خوشی مناؤں یا ماتم

اتفاق سے 6 اگست (میں دِن نہیں تاریخ کہوں گا) کو میں پيدا ہوا تھا ۔ اب تو جو کچھ عراق ۔ افغانستان اور لِبیا میں ہوا اور دہشتگرد ریاست اسرائیل کی پُشت پناہی کی وجہ سے امریکہ کا کردار کھُل کر سامنے آ چکا ہے لیکن اُس دور میں کسی کے وہم و گماں ميں نہ تھا کہ امريکا ايک بڑی طاقت بن کر دنيا ميں بڑے پيمانے پر دہشتگردی کا آغاز کرے گا
اور
ميں اپنی پيدائش کے دن خوش ہونے کی بجائے مغموم بيٹھا کروں گا

جاپان کے شہر ہيروشيما جس کی آبادی 3 اور 4 لاکھ کے درميان تھی پر 6 اگست 1945ء کو صبح سوا آٹھ بجے دنیا کا پہلا ( اللہ کرے آخری ہو) ایٹم بم گرايا گيا جس کے نتیجہ میں

آگ کا اايک گولہ اُٹھا جس کا قطر 30 ميٹر تھا اور درجہ حرارت 3 لاکھ درجے سَيلسيئس ۔
اس تابکاری بادل کی اُونچائی 17000 ميٹر تک پہنچی اور اس کے بعد کالی بارش ہوئی جس سے تابکاری فُضلہ [radioactive debris] ايک بہت بڑے علاقہ پر ايک گھنٹہ تک گرتا رہا
اس 3 لاکھ درجے سَيلسيئس حرارت کے نتيجہ ميں
بم گرنے کی جگہ کے گرد کم از کم 7 کلو ميٹر قُطر کے دائرہ ميں موجود جانداروں کے جسم کی کھال جل گئی
آنکھوں کی بينائی جاتی رہی
2 کلو ميٹر قُطر کے اندر موجود ہر جاندار جل کر راکھ ہو گيا
گھروں کے شيشے اور ٹائليں پگھل گئيں
جو کوئی بھی چيز جل سکتی تھی جل کر راکھ ہو گئی
6 سے 10 کلو ميٹر کے اندر موجود انسان تابکاری اثرات کی وجہ سے بعد ميں کينسر اور دوسری خطرناک بيماريوں سے ہلاک ہوتے رہے

1976ء ميں اقوامِ متحدہ ميں ديئے گئے اعداد و شمار کے مطابق
6 اگست 1945ء کو ہيرو شیما کے ايٹمی دھماکہ ميں
ہلاک ہونے والوں کی تعداد 150000 کے قريب تھی
ايٹمی دھماکہ سے متاءثر 352550 لوگوں کو 1957ء میں علاج کی سہولت مہياء کی جا رہی تھی
تابکاری اثرات کے تحت کئی سال تک عجيب الخلقت بچے پيدا ہوتے اور مرتے رہے

تفسیل پڑھنے کیلئے یہاں اور پھر یہاں کلِک کیجئے

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

1 thought on “خوشی مناؤں یا ماتم

  1. نورمحمد

    اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ ۔

    اللہ آپ کی عمر میں برکت عطا کرے اور ہمیں آپ کے علم سے نفع حاصل کرنے کی توفیق نصیب کرے ۔ آمین

    محترم ۔ ۔ کیا ایٹم بم کے بارےمیں مذید تفصیل مجھے کہیں مل سکتی ہے ۔ ۔ ۔ اردو میں ؟ ؟ ؟

    والسلام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)