پیار کا ایک اور رُخ

میں اپنی چھوٹی پوتی ھناء کے پیار کا طریقہ لکھ چکا ہوں
میرا پوتا ابراھیم ہمارے ساتھ پیار کا زبان سے بہت کم اظہار کرتا ہے ۔ وہ ابھی ایک سال کا تھا کہ ہم ایک ماہ کیلئے دبئی گئے تو اُس نے ہمیں پہلی بار دیکھا اور چند1932351_10152391747461156_6284905569951163734_nFB دنوں میں بہت مانوس ہو گیا ۔ ابراھیم کی دادی صوفہ پر بیٹھ کر نماز پڑھتیں تو ابراھیم ہاتھ پاؤں پر چلتا اُس کے پاس پہنچ جاتا اور دادی کی ٹانگ کے سہارے اُس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ۔ جب دادی رکوع یا سجدے کیلئے جھُکتیں تو وہ دادی کو گال پر چوم لیتا ۔ یہ ابراھیم کا معمول بن گیا

میں بڑے صوفہ پر بیٹھا ہوتا تو ابراھیم میرے قریب آ کر اشارے سے صوفے پر بیٹھنے کا کہتا ۔ میں اُسے اُٹھا کر بٹھا دیتا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ کھِسکنا شروع کرتا اور میرے ساتھ جُڑ کر بیٹھ جاتا ۔ چند منٹ بعد وہ اپنا ایک پاؤں میری ٹانگ پر رکھ دیتا ۔ تھوڑا تھوڑا کھِسکتے کسی طرح زور لگا کر ابراھیم میری گود میں پہنچ جاتا اور سر پیچھے کو جھُکا کر اُوپر میرے چہرے کی طرف دیکھتا ۔ اس پر میں اُسے گلے لگاتا اور پیار کرتا تو ابراھیم بہت خوش ہوتا ۔ یہ بھی اس کا معمول بن گیا

اگلی بار ہم گئے تو ابراھیم ڈیڑھ سال کا تھا ۔ اب طریقہ بدل گیا ۔ ابراھیم میرا ہاتھ پکڑ لیتا اور مجھے کھینچتا ہوا اپنے کمرے میں لیجاتا ۔ وہاں مجھے گیند یا دوسرے کھلونے نکالنے کا کہتا ۔ جب میں نکال کر اُسے دیتا تو خود اُن سے کھیلنے کی بجائے مجھے اُن سے کھیلنے کا کہتا ۔ میں کھیلتا اور وہ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ۔ کبھی مجھے بلاکس یا لِیگو سے مکان بنانے کا کہتا ۔ میں بناتا ۔ جب مکان مکمل ہونے کو ہوتا تو تھوڑا توڑ دیتا اور اسے مکمل کرنے کا کہتا ۔ ایک دن ابراھیم نے 3 بار مکان توڑا تو میں اُٹھ کر صوفہ پر بیٹھ گیا ۔ ابراھیم مجھے کنکھیوں سے دیکھتا رہا اور تھوڑی دیر بعد صوفہ پر چڑھ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ پھر اُس نے وہی کیا جو ایک سال کی عمر میں کرتا تھا۔ اس اضافے کے ساتھ کہ مجھے لپٹ کر چوم لیا ۔ میں نے ہنس کر ابراھیم کو پیار کیا تو کھِل اُٹھا ۔ بعد میں مجھے کہنے لگا اب بنائیں میں نہیں توڑوں گا

جون 2012ء میں ہم 2 ماہ کیلئے دبئی گئے ۔ اس دوران وہ لیگو یا جِگ سا پزل نکالتا اور خود جوڑنے لگ جاتا جہاں سمجھ نہ آتی یا اُس سے نہ بن رہا ہوتا تو میری طرف دیکھنے لگ جاتا لیکن بولتا کچھ نہیں تھا ۔ مطلب یہ ہوتا کہ میں مدد کروں ۔ کبھی کہتا میرے سات آنکھ مچولی ( لُکن مِیٹی یا چھپن چھوت ۔ انگریزی میں ہائیڈ انیڑ سِیک) کھیلو

اس سال ہم جنوری میں 3 ماہ کیلئے دبئی گئے ۔ ابراھیم ماشاء اللہ ساڑھے 4 سال کا تھا اور نرسری سکول جاتا تھا ۔ کبھی کاغذ پر لکھ کر I love Dada مجھے دے جاتا اور کبھی I love Dado لکھ کر اپنی دادی کو دیتا ۔ ایک دن کاغذ پر خلائی جہاز (Space Ship) بنا کر اُس میں ایک پائلٹ بنا دیا اور سامنے ایک عورت بنا کر اُسے کے ہاتھ میں بڑا سا گُلدستہ بنا دیا ۔ پھر آ کر بتانے لگا کہ خلائی جہاز میں دادا ہیں (انجنیئر جو ہوا) ۔ اور گلدستہ والی دادی ہیں ۔ جب واپسی میں چند دن رہ گئے تو 2 بڑے کاغذ لے کر ان پر اچھی کارکردگی کے سرٹیفیکیٹ بنائے جس طرح کا اُسے سکول سے ملا تھا اور نیچے لکھا دستخط ۔ ابراھیم ۔ ایک دادا کیلئے تھا اور ایک دادی کیلئے (Certificate of Good Performance for Dada, Signed by: Ebrahim )
کبھی کہتا آئی پیڈ پر میرے ساتھ ساتھ ٹینس وغیرہ کھیلو

گذشتہ عیدالاضحےٰ پر ہمارے پاس اسلام آباد آئے ہوئے تھے ۔ دن میں کم از کم ایک بار ابراھیم میرے قریب آ جاتا لیکن بولتا کچھ نہیں ۔ میں پکڑ کر گودی میں بٹھاتا تو مجھ سے لپٹ جاتا ۔ واپس جانے سے ایک دن قبل ابراھیم نے اپنی دادی سے ایک کاغذ مانگا ۔ تو اُنہوں نے دے دیا ۔ اُس پر کچھ لکھنے لگا تو دادی کہیں اور مصروف ہو گئیں ۔ اُن کے جانے کے بعد وہ کاغذ میز پڑا پایا تو اُٹھا کر دیکھا ۔ اس پر لکھا تھا ” I love you”

This entry was posted in آپ بيتی, روز و شب, طور طريقہ, یادیں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “پیار کا ایک اور رُخ

  1. wahaj d ahmad

    Buhut piyara hay mashaAllah
    Since I became grandfather I also learnt the same thing. These children want to ‘share’ their toys (their world) with you I. It is so sweet
    Me being a Neurologist see such performance of the one year old or one and a half year old indicates very high intellectual level of the child (precocious)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)