محبت میں ؟ یا ۔ سیاست میں ؟

سُنا تھا کہ ” محبت اور جنگ“ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے (All is fair in love and war)لیکن عملی طور پر دیکھا یہ ہے کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے ۔ زیرِ نظر ہیں 2 نو آموز سیاستدان ۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سابق کمانڈو اور عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ۔ پہلے بات عمران خان کی

عمران خان فرماتے ہیں کہ نواز شریف ۔ الیکشن کمیشن ۔ اعلٰی عدالتوں اور جنگ جیو گروپ نے دھاندلی کر کے 11 مئی 2013ء کو ہونے والے الیکشن میں عمران خان کو ہرا دیا

کچھ غیر سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو تو اپنی جیت کا جشن منانا چاہیئے کہ اُنہوں نے قومی اسمبلی میں ملک کی تیسری بڑی پارٹی کی حیثیت حاصل کر لی ۔ جن نشتوں سے ہارے ہیں اگر وہاں دھاندلی ہوئی تھی تو وہاں دھاندلی کیوں نہ ہوئی جہاں تحریکِ انصاف جیتی ؟ عجب بات یہ ہے کہ ملک میں حکومت تو پیپلز پارٹی کی تھی تو دھاندلی نواز شریف نے نواز شریف نے کیسے کی ؟ اور جس کی حکومت تھی اُس کی زیادہ تر نشستیں تو عمران خان لے گیا

کیا 11 مئی 2014ء کو ڈی چوک کے پاس تیرہ چودہ ہزار کا جلسہ کرنے سے یہ مبینہ دھاندلی ختم ہو جائے گی یا اس سے موجودہ حکومت بھاگ جائے گی یا بھگا دی جائے گی ؟ اس جلسے پر تحریکِ انصاف کی اور حکومت کی وساطت سے عوام کا جو روپیہ خرچ ہوا کیا وہ قومی نقصان نہیں ؟

عمران خان شاید سیاست ۔ میڈیا ۔ الیکشن کمیشن اور اعلٰی عدالتوں کو اُسی طرح چلانا چاہتے ہیں جس طرح کرکٹ چلاتے تھے کہ جب جاوید میانداد دو ورلڈ ریکارڈ بنانے کو تھا تو بغیر وجہ میچ ڈکلیئر کر دیا اور پھر جب جاوید میانداد کا کھیل عروج پر تھا اُسے ٹیم سے علیحدہ کر دیا ۔ کہیں عمران خان کی کپتانی میں فرق نہ آ جائے

اب بات سابق آمر پرویز مشرف کی ۔ ملک سے بھاگنے کیلئے عارضہ قلب کا بہانہ کارساز نہ ہونے کے بعد 6 مئی کو جو میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر لائی گئی ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے
” پرویز مشرف کی ریڑھ کی ہڈی کے دو مُہروں میں فریکچر ہے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اور صرف دبئی ۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں ممکن ہے ۔ اسلئے سندھ ہائیکورٹ پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے“۔

1 ۔ رپورٹ میں سرِ فہرست اور سب سے سِنیئر ہیں دبئی کے ڈاکٹر امتیاز ہاشمی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر امتیاز ہاشمی ریڑھ کی ہڈی کے ماہر مانے جاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک سے باہر جانا ضروری ہے ۔ ڈاکٹر امتیاز ہاشمی ہفتے میں 3 دن دبئی میں اور 3 دن کراچی میں علاج اور آپریشن وغیرہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ پرویز مشرف ڈاکٹر امتیاز ہاشمی سےکراچی میں علاج اور آپریشن کروا سکتے ہیں ۔
حال ہی میں میرے ایک قریبی عزیز کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ڈاکٹر امتیاز ہاشمی نے کراچی میں کیا تھا ۔ مریض کو لاہور میں ڈاکٹروں نے ڈاکٹر امتیاز ہاشمی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ مریض وقت لینے کے بعد لاہور سے کراچی پہنچا تھا

2 ۔ اگر ریڑھ کی ہڈی کا کوئی آپریشن ممکن ہے تو پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے ۔ کیوں ؟ آگے پڑھیئے

مجھے 2001ء یا 2002ء میں کمر میں شدید درد اُٹھا ۔ میں نے عام ڈاکٹر کو دکھایا ۔ اُس نے درد کی گولیاں کھانے کو اور بیلاڈونا پلاسٹر کمر پر لگانے کا کہا ۔ میں 6 ماہ سے زائد یہ علاج کرتا رہا اور مُڑنے ۔ بیٹھنے اور اُٹھنے میں بہت احتیاط شروع کر دی ۔ میں 2004ء میں کراچی چلا گیا ۔ 10 جنوری 2005ء کو اچانک میری کمر اور ٹانگ میں شدید درد شروع ہوا جو ناقابلِ برداشت تھا ۔ مجھے آغا خان ہسپتال لیجایا گیا جہاں درد کو کم کرنے کا ٹیکہ ہر گھنٹہ بعد لگایا جاتا رہا اور ایم آر آئی کرایا گیا ۔ وہاں کے ڈاکٹر کا خیال تھا کہ آپریشن کیا جائے ۔ میں مزید 2 اچھے نیورولوجِسٹس (Neurologists) کی رائے لینا چاہتا تھا ۔ سو ہسپتال سے فارغ ہونے کے کچھ دن بعد مجھے کراچی کے مشہور نیورو فزیشن کے پاس لیجایا گیا جو اُن دنوں پی ای سی ایچ ایس میں کلنک کرتے تھے ۔ اُنہوں نے آپریشن نہ کرانے کا کہا اور درد کم ہونے کے بعد کچھ ورزشیں کرنے کا کہا جو میں آج تک کرتا ہوں

میں نے 20 فروری 2005ء کو درد کم ہوتا محسوس کیا تو اُسی دن اسلام آباد پہنچ گیا ۔ میری بڑی بہن اور سب سے چھوٹا بھائی ڈاکٹر ہیں ۔ بہن پیتھالوجسٹ اور بھائی سرجن ہے ۔ بھائی اپنے ایک ساتھی نیوروسرجن جو راولپنڈی میڈیکل کالج میں پروفیسر اور ہیڈ آف نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ تھے اور راولپنڈی اسلام آباد میں بہترین نیوروسرجن سمجھے جاتے تھے کے پاس لے گیا ۔ اُس نے ایم آر آئی کا مطالعہ کر کے کہا
” بھائی جان ۔ آپ نے بہت اچھا کیا کہ آپریشن نہیں کرایا ۔ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کا ایک مُہرا کبھی فریکچر ہوا ہو گا جس کے درست ہونے پر اُس کے اندر باہر کیلسیم (Calcium) جم گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ کی سپائینل کورڈ (Spinal cord) دب رہی ہے جو درد کی وجہ ہے ۔ آپ کو آئیندہ کچھ احتیاطیں کرنا ہیں ۔ نیوروفزیشن کی بتائی ہوئی ورزشیں کریں اور میتھی کوبال 500 (Methycobal 500) ایک گولی دن میں 3 بار کھاتے رہیں ۔ اس سے آپ کے اعصاب (nerves) مضبوط ہوں گے اور درد کم ہو گا”۔

اس نیوروسرجن کے مطابق مہرہ فتیکچر ہونے کی صورت میں ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن انتہائی خطرناک ہوتا ہے ۔ آپریشن کے بعد بہتری کی اُمید 40 فیصد بھی نہیں ہوتی البتہ ٹانگیں بے کار ہونے کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اگر فریکچر ہونے کے فوراً بعد بھی پتا چل جاتا تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا صرف احتیاط کرنے سے صورتِ حال آج سے بہتر ہو سکتی تھی

میں باقاعدہ میتھی کوبال کھا رہا ہوں اور ورزش بھی کرتا ہوں جو فرش پر لیٹ کر کرنا ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر کی ہدائت کے مطابق سونے کیلئے میں نے ارتھوپیڑِک گدیلہ اور تکیہ (orthopaedic mattress and pillow) کراچی ہی میں خرید لیا تھا پھر فروری میں اسلام آباد آنے پر یہاں بھی خرید لئے تھے
انگوٹھے کے سوا میرا داہنا پاؤں ہر وقت سُن (numb) رہتا ہے ۔ اگر میری داہنی ٹانگ پر وزن پڑے تو میں گِر جاتا ہوں ۔ کبھی انگوٹھا بھی اور ٹانگ کا نیچلا حصہ سُن ہو جاتا ہے ۔ کبھی کبھار پوری ٹانگ اور کمر میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے لیکن ناقابلِ برداشت نہیں ہوتا ۔ میں ایسی صورت میں فرش پر لیٹ جاتا ہوں اور ڈاکٹر کی بتائی ہوئی ایک خاص ورزش کرتا ہوں ساتھ درد کم کرنے کی کوئی اچھی دوائی بھی کھاتا ہوں
اس حال میں 9 سال اور 4 ماہ گذر گئے ہیں ۔ اللہ کا شکر گذار ہوں کہ بہتوں سے بہتر حال میں ہوں

This entry was posted in آپ بيتی, تاریخ, روز و شب, سیاست, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “محبت میں ؟ یا ۔ سیاست میں ؟

  1. noureen tabassum

    محترم آپ کے اس بلاگ پر بہت کچھ ہے کہنے کو ، لیکن اختتام سے آغاز کروں گی کہ بہت وضاحت سے آپ نے بیماری اور اس کے علاج کے مراحل سے آگاہ کیا ، لیکن پیسہ بھی تو خرچ کرنا ہے ۔ ہمارے بڑوں کے نزدیک پیسہ عزت سے بڑھ کر ہے ۔ اور بہادری کے تمغے صرف وردی میں ہی کالر پر لگتے ہیں اس لیے اب ایسا کوئی تمغہ لینے کا سوچنا بےوقوفی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جان ہے ،پیسہ ہے اور بے وقوف عوام ہیں تو موجیں ہی موجیں ، بس ذرا منہ کا ذائقہ بھی تو بدلنا ہے کب تک اس “غریب” ملک میں ایک ہی راگ سنیں ۔ دنیا میں بہت رنگینی ہے۔ خان کی بات پھر کبھی۔ ہر کپتان ہر کھیل کا ماہر نہیں ہوتا ۔ بس کچھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی ۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نورین تبسم صاحبہ
    آپ نے سو بات کی ایک بات کہی ”پیسہ عزت سے بڑھ کر ہے ۔ اور ۔ کچھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی“۔ کسی شاعر نے کہا تھا ” چھُٹتی نہیں کافر منہ کو لگی ہوئی“۔ پیسہ بھی ایک بہت بڑا نشہ ہے جسے لگ جائے اُسے اس کے سوا کچھ پیارا نہیں رہتا ۔ لیکن بی بی ۔ اُن ہموطنوں کا کیا کیا جائے جو ان دونوں کے فدائی بنے پھرتے ہیں

  3. Wahaj

    Bhai Ajmal Ap mujh say poochtay to main bHi neurosurgeon wala mashwara dita jo shih hay
    mray aik classfellow MBBS ka ntija nikalnay say pehlay hi England chaly gaiay they awr ankay pass bHi as waqt yehi “bahana” tha lower back pain requiring surgery which he had obtained from orone professor of Surgery (

  4. noman

    اصل بات صرف اتنی سی ہے ہے آپ نے ہر حال حال میں نواز شریف کی حمایت کرنی ہے …

    حضرت جان الله کو دینی ہے تخت لاہور والوں کو نہیں …. کبھی اس بارے میں بھی سوچ لیا کریں ….

    جو آپ سوچتے ہیں وہ سچ نہیں ہوتا …

    سچ وہ ہوتا ہے جوسچ ہوتا ہے

    ویسے بھی جنکی اپنی اولادیں باہر ہوں .. وہ ملک میں علاج کرانے کے لئے لیکچر دیتے کچھ اچھے نہیں لگتے

    بیان میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
    تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کیجیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)