصرے میں الفاظ کی حد ہونے کی وجہ سے آپ کا لکھا ”شکریہ“ نہیں چھپا ۔ ذرا سی نظر اُٹھاتیں تو طویل تبصرے نظر آ جاتے
    شاید کچھ کسر باقی رہ گئی تھی جو آپ کو مندرجہ ذیل فقرے لکھنے کی حاجت ہوئی
    ۔” آپکے جواب کا بےحد شکریہ۔ میرے لیئے باعثِ تکریم ہے۔ رویئے اگر طنزیہ نہ ہوں تو اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ مخاطب میں ہوں لہٰزا اس کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے تھا۔ آپ بڑے ہیں انشااللّہ ادب کا خیال رکھوں گی“۔

  7. عبدالرؤف

    تاریخ کے حوالے سے کسی بھی دعوے اور نام نہاد حقائق کی بہرصورت تحقیق کی جانی چاہئے۔کیونکہ تاریخ گھڑنے کا عمل نیا نہیں ہے اور نہ ہی اِسے کسی ایک ملک تک محدود سمجھا جانا چاہئے۔ یہ کام ہر جگہ ہوتا ہے۔ تاہم جو بات ہمیں دوسرے ملکوں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے یہ کہ وہاں تاریخ کے سائنسی مطالعے کے لیے مورخین کوماہر سمجھا جاتا ہےاور مورخین ہی تاریخی مبالغوں اور مغالطوں کی واضح انداز میں نشاندہی کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر شخص تاریخ کو اپنا میدانِ عمل اور خود کو اس موضوع میں ماہر تصور کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ٹی وی میزبانوں کو کسی تاریخی نکتے پر ‘ماہرانہ رائے’ درکار ہوتی ہے تو وہ شاذ ہی کبھی کسی مورخ سے رجوع کرتے ہیں۔ اس موقع پر کسی کالم نویس، عوامی مقرر یا بعض اوقات کسی بھی شخص کا بولنا کافی سمجھا جاتا ہے۔ہم نے گھڑی ہوئی تاریخ کے باعث پہلے ہی بہت نقصان اٹھا لیا ہے۔اس لیئے آئیے سچ بولنا شروع کریں، چاہے حقیقت کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    آپ نے بالکل درست لکھا ہے ۔ کمال یہ ہے کہ ایک تاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود اخبار میں مضامین لکھتے رہتے ہیں مگر اُنہیں بھی کبھی نہیں پوچھا جاتا ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثریت چُٹکلے اور سنسنی خیز باتیئں سُننا پسند کرتی ہے ۔ مستند کتابیں پاکستان میں بھی موجود ہیں مگر عام لوگ پڑھنے کا شوق ہی نہیں رکھتے ۔ اب تو عِلم حاصل کرنا اتنا آسان ہے کہ ذرا سی کوشش سے ورلڈ وائڈ ویب پر ہی بہت کچھ مل جاتا ہے مگر بات تو دلچسپی کی ہے

  9. Bushra khan

    Mohtrami janab Ifteqar Ajmal sahab

    Salam e masnoon

    Mujhe comments Bhej ni hai. Baraye meherbani Aap apni mail I’d muje mail kar dijye ga.

    Thanks
    Bushra khan

  10. کاشف

    افتخار صاحب۔

    خوش رھیں۔ جب تک آپ ہم سے عمر میں بڑے ہیں، آپ سے بحث میں کوئی نہیں جیت سکتا۔

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کاشف صاحب
    جو آپ سے قبل پیدا ہوا وہ تو آپ سے عمر میں بڑا ہی رہے گا چنانہ آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی ۔ البتہ بحث میں تو میں کم ہی جیتا ہوں ۔ اگر آپ کا مطلب ہے کہ بڑی عمر کی وجہ سے لوگ میرا لحاظ کرتے ہیں اور حقائق جبھی بیان نہیں کر پاتے تو یہ غلط ہے ۔ زعف صاحبہ کے تبصروں کے بعد تو کم از کم آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیئے ۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ وہ حقائق سامنے لاؤں جو میرے عِلم میں ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ عام طور پر سنسی خیزی اور ٹھٹھہ مذاق پسند کیا جاتا ہے جس کے باعث حقائق روپوش ہو جاتے ہیں

  12. کاشف

    میری رائے ہے کہ آپ اپنے زاویے سے پاکستان کی تاریخ لکھنے کا سوچیں۔ تاکہ کمنٹس کی بارش ہو۔ :)

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کلاشف صاحب
    کیوں میرے پیچھے ڈھول باندھنا چاہتے ہیں
    :)
    پاکستان کی تاریخ ہو یا قومی اہمیت کا کوئی اور مضمون میں سال ہا سال اُس کا مطالعہ مختلف ذرائع سے کرتا ہوں اور اپنے چشم دید واقعات اور ایسے اشخاص کی رائے جنہوں نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو ملا کر خلاصہ لکھتا ہوں ۔ میرے متعلق ایک بات جسے مجھے اچھی طرح نہ جاننے والے سمجھ نہیں پاتے یہ ہے کہ میرے پاس یہ معلومات کیسے پہنچتی ہیں ۔جن تک عام لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ نیت میں خلوص ہو تو اللہ مدد فرماتا ہے اور دوسرے میں نے اپنے اساتذہ کی ھدایات کو یاد رکھا کہ ”جب بھی رائے کا اظہار کرو تو اپنے آپ کو اُس میں سے نکال دو یعنی ذاتی خیال ۔ دوستی دشمنی سب بھول جاؤ“۔
    فوری طور پر صرف وہ تحریر لکھتا ہوں جو میں نے پہلے سے لکھ کر محفوظ کی ہوئی ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر 10 مئی والی تحریر کے حقائق میرے پاس کاغذ پر پین سے لکھے ہوئے ٹکڑوں کی شکل میں محفوظ تھے ۔ اُنہیں مرتب کرنے میں بھی کئی دن لگے
    ایک چھوٹی سی جھلک یہ ہے کہ اس وقت میرے کمپیوٹر میں 22 تحاریر محفوظ ہیں جن میں کچھ ایسی ہیں جو میں نے سکول کالج کے زمانہ میں اپنی ڈائری میں لکھی تھیں ۔ ایک 1962ء کی لکھی ہوئی آج ہی شائع کی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)