میں بیوقوف بن گیا

جی ہاں ۔ میں واقعی بیوقوف بن گیا ۔ اور لکھ اِس لئے رہا ہوں کہ آپ ہوشیار ہو جائیں اور میری طرح بیوقوف نہ بنیں ۔ ویسے میں اِتنا بیوقوف نہیں جتنا آپ اب سمجھنے کی کوشش کرنے لگے ہیں ۔ بس ہاتھ ہو گیا میرے ساتھ

بیگم پیچھے لگیں تھیں کہ موسمِ سرما کیلئے ایک اور شلوار قمیض لے لو ۔ بنی بنائی میری پسند کی مل نہیں رہی تھی ۔ 24 دسمبر 2014ء کو میں کلثوم ہسپتال ۔ بلیو ایریا گیا ہوا تھا تو بیگم نے ٹیلیفون پر کہا ”سُنا ہے بلیو ایریا میں ثناء سوٹنگ اینڈ ڈریس میکرز بہت اچھی دکان ہے ۔ وہیں سے کپڑا خرید لاؤ“۔ اپنا خیال مرکز جی 9 المعروف کراچی کمپنی جانے کا تھا لیکن سرتابی کی جراءت نہ ہوئی ۔ چنانچہ ثناء سوٹنگ اینڈ ڈریس میکرز ۔ دکان نمبر 8۔9 چوہدری پلازہ بلیو ایئریا پہنچا اور کہا شلوار قمیض کیلئے اچھا اُونی کپڑا چاہیئے

پتھاریدار یا چھوٹی دکان ہو تو آدمی خریدنے سے قبل بڑے غور سے پرکھتا ہے ۔ اتنی بڑی دکان اور وہ بھی بلیو ایریا میں اور میں پینڈو ۔ اُس نے اُنہی سے سلوانے پر زور دیا ۔ وہ 1000 روپیہ سلائی لیتے ہیں اور محلے والا 600 روپیہ ۔ سوچا اتنا مہنگا کپڑا لیا ہے کہیں محلے والا درزی خراب نہ کر دے ۔ چنانچہ مان لیا اس شرط پر کہ سِلنے کے بعد گھر پہنچایا جائے گا ۔ یکم جنوری 2015ء کو پہنچانے کا وعدہ تھا لیکن نہ پہنچا ۔ 2 بار ٹیلیفون کرنے پر 2 جنوری جمعہ کے دن پہنچایا جب میں نماز پڑھنے گیا ہوا تھا۔ بیگم نے پیسے دے کر وصول کر لیا

میں گھر پہنچا تو دیکھا کہ کپڑا اُونی نہیں بلکہ نائلون قسم کا ہے اور اتنا گرم بھی نہیں ۔ اب معلوم نہیں اُس نے مجھے اُونی دکھایا اور سِلنے کیلئے کوئی اور دے دیا یا میری نظر بڑی دکان دیکھ کر اتنی چکاچوند ہو گئی تھی یعنی میں ہپنوٹائز ہو گیا تھا اور نائلون بھی مجھے بڑھیا اُون دکھائی دی

میرے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا ۔ کہتے ہیں ہمسایہ ماں جایہ ۔ مجھے شاید محلے والے درزی کا حق مارنے کی سزا ملی ہے
میری قارئین سے درخواست ہے کہ ثناء سوٹنگ اینڈ ڈریس میکرز ہو یا کوئی اور بڑی سے بڑی دکان ۔ دکاندار کی پیاری گفتگو کو نظر انداز کرتے ہوئے اچھی طرح دیکھ بھال کر کے چیز خریدیئے

This entry was posted in آپ بيتی, انتباہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “میں بیوقوف بن گیا

  1. ارتقاء حیات

    ایسے واقعات چند بار میرے ساتھ بھی ہوئے ہیں کپڑوں کا رنگ ، ڈئزائن اور کڑھائی و سلائی
    یہ کافی کچھ بھگت چکی ہوں کئی بار
    اب تو بس سنبھل کر کپڑا لاتی ہوں اور جاننے والی کو دیتی ہوں
    بھروسہ بھی آخر آزما کر ہی کیا جاتا ہے۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اُم تحریم صاحبہ
    اللہ کا شکر ہے کہ آپ خیریت سے ہیں اور پاکستان ہی میں ہیں ۔ آُ کی لمبی غیر حاضری کی وجہ سے میں متفکر رہا ۔ کئی بار سوچا کہ راحیل صاحب کو ٹیلیفون کر کے خیریت دریافت کروں لیکن عمل جامہ پہنانے سے قاصر رہا
    ہمارے معاشرے میں یہ چھوٹی چھوٹی برائیاں ہیں جو بہت بڑے اثرات رکھتی ہیں ۔ یہ بگاڑ دین سے دُوری کا نتیجہ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)