اللہُ اللہُ ۔ اللہُ اللہُ کا اثر

میں سر کے بال کٹوانے حجام کی دُکان پر گیا ۔ وہاں ایک خاتون ایک ڈیڑھ ماہ کے بچے کو گود میں لئے بیٹھی تھیں اور حجام بچے کے سر کے پورے بال اُسترے سے اُتا رہا تھا ۔ خاتون بچے کی دادی دکھائی دیتیں تھیں ۔ بچے نے رونا شروع کر دیا تو خاتون نے اللہُ اللہُ ۔ اللہُ اللہُ کا ورد شروع کر دیا ۔ بچہ خاموش ہو گیا ۔ خاتون کے خاموش ہونے کے چند لمحے بعد بچہ پھر رونے لگا اور اس بار چِلانے لگا ۔ خاتون نے پھر اللہُ اللہُ ۔ اللہُ اللہُ کا ورد شروع کر دیا اور جب تک بچہ بھر پور نینڈ نہ سو گیا وہ خاموش نہ ہوئیں

اس سے مجھے یاد آیا ۔ ہمارے ہاں ایک عورت ڈیڑھ دو ماہ کے بچے کے ساتھ آئی ۔ کچھ دیر بعد بچہ بھوک سے رونے لگا ۔ اُ کی ماں نے اُسے تھپکاتے ہوئے 4 بار اللہ اور ایک بار پہلا کلمہ کا ورد شروع کیا ۔بچہ دو تین منٹ کے اندر سو گیا

اللہ کے کلام کا بہت خوشگوار اثر ہوتا ہے ۔ شاید اسی لئے مسمان گھرانوں میں اللہ کے کلام کو لوری کیلئے استعمال کیا جاتا ہے

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “اللہُ اللہُ ۔ اللہُ اللہُ کا اثر

  1. wahaj d ahmad

    Many years ago I read somewhere an article written by a non-Muslim Psychiatrist the beneficial effects effects on depression with repetitive pronunciation of ALLAH daily and he suggested its explanation on a scientific basis the details of which I am not writing here.
    But the report you are giving here is not an uncommon experience with Muslims the CONDITION is the word must be repeated in Arabic form

  2. سیما آفتاب

    بے شک اللہ کے ذکر میں ہی دلوں کا سکون ہے ۔

    میں نے آپ کا لنک میں دیا ہوا بلاگ بھی پڑھا ابھی ۔۔۔۔ اور اس سے مجھے یاد آیا کہ میرے بچپن میں میری امی اور دادی اور بہت سی لوریاں کے ساتھ یہ بھی سناتی تھیں
    اللہ اللہ اللہ ھو لا الہ الا ھو

    :)

  3. Bushra khan

    Jee janab ifteqar sahab
    Apki baat ek had tak durust hai ke Muslim main ko apne bachon ko sulane ke liye Allah Allah kahna chahye take Allah ke nam ka asar ho . Ab ye bhi ek baat hai tha ke itna hota sa bacha kya samje aur jane Allah ka naam.

    Jo ghayr mazhab ki aurten hyn wo bhi apne bachon ko sulati hain Zahir hai wo Allah ka nam thoda leti hongi. Ho sakta hai wo apne dewi dewtaon k nam leti hongi..

    Hosakta hai Aap meri baat se etefaq na Karen bacha Lori se sota hai aur Lori koi si bhi Dhunn ho sakti hai Shyd usi se bacha sota ho.

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بُشرٰی خان صاحبہ
    آپ کی قیمتی رائے سے مُستفید ہونے پر آپ کا مشکور ہوں ۔ آپ کی بات بھی کسی حد تک درست ہے ۔ میری عمر 75 سال سے اُوپر ہو گئی ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے دنیا دکھائی ہے ۔ میں تعلیم اور پیشہ کے لحاظ سے انجنیئر اور سائنسدان ہوں اور عملی زندگی میں یقین رکھتا ہوں ۔ میں رسومات کو دین کی ضد سمجھتا ہوں
    سنجیدہ غیر مُسلم (خواہ ہندو ہوں عیسائی یا یہودی) اللہ کے نام اور اللہ کے کلام کو مانتے ہیں ۔ میں نے کئی غیر مُسلموں کو (بحالتِ مجبوری ہی سہی) اللہ کے نام ۔ کلمہ طیّبہ اور قرآن شریف کی آیات کا ورد کرتے دیکھا ہے ۔ صرف ایک مثال دیتا ہوں ۔ 1977ء میں میں بیلجیئم میں تھا تو ایک بڑی کمپنی کے کمرشل ڈائریکٹر کو جو عیسائی تھا میں تسبیح پھیرتے دیکھتا تھا ۔ میں نے پوچھا ”کیا پڑھتے ہیں ؟“ تو اُس نے بتایا کہ وہ انگلیوں کے ناخن دانتوں سے کاٹتے رہنے کی عادت میں بُری طرح مبتلاء تھا ۔ یہاں تک کہ اُسے اُنگلیوں کی کوئی بیماری ہو گئی ۔ نہ وہ عادت چھوڑ پا رہا تھا نہ ڈاکٹر کچھ کر سکے ۔ سائیکالوجسٹ نے اُسے کہا کہ کسی طرح اُنگلیوں کو ایسا مصرف رکھے کہ یہ عادت چھوٹ جائے ۔ کئی طریقے آزمانے کے بعد بھی عادت نہ چھوٹی ۔ اُس نے مسلمانوں کو تسبیح پھیرتے دیکھا تھا ۔ خیال کیا کہ کیوں نا تسبیح پھیری جائے ۔ سو اُس نے تسبیح پر کلمہ شہادت کا ورد شروع کر دیا اور ایک ماہ کے اندر ہی اُس کی بُری عادت چھوٹ گئی اور اُس کی اُنگلیاں صحتمند ہونے لگیں ۔ اُس نے مجھے دکھایا کہ اُس کی اُنگلیاں بالکل ٹھیک ہو چکی تھیں لیکن اب وہ تسبیح پر کلمہ شہادت مزید بہتری کیلئے پڑھتا تھا ۔ اُس نے بار بار مجھے کہا ”لیکن میں مسلمان نہیں ہوں اور نہ ہوں گا“۔
    اگر آپ کمپیوٹر استعمال کرتی ہیں تو میرے بلاگ کے حاشیئہ میں انگریزی میں لکھے انسٹال اُردو پر کلک کر کے ڈاؤن لود کیجئے پھر اپنے کمپیوٹر پر انسٹال کر لیجئے ۔ یہ عمل صرف 2 منٹ کا ہے ۔ اس سے آپ اُردو باآسانی پڑھ اور انگریزی کی بورڈ استعمال کرتے ہوئے لکھ سکیں گی

  5. عبدالرؤف

    السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    قرآن میں آتا ہے کہ :
    ﴿ الا بذکر الله تطمئن القلوب﴾․ ( الرعد آیت:128)
    خوب سمجھ لو کہ الله کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے۔

    اور حدیث بتاتی ہے کہ :
    عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال النبي صلی الله عليه وسلم کل مولود يولد علی الفطرة فأبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه کمثل البهيمة تنتج البهيمة هل تری فيها جدعاء
    Narrated Abu Hurairah (r.a), the Prophet (pbuh) said: “Every child is born on Al-Fitrah [with a true faith of Islamic Monotheism (i.e. to worship none but Allah alone)] and his parent convert him to Judaism or Christianity or Magianism, as an animal gives birth to a perfect baby animal. Do you find it mutilated?”
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ جانور کی طرح (جو سالم پیدا ہوتا ہے) کیا تم دیکھتے ہو کہ اس میں کوئی ایسا بھی پیدا ہوتا ہے جس کے اعضاء تمام نہ ہوں۔
    [Sahih Al-Bukhari, the Book of Funerals, Hadith: 1385]

    پس ثابت ہوا کہ اللہ کا کلام معصوم اورنا سمجھ بچوں پر بھی اثر انگیز ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم سمجھدار مسلمانوں نے اللہ کے کلام کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کے بجائے صرف جھاڑ پھونک ،تعویز اور برکت کے لیئے مخصوص کردیا ہے، حالانکہ یہ تو اسکا ضمنی فائدہ ہے اور اصل مقصد تو تمام انسانیت کی رہنمائی تھی، اللہ رحم فرمائے ہم سب کی کم عقلی پر — آمین۔

    وسلام
    عبدالرؤف

  6. Bushra khan

    Mohtram Janab Ifteqar Ajmal sahab, Bhopali

    Salam masnoon

    Maine jo msg kal bheja tha apko aj dekha usme kuch kamiyan aur galtian rah gaeen.

    Uski durustgi ke liye Ek dusra msg likh ker junhi blog open ki Send karne ke liye to Apka jawab dekh aur parh ker bahot khushi hui.

    Jee aap ne bilkul sahi kaha ghyr muslimo se kuch islami azkar ka sarzad hona jisse unhe fayda hua ho. Hamare han bhi aysa aksar hua hy un ghyr muslimo se islam ki khubion aur haqqaniyat k barey men jo kafi arsa musalmano ke darmayan rah chuke hon. Kayyon ne islam khubul bhi kiya hai apne tajrubat ke bad.

    Mashallah Aap itni Digriyon ke elawa Scientist bhi hyn ye bat apke blog men mai Read ki thi isse pahle bhi. Albatta age ka pata nahi tha. Mashallah above 75 hone k bawajud Aap ye fariza ab bhi anjam de rahe hyn likhne likhane ka Subhan Allah.

    Allah Aap ko Acha Rakhe aur Dua hai ke Aap isi Tareh likhte bhi rahen.

    Aap jysi oonchi shaqsiyat ke samne Kisi bhi hysiat se Moo kholna.. kya piddi kya piddi ka shorba wali baat hogi.

    Jee janab mai laptop ya computer use nahi karti balke mob use karti hoon. Ab ye msg whatsapp per likh rahi hun. Copy karke Apke blog k comment box men paste kar dungi. Phir dusri majburi ye hai ke mai Urdu typing nahi janti jo Aap ne tarkeeb batai hai apne msg men. Mai sirf isi Tareh likh paungi apko koi eteraz na ho to.

    Ab Mera aaj subah ka likha msg Apki nazar karti hoon.

    Salam masnoon

    Ye mera pahla ettefaq hy ke Kisi blogger ke mazmun per Online hoker maine comment record kiya ho.

    Ma’azrat chahte hue Arz karna chahti hoon ke … Aj Maine Gaor kiya “Salam” kiye bina Maine Apko msg bheja tha aur galtion ke elawa kuch kami rah gai.

    Urdu Source ke jin bloggers ki tahareer mujhe pasand aayin unme Apki tahriren bhi shamil hain.

    Apke mazmun “Allah Allah” ki Lori men ye likhna bhool gai thi ke…

    Apne waqt ke Jyyid imam – Imam ibne Taymiya (rah) ne.. “Gaane o Dhunn Sunne na Sunne ke jawaz men Lori ko Gaana likha hai jo Gaa ker pad-hi jati hai. Yani koi bhi Raag o Dhunn (Music) jo Bache ke dimag ko suroor ki si kyfiat dey jisse bacha sojaye. Isiliye Allah taala ko wo Qirath zyada pasand hai jo Lahen se padd-hi jaye. Allama Ibne Tymiya likhte hyn ke Jannat men Chidyon ki chae cha ha hat aur Hawaon ki sar sara hat aur Aab Sharon o Jharnon ki mili juli awaz se ek Aysa sam’aa bandh jayga ke jannatiyon per suroor ki si kyfiyat taari hogi. Ye bhi Dhun Raag o Music hui.!

    Yani Gaana bajaye khud Gunah nahi hy agar Usme qabile etraz alfaz o ma’na shamil na hon.”

    Ye upar Allama Ibne Tymiya ka Khaol hai.

    Apne waqt ke Azeem Da’ee Mufakkirey Islam, Mujtahide Azam, Allama Ibne Tymiya se bayeed tarr hogi ye baat ke Kisi La yaani Maozoo per wo kalam karte rahe hon.

    Meri naa cheez Raae ko ‘ Ek Soch o Ek Zawiya ‘ janiye Ga.

    Wassalam
    Bushra khan
    Allahabad

  7. نورمحمد

    بے شک محترم

    اللہ نے اپنے پاکیزہ نام میں عجب اثر رکھا ہے ۔۔ ۔۔ ۔’

    مختصر مگر دل کو چھوتی تحریر

    دعاگو ۔ ۔ ۔نون میم

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترمہ بُشرٰی خان صاحبہ ۔ و علیکم السلام و رحمۃ اللہ
    زہے نصیب کہ آج صبح ایک روح پرور تحریر پڑھنے کو ملی ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ کو خوش رکھے ۔ گستاخی کی معافی کے ساتھ عرض ہے کہ میں بھوپال کا رہنے والا نہیں اسلئے بھوپالی نہیں ہوں ۔ اگر خواہش اور فالتو وقت ہو تو تفصیل مندرجہ ذیل یو آر ایل پر پڑھ سکتی ہیں
    https://iabhopal.wordpress.com/my-ancestors/
    آپ نے تو میری بہت زیادہ ہی تعریف کر دی ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی مجھے آپ کے خیالات جیسا بنائے
    آپ نے بالکل درست لکھا ہے کہ غیرمُسلم بھی سچائی کی تلاش میں رہتے ہیں اور کچھ اسے اپنا لیتے ہیں
    آپ کی پہلی تحریر میں مجھے کوئی غلطی یا کمی نظر نہیں آئی البتہ معیار اپنا اپنا ہوتا ہے سو آپ کے مطابق کمی ضرور رہی ہو گی ۔ آپ کی آج کی تحریر آپ کے وسیع عِلم کی غماز ہے ۔ اللہ مجھے بھی عِلم حاصل کرنے کی توفیق دے ۔ اچھی بی بی ۔ میں تو طالبِ عِلم ہوں اور لکھتا بھی دوسروں سے سیکھنے کیلئے ہوں
    میں جناب ابن تیمیہ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کی جراءت نہیں کر سکتا ۔ البتہ میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے لوری گانے کے متعلق لکھا ہے ۔ میں نے بھی دو طرح کی لوریاں دیکھی ہیں ۔ ایک گا کر دی جاتی ہے اور دوسری بغیر گائے ۔ مگر اس میں فرق بتانا ذرا مُشکل ہے ۔ پچھلی 15 صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کا کلام ناسمجھنے والے کو بھی سرور دیتا ہے ۔ جنت میں موسیقی کی جو تشبہیہ آپ نے لکھی ہے ۔ اس دنیا کی موسیقی کی تاریخ پڑھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ افریقہ کے جنگلوں میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ اور ٹکرانے سے خوشگوار موسیقی پیدا ہوتی تھی ۔ انسان نے اسے نقل کیا
    آپ نے الٰہ آباد کا ذکر کیا تو مجھے بچپن یاد آیا جب ایک پھیری والا صدا لگایا کرتا تھا ” الٰہ آباد کے امرود لے لو“۔ اگست 1947ء تک میرے بزرگ بریلی ۔ آگرہ ۔ الٰہ آباد ۔ جبلپور ۔ سکندرآباد ۔ مصر ۔ فلسطین اور جموں میں رہے ۔ بارہویں جماعت تک میرے ہمجماعت اور دوست محمد یعقوب خان الٰہ آباد کے رہنے والے تھے اور اگست 1947ء کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔ اتفاق سے اُنہوں نے بھی اُسی ادارے میں ملازمت کی جس میں میں نے کی ۔ 2 سال قبل مالکِ حقیقی سے جا ملے ۔آپ واٹس اَیپ استعمال کرتی ہیں ۔ پاکستان کے باہر سے میرا موبائل نمبر 00923215102236 ہے ۔ اگر آپ چاہیں تو اسے استعمال کر سکتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)