نہ مانیئے لیکن غور ضرور کیجئے

٭ عراق پر قبضے کے بعد 2003 میں امریکی صدر بش نے جہادی اسلام کے مقابلے میں لبرل اسلام کو فروغ دینے کیلئے مسلم ورلڈ آوٹ ریچ (Muslim World Outreach) پروگرام شروع کیا ۔ اس کیلئے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر مختص کئے ۔ اس پروگرام کے تحت جن ممالک پر خصوصی توجہ دینی تھی ان میں پاکستان سرفہرست تھا۔ 2003 میں یہ پروگرام شروع ہوا اور 2004 میں علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اچانک اور پراسرار طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی حالانکہ 1989 میں سیاست کے آغاز کے بعد وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں پہنچے تھے ۔ مسلم ورلڈ آوٹ ریچ پروگرام کے تحت امریکہ نے نئے تعلیمی ادارے اور مدرسے کھولنے تھے اور ڈاکٹر قادری کے مخالف کہتے ہیں کہ اگلے تین سالوں میں منہاج القرآن کے تحت پنجاب میں سینکڑوں تعلیمی ادارے قائم کئے گئے جبکہ وہ خود کینیڈا میں مقیم ہوگئے

٭ برطانیہ میں مقیم متنازعہ مذہبی عقائد کے حامل اور خانہ کعبہ کو گالیاں دینے والے فتنہ بردار یونس الگوہر (خانہ کعبہ اور پاکستانی سیاسی رہنمائوں کے بارے میں ان کے خرافات کی ویڈیو یوٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے) کی طرف سے ڈاکٹر طاہرالقادری اورعمران خان کی حمایت کے اعلان اور پی ٹی آئی کے دھرنے میں ان کے پیروکاروں اور بینرز کی موجودگی حیران کن اور پریشان کن ہے ۔

٭ کچھ عرصہ قبل عمران خان اور طاہرالقادری کو ایک ساتھ ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں ایک ساتھ بلانے اور پھر دھرنوں کی منصوبہ بندی کے لئے لندن میں ان کی خفیہ ملاقات کرانے (جس کو خان صاحب نے اپنی کور کمیٹی سے بھی چھپا کے رکھا) سے بھی پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے

٭ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے کم وبیش تمام ارکان اور رہنمائوں نے متعلقہ فورمز پر دھرنوں اور استعفوں کی مخالفت کی اور صرف اور صرف شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی طرف سے ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ مل جانے پر اصرار سے بھی پتہ چلتا ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔ واضح رہے کہ امریکیوں نے پاکستان اور افغانستان میں جو صوفی کانفرنس منعقد کرنا تھی افغانستان میں اس کا انتظام رنگین دادفر سپانتا جبکہ پاکستان میں اسےشاہ محمود قریشی نے کرنا تھا ۔ ہیلری کلنٹن سے شاہ محمودقریشی کی قربت اور امریکی ا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں اپنے بیٹے کو تربیت دلوانے کے عمل کو پیش نظر رکھا جائے تو کڑیاں مزید مل جاتی ہیں

٭ امریکہ نے پہلی بار پاکستان میں لبرل اور صوفی اسلام کو فروغ دینے کے عمل کا آغاز جنرل پرویز مشرف کی سرکردگی میں کیا تھا ۔ تب سے اب تک صوفی کانگریس کے سرپرست چوہدری شجاعت حسین ہیں ۔ اب یہ عجیب تقسیم نظر آتی ہے کہ ڈاکٹر قادری صاحب کے ایک طرف یہی چوہدری شجاعت حسین دوسری طرف پرویز مشرف کے وکیل قصوری نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح عمران خان کو بھی جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے پرویز مشرف کے سابق ساتھیوں کے نرغے میں دے دیا گیا ہے ۔ پرویز مشرف کے دور کے ریٹائرڈ افسران کو بھی بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ دونوں کیمپوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ کورٹ مارشل ہونے والے گنڈا پور یا پھر ائرمارشل (ر) شاہد لطیف جیسے طاہرالقادری کے ساتھ لگا دئیے گئے ہیں جبکہ بریگیڈئر (ر) اعجاز شاہ اور بریگیڈئر (ر) اسلم گھمن جیسے لوگ عمران خان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے وزیر خاص شیخ رشید احمد کو عمران خان صاحب اپنا ملازم رکھنے پر بھی راضی نہ تھے لیکن آج نہ صرف وہ ان کے مشیر خاص بن گئے ہیں بلکہ تحریک انصاف کاا سٹیج پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی بجائے ان کو میّسر رہتا ہے

٭ اس وقت اسلام آباد میں درجنوں کی تعداد میں برطانیہ ۔ کینیڈا اور امریکہ سے آئے ہوئے خواتین و حضرات مقیم ہیں ۔ ان میں سے بعض تو کبھی کبھار دھرنوں کے کنٹینروں پر نظر آجاتے ہیں لیکن اکثریت ان میں ایسی ہے جو مختلف گیسٹ ہائوسز یا ہوٹلوں میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنمائوں کے ساتھ خلوتوں میں سرگوشیاں کرتی نظر آتی ہے

٭ وہ لبرل اور سیکولر اینکرز اور دانشور جو پچھلے سالوں میں عمران خان کو طالبان خان کہتے تھے اور جن کی شامیں عموماً مغربی سفارتخانوں میں مشروب مغرب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گزرتی ہیں اس وقت نہ صرف عمران خان کے حق میں بھرپور مہم چلا رہے ہیں بلکہ مدرسے اور منبر سے اٹھنے والے علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو مسیحا کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ یہ لوگ جماعت اسلامی ۔ جے یو آئی ۔ جے یو پی اور اسی طرح کی دیگر جماعتوں کے تو اس بنیاد پر مخالف تھے اور ہیں کہ وہ سیاست میں اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں لیکن اپنی ذات اور سیاست کے لئے بھرپور طریقے سے اسلام کے نام کو استعمال کرنے والے طاہرالقادری ان کے پیارے بن گئے ہیں جبکہ گزشتہ سات سالوں میں اپنی سیاست کو طالبان کی حمایت اور ڈرون حملوں کی مخالفت کی بنیاد پر چمکانے والے عمران خان ان کو اچھے نظرآتے ہیں ۔ عمران خان کی طرف سے ڈرون حملوں کی مخالفت اور طالبان کی حمایت اچانک اور مکمل طور پر ترک کردینے اور لبرل اینکرز اور دانشوروں کی طرف سے اچانک ان کے حامی بن جانے کے بعد شاید اس بات کو سمجھنے میں دقت نہیں ہونی چاہیئے کہ ڈوریں مغرب سے ہل رہی ہیں ۔

٭ ہم جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک لمبے عرصے تک عمران خان کی نشانہ نمبر ون تھی ۔ انہوں نے اپنی جماعت کی خاتون لیڈر کے قتل کاالزام الطاف حسین پر لگایا۔ ان کے خلاف وہ برطانیہ کی عدالتوں تک بھی گئے ۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی صلح اس وقت پر کس نے اور کیوں کرائی ۔ دوسری طرف میاں نوازشریف قادری صاحب کے دشمن نمبر ون ہیں لیکن جب وہ لاہور میں جہاز سے اتر رہے تھے تو انہوں نے پورے پاکستان میں صرف اور صرف میاں نوازشریف کے چہیتے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو اپنے اعتماد کا مستحق سمجھا (اگرچہ گورنر چوہدری سرور اس طرح کی سازش میں شمولیت کے حوالے سے بڑی پرجوش تردید کرچکے ہیں)۔ اب چوہدری سرور میں اس کے سوا اور کیا خوبی ہے کہ وہ برطانوی سیٹیزن ہیں اور وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں۔ نہ صرف منصوبہ بندی لندن میں ہوئی تھی بلکہ اب تنازعے کو ختم کرنے کے لئے چوہدری سرور اسلام آباد آنے کی بجائے الطاف حسین کے پاس لندن جاپہنچے ہیں

ماخذ ۔ جرگہ

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, سیاست, طور طريقہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “نہ مانیئے لیکن غور ضرور کیجئے

  1. kashif

    افتخار صاحب۔
    آدمی کے نظریات، اور اس کی زندگی کے اعمال کو ایک دوسرے سے مطابقت رکھنی چاھیئے؟
    میں جب بھی آپ کے بلاگ پر بیان کیے گئے آپ کے سازشی تصورات پڑھتا ھوں اور ان کو آپ کی زندگی کے ایک اہم حصے یعنی آپ کی اولاد کے ساتھ تقابل کرتا ہوں تو بظاہر بعُد المشرقین پاتا ہوں۔
    بیرونی ممالک سازشی ہیں۔ ٹھیک، متفق۔ ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں جن کا بین الملکی اخلاقی اصول و ضوابط سے میل کھانا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
    لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ ایسے سازشی ممالک میں اولاد کیوں پڑھنے اور کام کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں ہم؟ کیا اس لیے کہ ہر بندے کے بھی اپنے مفادات ہوتے ہیں، جن کا بندے کے تصورات پر فٹ ہونا ضروری نہیں؟۔
    واضح رہے کہ میرے اپنے بچے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سکولوں کی بجائے کفار کے ترتیب کردہ تعلیمی نظام میں داخل ہیں اور ارادہ یہی ہے کہ ان کو مستقبل میں کسی دارالکفر میں ہی بھیجنے کی کوشش کروں گا۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کاشف صاحب
    آپ نے نفسِ مضمون کو چھوڑ کر میری اور اپنی ذات کے متعلق بات کی ہے ۔ میں اپنی اور دوسروں کی ذات کو الگ رکھ کر پڑھنے اور لکھنے کا عادی ہوں اسلئے سازشی نظریات کا اثر نہیں لیتا ۔ درست ہے کہ ہر مُلک اپنے مفادات کیلئے کام کرتا ہے ۔ اتفاق کہہ لیجئے یا بدقسمتی یا جاہلیت کہ ہمارے اربابِ اختیار اور عوام کی اکثریت ذاتیات میں اُلجھی رہتی ہے جس کے نتیجہ میں مُلک اور خاندان دونوں کو نقصان پہنچتا ہے
    میں سمجھتا ہوں کہ مُلکی اداروں میں متعلقہ تعلیم کا خاطر خواہ بندوبست ہوتے ہوئے جو شخص اپنے بچوں کو غیرمُلکی اداروں میں بہت زیادہ اخراجات کر کے تعلیم دِلواتا ہے وہ احساسِ کمتری میں مبتلاء ہوتا ہے ۔ کم و بیش یہی کُلیہ مُلک سے باہر ملازمت پر بھی منطبق ہوتا ہے
    میں نے اس بلاگ کے لکھنے کا مقصد مختصر اور آسان الفاظ میں بلاگ کے عنوان کے نیچے لکھ رکھا ہے اور میں اس کا پابند رہنے کی پوری کوشش کرتا ہوں ۔ جب قاری میری تحریر تک محدود رہنے کی بجائے ماحول کے تناؤ کے زیرِ اثر آ جاتا ہے تو بہت دُور نکل جاتا ہے ۔ اگر کبھی وقت ملے تو دس سال کی تحقیق کے بعد لکھے ہوئے میرے مضمون کا یہ حصہ پڑھ لیجئے گا ۔ شاید واضح ہو جائے کہ ”جو کچھ نظر آتا ہے ضروری نہیں کہ وہی ہو جو دیکھنے والا سمجھا ہو“۔
    http://iabhopal.wordpress.com/8acommunication/

  3. Kashif

    میرا سوال بہت ذاتی تھا۔ اسی لیے میں نے پہلے سوچا کہ آپ سے ای میل پر رہنمائی لوں۔ اور پھر لکھا بھی کہ اگر یہ سوال برا لگے تو ڈیلیٹ کر ماریں، لیکن پھر سوچا کہ آپ سیدھے سادے سچے شخص ھیں اور برا نہیں مانیں گے۔ اسی لیے ڈلیٹ کرنے والا جز حذف کردیا۔

    کمیونیکیشن پر آپ کے ملفوظات پڑھ کر خوشی ہوئی۔ جب (اور اگر) کبھی بڑا آدمی بن کر حکم چلانے کا موقع ملا تو آپ کے بتائے اصولوں کو آزماوں گا۔ (ویسے میری ازلی نااہلی و نالائقی و خودسر رویے کے سبب اس کے امکان صفر ہیں۔) البتہ آپ کے شک کے باوجود میرے سوال میں کوئی دو مونہے مطلب نہیں۔
    اگر آپ کو برا لگا تو ناسمجھ و بدتمیز سمجھ کر درگزر کریں۔
    چوہدری سرور٬ طاہرالقادری و نواز شریف و دیگر اوورسیز سٹیزن محب وطن افراد ہیں۔ ان کے بارے محض بیرونی پاسپورٹوں کے سبب بدگمانی مناسب نہیں

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کاشف صاحب
    چوہدری سرور عرصہ دراز برطانیہ میں رہنے کے باوجود پاکستانی ہے ۔ رہا طاہر القادری تو اس کے متعلق آپ کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ آپ سوچئے کہ ایک شخص جس دین کا نام لے کر لوگوں کو گرویدہ بناتا ہو اسی دین میں غلُو کرتا ہو ۔ کیا وہ قابلِ اعتبار ہے ؟ انسانوں کے ساتھ سلوک کی بات کریں تو جس شخص نے طاہرالقادری کو معروف کرنے میں سالہا سال بے دریغ اخلاقی اور مالی امداد دی غلط بات نہ ماننے پر طاہرالقادری اُس کے خلاف زہر اُگلنا شروع کر دے جبکہ اُس کی دی ہوئی بے شمار غیر منقولہ جائیداد بھی اپنے پاس رکھے تو ایسا شخص محبِ وطن کیسے ہو سکتا ہے ؟
    بڑا آدمی بننے کے بعد تو ہر کوئی حُکم چلانا اپنا فرض سمجھنے لگتا ہے ۔ کل نہ کبھی آئی ہے اور نہ آئے گی ۔ جو کچھ کرنا ہے وہ آج ہی سے کرنا ہو گا ۔ اگر یقین نہ ہو تو میرے کالج کے اور نوجوانی کے ساتھی تلاش کر کے تسلّی کر لیجئے ۔ میں صرف وہی اسلوب یا کام کی توقع دوسرے سے کرتا ہوں جس پر میں خود عمل پیرا ہوتا ہوں جس مضمون کا میں نے حوالہ دیا ہے مارچ 1975ء میں لکھا تھا ۔ اس موضوع پر سوچنا میں نے 1962ء میں عملی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی شروع کر دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)