67 سال قبل آج کے دن

30 نومبر 2014ء کو عمران خان نے 6 مطالبات دہرانے کے بعد اعلان کیا ”۔ ۔ ۔ ۔ میں 16 دسمبر کو پاکستان بند کر دوں گا“۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ ٹی وی پر مجیب الرحمٰن 6 مطالبات پیش کرتے ہوئے اعلان کر رہا ہے کہ ”مطالبات نہ مانے گئے تو میں پاکستان بند کر دوں گا”۔ اُس نے سونار بنگلہ بنانے کا اعلان کیا تھا پھر 16 دسمبر 1971ء کو بھارت کی مدد سے اُس نے سونار بنگلہ بنا دیا ۔ عمران خان بھی نیا پاکستان بنانے کا دعوٰی کر رہا ہے ۔ میں سوچ رہا تھا اور سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ عمران خان کس مٹی سے بنا ہے کہ اسے مُلک اور قوم کے ساتھ پیش آنے والا اتنا بڑا سانحہ بھی یاد نہیں اور اُسی تاریخ کو پاکستان کو بند کرنے کا دعوٰی کر رہا ہے

16 دسمبر 1971ء
کو میں نے بہت آنسو بہائے تھے ۔ میرے ایک پرانے کولیگ کرنل میاں محمد اسلم جو مکینیکل انجنیئر تھے نے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے صدمہ کے زیرِ اثر فوج سے مستعفی ہو کر داڑھی رکھ لی تھی اور اللہ اللہ میں مشغول ہو گئے تھے ۔ پوچھنے پر بتایا تھا کہ ”یہ سانحہ ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے“۔

سوچتے سوچتے پاکستان بننے کے دنوں میں پہنچ گیا ۔ مجھے آج کی تاریخ یاد آئی جب 1947ء میں اپنی 2 بڑی بہنوں (12 سال اور 15 سال) کے ساتھ گھر والوں سے پونے تین ماہ بچھڑے رہنے کے بعد ہجرت کر کے لاوارث بچوں کے قافلے میں پاکستان پہنچا تھا ۔ 18 دسمبر 1947ء سے قبل کے حالات کا خلاصہ میں مندرجہ ذیل تاریخوں کو شائع کر چکا ہوں
میرا بچپن ۔ 14 مارچ 2011ء کو شائع ہوا
قتلِ عام کی ابتداء ۔ 30 اکتوبر 2010ء کو شائع ہوا
میری ہتھیلیاں کانٹوں سے چھلنی ۔ 13 نومبر 2010ء کو شائع ہوا
6 نومبر کا قتلِ عام ۔ 6 نومبر 2014ء کو شائع ہوا

ہماری روانگی اور پاکستان آمد
ہمارے پڑوسی کرنل عبدامجید کے بھائی جموں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ تھے ۔ نومبر 1947ء کے وسط میں وہ چھاؤنی آئے اور بتایا کہ” شیخ محمد عبداللہ کو وزیراعظم بنا دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ امن ہو جائے گا ۔ جموں کے تمام مسلمانوں کے مکان لوٹے جاچکے ہیں اور تمام علاقہ ویران پڑا ہے” ۔ واپس جا کر انہوں نے کچھ دالیں چاول اور آٹا وغیرہ بھجوا دیا ۔ چار ہفتہ بعد ایک جیپ آئی اور ہمارے خاندان کے چھ بچوں یعنی میں میری 2 بہنیں ۔ 2 سیکنڈ کزنز اور اُن کی پھوپھو کو جموں شہر میں کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کے گھر لے گئی ۔ وہاں قیام کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ 6 نومبر کو مسلمانوں کے قافلے کے قتل عام کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور نشنل کانفرنس کے مسلمانوں کے عِلم میں بھی وقوعہ کے بعد آیا ۔ وہاں کچھ دن قیام کے بعد ہمیں زخمی عورتوں اور دیگر لاوارث بچوں کے ساتھ مدراسی فوجیوں کی حفاظت میں 18دسمبر 1947ء کو سیالکوٹ پاکستان بھیج دیا گیا

ہمارے بغیر ہمارے بزرگوں کی جو ذہنی کیفیت ہوئی اُس کا اندازہ اِس سے لگائیے کہ جب ہماری بس سیالکوٹ چھاؤنی آ کر کھڑی ہوئی تو میری بہنوں اور اپنی بیٹی کے نام لے کر میری چچی میری بہن سے پوچھتی ہیں “بیٹی تم نے ان کو تو نہیں دیکھا” ۔ میری بہن نے کہا “چچی جان میں ہی ہوں آپ کی بھتیجی اور باقی سب بھی میرے ساتھ ہیں”۔ لیکن چچی نے پھر وہی سوال دہرایا ۔ ہم جلدی سے بس سے اتر کر چچی اور پھوپھو سے لپٹ گئے ۔ پہلے تو وہ دونوں حیران ہوکر بولیں ” آپ لوگ کون ہیں ؟ ” پھر ایک ایک کا سر پکڑ کر کچھ دیر چہرے دیکھنے کے بعد اُن کی آنکھوں سے آبشاریں پھوٹ پڑیں ۔ کچھ دیر بعد ذرا سنبھلیں تو ہماری رجسٹریشن کروائی اور حوالگی لے کر سیالکوٹ شہر چلے گئے جہاں وہ ہمارے ایک رشتہ دار کے ہاں سکونت پذیر تھے

پاکستان پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے دادا کا جوان بھتیجا جموں میں گھر کی چھت پر بھارتی فوجی کی گولی سے شہید ہوا ۔ میرے دادا کے بھائی اور ہمارے سیکنڈ کزنز کے دادا 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے اور آج تک اُن کی کوئی خبر نہیں ۔ میں لکھ چکا ہوں کہ میرے والدین فلسطین میں تھے اور ہم دادا ۔ دادی اور پھوپھو کے پاس تھے ۔ میرے دادا ۔ دادی اور پھوپھو بھِیڑ بھاڑ سے گبھرانے والے لوگ تھے اِس لئے انہوں نے پہلے 2 دن کے قافلوں میں روانہ ہونے کی کوشش نہ کی تھی ۔ جو عزیز و اقارب پہلے 2 دن کے قافلوں میں روانہ ہوئے ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا تھا

جب ہمارے بزرگ ابھی پولیس لائینز جموں میں تھے تو چند مسلمان جو 6 نومبر کے قافلہ میں گئے تھے وہ چھپتے چھپاتے کسی طرح 7 نومبر کو فجر کے وقت پولیس لائینز پہنچے اور قتل عام کا حال بتایا ۔ یہ خبر جلد ہی سب تک پہنچ گئی اور ہزاروں لوگ جو بسوں میں سوار ہو چکے تھے نیچے اتر آئے ۔ وہاں مسلم کانفرنس کے ایک لیڈر کیپٹن ریٹائرڈ نصیرالدین موجود تھے انہوں نے وہاں کھڑے سرکاری اہلکاروں کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا
“پولیس لائینز کی چھت پر مشین گنیں فِٹ ہیں اور آپ کے فوجی بھی مستعد کھڑے ہیں انہیں حُکم دیں کہ فائر کھول دیں اور ہم سب کو یہیں پر ہلاک کر دیں ہمیں بسوں میں بٹھا کے جنگلوں میں لے جا کر قتل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں یہیں قتل کر دیا جائے اس طرح آپ کو زحمت بھی نہیں ہو گی اور آپ کا پٹرول بھی بچےگا “۔
چنانچہ 7 اور 8 نومبر کو کوئی قافلہ نہ گیا ۔ اسی دوران شیخ عبداللہ جو نیشنل کانفرنس کے صدر تھے کو وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ اس نے نابھہ اور پٹیالہ کے فوجیوں کو شہروں سے ہٹا کر ان کی جگہ مدراسی فوجیوں کو لگایا جو مسلمان کے قتل کو ہم وطن کا قتل سمجھتے تھے ۔ میرے دادا ۔ دادی ۔ پھوپھو اور خاندان کے باقی بچے ہوئے 3 لوگ 9 نومبر 1947ء کے قافلہ میں بسوں پر پاکستان کی سرحد سے کچھ دور پہنچے ۔ بسوں سے اتر کر کئی کلو میٹر پیدل چل کر سرحد پار کر کے سیالکوٹ چھاؤنی پہنچے تھے

This entry was posted in آپ بيتی on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)