کل سے میں پریشان ہوں

مرزا غالب سے معذرت کے ساتھ عرض ہے

یا رب ۔ میں سمجھا ہوں نہ سمجھوں گا اُن کی بات
دے اور سمجھ مجھ کو ۔ جو نہ دے اُن کو دماغ اور

قارئین جانتے ہں کہ میں دو جماعت پاس ناتجربہ کار ہوں ۔ اب پتہ چلا ہے کہ تعلیم کی کمی کے ساتھ میری سمجھ میں بھی کمی ہے ۔ اسی لئے میں کل سے پریشان ہوں کیونکہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ جب متعلقہ آدمی موجود نہ ہوں تو اُن کے شناختی کارڈوں کے عکس دیکھ کر کاغذات پر کوئی کیسے اُن کے انگوٹھوں کے نشانات لگا سکتا ہے ؟

تفصیل اس مشکل کی یہ ہے کہ کل ایک دیانتدار ۔ عقلمند اور ہوشیار سیاستدان نے دعوٰی کیا کہ نادرا کے 3 آدمی کامسَیٹ کی عمارت کے تہہ خانے میں کمپیوٹر سے لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر بیلَٹ پیپرز پر انگوٹھوں کے نشان لگا رہے ہیں

قارئین پڑھے لکھے ۔ سمجھدار ۔ ہوشیار اور جوان دماغ کے مالک ہیں ۔ میں قارئین سے التماس کرتا ہوں کہ از راہِ کرم مجھے سمھجا دیجئے کہ یہ کیسے ہوتا ہے ؟
تاکہ میری پریشانی ختم ہو ۔ ورنہ آپ جانتے ہیں کہ پریشانی صحت پر بُرا اثر ڈالتی ہے اور میری صحت پہلے ہی کوئی اتنی اچھی نہیں ہے
میری صحت (اللہ نہ کرے) بگڑی تو اس کی ذمہ داری آپ پر بھی ہونے کا خدشہ ہے

یا اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھا

This entry was posted in خبر, روز و شب, سیاست, طور طريقہ, گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “کل سے میں پریشان ہوں

  1. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیما آفتاب صاحبہ
    یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔ انسان کے انگوٹھے سے جو نشان بنتا ہے وہ کسی مصنوعی طریقہ سے نہیں بنایا جا سکتا ۔ دوسری بات جو اس نے کہی تھہ کہ افغانستان کے صدارتی انتخاب کا آڈٹ ہو سکتا ہے تو پاکستان کے انتخابات کا کیوں نہیں ہو سکتا ۔ افغانستان کے کل ووٹر 80 لاکھ ہیں اور اُمیدوار 2 ۔ پاکستان میں ووٹر 812 لاکھ سے زائد ہیں اور ہر ووٹر قومی اسمبلی کے ساتھ صوبائی اسمبلی مین بھی ووٹ دیتا ہے ۔ اس طرح بیلٹ پیپرز کی تعداد 1624 لاکھ سے زائد ہو جاتی ہے ۔ افغانستان میں 2 اُمیدوار تھے جب کہ قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے ہزاروں اُمیدوار تھے ۔ کیا عمران خان چاہتا ہے کہ سب کام چھوڑ کر 2 سال ووٹوں کی چیکنگ ہوتی رہے ؟ مجھے تو کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِ اعظم نہ بن پانے کے صدمہ سے عمران خان کا دماغ چل گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)